🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مسند الشهاب سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الشهاب میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1499)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
366. مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ
جس شخص نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھا تو اسے چاہیے کہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 561
561 - وأنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ، أَيْضًا، أنا الْقَاضِي أَبُو طَاهِرٍ، نا أَبُو أَحْمَدَ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدُوسٍ، نا عَلِيٌّ، أنا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّكُمْ مَنْصُورُونَ وَمَفْتُوحٌ لَكُمْ وَمُصِيبُونَ، فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْكُمْ فَلْيَتَّقِ اللَّهَ، وَلْيَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ، وَلْيَنْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ، وَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ»
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک تم مدد دیے جاؤ گے اور تمہیں فتح ملے گی اور مال غنیمت ہاتھ آئے گا، پس جو شخص یہ (دور) پائے تو اسے چاہیے کہ اللہ سے ڈرے اور نیکی کا حکم دے، برائی سے منع کرے، اور جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھا تو اسے چاہیے کہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 561]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف،وأخرجه ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4804، 5942، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 7368، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 9742، وأبو داود فى «سننه» برقم: 5117، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2257، 2659، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 30، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 5701، شعب الايمان: 1751، وأحمد فى «مسنده» برقم: 3769، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 5251» عبد الرحمن بن عبد اللہ بن مسعود مدلس کا عنعنہ ہے۔

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 562
562 - وأنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ، أَيْضًا، أنا الْقَاضِي أَبُو طَاهِرٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدُوسٍ، نا ابْنُ حُمَيْدٍ، نا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، نا أَبُو مَوْدُودٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ , عَنْ عُثْمَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ»
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھا اسے چاہیے کہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 562]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه أحمد فى «مسنده» برقم: 332، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 259، 260، و الطحاوي فى «شرح مشكل الآثار» برقم: 380» جین بن ثابت ضعیف ہے۔

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 563
563 - وأنا تُرَابُ بْنُ عُمَرَ، أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ الْمُفَسِّرِ، نا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْقَاضِي الْمَرْوَزِيُّ، نا ابْنُ وَكِيعٍ، نا أَبِي، عَنِ الدُّجَيْنِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَسْلَمَ، مَوْلَى عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ»
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھا وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 563]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه أحمد فى «مسنده» برقم: 332، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 259، 260، و الطحاوي فى «شرح مشكل الآثار» برقم: 380» جین بن ثابت ضعیف ہے۔

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 564
564 - أنا ذُو النُّونِ بْنُ أَحْمَدَ الْعَطَّارُ، نا أَبُو الْفَضْلِ أَحْمَدُ بْنُ عِمْرَانَ الْهَرَوِيُّ بِمَكَّةَ نا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ، نا أَحْمَدُ بْنُ مُوسَى الْحَمَّالُ، بِالْكُوفَةَ، نا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، نا عِيسَى بْنُ طَهْمَانَ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ»
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھا وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 564]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح والحديث متفق عليه، أخرجه البخاري 108، ومسلم: 2،»

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح والحديث متفق عليه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 565
565 - وأنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ، أَيْضًا، أنا الْحَسَنُ بْنُ رَشِيقٍ، أنا أَبُو الْعَلَاءِ، مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْكُوفِيُّ نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَسْبَاطِيُّ، نا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ»
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھا وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 565]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه مسلم: 3004، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2665، والدارمي فى «مسنده» برقم: 464، 465، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 37، وأحمد فى «مسنده» برقم: 11244، و الطحاوي فى «شرح مشكل الآثار» برقم: 400»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 566
566 - أنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْأَصْبَهَانِيُّ، نا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَهْرَيَارَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رِيذَةَ، قَالَا: ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الطَّبَرَانِيُّ، نا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نُبَيْطِ بْنِ شَرِيطٍ الْأَشْجَعِيُّ، صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِيهِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِيهِ نُبَيْطِ بْنِ شَرِيطٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ» قَالَ الطَّبَرَانِيُّ: «لَا يُرْوَى هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ نُبَيْطٍ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ، تَفَرَّدَ بِهِ وَلَدُهُ عَنْهُ»
سیدنا نبیط بن شریط رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھا وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 566]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدا، وأخرجه المعجم الصغير: 67، تاريخ دمشق: 5/ 387» أحمد بن اسحاق بن ابراہیم کذاب ہے، اس میں اور بھی علتیں ہیں۔
وضاحت: تشریح: -
ان احادیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھوٹی بات منسوب کرنے پر وعید سنائی گئی ہے کہ جو شخص جان بوجھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرتا ہے وہ سمجھ لے کہ میں اپنا ٹھکانا جہنم کی آگ میں بنا رہا ہوں، اگر چہ ہر ایک کی طرف جھوٹ منسوب کرنا بہتان اور گناہ ہے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھوٹ منسوب کرنا نہایت سخت گناہ ہے کیونکہ اس سے دین میں بگاڑ آتا ہے، لہٰذا احتیاط اسی میں ہے کہ جس حدیث کے بارے میں یقین کے ساتھ یہ معلوم نہ ہو کہ یہ حدیث آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے، اسے لوگوں کے سامنے بیان نہ کیا جائے، صرف وہی حدیث بیان کی جائے جو سند صحیح یا کم از کم حسن درجے کی ہو۔ موضوع یا ضعیف حدیث کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہرگز نہ نسبت کی جائے اور نہ ہی اسے لوگوں میں بیان کیا جائے سوائے اس صورت کے کہ اس کے ضعیف اور کذب سے لوگوں کو آگاہ کرنا مقصود ہو۔
افسوس کہ اس قدر سخت وعید کے باوجود عوام تو عوام، علماء بھی احتیاط نہیں برتتے، موضوع اور ضعیف روایات کی بڑے دھڑلے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت کرتے ہیں۔ ایسی ایسی روایات سننے کو ملتی ہیں جن کی کوئی اصل نہیں ہوتی، لیکن ہمارے علماء انہیں بلا جھجھک بیان کرتے چلے جاتے ہیں، کوئی روک ٹوک نہیں اور پھر اس سے بھی بڑھ کر افسوس ناک بات یہ ہے کہ اپنے اپنے مسلک کی حمایت میں صحیح اور مستند احادیث کی تو تغلیظ اور تردید اور اس کے برعکس موضوع وضعیف روایات کی تصحیح و تثبیت کی مذموم سعی کرتے ہیں، پورے مسلک کی بنیاد ضعیف اور من گھڑت روایات پر ہوتی ہے۔ اللہ ہدایت نصیب فرمائے۔ آمین
کتاب ”مسند الشھاب“ کا چوتھا باب اختتام کو پہنچا اور سب تعریفیں اللہ وحدہ کے لیے ہیں اور اس کے نبی، ہمارے سردار محمد کریم (صلی اللہ علیہ وسلم ) پر، آپ کی آل اور آپ کے تمام صحابہ پر قیامت کے دن تک ہمیشہ درود وسلام ہوں۔

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف جدا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
367. حُفَّتِ الْجَنَّةُ بِالْمَكَارِهِ، وَحُفَّتِ النَّارُ بِالشَّهَوَاتِ
جنت کو تکلیفوں اور مشقتوں کے ساتھ ڈھانپ دیا گیا ہے اور جہنم کو شہوات نفسانی کے ساتھ ڈھانپ دیا گیا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 567
567 - أَخْبَرَ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْمَوْصِلِيُّ، قَدِمَ عَلَيْنَا، أبنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الدَّارَقُطْنِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَسَدٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَبِيبٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَرْوِيُّ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «حُفَّتِ الْجَنَّةُ بِالْمَكَارِهِ، وَحُفَّتِ النَّارُ بِالشَّهَوَاتِ» تَفَرَّدَ بِهِ إِسْحَاقُ الْفَرْوِيُّ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت کو تکلیفوں اور مشقتوں کے ساتھ ڈھانپ دیا گیا ہے اور جہنم کو شہوات نفسانی کے ساتھ ڈھانپ دیا گیا ہے۔“ اسحاق الفروی رحمہ اللہ اسے بیان کرنے میں منفرد ہے۔ [مسند الشهاب/حدیث: 567]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 6487، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2823، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 719، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7646، 9066، والبزار فى «مسنده» برقم: 3203»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 568
568 - وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُسْلِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْكَاتِبُ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَغَوِيُّ، ثنا أَبُو نَصْرٍ التَّمَّارُ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «حُفَّتِ النَّارُ بِالشَّهَوَاتِ، وَحُفَّتِ الْجَنَّةُ بِالْمَكَارِهِ» رَوَاهُ مُسْلِمٌ , أنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، نا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ وَحُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَكَرَهُ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنم کو شہوات نفسانی کے ساتھ ڈھانپ دیا گیا ہے اور جنت کو تکلیفوں اور مشقتوں کے ساتھ ڈھانپ دیا گیا ہے۔“ اسے امام مسلم رحمہ اللہ نے بھی اپنی سند کے ساتھ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔۔۔ اور انہوں نے حدیث بیان کی۔ [مسند الشهاب/حدیث: 568]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 6487، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2823، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 719، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2559، وأحمد فى «مسنده» برقم: 12754، والبزار فى «مسنده» برقم: 3203»
وضاحت: تشریح: -
مطلب یہ ہے کہ انسان اور جہنم کے درمیان نفسانی شہوات اور لذات آڑ اور رکاوٹ ہیں، جب انسان شہوتوں اور لذتوں میں پھنس جائے تو اس کے معنی ہیں کہ اس نے اس آڑ کو عبور کر لیا اور جہنم میں داخل ہو گیا۔ اور جنت اور انسان کے درمیان آلام و مصائب، دکھ تکالیف یا احکام و فرائض اسلام کہ جن کی ادائیگی بھی بعض دفعہ نفس انسانی پر گراں گزرتی ہے، آڑ اور رکاوٹ ہیں، جب انسان ان کو برداشت کر لیتا ہے تو گویا اس نے اس رکاوٹ کو دور کر دیا اور جنت میں جانے کا مستحق قرار دیا گیا۔ [رياض الصالحين: 133/1]
حدیث میں آتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ ٰ نے جنت اور جہنم کو پیدا فرمایا تو جبریل کو جنت کی طرف بھیجا اور فرمایا: جاؤ جنت اور اس میں اہل جنت کے لیے بنائی ہوئی چیزوں کو دیکھو، انہوں نے جا کر دیکھا پھر واپس آئے اور کہنے لگے: تیری عزت کی قسم! جو شخص بھی جنت کے بارے میں سنے گا، ضرور اس میں داخل ہوگا۔ اللہ نے حکم دیا تو جنت کو سختیوں اور طبع کو ناگوار گزرنے والی چیزوں سے گھیر دیا گیا، اللہ نے فرمایا: اب پھر جاؤ اور دیکھو کہ میں نے جنت میں اپنے بندوں کے لیے کیا کچھ بنایا ہے انہوں نے جا کر دیکھا تو جنت کے اردگر دسختیوں اور مشکلات کی باڑ لگی ہوئی تھی، آکر کہنے لگے: تیری عزت کی قسم! مجھے خطرہ ہے کہ کوئی شخص بھی اس میں داخل نہیں ہو سکے گا۔ اللہ نے فرمایا: جاؤ جہنم کو دیکھو اور جو کچھ میں نے اہل جہنم کے لیے تیار کر رکھا ہے، انہوں نے جا کر دیکھا تو آگ کے شعلے ایک دوسرے سے ٹکرا رہے تھے، وہ واپس آ کر کہنے لگے: تیری عزت کی قسم! کوئی اس میں داخل نہیں ہوگا۔ اللہ نے حکم دیا تو اس کے ارد گر و طبع کی مرغوب چیزوں کی باڑ لگا دی گئی۔ فرمایا: اب جا کر دیکھو، انہوں نے دیکھا تو اس کے اردگرد خوشنما چیزوں کی باڑ لگ چکی تھی وہ واپس آ کر کہنے لگے: تیری عزت کی قسم! مجھے خطرہ ہے کہ کوئی شخص اس سے بچ نہیں سکے گا ضرور داخل ہو جائے گا۔ ‘ [نسائي: 3794 حسن]

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
368. وَجَبَتْ مَحَبَّةُ اللَّهِ عَلَى مَنْ أُغْضِبَ فَحَلُمَ
اس شخص پر اللہ کی محبت واجب ہوگئی جسے غصہ دلایا گیا لیکن اس نے برداشت سے کام لیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 569
569 - أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَالِينِيُّ وَأَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُنِيرٍ قَالَا: ثنا الْحَسَنُ بْنُ رَشِيقٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ عَبْدِ الْغَفَّارِ، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ مُنِيرٍ أَبِي الْحَسَنِ: أَحْمَدَ بْنِ دَاوُدَ أَبِي صَالِحٍ الْحَرَّانِيِّ، ثنا أَبُو مُصْعَبٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «وَجَبَتْ مَحَبَّةُ اللَّهِ عَلَى مِنْ أُغْضِبَ فَحَلُمَ»
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص پر اللہ کی محبت واجب ہوگئی جسے غصہ دلایا گیا لیکن اس نے برداشت سے کام لیا۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 569]
تخریج الحدیث: «موضوع، وأخرجه تاريخ دمشق: 14/ 404، الكامل لابن عدي: 8/ 112» أحمد بن داود ابوصالح کذاب ہے۔ مزید دیکھئے: «السلسلة الضعيفة: 752»

الحكم على الحديث:
موضوع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
369. بُعِثْتُ بِجَوَامِعِ الْكَلِمِ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ
جھے جوامع الکلم دے کر بھیجا گیا ہے اور رعب دے کرمیری مدد کی گئی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 570
570 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَوْفِيُّ، أبنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ النَّيْسَابُورِيُّ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ شُعَيْبٍ النَّسَائِيُّ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، أبنا ابْنُ وَهْبِ عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بُعِثْتُ بِجَوَامِعِ الْكَلِمِ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے جوامع الکلم دے کر بھیجا گیا ہے اور رعب دے کر میری مدد کی گئی ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 570]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2977، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 523، والنسائي: 3089، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 2313، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1553 م، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 567، والحميدي فى «مسنده» برقم: 975، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7386»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں