مسند الشهاب سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
354. مَنْ كَانَ وَصْلَةً لِأَخِيهِ الْمُسْلِمِ إِلَى ذِي سُلْطَانٍ فِي مَنْهَجِ بِرٍّ أَوْ تَيْسِيرِ عَسِيرٍ أَعَانَهُ اللَّهُ عَلَى إِجَازَةِ الصِّرَاطِ يَوْمَ تُدْحَضُ فِيهِ الْأَقْدَامُ
جو شخص اپنے مسلمان بھائی کے لیے کسی نیکی کے کام میں یاکسی مشکل کے حل میں بادشاہ کے ہاں واسطہ بنا تو اللہ پل صراط پر سے گزرنے میں اس کی مدد فرمائے گا جس دن قدم پھسل رہے ہوں گے
حدیث نمبر: 531
531 - أنا أَبُو مُسْلِمٍ، مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيٍّ الْكَاتِبُ أنا أَبُو هَاشِمٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، نا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، هُوَ ابْنُ هِشَامِ بْنِ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى الْغَسَّانِيُّ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ رُوَيْمٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَ وَصْلَةً لِأَخِيهِ الْمُسْلِمِ إِلَى سُلْطَانِ فِي مَبْلَغِ بِرٍّ أَوْ تَيْسِيرِ عَسِيرٍ أَعَانَهُ اللَّهُ عَلَى إِجَازَةِ الصِّرَاطِ عِنْدَ دَحْضِ الْأَقْدَامِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنے مسلمان بھائی کے لیے کسی نیکی کے کام میں یا کسی مشکل کے حل میں بادشاہ کے ہاں واسطہ بنا تو قیامت کے دن پاؤں پھسلنے کے وقت پل صراط سے گزرنے میں اللہ اس کی مدد فرمائے گا۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 531]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه ابن حبان: 530، والمعجم الاوسط: 3577» ابراہیم بن ہشام بن یحییٰ ضعیف ہے۔
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 532
532 - أنا أَبُو الْحَسَنِ، مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ النَّيْسَابُورِيُّ أنا الْقَاضِي أَبُو طَاهِرٍ، مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ نا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هِشَامِ بْنِ يَحْيَى، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ رُوَيْمٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَ وَصْلَةً لِأَخِيهِ الْمُسْلِمِ إِلَى ذِي سُلْطَانٍ فِي مَبْلَغِ بِرٍّ أَوْ تَيْسِيرِ عَسِيرٍ أَعَانَهُ اللَّهُ عَلَى إِجَازَةِ الصِّرَاطِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ دَحْضِ الْأَقْدَامِ»
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنے مسلمان بھائی کے لیے کسی نیکی کے کام میں یا کسی مشکل کے حل میں بادشاہ کے ہاں واسطہ بنا تو قیامت کے دن پاؤں پھسلنے کے وقت پل صراط پر سے گزرنے میں اللہ اس کی مدد فرمائے گا۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 532]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه ابن حبان: 530، والمعجم الاوسط: 3577» ابراہیم بن ہشام بن یحییٰ ضعیف ہے۔
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
355. مَنْ أَكَلَ مَا يَسْقُطُ مِنَ الْخِوَانِ عُوفِيَ مِنَ الْجُنُونِ وَالْجُذَامِ وَالْبَرَصِ وَوَلَدُهُ وَوَلَدُ وَلَدِهِ
جس شخص نے دستر خوان سے گرے ہوئے کھانے کے ٹکڑے کھائے وہ اور اس کی اولاد اور اس کی اولاد کی اولا د برص، کوڑھ اور جنوں سے محفوظ رہے گی۔
حدیث نمبر: 533
533 - أنا هِبَةُ اللَّهِ بْنُ أَبِي غَسَّانَ الْفَارِسِيُّ، أنا الْحَسَنُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْبَزَّازُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ رَشِيقٍ، أنا أَبُو عَلِيٍّ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ دُحَيْمٌ نا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ أَبَانَ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي زَيْنَبُ بِنْتُ سُلَيْمَانَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، قَالَتْ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَكَلَ مَا يَسْقُطُ مِنَ الْخِوَانِ عُوفِيَ مِنَ الْجُنُونِ وَالْجُذَامِ وَالْبَرَصِ وَوَلَدُهُ وَوَلَدُ وَلَدِهِ»
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے دسترخواں سے گرے ہوئے کھانے کے ٹکڑے کھائے وہ اور اس کی اولاد اور اس کی اولاد کی اولاد برص، کوڑھ اور جنون سے محفوظ رہے گی۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 533]
تخریج الحدیث: إسناده ضعيف جدا، محمد بن ولید بن ابان سخت ضعیف ہے۔
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف جدا
356. مَنْ لَعِبَ بِالنَّرْدَشِيرِ فَهُوَ كَمَنْ غَمَسَ يَدَهُ فِي لَحْمِ الْخِنْزِيرِ وَدَمِهِ
جو شخص نردشیر (چوسر) کھیلا وہ اس شخص کی مانند ہے جس نے اپنا ہاتھ خنزیر کے گوشت اور خون سے آلودہ کیا
حدیث نمبر: 534
534 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ الصَّفَّارُ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ الْمُخَرِّمِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ لَعِبَ بِالنَّرْدَشِيرِ فَهُوَ كَمَنْ غَمَسَ يَدَهُ فِي لَحْمِ الْخِنْزِيرِ وَدَمِهِ»
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص نردشير (چوسر) کھیلا وہ اس شخص کی مانند ہے جس نے اپنا ہاتھ خنزیر کے گوشت اور خون سے آلودہ کیا۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 534]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 2260، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5873، وأبو داود فى «سننه» برقم: 4939، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3763، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 21010، وأحمد فى «مسنده» برقم: 23445»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 535
535 - وَأَنَاهُ أَبُو الْقَاسِمِ الْأَنْبَارِيُّ، نا الْحَسَنُ بْنُ رَشِيقٍ، نا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ، نا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، نا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ، نا سُفْيَانُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ لَعِبَ بِالنَّرْدَشِيرِ فَهُوَ كَمَنْ غَمَسَ يَدَهُ فِي لَحْمِ الْخِنْزِيرِ» وَرَوَاهُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ بِإِسْنَادِهِ وَقَالَ فِيهِ: فَكَأَنَّمَا صَبَغَ يَدَهُ
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص نردشير (چوسر) کھیلا وہ اس شخص کی مانند ہے جس نے اپنا ہاتھ خنزیر کے گوشت سے آلودہ کیا۔“ اسے مسلم بن حجاج نے زہیر بن حرب از عبدالرحمن بن مہدی از سفیان رحمہم اللہ کی سند سے روایت کیا ہے اور اس میں کہا ہے: «فكانما صبغ يده» (پس گویا اس نے اپنا ہاتھ آلودہ کیا)۔ [مسند الشهاب/حدیث: 535]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 2260، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5873، وأبو داود فى «سننه» برقم: 4939، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3763، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 21010، وأحمد فى «مسنده» برقم: 23445»
وضاحت: تشریح: -
نردشیر ایک کھیل ہے جو تختے وغیرہ پر بنے ہوئے خانوں میں گوٹیں رکھ کر اور انہیں ایک خاص طریقے سے حرکت دے کر کھیلا جاتا ہے۔ چوسر، شطرنج اور اسی طرح کیرم بورڈ اور لڈو وغیرہ اس کی مختلف صورتیں ہیں۔ اس کھیل میں عام طور پر شرط لگا کر کھیلا جاتا ہے اور ہارنے والا جیتنے والے کو کوئی چیز یا نقد رقم ادا کرتا ہے لہٰذا یہ جوئے میں شامل ہے اور حرام ہے۔ نردشیر کھیلنے والے کو خنزیر کے گوشت اور خون سے ہاتھ آلودہ کرنے والے شخص کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے گویا جو شخص نردشیر کھیلتا ہے وہ اپنے ہاتھوں کو خنزیر کے گوشت اور خون کے ساتھ آلودہ کرتا ہے، اس سے اس گناہ کی سنگینی کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
نردشیر ایک کھیل ہے جو تختے وغیرہ پر بنے ہوئے خانوں میں گوٹیں رکھ کر اور انہیں ایک خاص طریقے سے حرکت دے کر کھیلا جاتا ہے۔ چوسر، شطرنج اور اسی طرح کیرم بورڈ اور لڈو وغیرہ اس کی مختلف صورتیں ہیں۔ اس کھیل میں عام طور پر شرط لگا کر کھیلا جاتا ہے اور ہارنے والا جیتنے والے کو کوئی چیز یا نقد رقم ادا کرتا ہے لہٰذا یہ جوئے میں شامل ہے اور حرام ہے۔ نردشیر کھیلنے والے کو خنزیر کے گوشت اور خون سے ہاتھ آلودہ کرنے والے شخص کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے گویا جو شخص نردشیر کھیلتا ہے وہ اپنے ہاتھوں کو خنزیر کے گوشت اور خون کے ساتھ آلودہ کرتا ہے، اس سے اس گناہ کی سنگینی کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
الحكم على الحديث:
صحيح
357. مَنْ نَزَلَ عَلَى قَوْمٍ فَلَا يَصُومَنَّ تَطَوُّعًا إِلَّا بِإِذْنِهِمْ
جوشخص کسی قوم کا مہمان بنے تو وہ ان کی اجازت کے بغیر نفلی روزہ ہرگز نہ رکھے
حدیث نمبر: 536
536 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَسَنُ بْنُ خَلَفٍ، ثنا أَبُو حَفْصٍ عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ شَاهِينٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ الزَّبَيبِيُّ، بِالْعَسْكَرِ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ نَزَلَ عَلَى قَوْمٍ فَلَا يَصُومَنَّ تَطَوُّعًا إِلَّا بِإِذْنِهِمْ»
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی قوم کا مہمان بنے تو وہ ان کی اجازت کے بغیر نفلی روزہ ہرگز نہ رکھے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 536]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدا، وأخرجه الترمذي فى «جامعه» برقم: 789، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1763، و الكامل لابن عدي: 2/ 18» ایوب بن واقد متروک ہے۔
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف جدا
358. مَنِ انْتَهَرَ صَاحِبَ بِدْعَةٍ مَلَأَ اللَّهُ قَلْبَهُ أَمْنًا وَإِيمَانًا
جس نے کسی بدعتی کو جھٹر کا اللہ اس کے دل کو امن و ایمان سے بھر دے گا
حدیث نمبر: 537
537 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ، أبنا أَبُو الْحَارِثِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ وَدِيعٍ قَاضِي طَبَرِيَّةَ قَدِمَ عَلَيْنَا، أبنا الْوَلِيدُ بْنُ حَمَّادٍ الرَّمْلِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ، ثنا أَبُو حَازِمٍ عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنِ انْتَهَرَ صَاحِبَ بِدْعَةٍ مَلَأَ اللَّهُ قَلْبَهُ أَمْنًا وَإِيمَانًا، وَمَنْ أَهَانَ صَاحِبَ بِدْعَةٍ أَمَّنَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْفَزَعِ الْأَكْبَرِ، وَمَنْ أَلَانَ لَهُ وَأَكْرَمَهُ أَوْ لَقِيَهُ بِبِشْرٍ فَقَدِ اسْتَخَفَّ بِمَا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی بدعتی کو جھٹکا اللہ اس کے دل کو امن و ایمان سے بھر دے گا، اور جس نے کسی بدعتی کو ذلیل کیا اللہ اسے بڑی گھبراہٹ (قیامت) کے دن امن دے گا اور جس نے اس کے لیے نرم گوشہ رکھا اور اسے عزت دی یا اسے خندہ پیشانی سے ملا تو بے شک اس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی شریعت کو حقیر سمجھا۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 537]
تخریج الحدیث: إسناده ضعیف، ابوحازم عبدالغفار بن الحسن ضعیف ہے۔
الحكم على الحديث:
إسناده ضعیف
359. مَنْ أَهَانَ صَاحِبَ بِدْعَةٍ أَمَّنَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْفَزَعِ الْأَكْبَرِ
جس نے کسی بدعتی کو ذلیل کیا اللہ اسے بڑی گھبراہٹ کے دن امن دے گا
حدیث نمبر: 538
538 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ التُّجِيبِيُّ، أبنا أَبُو الْحَارِثِ بْنُ وَدِيعٍ قَاضِي طَبَرِيَّةَ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ حَمَّادٍ الرَّمْلِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ، ثنا أَبُو حَازِمٍ عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَهَانَ صَاحِبَ بِدْعَةٍ أَمَّنَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْفَزَعِ الْأَكْبَرِ»
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی بدعتی کو ذلیل کیا اللہ اسے بڑی گھبراہٹ کے دن امن دے گا۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 538]
تخریج الحدیث: إسناده ضعیف، ابوحازم عبدالغفار بن الحسن ضعیف ہے۔
الحكم على الحديث:
إسناده ضعیف
360. مَنْ أَصْبَحَ مُعَافًى فِي بُدْنِهِ آمِنًا فِي سِرْبِهِ عِنْدَهُ قُوتُ يَوْمِهِ فَكَأَنَّمَا حِيزَتْ لَهُ الدُّنْيَا
جو شخص اس حال میں صبح کرے کہ وہ جسمانی طور پر تندرست ہو، اپنے متعلق مطمئن اور بے خوف ہو، اس کے پاس اس کے دن کی خوراک موجود ہو تو گویا اسے ساری دنیا جمع کر کے دے دی گئی
حدیث نمبر: 539
539 - أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دُوسْتَ النَّيْسَابُورِيُّ، إِجَازَةً، أنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ السُّلَمِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُمَيْرٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَانِي بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا أَبِي، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي عَبْلَةَ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَصْبَحَ مُعَافًى فِي بُدْنِهِ آمِنًا فِي سِرْبِهِ عِنْدَهُ قُوتُ يَوْمِهِ فَكَأَنَّمَا حِيزَتْ لَهُ الدُّنْيَا»
سیدہ ام الدرداء رضی اللہ عنہا سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت کرتی ہیں، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اس حال میں صبح کرے کہ وہ جسمانی طور پر تندرست ہو، اپنے متعلق مطمئن اور بے خوف ہو، اس کے پاس اس کے دن کی خوراک موجود ہو تو گویا اسے ساری دنیا جمع کر کے دے دی گئی۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 539]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه ابن حبان: 671، وشعب الايمان: 9878» عبداللہ بن ہانی بن عبدالرحمٰن متہم بالکذب ہے۔
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 540
540 - وَأَخْبَرَنَا هِبَةُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْخَوْلَانِيُّ، أبنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ طَالِبٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ مُوسَى الْهَاشِمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي شُمَيْلَةَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِحْصَنٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَصْبَحَ مِنْكُمْ آمِنًا فِي سِرْبِهِ مُعَافًى فِي جَسَدِهِ عِنْدَهُ طَعَامُ يَوْمٍ فَكَأَنَّمَا حِيزَتْ لَهُ الدُّنْيَا»
سیدنا عبداللہ بن محصن رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جو شخص اس حال میں صبح کرے کہ وہ اپنے متعلق مطمئن اور بے خوف ہو، جسمانی طور پر تندرست ہو، اس کے پاس ایک دن کا کھانا موجود ہو تو گویا اسے ساری دنیا جمع کر کے دے دی گئی۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 540]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه الترمذي فى «جامعه» برقم: 2346، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 4141، والحميدي فى «مسنده» برقم: 443، الادب المفرد: 300»
وضاحت: تشریح: -
جسمانی طور پر تندرستی، اپنی ذات اور اپنے اہل و عیال کی طرف سے اطمینان، اور کم از کم ایک دن کی خوراک، یہ تین چیزیں ہر انسان کی اصل ضرورتیں ہیں، جسے یہ میسر آ گئیں تو سمجھ لو کہ اسے دنیا و جہاں کی ساری نعمتیں مل گئیں وہ خوش نصیب ہے، اسے چاہیے کہ اپنے نصیب پر راضی رہے اور اللہ کا شکر ادا کرے، باقی مستقبل کے حوالے سے امید رکھے کہ جس ذات نے آج مجھ پر کرم فرمایا ہے اور میری ضروریات پوری فرما دی ہیں وہ آنے والی کل میں بھی ضرور میری مددفرمائے گا۔
جسمانی طور پر تندرستی، اپنی ذات اور اپنے اہل و عیال کی طرف سے اطمینان، اور کم از کم ایک دن کی خوراک، یہ تین چیزیں ہر انسان کی اصل ضرورتیں ہیں، جسے یہ میسر آ گئیں تو سمجھ لو کہ اسے دنیا و جہاں کی ساری نعمتیں مل گئیں وہ خوش نصیب ہے، اسے چاہیے کہ اپنے نصیب پر راضی رہے اور اللہ کا شکر ادا کرے، باقی مستقبل کے حوالے سے امید رکھے کہ جس ذات نے آج مجھ پر کرم فرمایا ہے اور میری ضروریات پوری فرما دی ہیں وہ آنے والی کل میں بھی ضرور میری مددفرمائے گا۔
الحكم على الحديث:
إسناده حسن