🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مسند الشهاب سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الشهاب میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1499)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
361. مَنْ أَشْرَبَ قَلْبَهُ حُبَّ الدُّنْيَا نَاطَ اللَّهُ قَلْبَهُ مِنْهَا
جس شخص نے اپنے دل میں دنیا کی محبت جمالی اللہ تعالیٰ اس کے دل کو اس سے آلودہ کردے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 541
541 - أنا هِبَةُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْخَوْلَانِيُّ، أنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ طَالِبٍ الْبَغْدَادِيُّ، نا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ فَرَضَخٍ الْإِخْمِيمِيُّ، حَدَّثَنِي جَبْرُونُ بْنُ عِيسَى الْبَلَوِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ، نا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَشْرَبَ حُبَّ الدُّنْيَا الْتَاطَ مِنْهَا بِثَلَاثٍ: شَقَاءٍ لَا يَنْفَدُ عَنَاؤُهُ، وَحِرْصٍ لَا يَبْلُغُ غِنَاهُ، وَأَمَلٍ لَا يَبْلُغُ مُنْتَهَاهُ"
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے اپنے دل میں دنیا کی محبت جمالی وہ اس کی تین چیزوں کے ساتھ (ضرور) آلودہ ہوگا: ایسی مشقت جس کی تھکان کبھی ختم نہ ہوگی اور ایسی حرص جو کبھی مالداری کو نہ پہنچے گی اور ایسی امید جو اپنے مقصود کو نہ پہنچے گی۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 541]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه المعجم الكبير: 10328» حبیب بن ابی ثابت اور اعمش مدلس راویوں کا عنعنہ ہے، اس میں اور بھی علتیں ہیں۔

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
362. مَنْ وَلِيَ شَيْئًا مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ فَأَرَادَ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا جَعَلَ مَعَهُ وَزِيرًا صَالِحًا فَإِنْ نَسِيَ ذَكَّرَهُ، وَإِنْ ذَكَرَ أَعَانَهُ
جو شخص مسلمانوں کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنا پھر اللہ نے اس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرمایا تو اسے وہ کوئی نیک وزیرمہیا فرما دے گا جو اسے بھول جانے پر یاد دلا دے گا اور یادرہنے پر اس کی مدد کرے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 542
542 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ الصَّفَّارُ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَامِعٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي نُعَيْمٍ، ثنا فَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ , عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ وَلِيَ شَيْئًا مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ فَأَرَادَ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا جَعَلَ مَعَهُ وَزِيرًا صَالِحًا، فَإِنْ نَسِيَ ذَكَّرَهُ، وَإِنْ ذَكَرَ أَعَانَهُ، وَمَا مِنْ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ أَعْظَمُ أَجْرًا مِنْ وَزِيرٍ صَالِحٍ مَعَ إِمَامٍ يُطِيعُهُ وَيَأْمُرُهُ بِذَاتِ اللَّهِ تَعَالَى»
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص مسلمانوں کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنا پھر اللہ نے اس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرمایا تو اسے وہ کوئی نیک وزیر مہیا فرما دے گا جو اسے بھول جانے پر یاد دلا دے گا اور یاد رہنے پر اس کی مدد کرے گا، اور مسلمانوں میں نیک وزیر سے زیادہ اجر والا کوئی نہیں جو کسی حکمران کے ساتھ رہتے ہوئے اس کی بات بھی مانے اور اسے ذات باری تعالیٰ (کے احکامات) کا حکم بھی دے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 542]
تخریج الحدیث: إسناده ضعیف، فرج بن فضالہ ضعیف ہے۔
وضاحت: فائدہ: -
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جو شخص کسی کام کا ذمہ دار بنا پھر اللہ نے اس کے لیے بھلائی کا ارادہ فرمایا تو اس کے لیے وہ کوئی نیک وزیر مہیا فرما دے گا جو اسے بھول جانے پر یاد دلا دے گا اور یا در ہنے پر اس کی مدد کرے گا۔“ [نسائي: 4209، وسنده صحيح]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
363. مَنْ عَامَلَ النَّاسَ فَلَمْ يَظْلِمَهُمْ وَحَدَّثَهُمْ فَلَمْ يَكْذُبَهُمْ وَوَعَدَهُمْ فَلَمْ يُخْلِفْهُمْ، فَهُوَ مِمَّنْ كَمُلَتْ مُرُوءَتُهُ، وَظَهَرَتْ عَدَالَتُهُ، وَوَجَبَتْ أُخُوَّتُهُ، وَحَرُمَتْ غَيْبَتُهُ
جو شخص لوگوں پر عامل بنا پھر اس نے ان پر ظلم نہ کیا اور ان سے بات کرتے وقت جھوٹ نہ بولا اور وعدہ کیا تو خلاف ورزی نہ کی تو یہ شخص ان لوگوں میں سے ہے جن کی مروت کامل ہے، جن کا عدل نمایاں ہے، جن سے اخوت واجب ہے اور جن کی غیبت حرام ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 543
543 - أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ نَظِيفٍ الْفَرَّاءُ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ غِيَاثٍ الْخُرَاسَانِيُّ، قَالَ: ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا أَبِي، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُوسَى الرِّضَا، حَدَّثَنِي أَبِي مُوسَى بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ عَامَلَ النَّاسَ فَلَمْ يَظْلِمْهُمْ وَحَدَّثَهُمْ فَلَمْ يَكْذِبْهُمْ، وَوَعَدَهُمْ فَلَمْ يُخْلِفْهُمْ، فَهُوَ مِمَّنْ كَمُلَتْ مُرُوءَتُهُ، وَظَهَرَتْ عَدَالَتُهُ، وَوَجَبَتْ أُخُوَّتُهُ، وَحَرُمَتْ غَيْبَتُهُ»
سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مجھے میرے والد سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص لوگوں پر عامل بنا پھر اس نے ان پر ظلم نہ کیا اور ان سے بات کرتے وقت جھوٹ نہ بولا اور وعدہ کیا تو خلاف ورزی نہ کی تو یہ شخص ان لوگوں میں سے ہے جن کی مروت کامل ہے، جن کا عدل نمایاں ہے، جن سے اخوت واجب ہے اور جن کی غیبت حرام ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 543]
تخریج الحدیث: موضوع، أحمد بن علی متہم بالوضوع ہے، مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہوں: «السلسلة الضعيفة: 3228»

الحكم على الحديث:
موضوع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
364. مَنْ نَزَلَتْ بِهِ فَاقَةٌ فَأَنْزَلَهَا بِالنَّاسِ لَمْ تُسَدَّ فَاقَتُهُ، وَإِنْ أَنْزَلَهَا بِاللَّهِ أَوْشَكَ اللَّهُ لَهُ بِالْغِنَى، إِمَّا ذُخْرٍ آجِلٍ، وَإِمَّا غِنًى عَاجِلٍ
جس پر کوئی فاقہ اترا پھر اس نے اسے لوگوں پر پیش کیا تو اس کا فاقہ کبھی دور نہ ہوگا اور اگراس نے اسے اللہ پر پیش کیا تو عنقریب اللہ اسے بے نیاز کر دے گا۔ یا تو جلد ہی (اسے) کوئی سرمایہ مل جائے گا اور یاجلد ہی وہ بے نیاز ہو جائے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 544
544 - أنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ التُّجِيبِيُّ، أنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَامِعٍ، نا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، نا أَبُو نُعَيْمٍ، نا بَشِيرُ بْنُ سَلْمَانَ، عَنْ سَيَّارِ أَبِي الْحَكَمِ، عَنْ طَارِقٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ نَزَلَتْ بِهِ حَاجَةٌ فَأَنْزَلَهَا بِالنَّاسِ لَمْ تُسَدَّ فَاقَتُهُ، وَإِنْ أَنْزَلَهَا بِاللَّهِ أَوْشَكَ اللَّهُ لَهُ بِالْغِنَى، إِمَّا ذُخْرٍ آجِلٍ، وَإِمَّا غِنًى عَاجِلٍ»
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس پر کوئی فاقہ اترا پھر اس نے اسے لوگوں پر پیش کیا تو اس کا فاقہ کبھی دور نہ ہوگا اور اگر اس نے اسے اللہ پر پیش کیا تو عنقریب اللہ اسے بے نیاز کر دے گا، یا تو جلد ہی (اسے) کوئی سرمایہ مل جائے گا یا جلد ہی وہ بے نیاز ہو جائے گا۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 544]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه الحاكم فى «مستدركه» برقم: 1487، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1645، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2326، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 7964، وأحمد فى «مسنده» برقم: 3771»
وضاحت: تشریح: -
اس حدیث میں اس بات کی ترغیب دلائی گئی ہے کہ حاجت وضرورت کے وقت انسانوں کے بجائے اللہ تعالیٰ ٰ کی طرف رجوع کیا جائے کیونکہ وہی حاجتیں پوری کرنے والا ہے، ہاں ظاہری اسباب کے مطابق حسب ضرورت بندوں سے بھی مانگا جا سکتا ہے لیکن اس وقت بھی اعتقاد یہی ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ٰ کی مشیت ہوگی تو بندہ آمادہ تعاون ہوگا ورنہ نہیں۔ [رياض الصالحين: 473/1]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
365. مَنْ حَفِظَ مَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ وَمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ
جس شخص نے اس چیز کی حفاظت کی جو اس کے دو جبڑوں کے درمیان ہے اور جو اس کی دو ٹانگوں کے درمیان ہے، وہ جنت میں داخل ہوگا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 545
545 - أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَجَاءٍ الْعَسْقَلَانِيُّ، أبنا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَيْسَرَانِيُّ، ثنا الْخَرَائِطِيُّ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَقِيلٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: كُنْتُ أَنَا، وَأَبُو الدَّرْدَاءِ، عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَنْ حَفِظَ مَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ وَمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ»
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اور سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے اس چیز کی حفاظت کی جو اس کے دو جبڑوں کے درمیان ہے اور جو اس کی دو ٹانگوں کے درمیان ہے، وہ جنت میں داخل ہوگا۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 545]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه أحمد: 398/4، وابويعلي: 7275، وحاكم: 4/ 358» عبداللہ بن محمد بن عقیل ضعیف ہے

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 546
546 - أنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا ابْنُ شَهْرَيَارَ وَابْنُ رِيذَةَ قَالَا: نا الطَّبَرَانِيُّ، نا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا الْمُطَرِّزُ الْمُقْرِئُ أَبُو مُحَمَّدٍ الْبَغْدَادِيُّ، نا الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعِ بْنِ الْوَلِيدِ، نا الْمُغِيرَةُ بْنُ سِقْلَابٍ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ ضَمِنَ لِي مَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ وَرِجْلَيْهِ ضَمِنْتُ لَهُ الْجَنَّةَ» قَالَ الطَّبَرَانِيُّ: لَمْ يَرْوِهِ عَنْ عَمْرٍو إِلَّا مَعْقِلٌ تَفَرَّدَ بِهِ الْمُغِيرَةُ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص مجھے اس چیز کی ضمانت دے جو اس کے دو جبڑوں کے درمیان (زبان) ہے اور جو اس کی دو ٹانگوں کے درمیان (شرمگاہ) ہے، میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔“ امام طبرانی رحمہ اللہ نے کہا: اسے عمرو بن دینار سے صرف معقل بن عبیداللہ نے روایت کیا ہے، اس سے روایت کرنے میں مغیرہ منفرد ہے۔ [مسند الشهاب/حدیث: 546]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه ابويعلى: 1855، والمعجم الاوسط: 4981» مغيره بن سقلاب جمہور کے نزدیک ضعیف ہے۔
وضاحت: فائدہ: -
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص مجھے اس چیز کی ضمانت دے دے جو اس کے دو جبڑوں کے درمیان (زبان) ہے اور جو اس کی دو ٹانگوں کے درمیان (شرمگاہ) ہے، میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔“ [بخاري: 6474]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
366. مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ
جس شخص نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھا تو اسے چاہیے کہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 547
547 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ الصَّفَّارُ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادِ بْنِ بِشْرِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ»
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھا تو اسے چاہیے کہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 547]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4804، 5942، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 7368، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 9742، وأبو داود فى «سننه» برقم: 5117، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2257، 2659، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 30، وأحمد فى «مسنده» برقم: 3769»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 548
548 - أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُوسَى السِّمْسَارُ، بِدِمَشْقَ، ثنا أَبُو زَيْدٍ، مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَرْوَزِيُّ ثنا الْفَرَبْرِيُّ، ثنا الْبُخَارِيُّ، ثنا أَبُو مَعْمَرٍ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، قَالَ: قَالَ أَنَسٌ: إِنَّهُ لَيَمْنَعَنِّي أَنْ أُحَدِّثَكُمْ حَدِيثًا كَثِيرًا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ تَعَمَّدَ عَلَيَّ كَذِبًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ»
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: بے شک مجھے تم کو زیادہ حدیثیں بیان کرنے سے یہ چیز روکتی ہے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھا تو اسے چاہیے کہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 548]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح والحديث متفق عليه، أخرجه البخاري 108، ومسلم: 2،»

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح والحديث متفق عليه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 549
549 - وأنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُوسَى السِّمْسَارُ، نا أَبُو زَيْدٍ، مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَرْوَزِيُّ أنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفَرَبْرِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، نا أَبُو الْوَلِيدِ، نا شُعْبَةُ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ لِلزُّبَيْرِ: إِنِّي لَا أَسْمَعُكُ تُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا يُحَدِّثُ فُلَانٌ وَفُلَانٌ، قَالَ: أَمَا إِنِّي لَمْ أُفَارِقْهُ وَلَكِنْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ: «مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ»
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے (اپنے والد) سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے کہا: بے شک میں آپ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس قدر احادیث نہیں سنتا جس قدر فلاں فلاں حدیث بیان کرتے ہیں، انہوں نے کہا: میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا تو کبھی نہیں ہوا لیکن میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے: ”جس نے مجھ پر جھوٹ باندھا تو اسے چاہیے کہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 549]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري 107، وأبو داود: 3651، وابن ماجه: 36، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 6982، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 5603، وأحمد فى «مسنده» برقم: 1430»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 550
550 - وأنا ابْنُ السِّمْسَارُ، أنا أَبُو زَيْدٍ، أنا الْفَرَبْرِيُّ، أنا الْبُخَارِيُّ، نا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «تَسَمَّوْا بِاسْمِي وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي» الْحَدِيثُ." وَفِيهِ: «وَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میرے نام سے نام رکھ سکتے ہو اور میری کنیت سے کنیت نہ رکھو۔۔۔ الحدیث۔ اور اسی میں ہے: ”اور جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھا تو اسے چاہیے کہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 550]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري 110، ومسلم: 3، وأبو داود: 4965، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2841، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2735، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3735، 3901، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 19381، 19382، والحميدي فى «مسنده» برقم: 1178، وأحمد فى «مسنده» برقم: 3874»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں