🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
75. ‏(‏75‏)‏ بَابُ الْأَمْرِ بِإِهْرَاقِ الْمَاءِ الَّذِي وَلَغَ فِيهِ الْكَلْبُ،
جس پانی میں کُتّا منہ ڈال دے اسے بہانے اور برتن کو دھونے کا حکم ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q98
وَغَسْلِ الْإِنَاءِ مِنْ وُلُوغِ الْكَلْبِ «وَفِيهِ دَلِيلٌ عَلَى نَقْضِ قَوْلِ مَنْ زَعَمَ أَنَّ الْمَاءَ طَاهِرٌ، وَالْأَمْرُ بِغَسْلِ الْإِنَاءِ تَعَبُّدٌ، إِذْ غَيْرُ جَائِزٍ أَنْ يَأْمُرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَرَاقَةِ مَاءٍ طَاهِرٍ غَيْرِ نَجِسٍ»
اس میں ان علماء کے موقف کے خلاف دلیل ہے جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ پانی پاک ہے اور برتن کو دھونا تعبدی امر ہے، کیونکہ یہ ناممکن ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پاک، غیر نجس پانی کو بہانے (اور ضائع) کرنے کا حکم دیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر الماء الذي لا ينجس، والذي ينجس إذا خالطته نجاسة/حدیث: Q98]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 98
نا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْخَلِيلِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَلِيٍّ ، أَخْبَرَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ ، وَأَبِي صالح ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ، فَلْيُهْرِقْهُ وَلْيَغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ" . " وَإِذَا انْقَطَعَ شِسْعُ أَحَدِكُمْ، فَلا يَمْشِ فِيهِ حَتَّى يُصْلِحَهُ"
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی شخص کے برتن میں کُتّا منہ ڈال کر پی لے تو اُسے چاہیے کہ اُس (مشروب) کو بہا دے، اور اُسے اُس برتن کو سات مرتبہ دھونا چاہیئے، اور جب تم میں سے کسی (کے جوتے) کا تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ اس (جوتے) میں نہ چلے حتیٰ کہ اسے مرمّت کروا لے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر الماء الذي لا ينجس، والذي ينجس إذا خالطته نجاسة/حدیث: 98]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 172، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 279، ومالك فى (الموطأ) برقم: 90، وابن الجارود فى "المنتقى"، 55، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 95، 96، 97، 98، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1294، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 573، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 63، وأبو داود فى (سننه) برقم: 71، والترمذي فى (جامعه) برقم: 91، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 363، 364، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 59، والدارقطني فى (سننه) برقم: 181، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7463»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
76. ‏(‏76‏)‏ بَابُ النَّهْيِ عَنْ غَمْسِ الْمُسْتَيْقِظِ مِنَ النَّوْمِ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ قَبْلَ غَسْلِهَا
نیند سے بیدار ہونے والے شخص کا، اپنا ہاتھ دھوئے بغیر برتن میں ڈالنے کی ممانعت ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 99
نا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ ، قَالا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ نَوْمِهِ، فَلا يَغْمِسْ يَدَهُ فِي الإِنَاءِ حَتَّى يَغْسِلَهَا ثَلاثًا، فَإِنَّهُ لا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ" . هَذَا حَدِيثُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رِوَايَةً
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص اپنی نیند سے بیدار ہو تو اپنا ہاتھ تین مرتبہ دھوئے بغیر برتن میں نہ ڈالے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اُس کے ہاتھ نے رات کہاں گزاری ہے۔ (کس حصّے کو لگتا رہا ہے) یہ عبدالجبار کی حدیث ہے۔ اُنہوں نے اپنی روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام صراحت سے لینے کی بجائے «‏‏‏‏رواية» ‏‏‏‏ کے لفظ استعمال کیئے ہیں۔ (اس کا مطلب ہے کہ یہ روایت مرفوعاً بیان کی گئی ہے)۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر الماء الذي لا ينجس، والذي ينجس إذا خالطته نجاسة/حدیث: 99]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 162، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 278، وابن الجارود فى "المنتقى"، 9، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 99، 100، 145، 146، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1061، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1، وأبو داود فى (سننه) برقم: 103، والترمذي فى (جامعه) برقم: 24، والدارمي فى (مسنده) برقم: 793، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 393، 394، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 201، والدارقطني فى (سننه) برقم: 127، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7402»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
77. ‏(‏77‏)‏ بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا أَرَادَ بِقَوْلِهِ‏:‏ ‏"‏ فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ مِنْهُ ‏"‏ أَيْ أَنَّهُ لَا يَدْرِي أَيْنَ أَتَتْ يَدُهُ مِنْ جَسَدِهِ
اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان ”وہ نہیں جانتا کہ اس کے ہاتھ نے رات کہاں گزاری ہے“ سے آپ کی مراد یہ ہے کہ اسے علم نہیں ہے کہ اس کا ہاتھ اس کے جسم پر کہاں لگا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 100
نا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ بِخَبَرٍ غَرِيبٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، نا شُعْبَةُ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ نَوْمِهِ، فَلا يَغْمِسْ يَدَهُ فِي إِنَائِهِ أَوْ فِي وَضُوئِهِ حَتَّى يَغْسِلَهَا، فَإِنَّهُ لا يَدْرِي أَيْنَ أَتَتْ يَدُهُ مِنْهُ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم سے کوئی شخص نیند سے جاگے تو اپنا ہاتھ دھوئے بغیر اپنے وضو کے برتن کے پانی میں نہ ڈالے، کیونکہ اُسے معلوم نہیں کہ اُس کا ہاتھ اس کے جسم کے کسی حِصّے کو لگا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر الماء الذي لا ينجس، والذي ينجس إذا خالطته نجاسة/حدیث: 100]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 162، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 278، وابن الجارود فى "المنتقى"، 9، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 99، 100، 145، 146، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1061، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1، وأبو داود فى (سننه) برقم: 103، والترمذي فى (جامعه) برقم: 24، والدارمي فى (مسنده) برقم: 793، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 393، 394، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 201، والدارقطني فى (سننه) برقم: 127، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7402»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
78. ‏(‏78‏)‏ بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الْمَاءَ إِذَا خَالَطَهُ فَرْثُ مَا يُؤْكَلُ لَحْمُهُ لَمْ يَنْجُسْ
اس بات کی دلیل کا بیان کہ جس جانور کا گوشت کھایا جاتا ہے اس کی گوبر اگر پانی میں مل جائے تو وہ پانی ناپاک نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 101
نا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلالٍ ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي عُتْبَةَ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قِيلَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: حَدِّثْنَا مِنْ شَأْنِ سَاعَةِ الْعُسْرَةِ، فَقَالَ عُمَرُ : خَرَجْنَا إِلَى تَبُوكَ فِي قَيْظٍ شَدِيدٍ، فَنَزَلْنَا مَنْزِلا أَصَابَنَا فِيهِ عَطِشٌ، حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّ رِقَابَنَا سَتَنْقَطِعُ، حَتَّى أَنْ كَانَ الرَّجُلُ لَيَذْهَبُ يَلْتَمِسُ الْمَاءَ فَلا يَرْجِعُ حَتَّى يَظُنَّ أَنَّ رَقَبَتَهُ سَتَنْقَطِعُ، حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ يَنْحَرُ بَعِيرَهُ، فَيَعْصِرُ فَرْثَهُ فَيَشْرَبُهُ، وَيَجْعَلُ مَا بَقِيَ عَلَى كَبِدِهِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ قَدْ عَوَّدَكَ فِي الدُّعَاءِ خَيْرًا، فَادْعُ لَنَا، فَقَالَ:" أَتُحِبُّ ذَلِكَ؟"، قَالَ: نَعَمْ، فَرَفَعَ يَدَهُ فَلَمْ يُرْجِعْهُمَا حَتَّى قَالَتِ السَّمَاءُ فَأَظْلَمَتْ، ثُمَّ سَكَبَتْ، فَمَلَئُوا مَا مَعَهُمْ، ثُمَّ ذَهَبْنَا نَنْظُرُ فَلَمْ نَجِدْهَا جَازَتِ الْعَسْكَرَ . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَلَوْ كَانَ مَاءُ الْفَرْثِ إِذَا عُصِرَ نَجِسًا، لَمْ يَجُزْ لِلْمَرْءِ أَنْ يَجْعَلَهُ عَلَى كَبِدِهِ فَيَنْجُسَ بَعْضُ بَدَنِهِ، وَهُوَ غَيْرُ وَاجِدٍ لِمَاءٍ طَاهِرٍ يَغْسِلُ مَوْضِعَ النَّجَسِ مِنْهُ، فَأَمَّا شُرْبُ الْمَاءِ النَّجِسِ عِنْدَ خَوْفِ التَّلَفِ إِنْ لَمْ يَشْرَبْ ذَلِكَ الْمَاءَ، فَجَائِزٌ إِحْيَاءُ النَّفْسِ بِشُرْبِ مَاءٍ نَجِسٍ، إِذِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَبَاحَ عِنْدَ الاضْطِرَارِ إِحْيَاءَ النَّفْسِ بِأَكْلِ الْمَيْتَةِ وَالدَّمِ وَلَحْمِ الْخِنْزِيرِ إِذَا خِيفَ التَّلَفَ إِنْ لَمْ يَأْكُلْ ذَلِكَ، وَالْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِيرِ نَجَسٌ مُحَرَّمٌ عَلَى الْمُسْتَغْنِي عَنْهُ، مُبَاحٌ لِلْمُضْطَرِّ إِلَيْهِ لإِحْيَاءِ النَّفْسِ بِأَكْلِهِ، فَكَذَلِكَ جَائِزٌ لِلْمُضْطَرِّ إِلَى الْمَاءِ النَّجِسِ أَنْ يُحْيِيَ نَفْسَهُ بِشُرْبِ مَاءٍ نَجِسٍ إِذَا خَافَ التَّلَفَ عَلَى نَفْسِهِ بِتَرْكِ شُرْبِهِ، فَأَمَّا أَنْ يَجْعَلَ مَاءً نَجِسًا عَلَى بَعْضِ بَدَنِهِ، الْعِلْمُ مُحِيطٌ أَنَّهُ إِنْ لَمْ يَجْعَلْ ذَلِكَ الْمَاءَ النَّجِسَ عَلَى بَدَنِهِ لَمْ يَخَفِ التَّلَفَ عَلَى نَفْسِهِ، وَلا كَانَ فِي إِمْسَاسِ ذَلِكَ الْمَاءِ النَّجِسِ بَعْضَ بَدَنِهِ إِحْيَاءَ نَفْسِهِ بِذَلِكَ، وَلا عِنْدَهُ مَاءٌ طَاهِرٌ يَغْسِلُ مَا نَجُسَ مِنْ بَدَنِهِ بِذَلِكَ الْمَاءِ فَهَذَا غَيْرُ جَائِزٍ، وَلا وَاسِعٍ لأَحَدٍ فِعْلُهُ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے عرض کی گئی کہ ہمیں تنگی کے وقت کے متعلق بیان کریں، تو اُنہوں نے فرمایا کہ ہم شدید گرمی میں تبوک کی طرف روانہ ہوئے۔ ہم نے ایک جگہ پر پڑاؤ ڈالا تو ہمیں پیاس لگی (جبکہ پانی موجود نہ تھا) یہاں تک کہ ہم خیال کرنے لگے کہ عنقریب ہماری گردنیں کٹ جائیں گی (یعنی پیاس سے موت آ جائے گی) حتیٰ کہ ایک شخص پانی کی تلاش میں جاتا، وہ (جلدی) واپس نہ آتا تو خیال کیا جاتا کہ اس کی گردن کٹ گئی ہے۔ (پھر نوبت یہاں تک پہنچی کہ) ایک شخص اپنے اونٹ کو ذبح کرتا، اس کی لید نچوڑتا اور (پانی) پی لیتا اور جو باقی بچتا اسے اپنے پیٹ پر ڈال لیتا۔ (یہ حالات دیکھ کر) سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، بیشک اللہ تعالیٰ نے آپ کو خیر و بھلائی کی دعا کا عادی بنایا ہے (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم بکثرت بھلائی کی دعا فرماتے ہیں) تو ہمارے لیے دعا فرمائیں (کہ اللہ تعالیٰ اس تنگی سے نجات عطا فرمائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم اسے پسند کرتے ہو؟ (کہ میں تمہارے لیے دعا کروں) انہوں نے عرض کی کہ جی ہاں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (دعا کے لیے) ہاتھ بلند کیے۔ ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (دعا ختم کر کے) ہاتھ لوٹائے نہیں تھے کہ آسمان پربادل اُمڈ آئے، اندھیرا چھا گیا اور موسلادھار بارش شروع ہوگئی۔ صحابہ کرام نے تمام برتن بھر لیے، پھر ہم نے (پڑاؤ والی جگہ سے) نکل کر دیکھا تو معسکر کے باہر بارش نہیں برسی تھی۔ امام ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر لید کا نچوڑا ہوا پانی ناپاک ہوتا تو کسی آدمی کے لیے جائز نہیں تھا کہ وہ اسے پیٹ پر ڈالتا، کیونکہ اس طرح تو اس کے بدن کا کچھ حصّہ ناپاک ہو جاتا۔ اور اس کے پاس پاک پانی بھی نہیں ہے کہ اُس سے ناپاک حصّہ دھو لے۔ البتہ پانی نہ پینے کی صورت میں جان تلفی کا خطرہ ہو تو زندہ رہنے کے لیے ناپاک پانی پینا جائز ہے۔ کیونکہ اللہ تعالٰی نے، مردار (کا گوشت) خون اور خنزیر کا گوشت کھائے بغیر جان تلفی کا خطرہ ہو تو ان چیزوں کو مجبوری کی حالت میں جان بچانے کے لیے کھانا جائز رکھا ہے- حالانکہ مردار، خون اور خنزیر کا گوشت ناپاک ہے اور ان سے مستغنی شخص کے لیے حرام ہیں۔ مضطر شخص کے لیے جان بچانے کے لئے انہیں کھانا جائز ہے۔ اسی طرح موت کے خطرے کے وقت مضطر (مجبور) شخص کے لیے ناپاک پانی پینا بھی جائز ہے۔ تا کہ اسے پی کر اپنی جان بچا سکے لیکن ناپاک پانی اپنے جسم کے کسی حصّے پر لگانا جبکہ اُسے یقینی علم ہو کہ اگر وہ اسے اپنے بدن پر نہ ڈالے تو اُس کی جان کو کوئی خطرہ نہیں اور نہ اس پانی کو جسم کے کسی حصّے پر لگانے سے اس کی زندگی کی بقا کا تعلق ہے، اور نہ اُس کے پاس پاک پانی ہو کہ وہ اس سے بدن کے ناپاک ہونے والے حصّے کو دھو لے، تو اس حالت میں ایسے پانی کا استعمال نا جائز ہے اور نہ یہ کام کرنے کی کسی شخص کے لیے کوئی گنجائش ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر الماء الذي لا ينجس، والذي ينجس إذا خالطته نجاسة/حدیث: 101]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 101، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1383، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 168، 169، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 570، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 19702، والبزار فى (مسنده) برقم: 214، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 3292»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
79. ‏(‏79‏)‏ بَابُ الرُّخْصَةِ فِي الْوُضُوءِ بِسُؤْرِ الْهِرَّةِ
بلّی کے جوٹھے سے وضو کرنے کی رخصت ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q102
وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ خَرَاطِيمَ مَا يَأْكُلُ الْمَيْتَةَ مِنَ السِّبَاعِ، وَمِمَّا لَا يَجُوزُ أَكْلُ لَحْمِهِ مِنَ الدَّوَابِّ وَالطُّيُورِ إِذَا مَاسَّ الْمَاءَ الَّذِي دُونَ الْقُلَّتَيْنِ وَلَا نَجَاسَةَ مَرْئِيَّةٌ بِخَرَاطِيمِهَا وَمَنَاخِيرِهَا إِنَّ ذَلِكَ لَا يُنَجِّسُ الْمَاءَ، إِذِ الْعِلْمُ مُحِيطٌ أَنَّ الْهِرَّةَ تَأْكُلُ الْفَأْرَ، وَقَدْ أَبَاحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوُضُوءَ بِفَضْلِ سُؤْرِهَا، فَدَلَّتْ سُنَّتُهُ عَلَى أَنَّ خُرْطُومَ مَا يَأْكُلُ الْمَيْتَةَ إِذَا مَاسَّ الْمَاءَ الَّذِي دُونَ الْقُلَّتَيْنِ لَمْ يَنْجُسْ ذَلِكَ خَلَا الْكَلْبِ الَّذِي قَدْ حَضَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْأَمْرِ بِغَسْلِ الْإِنَاءِ مِنْ وُلُوغِهِ سَبْعًا، وَخَلَا الْخِنْزِيرِ الَّذِي هُوَ أَنْجَسُ مِنَ الْكَلْبِ أَوْ مِثْلُهُ
اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ مردار کھانے والے درندوں کی سونڈیں اور وہ چوپائے اور پرندے جن کا گوشت کھانا حرام ہے، جب یہ اس پانی کو چھولیں، (اس سے پی لیں) جو دو مٹکوں سے کم ہو اور ان کی سونڈوں اور چونچوں پر نجاست نظرنہ آ ئے تو پانی ناپاک نہیں ہوتا، کیونکہ یہ بات مسلم ہے کہ بلّی چوہے کھاتی ہے مگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جوٹھے پانی سے وضو کرنا جائز رکھا ہے، لہذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنّت اس بات کی دلیل ہے کہ مردار کھانے والے جانوروں کی سونڈیں جب دو مٹکوں سے کم پانی کو چھولیں تو وہ پانی ناپاک نہیں ہوتا، سوائے کُتّے کے، جس کے برتن میں منہ ڈالنے کی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن کو سات مرتبہ دھونے کا حکم دیا ہے، اور خنزیر کے سوا، جو کُتّے سے بھی زیادہ یا اُس جیسا ناپاک ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر الماء الذي لا ينجس، والذي ينجس إذا خالطته نجاسة/حدیث: Q102]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 102
نا أَبُو حَاتِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُسَافِعِ بْنِ شَيْبَةَ الْحَجَبِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ مَنْصُورَ ابْنَ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، يُحَدِّثُ، عَنْ أُمَّهِ صَفِيَّةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُمْ:" إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ، هِيَ كَبَعْضِ أَهْلِ الْبَيْتِ". يَعْنِي: الْهِرَّةَ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے فرمایا: بیشک وہ ناپاک نہیں ہے، وہ تو گھر والوں (غلاموں، لونڈیوں) کی طرح ہے، یعنی بِلّی۔ امام ذہبی میزان میں فرماتے ہیں کہ سلیمان بن مسافع مجھول ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر الماء الذي لا ينجس، والذي ينجس إذا خالطته نجاسة/حدیث: 102]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 102، وأبو داود فى (سننه) برقم: 76، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1185، 1186، والدارقطني فى (سننه) برقم: 198، 216، 217، 218، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 4951، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 355، والطحاوي فى (شرح معاني الآثار) برقم: 50، والطحاوي فى (شرح مشكل الآثار) برقم: 2653، 2654، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 364، 7949»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 103
نا نا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَكَمِ ابْنِ أَبَانَ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ: كَانَ أَبُو قَتَادَةَ " يَتَوَضَّأُ مِنَ الإِنَاءِ وَالْهِرَّةُ تَشْرَبُ مِنْهُ" . وَقَالَ وَقَالَ عِكْرِمَةُ ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْهِرَّةُ مِنْ مَتَاعِ الْبَيْتِ"
حضرت عکرمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ برتن سے وضو کیا کرتے تھے جبکہ بِلّی اس سے پی رہی ہوتی تھی۔ حضرت عکرمہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بِلّی گھر کے متاع سے ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر الماء الذي لا ينجس، والذي ينجس إذا خالطته نجاسة/حدیث: 103]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه مالك فى (الموطأ) برقم: 61، وابن الجارود فى "المنتقى"، 67، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 103، 104، 828، 829، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1299، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 571، 941، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 68، وأبو داود فى (سننه) برقم: 75، والترمذي فى (جامعه) برقم: 92، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 367، 369، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1179، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22964، والحميدي فى (مسنده) برقم: 434»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 104
نا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّدَفِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَنَّ مَالِكًا حَدَّثَهُ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ حُمَيْدَةَ بِنْتِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ ، عَنْ كَبْشَةَ بِنْتِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، وَكَانَتْ تَحْتَ ابْنِ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ دَخَلَ عَلَيْهَا، فَسَكَبَتْ لَهُ وُضُوءًا، فَجَاءَتْ هِرَّةٌ تَشْرَبُ مِنْهُ، فَأَصْغَى لَهَا أَبُو قَتَادَةَ الإِنَاءَ حَتَّى شَرِبَتْ، قَالَتْ كَبْشَةُ: فَرَآنِي أَنْظُرُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: أَتَعْجَبِينَ يَا بِنْتَ أَخِي؟ قَالَتْ: فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ، إِنَّمَا هِيَ مِنَ الطَّوَّافِينَ عَلَيْكُمْ أَوِ الطَّوَّافَاتِ"
سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کی بہو سیدہ کبشہ بنت کعب بن مالک رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ اُن کے پاس تشریف لائے تو میں نے اُن کے لیے وضو کا پانی (برتن میں) ڈالا، (اسی دوران) ایک بِلّی آئی اور اُس میں سے پینے لگی، سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے بِلّی کے لیے برتن جُھکادیا حتیٰ کہ اُس نے (سیر ہو کر پانی) پی لیا۔ سیدہ کبثہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اُنہوں نے مجھے اپنی طرف (تعجب بھری نظروں سے) دیکھتے ہوئے دیکھا تو فرمایا کہ میری بھتیجی، کیا تم (اس منظرپر) تعجب کرتی ہو؟ وہ کہتی ہیں، میں نے کہا کہ جی ہاں۔ تو اُنہوں نے کہا کہ بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک وہ نجس نہیں ہے۔ وہ تو تم پر چکّر لگانے والے (غلاموں) یا چکّر لگانے والیوں (لونڈیوں) میں سے ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر الماء الذي لا ينجس، والذي ينجس إذا خالطته نجاسة/حدیث: 104]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه مالك فى (الموطأ) برقم: 61، وابن الجارود فى "المنتقى"، 67، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 103، 104، 828، 829، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1299، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 571، 941، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 68، وأبو داود فى (سننه) برقم: 75، والترمذي فى (جامعه) برقم: 92، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 367، 369، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1179، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22964، والحميدي فى (مسنده) برقم: 434»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
80. ‏(‏80‏)‏ بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ سُقُوطَ الذُّبَابِ فِي الْمَاءِ لَا يُنَجِّسُهُ
اس بات کی دلیل کا بیان کہ مکّھی کا پانی میں گرنا اسے ناپاک نہیں کرتا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q105
وَفِيهِ مَا دَلَّ عَلَى أَنَّ لَا نَجَاسَةَ فِي الْأَحْيَاءِ، وَإِنْ كَانَ لَا يَجُوزُ أَكْلُ لَحْمِهِ، إِلَّا مَا خَصَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَلْبَ، وَكُلَّ مَا يَقَعُ عَلَيْهِ اسْمُ الْكَلْبِ مِنَ السِّبَاعِ؛ إِذِ الذُّبَابُ لَا يُؤْكَلُ، وَهُوَ مِنَ الْخَبَائِثِ الَّتِي أَعْلَمَ اللَّهُ أَنَّ نَبِيَّهُ الْمُصْطَفَى يُحَرِّمُهَا فِي قَوْلِهِ‏:‏ ‏ [‏وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ‏] ‏ ‏ [‏الْأَعْرَافِ‏:‏ 157‏] ‏ وَقَدْ أَعْلَمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ سُقُوطَ الذُّبَابِ فِي الْإِنَاءِ لَا يُنَجِّسُ مَا فِي الْإِنَاءِ مِنَ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ لِأَمْرِهِ بِغَمْسِ الذُّبَابِ فِي الْإِنَاءِ إِذَا سَقَطَ فِيهِ، وَإِنْ كَانَ الْمَاءُ أَقَلَّ مِنْ قُلَّتَيْنِ
اور اس میں یہ دلیل بھی ہے کہ زندہ چیزوں میں پلیدی نہیں ہوتی، اگرچہ وہ ایسا جانور ہو جس کا گوشت کھانا جائز نہ ہو۔ سوائے اُس جانور کے جسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص کر دیا ہے جیسے کُتّا اور ہر وہ درندہ جس پر کُتّے کے اسم کا اطلاق ہوتا ہے۔ کیونکہ مکّھی کھائی نہیں جاتی اور وہ اُن ناپاک چیزوں میں سے ہے جن کے متعلق الله تعالی نے بیان فرمایا ہے کہ اس کا نبی مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں حرام قرار دے گا، اپنے اس فرمان میں «‏‏‏‏وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ» ‏‏‏‏ [ سورة الأعراف ] وہ اُن کے لیے پاکیزہ چیزیں حلال قرار دیتے ہیں اور ناپاک چیزوں کو اُن پر حرام کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا ہے کہ برتن میں مکّھی گرنے سے اُس میں موجود کھانا اور مشروب ناپاک نہیں ہوتا۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکّھی کو برتن میں ڈبونے کا حکم دیا ہے جب وہ برتن میں گر جائے، اگر چہ پانی دو مٹکوں سے کم ہو۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر الماء الذي لا ينجس، والذي ينجس إذا خالطته نجاسة/حدیث: Q105]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں