🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مسند الشهاب سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الشهاب میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1499)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
369. بُعِثْتُ بِجَوَامِعِ الْكَلِمِ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ
جھے جوامع الکلم دے کر بھیجا گیا ہے اور رعب دے کرمیری مدد کی گئی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 571
571 - أنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُوسَى السِّمْسَارُ بِدِمَشْقَ، أنا أَبُو زَيْدٍ، مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَرْوَزِيُّ أنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفَرَبْرِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، نا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، نا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَكَرَهُ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔۔۔ اور انہوں نے یہ حدیث بیان کی۔ [مسند الشهاب/حدیث: 571]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2977، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 523، والنسائي: 3089، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 2313، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1553 م، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 567، والحميدي فى «مسنده» برقم: 975، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7386»
وضاحت: تشریح: -
ان احادیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دو خصائص بیان فرمائے ہیں:
① جوامع الکلم:
اللہ تعالیٰ ٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جوامع الکلم عطا فرمائے تھے۔ جوامع الکلم سے مراد ایسا کلام جس کی عبارت مختصر ہو یعنی الفاظ بہت کم ہوں اور اس کے معنی بہت وسیع ہوں۔ قرآن مجید جوامع الکلم ہے اور اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بھی جوامع الکلم ہے۔ آپ کا کلام نہایت مختصر ہوتا مگر اس کے معانی میں بڑی تفصیل ہوتی گویا کوزے میں دریا بند ہو۔ ② رعب کے ذریعے مدد: اللہ تعالیٰ نے رعب کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد فرمائی یعنی کفار کے دلوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رعب و دبدبہ ڈال دیا جیسا کہ اللہ تعالیٰ ٰ کا ارشاد ہے:
﴿سَأُلْقِي فِي قُلُوبِ الَّذِينَ كَفَرُوا الرُّعْبَ﴾ (الانفال: 12)
”جلد ہی میں کافروں کے دلوں میں رعب ڈالوں گا۔“
اور فرمایا:
﴿سَنُلْقِي فِي قُلُوبِ الَّذِينَ كَفَرُوا الرُّعْبَ بِمَا أَشْرَكُوا بِاللَّهِ﴾
(آل عمران: 151) ”ہم جلد ہی کافروں کے دلوں میں رعب ڈال دیں گے کیونکہ انہوں نے اللہ کے ساتھ شرک کیا ہے۔“
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ”مجھے پانچ چیزیں ایسی دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں: ایک ماہ کی مسافت تک رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے۔“ [بخاري: 335]
دوسری حدیث میں ہے: ”مجھے چھ چیزوں کے سبب انبیاء علیہ السلام میں ہم پر فضیلت دی گئی ہے۔ مجھے جوامع الکلم دیئے گئے ہیں اور رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے۔“ [مسلم: 523]

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
370. نُصِرْتُ بِالصَّبَا وَأُهْلِكَتْ عَادٌ بِالدَّبُورِ
صبا کے ذریعے میری مدد کی گئی اور دبور کے ذریعے قوم عاد کو ہلاک کیا گیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 572
572 - أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَرْزُوقٍ، أبنا حَمْزَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّسَائِيُّ، أنا أَبُو صَالِحٍ الْمَكِّيُّ، نا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ الطَّائِيُّ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدُوَيْهِ الْمَسْعُودِيُّ، أبنا أَبُو عَلِيِّ بْنُ رَزِينٍ الْهَرَوِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ زُنْبُورٍ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مَسْعُودِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نُصِرْتُ بِالصَّبَا، وَأُهْلِكَتْ عَادٌ بِالدَّبُورِ»
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صبا کے ذریعے میری مدد کی گئی اور دبور کے ذریعے قوم عاد کو ہلاک کیا گیا۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 572]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1035، 3205، 3343، 4105، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 900،وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 6421، وأحمد فى «مسنده» برقم: 1980، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 2563»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 573
573 - أنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُوسَى السِّمْسَارُ، أنا أَبُو زَيْدٍ، مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَرْوَزِيُّ أنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفَرَبْرِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، نا مُسْلِمٌ، نا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «نُصِرْتُ بِالصَّبَا، وَأُهْلِكَتْ عَادٌ بِالدَّبُورِ»
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صبا کے ذریعے میری مدد کی گئی اور دبور کے ذریعے قوم عاد کو ہلاک کیا گیا۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 573]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1035، 3205، 3343، 4105، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 900،وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 6421، وأحمد فى «مسنده» برقم: 1980، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 2563»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 574
574 - أنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ النَّيْسَابُورِيُّ، أنا الْعَبَّاسُ بْنُ أَحْمَدَ الْهَاشِمِيُّ، أنا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَكَرَهُ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔۔۔ اور انہوں نے یہ حدیث بیان کی۔ [مسند الشهاب/حدیث: 574]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الكامل لابن عدى: 382/5، وحلية الاولياء: 7/ 47، وطبقات المحدثين: 4/ 225» اعمش مدلس کا عنعنہ ہے۔

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 575
575 - أنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا ابْنُ شَهْرَيَارَ وَابْنُ رِيذَةَ، نا الْإِمَامُ الطَّبَرَانِيُّ، نا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْوَاسِطِيُّ، نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نُصِرْتُ بِالصَّبَا، وَأُهْلِكَتْ عَادٌ بِالدَّبُورِ» قَالَ الطَّبَرَانِيُّ: «لَمْ يَرْوِهِ عَنْ قَتَادَةَ إِلَّا أَبُو عَوَانَةَ. تَفَرَّدَ بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ»
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صبا کے ذریعے میری مدد کی گئی اور دبور کے ذریعے قوم عاد کو ہلاک کیا گیا۔“ امام طبرانی رحمہ اللہ نے کہا: اسے قتادہ سے صرف ابوعوانہ نے روایت کیا ہے اور ان سے بیان کرنے میں محمد بن ابان منفرد ہے۔ [مسند الشهاب/حدیث: 575]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه المعجم الصغير: 1069، والكامل لابن عدى: 543/7، وتاريخ مدينة السلام: 6/ 490» قتادہ مدلس کا عنعنہ ہے۔
وضاحت: تشریح: -
ہوا اللہ تعالیٰ ٰ کی نشانیوں میں سے ہے یہ مدد کا ذریعہ بھی ہے اور عذاب بھی، اللہ تعالیٰ ٰ نے صبا کے ذریعے اپنے نبی کی مدد فرمائی۔ صبا سے مراد وہ ہوا ہے جو مشرق سے مغرب کی طرف چلتی ہے۔ غزوہ خندق کے موقع پر جب کفار عرب کے لشکر نے مسلمانوں کا محاصرہ کیا ہوا تھا تو اللہ تعالیٰ ٰ نے اس ہوا کے ذریعے اپنے نبی اور مومنوں کی مدد فرمائی جیسا کہ قرآن مجید میں ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَاءَتْكُمْ جُنُودٌ فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيحًا وَجُنُودًا لَّمْ تَرَوْهَا وَكَانَ اللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرًا﴾ ‎(الاحزاب: ۹)
”ایمان والو! اپنے اوپر اللہ کی نعمت یاد کرو جب لشکر تم پر چڑھ آئے تھے تو ہم نے ان پر ہوا بھیجی اور ایسے لشکر (بھیجے) جنہیں تم نہ دیکھے اور سکے اور جو بھی تم کرتے ہو اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔“
د بور کے ذریعے قوم عاد کو ہلاک کیا گیا تھا۔ دبور اس ہوا کو کہتے ہیں جو مغرب سے مشرق کی طرف چلتی ہے یعنی یہ صبا کے بالکل برعکس ہے۔ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کو بلاک کیا تھا۔ قوم عاد بڑی سرکش قوم تھی جب انہوں نے نبی ہود علیہ السلام کی تکذیب کی اور اپنی سرکشی و بد کرداری میں تمام حدیں پار کر دیں تو اللہ تعالیٰ ٰ نے ان پر دبور چلائی اور انہیں ہلاک کر دیا جیسا کہ قرآن مجید میں ہے:
﴿وَأَمَّا عَادٌ فَأُهْلِكُوا بِرِيحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍ ‎ «٦» ‏ سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا فَتَرَى الْقَوْمَ فِيهَا صَرْعَىٰ كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ ‎ «٧» ‏ فَهَلْ تَرَىٰ لَهُم مِّن بَاقِيَةٍ ‎ «٨» ‏﴾ (الحافة: 8-6)
”اور جو قوم عاد تھی وہ سخت ٹھنڈی تند ہوا کے ساتھ بلاک کیے گئے جو ق ابوسے باہر ہونے والی تھی اس (اللہ) نے اسے سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل ان پر چلائے رکھا پس تو ان لوگوں کو اس میں یوں (زمین پر) گرے ہوئے دیکھے گا جیسے وہ گری ہوئی کھجوروں کے تنے ہوں پس کیا تو ان کا کوئی بھی باقی رہنے والا دیکھتا ہے۔“

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
371. يَعْجَبُ رَبُّكُ مِنَ الشَّابِّ لَيْسَتْ لَهُ صَبْوَةٌ
تیرا رب اس نوجوان کو پسند کرتا ہے جسے کوئی حرص و خواہش نہ ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 576
576 - أَخْبَرَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ التُّجِيبِيُّ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ شُرَحْبِيلَ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي عُشَّانَةَ , عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَعْجَبُ رَبُّكَ مِنَ الشَّابِّ لَيْسَتْ لَهُ صَبْوَةٌ»
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرا رب اس نوجوان کو پسند کرتا ہے جسے کوئی حرص و خواہش نہ ہو۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 576]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه أحمد: 4/ 151، ابن الاعرابي: 887، المعجم الكبير: 853 جزء: 17» ابن لہیعہ مدلس و مختلط ہے۔

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
372. كَمَا تَكُونُونَ يُوَلَّى عَلَيْكُمْ
جس طرح کے تم ہو گے اسی طرح کے تم پر حاکم بنائے جائیں گے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 577
577 - أَخْبَرَنَا هِبَةُ اللَّهِ بْنُ أَبِي غَسَّانَ الْفَارِسِيُّ، نا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ حَسَّانَ الْبَكَّارِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عِمْرَانَ الْجُورِيُّ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ الْمُثَنَّى أَبُو الْمُثَنَّى الْبَاهِلِيُّ أَنَّ أَبَاهُ وَعَمَّهُ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى حَدَّثَاهُ قَالَا: أنا الْكَرْمَانِيُّ بْنُ عَمْرٍو، ثنا الْمُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنِ الْحَسَنِ , عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «كَمَا تَكُونُونَ يُوَلَّى أَوْ يُؤَمَّرُ عَلَيْكُمْ»
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس طرح کے تم ہو گے اسی طرح کے تم پر حاکم۔“ یا (فرمایا) ”امیر بنائے جائیں گے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 577]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الطيوريات: 1318» حسن بصری اور مبارک بن فضالہ مدلس راویوں کا عنعنہ ہے، اس میں اور بھی علتیں ہیں، دیکھئے «السلسلة الضعيفة: 320»

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
373. يُبْعَثُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى نِيَّاتِهِمْ
قیامت کے دن لوگوں کو ان کی نیتوں پر اٹھایا جائے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 578
578 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ الْمُعَدِّلُ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَامِعٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَاوُسٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُبْعَثُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى نِيَّاتِهِمْ»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن لوگوں کو ان کی نیتوں پر اٹھایا جائے گا۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 578]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه ابن ماجه: 4229، وأحمد: 2/ 392» لیث بن ابی سلیم ضعیف مدلس اور شریک مدلس ومختلط ہے۔
وضاحت: فائدہ: -
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ کسی قوم پر عذاب بھیجتا ہے تو وہ عذاب ان تمام لوگوں پر آتا ہے جو اس قوم میں ہوتے ہیں پھر (روز قیامت) وہ اپنے اعمال کے مطابق اٹھائے جائیں گے۔“ [بخاري: 7108]
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(قیامت کے دن) ہر بندے کو اس کی (نیت) پر اٹھایا جائے گا جس پر اسے موت آئی۔“ [مسلم: 2877]
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک لشکر کعبہ پر چڑھائی کرے گا جب وہ مقام بیداء پر ہوں گے تو ان کے اول و آخر سب لوگ زمین میں دھنسا دیئے جائیں گے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ان کے اول و آخر سب لوگ زمین میں کیوں دھنسا دیئے جائیں گے؟ جبکہ ان میں ان کی رعایا بھی ہوگی اور ایسے لوگ بھی ہوں گے جو ان میں سے نہیں ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”ان کے اول و آخر سب کو دھنسا دیا جائے گا اور پھر (روز قیامت) انہیں ان کی نیتوں پر اٹھایا جائے گا۔“ [بخاري: 2118، مسلم: 2884]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
374. يُبْعَثُ شَاهِدُ الزُّورِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَولِغًا لِسَانَهُ فِي النَّارِ
جھوٹی گواہی دینے والا قیامت کے دن اس حال میں اٹھایا جائے گا کہ اپنی زبان آگ میں ڈال کر چاٹنے والا ہوگا جس طرح کتنا گندگی میں اپنی زبان ڈال کر چاہتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 579
579 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ، مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَطَّارُ ثنا كَعْبُ بْنُ عَمْرِو بْنِ النَّضْرِ الْبَلْخِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الرَّازِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ صَالِحٍ أَبُو الصَّلْتِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُوسَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ آبَائِهِ، مُتَّصِلًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُبْعَثُ شَاهِدُ الزُّورِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُولِغًا لِسَانَهُ فِي النَّارِ كَمَا يُولِغُ الْكَلْبُ لِسَانَهُ فِي الْقَذَرِ»
علی بن موسیٰ رحمہ اللہ اپنے والد سے وہ اپنے آباء و اجداد سے متصل سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جھوٹی گواہی دینے والا قیامت کے دن اس حال میں اٹھایا جائے گا کہ اپنی زبان آگ میں ڈال کر چاٹتا ہوگا جس طرح کتا گندگی میں اپنی زبان ڈال کر چاٹتا ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 579]
تخریج الحدیث: إسناده ضعیف، عبدالسلام بن صالح جمہور کے نزدیک ضعیف ہے، اور اس میں اور بھی علتیں ہیں۔

الحكم على الحديث:
إسناده ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
375. رَحِمَ اللَّهُ امْرَءًا أَصْلَحَ مِنْ لِسَانِهِ
اللہ اس شخص پر رحم فرمائے جس نے اپنی زبان کی اصلاح کر لی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 580
580 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُسْلِمٍ، مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْبَغْدَادِيُّ أبنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا أَبُو مَنْصُورٍ الصَّاغَانِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ هَاشِمٍ الْغَسَّانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: مَرَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِقَوْمٍ يَرْمُونَ نَبْلًا فَعَابَ عَلَيْهِمْ، فَقَالُوا: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّا قَوْمٌ مُتَعَلِّمِينَ، فَقَالَ: «لَحْنُكُمْ عَلَيْنَا أَشَدُّ مِنْ سُوءِ رَمْيِكِمْ» ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «رَحِمَ اللَّهُ امْرَءًا أَصْلَحَ مِنْ لِسَانِهِ»
مصعب بن سعد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے جو تیراندازی کر رہے تھے، آپ نے (ان کی) کمزوری کو ظاہر کیا تو وہ کہنے لگے: اے امیر المؤمنین! ہم تو سیکھ رہے ہیں۔ آپ نے کہا: تمہارا بولا ہوا لفظ تمہارے نشانے کی برائی سے ہم پر زیادہ سخت ہے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے: ”اللہ اس شخص پر رحم فرمائے جس نے اپنی زبان کی اصلاح کر لی۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 580]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدا، وأخرجه الكامل لابن عدى: 441/6» یحیی ٰبن ہاشم متروک ہے، اس میں اور بھی علتیں ہیں۔

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف جدا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں