🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
باب

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں شب قدر ایک مرتبہ رمضان المبارک کی اکیسویں تاریخ میں بھی آئی تھی
امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث ایک اور جگہ بیان کرچکا ہوں۔ (جو اس مسئلہ کی دلیل ہے۔ دیکھئے حدیث نمبر: 2171) [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2184]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، 0»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
تئیسویں رات کو شب قدر تلاش کرنے کے حُکم کا بیان، کیونکہ یہ ممکن ہے کہ شب قدر کسی سال اکیسویں رات میں ہو اور کسی سال تئیسویں رات میں ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2185
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خُبَيْبٍ ، عَنْ أَخِيهِ فُلانِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خُبَيْبٍ ، قَالَ: جَلَسْنَا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ فِي مَجْلِسِ جُهَيْنَةَ فِي هَذَا الشَّهْرِ، فَقُلْنَا: يَا أَبَا يَحْيَى هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ الْمُبَارَكَةِ؟ قَالَ: نَعَمْ، جَلَسْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آخِرِ هَذَا الشَّهْرِ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : مَتَى نَلْتَمِسُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ الْمُبَارَكَةَ؟ قَالَ:" الْتَمِسُوهَا هَذِهِ اللَّيْلَةَ، ثَلاثًا وَعِشْرِينَ". فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: تِلْكَ إِذًا أُولَى ثَمَانٍ . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي لَمْ يُسَمِّهِ ابْنُ عُلَيَّةَ، هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خُبَيْبٍ
جناب عبداللہ بن عبداللہ بن خبیب بیان کرتے ہیں کہ ہم اس مہینے میں (رمضان المبارک میں) جہینہ قبیلے کی مجلس میں سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے تو ہم نے عرض کیا کہ اے ابویحییٰ، کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس مبارک رات کے بارے میں کچھ سنا ہے؟ اُنہوں نے فرمایا کہ جی ہاں۔ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس مہینے کے آخر میں بیٹھے تھے کہ ایک آدمی نے آپ سے عرض کی کہ ہم اس مبارک رات کو کب تلاش کریں؟ آپ نے فرمایا: اس کو اس تئیسویں رات میں تلاش کرو تو لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا کہ تب تو یہ رات آٹھوں راتوں میں سے پہلی رات ہوئی۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ ابن علیہ نے جس راوی کا نام نہیں لیا، اس کا نام عبداللہ بن خبیب ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2185]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1168، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1142، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2185، 2186، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 3387، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1379، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8628، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16290»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2186
حَدَّثَنَا ابْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ ، أَخْبَرَنَا أَبِي ، وَشُعَيْبٌ ، قَالا: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خُبَيْبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خُبَيْبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" الْتَمِسُوهَا اللَّيْلَةَ". وَتِلْكَ لَيْلَةُ ثَلاثٍ وَعِشْرِينَ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هِيَ إِذًا أُولَى ثَمَانٍ، فَقَالَ:" بَلْ أُولَى سَبْعٍ ؛ فَإِنَّ الشَّهْرَ لا يَتِمُّ"
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ سے شب قدر کے بارے میں پوچھا گیا تو اُنہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: اسے آج رات تلاش کرو۔ اور وہ تئیسویں رات تھی تو ایک آدمی نے کہا کہ اے اللہ کے رسول، تو یہ آٹھ راتوں میں سے پہلی ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلکہ سات میں سے پہلی ہوئی کیونکہ مہینہ بعض اوقات پورے تیس دنوں کا نہیں ہوتا۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2186]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق، أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1168، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1142، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2185، 2186، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 3387، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1379، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8628، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16290»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اس بات کی دلیل کا بیان کہ کسی سال شب قدر ستائیسویں رات بھی ہوتی ہے کیونکہ شب قدر آخری عشرے کی طاق راتوں میں منتقل ہوتی رہتی ہے جیسا کہ میں نے ذکر کیا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2187
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ رِفَاعَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، قَالَ:" لَوْلا سُفَهَاؤُكُمْ لَوَضَعْتُ يَدَيَّ فِي أُذُنَيَّ، فَنَادَيْتُ: أَنَّ لَيْلَةَ الْقَدْرِ سَبْعٌ وَعِشْرُونَ. نَبَأُ مَنْ لَمْ يَكْذِبْنِي، عَنْ نَبَإِ مَنْ لَمْ يَكْذِبْهُ" ، يَعْنِي أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. هَذَا حَدِيثُ بُنْدَارٍ. وَقَالَ أَبُو مُوسَى: قَالَ: سَمِعْتُ زِرَّ بْنَ حُبَيْشٍ. وَقَالَ: رَمَضَانُ فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ فِي السَّبْعِ الأَوَاخِرِ قَبْلَهَا. نَبَأُ مَنْ لَمْ يَكْذِبْنِي، عَنْ نَبَإِ مَنْ لَمْ يَكْذِبْهُ، وَلَمْ يَقُلْ: يَعْنِي أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
سیدنا زربن جیش رحمه الله بیان کرتے ہیں کہ اگر تمہارے بیوقوف لوگوں کا خدشہ نہ ہوتا تو میں اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ کر بلند آواز سے پکارتا کہ شب قدر ستائیسویں رات ہے۔ یہ اس شخص کی خبر ہے جس نے مجھ سے جھوٹ نہیں بولا، اور اس نے اس ہستی سے خبر دی ہے جس نے غلط بیانی نہیں کی یعنی سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا ہے۔ یہ جناب بندار کی روایت ہے۔ اور جناب ابوموسیٰ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت زر بن جیش رحمه الله کو سنا۔ اور فرمایا کہ رمضان المبارک کے آخری عشرے، آخری سات راتوں میں شب قدر ہوتی ہے۔ یہ اس شخص کی خبر ہے جس نے مجھے جھوٹ نہیں بتایا اور اس ہستی سے بیان کیا ہے جس نے اس سے غلط بیانی نہیں کی اور یہ نہیں کہا کہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے نبی کریم سے روایت کی ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2187]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 762، 762، وابن الجارود فى "المنتقى"، 446، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2187، 2188، 2191، 2193، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3689، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 5357، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 3392، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1378، والترمذي فى (جامعه) برقم: 793، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8643، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21581»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2188
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدَةَ وَهُوَ ابْنُ أَبِي لُبَابَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ زِرَّ بْنَ حُبَيْشٍ ، عَنْ أُبَيٍّ ، قَالَ:" لَيْلَةُ الْقَدْرِ، إِنِّي لأَعْلَمُهَا هِيَ اللَّيْلَةُ الَّتِي أَمَرَنَا بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هِيَ لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ"
سیدنا ابی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ شب قدر کو میں بخوبی جانتا ہوں۔ یہ وہی رات ہے جس کا ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حُکم دیا تھا۔ وہ ستائیسویں رات ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2188]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 762، 762، وابن الجارود فى "المنتقى"، 446، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2187، 2188، 2191، 2193، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3689، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 5357، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 3392، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1378، والترمذي فى (جامعه) برقم: 793، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8643، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21581»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
رمضان المبارک کی آخری رات شب قدر تلاش کرنے کے حُکم کا بیان، کیونکہ یہ ممکن ہے کہ کسی سال آخری رات ہی شب قدر ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2189
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَسَنِ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْتَمِسُوا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي آخِرِ لَيْلَةٍ" . فِي خَبَرِ أَبِي بَكْرَةَ: أَوْ فِي آخِرِ لَيْلَةٍ
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شب قدر کو (رمضان المبارک کی) آخری رات میں تلاش کرو۔ اور سیدنا ابوبکرہ کی روایت میں ہے کہ یا آخری رات میں (تلاش کرو)۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2189]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2189، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3680، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1386، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8647، 8648، والطيالسي فى (مسنده) برقم: 1054، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 9630»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
شبِ قدر کی کیفیت کا بیان کہ اس میں گرمی سردی نہیں ہوتی چاند خوب روشن ہوتا ہے اور فجر روشن ہونے تک شیطان کا باہر نکلنا ممنوع ہوتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2190
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ الزِّيَادِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْحَرَشِيُّ ، قَالا: حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي كُنْتُ أُرِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ، ثُمَّ نُسِّيتُهَا، وَهِيَ فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ مِنْ لَيْلَتِهَا، وَهِيَ لَيْلَةٌ طَلْقَةٌ بَلْجَةٌ، لا حَارَّةٌ وَلا بَارِدَةٌ" . وَزَادَ الزِّيَادِيُّ:" كَأَنَّ فِيهَا قَمَرًا يَفْضَحُ كَوَاكِبَهَا". وَقَالا:" لا يَخْرُجُ شَيْطَانُهَا حَتَّى يُضِيءَ فَجْرُهَا"
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک مجھے شب قدر دکھائی گئی تھی پھر مجھے بھلادی گئی اور وہ آخری عشرے کی ایک رات ہے، وہ رات خوب روشن، پرسکون، نہ گرم اور نہ سرد ہوتی ہے۔ جناب الزیادی نے یہ اضافہ بیان کیا ہے کہ گویا کہ اس رات چاند اپنے ستاروں کی روشنی کو ماند کررہا ہو گا۔ دونوں راویوں نے یہ الفاظ بیان کیے: فجر روشن ہونے تک اس رات شیاطین باہر نہیں نکلتے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2190]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2190، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3688»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
شب قدر کی صبح سورج کے طلوع ہونے کی کیفیت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2191
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ ، وَعَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، قَالَ: قُلْتُ لأُبَيٍّ: يَا أَبَا الْمُنْذِرِ. ح وَحَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ زِرًّا ، يَقُولُ: سَأَلْتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ ، فَقُلْتُ: إِنَّ أَخَاكَ ابْنَ مَسْعُودٍ، يَقُولُ: مَنْ يَقُمِ الْحَوْلَ يُصِبْ لَيْلَةَ الْقَدْرِ، فَقَالَ: يَرْحَمُهُ اللَّهُ لَقَدْ أَرَادَ أَنْ لا يَتَّكِلُوا، وَلَقَدْ عَلِمَ أَنَّهَا فِي شَهْرِ رَمَضَانَ، وَأَنَّهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ، وَأَنَّهَا لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ. قَالَ: قُلْنَا: يَا أَبَا الْمُنْذِرِ، بِأَيِّ شَيْءٍ يُعْرَفُ ذَلِكَ؟ قَالَ: بِالْعَلامَةِ، أَوْ بِالآيَةِ الَّتِي أَخْبَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّ الشَّمْسَ تَطْلُعُ مِنْ ذَلِكَ الْيَوْمِ لا شُعَاعَ لَهَا" . لَمْ يَقُلِ الدَّوْرَقِيُّ: لَقَدْ أَرَادَ أَنْ لا يَتَّكِلُوا. حَدَّثَنَا الدَّوْرَقِيُّ فِي عَقِبِ خَبَرِهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ نَحْوَهُ. وَحَدَّثَنَا الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ زِرٍّ نَحْوَهُ
حضرت زر بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے سوال کیا، تو عرض کی، آپ کا بھائی ابن مسعود کہتا ہے کہ جو شخص سال بھر قیام کرے وہ شب قدر کو پالے گا۔ تو اُنہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اُن پر رحم فرمائے، یقیناً اُن کا ارادہ یہ ہے کہ لوگ (صرف آخری عشرے پر) بھروسہ کرکے بیٹھ نہ جائیں۔ یقیناً اُنہیں معلوم ہے کہ شب قدر رمضان المبارک میں ہے اور وہ اس کے آخری عشرے میں ہے اور وہ ستا ئیسویں رات ہے۔ کہتے ہیں، ہم نے عرض کی کہ اے ابومنذر، یہ رات کیسے پہچانی جائے گی؟ اُنہوں نے فرمایا کہ اس علامت اور نشانی کے ذریعے سے جو ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتائی ہے کہ اُس روز سورج اس حال میں طلوع ہوگا کہ اُس کی شعاعیں نہیں ہوں گی۔ جناب دورقی کی روایت میں یہ الفاظ نہیں ہیں کہ یقیناً ان کا ارادہ یہ ہے کہ لوگ اعتماد و بھروسہ کر کے نہ بیٹھ جائیں۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2191]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 762، 762، وابن الجارود فى "المنتقى"، 446، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2187، 2188، 2191، 2193، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3689، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 5357، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 3392، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1378، والترمذي فى (جامعه) برقم: 793، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8643، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21581»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
شب قدر کی صبح سورج کا طلوع ہوتے وقت سرخ اور کمزور ہونا۔ سورج کی اس کیفیت سے شپ قدر پر استدلال کرنا، بشرطیکہ روایت صحیح ہو کیونکہ زمعہ کے حافظے کے بارے میں میرے دل میں عدم اطمینان ہے

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12»