صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
1. باب ذِكْرِ إِبَاحَةِ خُرُوجِ النِّسَاءِ فِي الْعِيدَيْنِ إِلَى الْمُصَلَّى وَشُهُودِ الْخُطْبَةِ مُفَارِقَاتٍ لِلرِّجَالِ:
باب: عورتوں کا عیدین کے دن عیدگاہ جانا اور مردوں سے الگ خطبہ میں حاضر ہونا جائز ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 890 ترقیم شاملہ: -- 2054
حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ: " أَمَرَنَا تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُخْرِجَ فِي الْعِيدَيْنِ: الْعَوَاتِقَ وَذَوَاتِ الْخُدُورِ، وَأَمَرَ الْحُيَّضَ أَنْ يَعْتَزِلْنَ مُصَلَّى الْمُسْلِمِينَ ".
محمد (بن سیرین) نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: آپ نے ہمیں حکم دیا۔ ان کی مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تھی۔ کہ ہم عیدین میں بالغہ اور پردہ نشین عورتوں کو لے جایا کریں اور آپ نے حیض والی عورتوں کو حکم دیا کہ وہ مسلمانوں کی نماز کی جگہ سے ہٹ کر بیٹھیں۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 2054]
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم عیدین میں بالغہ، پردہ نشین عورتوں کو لے جایا کریں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حیض والی عورتوں کو حکم دیا کہ وہ مسلمانوں کی نمازگاہ سے الگ رہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 2054]
ترقیم فوادعبدالباقی: 890
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 890 ترقیم شاملہ: -- 2055
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ: " كُنَّا نُؤْمَرُ بِالْخُرُوجِ فِي الْعِيدَيْنِ وَالْمُخَبَّأَةُ وَالْبِكْرُ، قَالَتْ: الْحُيَّضُ يَخْرُجْنَ فَيَكُنَّ خَلْفَ النَّاسِ يُكَبِّرْنَ مَعَ النَّاسِ ".
عاصم احول نے حفصہ بنت سیرین سے اور انہوں نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: ”ہمیں عیدین میں نکلنے کا حکم دیا جاتا تھا، پردہ نشین اور دوشیزہ کو بھی۔“ انہوں نے کہا: حیض والی عورتیں بھی نکلیں گی اور لوگوں کے پیچھے رہیں گی اور لوگوں کے ساتھ تکبیر کہیں گی۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 2055]
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ: ”ہمیں عیدین کے لیے نکلنے کا حکم دیا جاتا تھا، پردہ نشین اور دوشیزہ کو بھی۔“ وہ بتاتی ہیں کہ: ”حیض والی عورتیں بھی نکلیں گی اور لوگوں کے پیچھے رہیں گی اور لوگوں کے ساتھ تکبیر کہیں گی۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 2055]
ترقیم فوادعبدالباقی: 890
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 890 ترقیم شاملہ: -- 2056
وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ: " أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُخْرِجَهُنَّ فِي الْفِطْرِ وَالْأَضْحَى: الْعَوَاتِقَ وَالْحُيَّضَ وَذَوَاتِ الْخُدُورِ، فَأَمَّا الْحُيَّضُ فَيَعْتَزِلْنَ الصَّلَاةَ وَيَشْهَدْنَ الْخَيْرَ وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِينَ "، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِحْدَانَا لَا يَكُونُ لَهَا جِلْبَابٌ، قَالَ: " لِتُلْبِسْهَا أُخْتُهَا مِنْ جِلْبَابِهَا ".
ہشام نے حفصہ بنت سیرین سے اور انہوں نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم عید الفطر اور عید الاضحیٰ میں عورتوں کو باہر نکالیں، دوشیزہ، حائضہ اور پردہ نشین عورتوں کو، لیکن حائضہ نمازیں سے دور رہیں۔ وہ خیر و برکت اور مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوں۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم میں سے کسی عورت کے پاس چادر نہیں ہوتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی (کوئی مسلمان) بہن اس کو اپنی چادر کا ایک حصہ پہنا دے۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 2056]
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا: ”ہم عید الفطر اور عید الاضحیٰ میں جوان، حائضہ اور پردہ نشین عورتوں کو لے کر جائیں لیکن حائضہ جائے نماز سے دور رہیں گی، نیک کاموں اور مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوں۔“ میں نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم میں سے بعض کے پاس چادر نہیں ہوتی۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی بہن اس کو اپنی چادر کا پہنا دے۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 2056]
ترقیم فوادعبدالباقی: 890
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
2. باب تَرْكِ الصَّلاَةِ قَبْلَ الْعِيدِ وَبَعْدَهَا فِي الْمُصَلَّى:
باب: عیدگاہ میں نماز عید سے پہلے اور بعد نماز نہیں پڑھنی چاہیے۔
ترقیم عبدالباقی: 884 ترقیم شاملہ: -- 2057
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَرَجَ يَوْمَ أَضْحَى أَوْ فِطْرٍ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَمْ يُصَلِّ قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا، ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ وَمَعَهُ بِلَالٌ فَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ، فَجَعَلَتِ الْمَرْأَةُ تُلْقِي خُرْصَهَا وَتُلْقِي سِخَابَهَا ".
معاذ عنبری نے کہا: ہم سے شعبہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے عدی سے روایت کی، انہوں نے سعید بن جبیر سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحیٰ یا عید الفطر کے دن باہر نکلے اور دو رکعتیں پڑھائیں، اس سے پہلے یا بعد میں کوئی نماز نہیں پڑھی۔ پھر عورتوں کے پاس آئے جبکہ بلال رضی اللہ عنہ آپ کے ساتھ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو صدقے کا حکم دیا تو کوئی عورت اپنی بالیاں (بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں) ڈالتی تھی اور کوئی اپنا (لونگ وغیرہ کا خوشبودار) ہار ڈالتی تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 2057]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحیٰ یا عید الفطر کے دن باہر نکلے اور دو رکعت پڑھائی، اس سے پہلے یا بعد میں کوئی نماز نہیں پڑھی۔ پھر عورتوں کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت بلال رضی اللہ عنہ تھے، اور عورتوں کو صدقے کا حکم دیا، عورتیں اپنی بالیاں، چھلے اور ہار (حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں) ڈالنے لگیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 2057]
ترقیم فوادعبدالباقی: 884
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 884 ترقیم شاملہ: -- 2058
وحَدَّثَنِيهِ عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، جميعا، عَنْ غُنْدَرٍ ، كِلَاهُمَا، عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
محمد بن ادریس اور غندر دونوں نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ اس (مذکورہ بالا حدیث) کے ہم معنی حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 2058]
مصنف رحمہ اللہ نے یہی حدیث ایک اور سند سے بھی بیان کی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 2058]
ترقیم فوادعبدالباقی: 884
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
3. باب مَا يُقْرَأُ بِهِ فِي صَلاَةِ الْعِيدَيْنِ:
باب: نماز عید میں کیا پڑھنا چاہیے؟
ترقیم عبدالباقی: 891 ترقیم شاملہ: -- 2059
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ الْمَازِنِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، سَأَلَ أَبَا وَاقِدٍ اللَّيْثِيَّ ، " مَا كَانَ يَقْرَأُ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَضْحَى وَالْفِطْرِ؟ " فَقَالَ: " كَانَ يَقْرَأُ فِيهِمَا بِ ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ وَاقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ ".
مالک نے ضمرہ بن سعید مازنی سے اور انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ سے روایت کی کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحیٰ اور عید الفطر میں کون سی سورت قراءت فرماتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں میں سورہ «ق والقرآن المجيد» اور سورہ «اقتربت الساعة وانشق القمر» پڑھا کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 2059]
حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحیٰ اور عید الفطر میں کیا قرأت فرماتے تھے؟“ تو انہوں نے جواب دیا: ”آپ ان میں سورہ ﴿ق ۚ وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ﴾ [سورة ق: 1] اور سورہ ﴿اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانشَقَّ الْقَمَرُ﴾ [سورة القمر: 1] پڑھا کرتے تھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 2059]
ترقیم فوادعبدالباقی: 891
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 891 ترقیم شاملہ: -- 2060
وحَدَّثَنَا إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ ، قَالَ: " سَأَلَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَمَّا قَرَأَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ الْعِيدِ، فَقُلْتُ: بِ اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ ".
فلیح نے ضمرہ بن سعید سے، انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے اور انہوں نے حضرت ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے فرمایا، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھ سے اس بارے میں پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کی نماز میں کیا پڑھا؟ تو میں نے کہا: «اقتربت الساعة» اور «ق والقرآن المجيد» ۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 2060]
حضرت ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھ سے پوچھا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کی نماز میں کیا پڑھا تھا؟“ تو میں نے کہا: ” ﴿اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ﴾ [سورة القمر: 1] اور ﴿ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ﴾ [سورة ق: 1] کی قرأت کی تھی۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 2060]
ترقیم فوادعبدالباقی: 891
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
4. باب الرُّخْصَةِ فِي اللَّعِبِ الَّذِي لاَ مَعْصِيَةَ فِيهِ فِي أَيَّامِ الْعِيدِ:
باب: عید کے روز جن کھیلوں میں گناہ نہیں ان کی رخصت کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 892 ترقیم شاملہ: -- 2061
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ أَبُو بَكْرٍ وَعِنْدِي جَارِيَتَانِ مِنْ جَوَارِي الْأَنْصَار، تُغَنِّيَانِ بِمَا تَقَاوَلَتْ بِهِ الْأَنْصَارُ يَوْمَ بُعَاثَ، قَالَتْ: وَلَيْسَتَا بِمُغَنِّيَتَيْنِ، فَقَالَ أَبُو بَكْر: أَبِمَزْمُورِ الشَّيْطَانِ فِي بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَلِكَ فِي يَوْمِ عِيدٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَبَا بَكْرٍ إِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ عِيدًا وَهَذَا عِيدُنَا ".
ابواسامہ نے ہشام سے، انہوں نے اپنے والد (عروہ) سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ میرے ہاں تشریف لائے جبکہ میرے پاس انصار کی دو بچیاں تھیں۔ اور انصار نے جنگ بعاث میں جو اشعار ایک دوسرے کے مقابلے میں کہے تھے، انہیں گا رہی تھیں۔ کہا: وہ کوئی گانے والیاں نہ تھیں۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے (انہیں دیکھ کر) کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں شیطان کی آواز (بلند ہو رہی) ہے؟ اور یہ عید کے دن ہوا تھا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر! ہر قوم کے لیے ایک عید ہے اور یہ ہماری عید ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 2061]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ میرے ہاں تشریف لائے جبکہ انصار کی دو بچیاں وہ اشعار گا رہی تھیں جو انصار نے جنگِ بعاث کے وقت کہے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ وہ کوئی باقاعدہ فنکار نہ تھیں اور گانا ان کا پیشہ نہ تھا۔ تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «أَمِزْمَارُ الشَّيْطَانِ فِي بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم ؟» ”کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں شیطانی ساز کی آواز؟“ اور یہ عید کا دن تھا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «يَا أَبَا بَكْرٍ، إِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ عِيدًا وَهَذَا عِيدُنَا» ”اے ابوبکر! ہر قوم کے لیے ایک مسرت اور شادمانی کا دن ہے اور یہ ہمارا تہوار یا جشنِ مسرت ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 2061]
ترقیم فوادعبدالباقی: 892
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 892 ترقیم شاملہ: -- 2062
وحَدَّثَنَاه يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، جَمِيعًا، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ: " وَفِيهِ جَارِيَتَانِ تَلْعَبَانِ بِدُفٍّ ".
ابومعاویہ نے ہشام بن عروہ سے اسی سند کے ساتھ (سابقہ حدیث کے مانند) روایت کی اور اس میں ہے دو بچیاں دف سے کھیل رہی تھیں (دف بجا رہی تھیں)۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 2062]
امام صاحب ایک دوسری سند سے یہی روایت لائے ہیں اور اس میں ہے کہ ”دو بچیاں دف بجا رہی تھیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 2062]
ترقیم فوادعبدالباقی: 892
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 892 ترقیم شاملہ: -- 2063
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ ، حَدَّثَهُ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا جَارِيَتَانِ فِي أَيَّامِ مِنًى تُغَنِّيَانِ وَتَضْرِبَانِ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسَجًّى بِثَوْبِهِ، فَانْتَهَرَهُمَا أَبُو بَكْرٍ، فَكَشَف رَسُولُ اللَّهِ عَنْهُ، وَقَالَ: " دَعْهُمَا يَا أَبَا بَكْرٍ فَإِنَّهَا أَيَّامُ عِيدٍ ". وَقَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتُرُنِي بِرِدَائِهِ، وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى الْحَبَشَةِ وَهُمْ يَلْعَبُونَ وَأَنَا جَارِيَةٌ، فَاقْدِرُوا قَدْرَ الْجَارِيَةِ الْعَرِبَةِ الْحَدِيثَةِ السِّنِّ.
عمرو نے کہا کہ ابن شہاب نے انہیں عروہ سے حدیث سنائی اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی (انہوں نے کہا) کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ میرے ہاں تشریف لائے جبکہ منیٰ کے ایام میں میرے پاس دو بچیاں گا رہی تھیں۔ اور دف بجا رہی تھیں۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کپڑا اوڑھے لیٹے ہوئے تھے، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو ڈانٹا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آپ سے کپڑا ہٹایا اور فرمایا: ”ابوبکر! انہیں چھوڑیئے کہ یہ عید کے دن ہیں۔“ اور (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ مجھے اپنی چادر سے چھپائے ہوئے تھے اور میں حبشیوں کو دیکھ رہی تھی کہ وہ کھیل رہے تھے اور میں کم سن لڑکی تھی، ذرا اندازہ لگاؤ اس لڑکی کا شوق کس قدر ہوگا جو کھیل کی شوقین، نو عمر تھی (وہ کتنی دیر کھیل دیکھے گی؟)۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 2063]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ”حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ میرے ہاں تشریف لائے جبکہ ایام منیٰ (عید کے دن) میں میرے پاس دو بچیاں گا رہی تھیں اور دف بجا رہی تھیں۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کپڑا اوڑھے لیٹے ہوئے تھے، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان کو ڈانٹا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا کپڑا ہٹا کر فرمایا: ”ابوبکر! انھیں چھوڑیئے کیونکہ یہ خوشی کے دن ہیں۔“ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپنی چادر سے چھپائے ہوئے ہیں اور میں حبشیوں کو کھیلتا دیکھ رہی تھی اور میں کم سن تھی، ذرا اندازہ لگاؤ اس بچی کا جو کھیل کی شوقین، کم سن اور نو عمر تھی (وہ کس قدر کھیل دیکھے گی؟)““ [صحيح مسلم/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 2063]
ترقیم فوادعبدالباقی: 892
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة