صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1613. (58) بَابُ الرُّخْصَةِ فِي تَقْدِيمِ الصَّدَقَةِ قَبْلَ حُلُولِ الْحَوْلِ عَلَى الْمَالِ، وَالْفَرْقِ بَيْنَ الْفَرْضِ الَّذِي يَجِبُ فِي الْمَالِ وَبَيْنَ الْفَرْضِ الْوَاجِبِ عَلَى الْبُدْنِ
سال پورا ہونے سے پہلے مال کی زکوٰۃ ادا کرنے کی رخصت کا بیان اور مالی اور بدنی فرض زکوٰۃ میں فرق کا بیان
حدیث نمبر: 2331
حَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَعَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمُغِيرَةِ الْمِصْرِيُّ ، قَالا: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا الأَسَدِيُّ ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ دِينَارٍ ، غَيْرَ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، لَمْ يَقُلْ قَبْلَ أَنْ تَحِلَّ.
امام صاحب نے گزشتہ حدیث ایک اور سند سے بیان کی ہے لیکن اس میں علی بن عبدالرحمان نے یہ الفاظ بیان نہیں کیے ”وقت سے پہلے ادا کرنے کی رخصت دی۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة الحبوب والثمار/حدیث: 2331]
تخریج الحدیث: «حسن، أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 396، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2331، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 5474، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1624، والترمذي فى (جامعه) برقم: 678، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1795، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7459، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2008، وأحمد فى (مسنده) برقم: 736»
1614. (59) بَابُ احْتِسَابِ مَا قَدْ حَبَسَ الْمُؤْمِنُ السِّلَاحَ وَالْعَبْدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مِنَ الصَّدَقَةِ إِذَا وَجَبَتْ، فَهَذِهِ الْمَسْأَلَةُ أَيْضًا مِنْ بَابِ تَقْدِيمِ الصَّدَقَةِ قَبْلَ وُجُوبِهَا
مسلمان شخص کے وہ ہتھیار اور غلام جو اس نے اللہ کی راہ میں وقف کیے ہوں انہیں زکوٰۃ میں شمار کرنے کا بیان اور یہ مسئلہ بھی زکوٰۃ کے واجب ہونے سے پہلے ادا کرنے کے باب سے ہے
1615. (60) بَابُ اسْتِسْلَافِ الْإِمَامِ الْمَالَ لِأَهْلِ سُهْمَانِ الصَّدَقَةِ وَرَدِّهِ ذَلِكَ مِنَ الصَّدَقَةِ إِذَا قُبِضَتْ بَعْدَ الِاسْتِسْلَافِ
امام زکوٰۃ کے مستحقین کے لیے مال قرض لے سکتا ہے اور زکوٰۃ کی وصولی کے بعد یہ قرض ادا کردے گا
حدیث نمبر: 2332
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الأَزْهَرِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ الْجَارُودِ بْنِ مِرْدَاسِ بْنِ هُرْمُزَانَ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، حَدَّثَنَا مَسْلَمَةُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَسْلَفَ مِنْ رَجُلٍ بَكْرًا، فَقَالَ: إِذَا جَاءَتِ الصَّدَقَةُ قَضَيْنَا، فَلَمَّا جَاءَتِ الصَّدَقَةُ، قَالَ لأَبِي رَافِعٍ:" أَعْطِ الرَّجُلَ بَكْرَهُ"، فَنَظَرْتُ فَلَمْ أَرَ إِلا رُبَاعًا أَوْ صَاعِدًا، فَأَخْبَرْتُ بِذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " أَعْطِهِ فَإِنَّ خَيْرَ النَّاسِ أَحْسَنُهُمْ قَضَاءً"
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام سیدنا رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے جوان اونٹ قرض لیا اور فرمایا: ”جب زکٰوۃ کا مال آئیگا تو ہم تمہیں ادا کر دیںگے۔“ پھر جب زکوٰۃ کا مال آیا تو آپ نے سیدنا رافع رضی اللہ عنہ سے کہا: ”اس آدمی کو جوان اونٹ دے دو۔“ تو میں نے اونٹ دیکھے تو ان میں چار دانتوں والے یا اس سے زائد عمر کے اونٹ تھے۔ تو میں نے یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی (کہ مطلوبہ عمر کا اونٹ موجود نہیں سب اس سے بڑی عمر کے اونٹ ہیں) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے وہی دے دو کیونکہ لوگوں میں بہترین شخص وہ ہے جو ان میں قرض کی ادا ئیگی کے لحاظ سے بہتر ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة الحبوب والثمار/حدیث: 2332]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1600، ومالك فى (الموطأ) برقم: 2506، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2332، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4631، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3346، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1318، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2607، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2285، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7458، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27825»