🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
70. ‏(‏70‏)‏ بَابُ ذِكْرِ خَبَرٍ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَفْيِ تَنْجِيسِ الْمَاءِ بِلَفْظٍ مُجْمَلٍ غَيْرِ مُفَسَّرٍ، بِلَفْظٍ عَامٍّ مُرَادُهُ خَاصٌّ
اس حدیث کا بیان جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پانی کے ناپاک ہونے کی نفی کے بارے میں مجمل غیر مفسر الفاظ کے ساتھ مروی ہے، اس کے الفاظ عام ہین اور اس سے مراد خاص ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 91
نا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقُطَعِيُّ ، قَالا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، نا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَوَضَّأَ، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْ نِسَائِهِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي قَدْ تَوَضَّأْتُ مِنْ هَذَا، فَتَوَضَّأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: " الْمَاءُ لا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ" . هَذَا حَدِيثُ أَحْمَدَ بْنِ الْمِقْدَامِ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کرنے کا ارادہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات میں سے ایک زوجہ محترمہ نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول، میں نے اس (‏‏‏‏پانی) سے وضو کیا ہے۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور فرمایا: پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔ یہ احمد بن مقدام کی روایت ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر الماء الذي لا ينجس، والذي ينجس إذا خالطته نجاسة/حدیث: 91]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح: صحيح ابي داود: 59، أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 53، 54، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 91، 109، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1241، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 568، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 324، وأبو داود فى (سننه) برقم: 68، والترمذي فى (جامعه) برقم: 65، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 370، 371، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 916، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2131»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
71. ‏(‏71‏)‏ بَابُ ذِكْرِ الْخَبَرِ الْمُفَسِّرِ لِلَّفْظَةِ الْمُجْمَلَةِ الَّتِي ذَكَرْتُهَا
گذشتہ مجمل روایت کی مفسرروایت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q92
وَالدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا أَرَادَ بِقَوْلِهِ‏:‏ ‏"‏ الْمَاءُ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ ‏"‏ بَعْضَ الْمِيَاهِ لَا كُلَّهَا، وَإِنَّمَا أَرَادَ الْمَاءَ الَّذِي هُوَ قُلَّتَانِ فَأَكْثَرُ لَا مَا دُونَ الْقُلَّتَيْنِ مِنْهُ
اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس فرمان پانی کوکوئی چیز ناپاک نہیں کرتی سے بعض پانی مراد لیتے ہیں تمام پانی نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد وہ پانی ہے جو «‏‏‏‏قلتين» ‏‏‏‏ یا اس سے زیادہ ہو، «‏‏‏‏قلتين» ‏‏‏‏ دومٹکوں سے کم پانی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد نہیں ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر الماء الذي لا ينجس، والذي ينجس إذا خالطته نجاسة/حدیث: Q92]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 92
نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ ، وَمُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ ، وَأَبُو الأَزْهَرِ حَوْثَرَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَصْرِيُّ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، نا الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، حَدَّثَهُمْ، أَنَّ أَبَاهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، حَدَّثَهُمْ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْمَاءِ وَمَا يَنُوبُهُ مِنَ الدَّوَابِّ وَالسِّبَاعِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا كَانَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ، لَمْ يَحْمِلِ الْخَبَثَ" . هَذَا حَدِيثُ حَوْثَرَةَ. وَقَالَ مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَقَالَ أَيْضًا:" لَمْ يُنَجِّسْهُ شَيْءٌ". وَأَمَّا الْمُخَرِّمِيُّ، فَإِنَّهُ حَدَّثَنَا بِهِ مُخْتَصَرًا، وَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا كَانَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ لَمْ يَحْمِلِ الْخَبَثَ"، وَلَمْ يَذْكُرْ مَسْأَلَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَاءِ وَمَا يَنُوبُهُ مِنَ السِّبَاعِ وَالدَّوَابِّ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس پانی کے متعلق پوچھا گیا جس پر چوپائے اور درندے (پانی پینے کے لئے) آتے جاتے رہتے ہیں۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب پانی دو مٹکے ہو تو وہ ناپاک نہیں ہوتا۔ یہ موثرہ کی روایت ہے۔ موسٰی بن عبدالرحمٰن نے اپنی روایت میں «‏‏‏‏حدث» ‏‏‏‏ کی بجائے «‏‏‏‏عن» ‏‏‏‏ بیان کیا ہے۔اور «‏‏‏‏لم يَحْمِلْ الخُبَثَ» ‏‏‏‏ کی بجائے «‏‏‏‏لَم يُنْجِسْهُ شَيٌءُٗ» ‏‏‏‏ اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی کے الفاظ بیان کیے ہیں۔ (امام صاحب کہتے ہیں) مخرمی نے ہمیں مختصر روایت بیان کی ہے، اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب پانی دو مٹکے ہو تو ناپاک نہیں ہوتا انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پانی اور اس پر آنے جانے والے پرندوں اور چاپائیوں کے متعلق سوال کا تذکرہ نہیں کیا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر الماء الذي لا ينجس، والذي ينجس إذا خالطته نجاسة/حدیث: 92]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح: ارواء الغليل: 23، أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 47، 48، 51، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 92، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1249، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 457، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 52، وأبو داود فى (سننه) برقم: 63، -والترمذي فى (جامعه) برقم: 67، والدارمي فى (مسنده) برقم: 758، 759، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 517، 517 م، 518، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1251، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4695»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
72. ‏(‏72‏)‏ بَابُ النَّهْيِ عَنِ اغْتِسَالِ الْجُنُبِ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ، بِلَفْظٍ عَامٍّ مُرَادُهُ خَاصٌّ
کھڑے پانی میں جنبی کے نہانے کی ممانعت کا بیان، عام الفاظ کے ساتھ جب کہ اس سے مراد خاص ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q93
وَفِيهِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ قَوْلَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ‏:‏ ‏"‏ الْمَاءُ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ ‏"‏- لَفْظٌ عَامٌّ مُرَادُهُ خَاصٌّ عَلَى مَا بَيَّنْتُ قَبْلُ- أَرَادَ الْمَاءَ الَّذِي يَكُونُ قُلَّتَيْنِ فَصَاعِدًا
اس میں دلیل بھی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی کے الفاظ عام ہیں جب کہ ان سے مراد خاص ہے۔ جیسا کہ میں نے پہلے بیان کیا ہے کہ آپ کی مراد وہ پانی ہے جو دو مٹکے یا اس سے زیادہ ہو [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر الماء الذي لا ينجس، والذي ينجس إذا خالطته نجاسة/حدیث: Q93]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 93
نا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا السَّائِبِ مَوْلَى هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا يَغْتَسِلْ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ وَهُوَ جُنُبٌ" ، قَالَ: كَيْفَ يَفْعَلُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟ قَالَ: يَتَنَاوَلُهُ تَنَاوُلا
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتےہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: تم میں سےکوئی شخص کھڑے پانی میں غسل نہ کرے جبکہ وہ جنبی ہو۔ اس نے عرض کی کہ اے ابوہریرہ، پھر وہ کیسے (غسل) کرے؟ اُنہوں نے جواب دیا کہ وہ (اُس میں سے) پانی لے لے (اور با ہر بیٹھ کر غسل کرے)۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر الماء الذي لا ينجس، والذي ينجس إذا خالطته نجاسة/حدیث: 93]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 239، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 282، وابن الجارود فى "المنتقى"، 60، 63، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 66، 93، 94، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1251، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 57، وأبو داود فى (سننه) برقم: 69، 70، والترمذي فى (جامعه) برقم: 68، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 344، 605، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 472، والدارقطني فى (سننه) برقم: 134، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7641»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
73. ‏(‏73‏)‏ بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْوُضُوءِ مِنَ الْمَاءِ الدَّائِمِ الَّذِي قَدْ بِيلَ فِيهِ، وَالنَّهْيِ عَنِ الشُّرْبِ مِنْهُ بِذِكْرِ لَفْظٍ عَامٍّ مُرَادُهُ خَاصٌّ
اس کھڑے پانی سے وضو کرنے اور پینے کی ممانعت کا بیان جس میں پیشاب کیا گیا ہو، اس کا بیان عام الفاظ کے ساتھ ہے جبکہ مراد خاص ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 94
نا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، أَخْبَرَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، عَنِ الْحَارِثِ وَهُوَ ابْنُ أَبِي ذُبَابٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ مِينَاءَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ، ثُمَّ يَتَوَضَّأُ مِنْهُ أَوْ يَشْرَبُ"
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص کھڑے پانی میں ہرگز پیشاب نہ کرے کہ پھر اس سے وضو کرے یا اس میں سے پیئے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر الماء الذي لا ينجس، والذي ينجس إذا خالطته نجاسة/حدیث: 94]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح: صحيح ابي داود: 63، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 239، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 282، وابن الجارود فى "المنتقى"، 60، 63، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 66، 93، 94، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1251، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 57، وأبو داود فى (سننه) برقم: 69، 70، والترمذي فى (جامعه) برقم: 68، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 344، 605، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 472، والدارقطني فى (سننه) برقم: 134، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7641»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
74. ‏(‏74‏)‏ بَابُ الْأَمْرِ بِغَسْلِ الْإِنَاءِ مِنْ وُلُوغِ الْكَلْبِ
کتّا برتن میں منہ ڈال دے تو اسے دھونے کا حکم ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q95
وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا أَمَرَ بِغَسْلِ الْإِنَاءِ مِنْ وُلُوغِ الْكَلْبِ تَطْهِيرًا لِلْإِنَاءِ، لَا عَلَى مَا ادَّعَى بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ الْأَمْرَ بِغَسْلِهِ أَمْرُ تَعَبُّدٍ، وَأَنَّ الْإِنَاءَ طَاهِرٌ وَالْوُضُوءُ وَالِاغْتِسَالُ بِذَلِكَ الْمَاءِ جَائِزٌ، وَشُرْبُ ذَلِكَ الْمَاءِ طَلْقٌ مُبَاحٌ
اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا کُتّے کے برتن میں منہ ڈالنے سے اُسے دھونے کا حکم برتن کی پاکیزگی اور صفائی کے لیے ہے، اس لیے نہیں، جیسا کہ بعض علما نے دعویٰ کیا ہے کہ برتن کو دھونے کا حکم امرتعبدی ہے اور برتن پاک ہے، اس پانی سے وضو اور غسل کرنا جائز ہے، اور اس پانی کو پینا مطلقاً جائز ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر الماء الذي لا ينجس، والذي ينجس إذا خالطته نجاسة/حدیث: Q95]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 95
نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، نا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ صَدَقَةَ . ح وَحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ بَشِيرِ بْنِ مَنْصُورٍ السُّلَيْمِيُّ ، نا عَبْدُ الأَعْلَى . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقُطَعِيُّ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ ، قَالُوا: نا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ . ح وَحَدَّثَنَا جَمِيلُ بْنُ الْحَسَنِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " طُهُورُ إِنَاءِ أَحَدِكُمْ إِذَا وَلَغَ فِيهِ الْكَلْبُ أَنْ يُغْسَلَ سَبْعَ مَرَّاتٍ، الأُولَى مِنْهُنَّ بِالتُّرَابِ" . وَقَالَ الدَّوْرَقِيُّ: أَوَّلُهَا بِتُرَابٍ، وَقَالَ الْقُطَعِيُّ: أَوَّلُهَا بِالتُّرَابِ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی شخص کے برتن میں جب کُتّا منہ ڈالدے تو اس کی پاکیزگی یہ ہے کہ اسے سات مرتبہ دھویا جائے۔ پہلی بار مٹی سے۔ (صاف کیا جائے) دورقی کی روایت میں ہے «‏‏‏‏اولھا بتراب» ‏‏‏‏ اور قطعی کی روایت میں «‏‏‏‏اولھا بالتراب» ‏‏‏‏ ہے۔پہلی بار مٹی سے (دونوں کا معنی ایک ہے۔) [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر الماء الذي لا ينجس، والذي ينجس إذا خالطته نجاسة/حدیث: 95]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 172، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 279، ومالك فى (الموطأ) برقم: 90، وابن الجارود فى "المنتقى"، 55، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 95، 96، 97، 98، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1294، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 573، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 63، وأبو داود فى (سننه) برقم: 71، والترمذي فى (جامعه) برقم: 91، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 363، 364، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 59، والدارقطني فى (سننه) برقم: 181، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7463»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 96
نا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، نا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " طُهُورُ إِنَاءِ أَحَدِكُمْ إِذَا وَلَغَ فِيهِ الْكَلْبُ أَنْ يَغْسِلَهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ تم میں سے کسی شخص کے برتن میں جب کُتّا منہ ڈال کر پی لے تو اُس کی پاکیزگی اور صفائی یہ ہے کو وہ اُسے سات مرتبہ دھو لے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر الماء الذي لا ينجس، والذي ينجس إذا خالطته نجاسة/حدیث: 96]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 172، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 279، ومالك فى (الموطأ) برقم: 90، وابن الجارود فى "المنتقى"، 55، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 95، 96، 97، 98، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1294، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 573، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 63، وأبو داود فى (سننه) برقم: 71، والترمذي فى (جامعه) برقم: 91، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 363، 364، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 59، والدارقطني فى (سننه) برقم: 181، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7463»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 97
نا جَمِيلُ بْنُ الْحَسَنِ ، نا أَبُو هَمَّامٍ يَعْنِي مُحَمَّدَ بْنَ مَرْوَانَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا شَرِبَ الْكَلْبُ مِنَ الإِنَاءِ، فَإِنَّ طُهُورَهُ أَنْ يُغْسَلَ سَبْعَ مَرَّاتٍ، أَوَّلُهَا بِتُرَابٍ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کُتّا کسی برتن سے پی لے تو اس کی پاگیزگی یہ ہے کہ وہ سات بار دھویا جائے، پہلی مرتبا مٹی سے (صاف کیا جائے) [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر الماء الذي لا ينجس، والذي ينجس إذا خالطته نجاسة/حدیث: 97]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 172، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 279، ومالك فى (الموطأ) برقم: 90، وابن الجارود فى "المنتقى"، 55، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 95، 96، 97، 98، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1294، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 573، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 63، وأبو داود فى (سننه) برقم: 71، والترمذي فى (جامعه) برقم: 91، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 363، 364، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 59، والدارقطني فى (سننه) برقم: 181، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7463»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں