صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1604. (49) بَابُ وَقْتِ بِعْثَةِ الْإِمَامِ الْخَارِصَ يَخْرُصُ الثِّمَارَ
اس وقت کا بیان جب امام پھلوں کا تخمینہ لگانے کے لئے ماہر آدمی کو بھیجے گا
حدیث نمبر: 2315
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ وَهِيَ تَذْكُرُ شَأْنَ خَيْبَرَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَبْعَثُ ابْنَ رَوَاحَةَ، فَيَخْرُصُ النَّخْلَ حِينَ يَطِيبُ أَوَّلُ الثَّمَرِ قَبْلَ أَنْ تُؤْكَلَ، ثُمَّ يُخَيِّرُ الْيَهُودَ بِأَنْ يَأْخُذُوهَا بِذَلِكَ الْخَرْصِ، أَمْ يَدْفَعُهُ الْيَهُودُ بِذَلِكَ، وَإِنَّمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِالْخَرْصِ لِكَيْ تُحْصَى الزَّكَاةُ قَبْلَ أَنْ تُؤْكَلَ الثَّمَرَةُ وَتُفَرَّقَ"
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا خیبر (کے باغات) کے بارے میں بیان کرتے ہوئے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابن رواحہ رضی اللہ عنہ کو کھجوروں کے پکتے ہی (خیبر) بھیجتے اور وہ کھجوریں کھائی جانے سے پہلے ان کی مقدار کا تخمینہ لگا لیتے۔ پھر وہ یہودیوں کو اختیار دیتے کہ وہ اس تخمینے کے مطابق (اپنا حصّہ) وصول کرلیں یا یہودی (مسلمانوں کو) اس اندازے کے مطابق (ان کا حصّہ) ادا کردیں اور بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تخمینہ لگانے کا حُکم اس لئے دیا تھا تاکہ کھجوریں کھانے اور انہیں تقسیم کرنے سے پہلے ان کی زکوٰۃ کا اندازہ معلوم ہوسکے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة الحبوب والثمار/حدیث: 2315]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2315، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1606، 3413، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7534، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2052، 2053، وأحمد فى (مسنده) برقم: 25942، 25943، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 7219، والطبراني فى(الكبير) برقم: 15002»
1605. (50) بَابُ السُّنَّةِ فِي خَرْصِ الْعِنَبِ لِتُؤْخَذَ زَكَاتُهُ زَبِيبًا كَمَا تُؤْخَذُ زَكَاةُ النَّخْلِ تَمْرًا
انگور کا تخمینہ لگانے کے متعلق سنّت نبوی کا بیان تاکہ اس کی زکوٰۃ کشمش سے وصول کی جاسکے جیسا کہ تازہ کھجور کی زکوٰۃ خشک کھجوروں سے وصول کی جاتی ہے
حدیث نمبر: 2316
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا الشَّافِعِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صَالِحٍ التَّمَّارِ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ عَتَّابِ بْنِ أُسَيْدٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ فِي زَكَاةِ الْكَرْمِ: " تُخْرَصُ كَمَا يُخْرَصُ النَّخْلُ، ثُمَّ تُؤَدَّى زَكَاتُهُ زَبِيبًا كَمَا تُؤَدَّى زَكَاةُ النَّخْلِ تَمْرًا"
سیدنا عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگور کی زکوٰۃ کے متعلق فرمایا: ”انگور کا تخمینہ لگایا جائے جیسا کہ کھجور کا تخمینہ لگایا جاتا ہے پھر اس کی زکوٰۃ کشمش سے وصول کرلی جائے جیسا کہ تر کھجوروں کی زکوٰۃ خشک کھجوروں سے وصول کرلی جاتی ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة الحبوب والثمار/حدیث: 2316]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 386، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2316، 2317، 2318، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3278، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 6587، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2617، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1603، والترمذي فى (جامعه) برقم: 644، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1819، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7525، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2043، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 10666»
حدیث نمبر: 2317
قَالَ أَبُو بَكْرٍ: رَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ عَتَّابَ بْنَ أُسَيْدٍ أَنْ يَخْرُصَ الْعِنَبَ كَمَا يَخْرُصُ النَّخْلَ، ثُمَّ تُؤَدَّى زَكَاتُهُ زَبِيبًا كَمَا تُؤَدَّى تَمْرًا" ، قَالَ: فَتِلْكَ سُنَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي النَّخْلِ وَالْعِنَبِ، حَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَسْنَدَ هَذَا الْخَبَرَ جَمَاعَةٌ مِمَّنْ رَوَاهُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ،
جناب سعید بن مسیّب رحمه الله سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ کو حُکم دیا کہ وہ کھجور کی طرح انگور کا بھی تخمینہ لگالیں پھر انگور کی زکوٰۃ کشمش سے ادا کردیں جیسا کہ تازہ کھجوروں کی زکوٰۃ خشک کھجوروں سے ادا کی جاتی ہے۔ فرماتے ہیں، کھجور اور انگور (کی زکوٰۃ کی وصولی) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ مبارک یہی تھا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة الحبوب والثمار/حدیث: 2317]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لارساله، أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 386، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2316، 2317، 2318، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3278، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 6587، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2617، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1603، والترمذي فى (جامعه) برقم: 644، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1819، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7525، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2043، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 10666»
حدیث نمبر: 2318
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ الْحُمَيْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ إِسْحَاقَ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ عَتَّابِ بْنِ أُسَيْدٍ ، بِهَذَا الْخَبَرِ دُونَ قَوْلِهِ، فَتِلْكَ سُنَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي النَّخْلِ وَالْعِنَبِ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: عَبَّادٌ هُوَ لَقَبُهُ وَاسْمُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ.
جناب سعید بن مسیّب رحمه الله سیدنا عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں مگر اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں کہ کھجوروں اور انگور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنّت و طریقہ یہی ہے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ (عباد بن اسحاق) کا نام عبدالرحمان ہے اور عباد ان کا لقب ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة الحبوب والثمار/حدیث: 2318]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 386، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2316، 2317، 2318، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3278، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 6587، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2617، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1603، والترمذي فى (جامعه) برقم: 644، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1819، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7525، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2043، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 10666»
1606. (51) بَابُ السُّنَّةِ فِي قَدْرِ مَا يُؤْمَرُ الْخَارِصُ بِتَرْكِهِ مِنَ الثِّمَارِ
اس مسنون مقدار کا بیان جو محاسب تخمینہ میں شمار نہیں کرے گا تاکہ وہ اس مقدار کے برابر ہوجائے جو مالک کھجور خشک ہونے سے پہلے تازہ کھجور کھالے گا یا دوسروں کو کھلادے گا اور یہ مقدار اس میں شامل نہیں ہوگی جس میں سے دسواں یا بیسواں حصّہ زکوٰۃ وصول کی جائے گی
حدیث نمبر: Q2319
فَلَا يَخْرُصُهُ عَلَى صَاحِبِ الْمَالِ لِيَكُونَ قَدْرُ مَا يَأْكُلُهُ رُطَبًا وَيَطْعَمُهُ قَبْلَ يَبْسِ التَّمْرِ، غَيْرُ دَاخِلٍ فِيمَا يَخْرُجُ مِنْهُ الْعُشْرُ أَوْ نِصْفُ الْعُشْرِ
حدیث نمبر: 2319
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، وَمُحَمَّدٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ خُبَيْبَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَسْعُودِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، قَالَ: أَتَانَا وَنَحْنُ فِي السُّوقِ، فَقَالَ , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا خَرَصْتُمْ، فَخُذُوا وَدَعُوا الثُّلُثَ، فَإِنْ لَمْ تَأْخُذُوا أَوْ تَدَعُوا الثُّلُثَ شَكَّ شُعْبَةُ فِي الثُّلُثِ، فَدَعُوا الرُّبُعَ"
جناب عبدالرحمٰن بن مسعود سے روایت ہے کہ سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ ہم بازار میں تھے تو اُنہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”جب تم تخمینہ لگا کر زکٰوۃ وصول کرو تو (مالک کو) ایک تہائی معاف کردو اور اگر تم ایک تہائی اسے نہ چھوڑو تو ایک چوتھائی حصّہ معاف کردو۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة الحبوب والثمار/حدیث: 2319]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 387، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2319، 2320، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3280، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1468، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2490، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1605، والترمذي فى (جامعه) برقم: 643، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2661، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7535، وأحمد فى (مسنده) برقم: 15954»
حدیث نمبر: 2320
حَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَسْعُودِ بْنِ نِيَارٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا خَرَصْتُمْ، فَخُذُوا وَدَعُوا الثُّلُثَ، فَإِنْ لَمْ تَدَعُوا الثُّلُثَ، فَدَعُوا الرُّبُعَ"
سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم پھلوں کا تخمینہ لگاؤ تو (اس کے مطابق زکوٰۃ) وصول کرلو اور ایک تہائی چھوڑدیا کرو اور اگر تم ایک تہائی نہ چھوڑ سکو تو ایک چوتھائی چھوڑدیا کرو۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة الحبوب والثمار/حدیث: 2320]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق، أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 387، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2319، 2320، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3280، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1468، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2490، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1605، والترمذي فى (جامعه) برقم: 643، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2661، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7535، وأحمد فى (مسنده) برقم: 15954»
1607. (52) بَابُ فَرْضِ إِخْرَاجِ الصَّدَقَةِ فِي الْعُسْرِ وَالْيُسْرِ، وَالتَّغْلِيظِ فِي مَنْعِ الزَّكَاةِ فِي الْعُسْرِ
تنگی اور خوش حالی میں زکوٰۃ دینا فرض ہے اور تنگی میں زکوٰۃ روکنے پر سختی کا بیان
حدیث نمبر: 2321
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ مَنْجُوفٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ خِلاسٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ لا يُؤَدِّي حَقَّهَا مِنْ نَجْدَتِهَا وَرِسْلِهَا، إِلا جِيءَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَوْفَرُ مَا كَانَتْ، فَيُبْطَحُ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ تَخْبَطُهُ بِقَوَائِمِهَا، وَتَطَؤُهُ عِقَافُهَا كُلَّمَا تَصَرَّمَ آخِرُهَا رُدَّ أَوَّلُهَا حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ الْخَلائِقِ، ثُمَّ يَرَى سَبِيلَهُ، وَمَا مِنْ صَاحِبِ غَنَمٍ لا يُؤَدِّي حَقَّهَا مِنْ نَجْدَتِهَا وَرِسْلِهَا، إِلا جِيءَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَوْفَرُ مَا كَانَتْ، وَأَكْثَرُ مَا كَانَتْ، فَيُبْطَحُ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ، تَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا، وَتَطَؤُهُ بِأَظْلافِهَا كُلَّمَا تَصَرَّمَ آخِرُهَا كَرَّ عَلَيْهِ أَوَّلُهَا حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ الْخَلائِقِ، ثُمَّ يَرَى سَبِيلَهُ، وَمَا مِنْ صَاحِبِ غَنَمٍ لا يُؤَدِّي حَقَّهَا مِنْ نَجْدَتِهَا وَرِسْلِهَا، إِلا جِيءَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَوْفَرُ مَا كَانَتْ، وَأَكْثَرُ مَا كَانَتْ، فَيُبْطَحُ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ فَتَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا، وَتَطَأُهُ بِأَظْلافِهَا كُلَّمَا تَصَرَّمَ آخِرُهَا كَرَّ عَلَيْهِ أَوَّلُهَا حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ الْخَلائِقِ، ثُمَّ يُرَى سَبِيلَهُ أَوْ سَبِيلُهُ" ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: لا أَدْرِي بِالرَّفْعِ أَوْ بِالنَّصْبِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص بھی اونٹوں کا مالک ہو اور تنگی اور خوشحالی میں ان کی زکوٰۃ ادانہ کرتا ہو تو اُسے قیامت کے دن ایک ہموار میدان میں اوندھے مُنہ لٹا دیا جائیگا پھر وہ اونٹ خوب موٹے تازے ہوکر آئیںگے اور اسے اپنے قدموں اور کھروں کے ساتھ روندیںگے۔ جب آخری روندتا ہوا گزر جائیگا تو پہلا دوبارہ واپس آجائیگا (اسے یہ عذاب مسلسل ہوتا رہیگا) حتّیٰ کہ (اللہ تعالیٰ) مخلوق کے درمیان فیصلہ فرما دے گا پھر وہ اپنا راستہ (جنّت یا جہنّم کی طرف) دیکھ لیگا اور جو شخص بھی گایوں کا مالک ہو اور تنگی اور خوشحال میں ان کی زکوۃ ادا نہ کرتا ہو تو قیامت کے دن ان گایوں کو خوب فربہ حالت میں لایا جائیگا۔ پھر اس کو ایک وسیع میدان میں اوندھا لٹا دیا جائیگا۔ اور وہ گائیں اُسے اپنے سینگوں سے ٹکریں ماریںگی اور اپنے کھروں تلے روندیںگی۔ جب آخری گائے روند کر گزر جائیگی تو پہلی گائے لوٹ آئیگی۔ یہاں تک مخلوق کے درمیان فیصلہ کردیا جائیگا پھر وہ اپنا راستہ (جنّت یا جہنّم کی طرف) دیکھ لیگا، اور جو شخص بھی بکریوں کا مالک ہو اور تنگی اور خو شحال میں ان کی زکوٰۃ ادا نہ کرتا ہو تو قیامت کے دن اُن بکریوں کو خوب فربہ حالت میں لایا جائیگا۔ پھر اس شخص کو ایک وسیع میدان میں اوندھا لٹا دیا جائیگا اور وہ بکریاں اسے اپنے سینگوں سے ٹکریں ماریںگی اور کھروں سے روندیںگی۔ جب آخری بکری روند کر گزرجائیگی تو پہلی بکری لوٹ آئیگی۔ یہاں تک کہ مخلوق کے درمیان فیصلہ کر دیا جائیگا پھر وہ اپنا راستہ (جنّت یا جہنّم کی طرف) دیکھ لیگا۔“ امام ابوبکر فرماتے ہیں کہ مجھے معلوم نہیں کہ لفظ سبیل (لام کی) پیش کے ساتھ ہے یا زبر کے ساتھ۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة الحبوب والثمار/حدیث: 2321]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1402، 1403، 1443، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 987، ومالك فى (الموطأ) برقم: 887، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2252، 2253، 2254، 2291، 2321، 2322، 2437، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3253، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1439، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2441، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1658، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1636، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1786، 2788، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7323، وأحمد فى (مسنده) برقم: 5873»
1608. (53) بَابُ ذِكْرِ الْبَيَانِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا أَرَادَ بِالنَّجْدَةِ وَالرِّسْلِ- فِي هَذَا الْمَوْضِعِ- الْعُسْرَ وَالْيُسْرَ،
اس بات کا بیان کہ اس حدیث میں مذکورہ الفاظ «النَّجْدَۃِ» اور «الرِّسْلِ» سے مرادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم تنگدستی اور خوشحالی ہے
حدیث نمبر: Q2322
وَأَرَادَ بِقَوْلِهِ مِنْ نَجْدَتِهَا وَرِسْلِهَا أَيْ: وَفِي نَجْدَتِهَا وَرِسْلِهَا
اور آپ کے اس فرمان «مِنْ نَجْدَتِھَا وَرِسْلِھَا» سے آپ کی مراد «فِیْ نَجْدَتِھَا وَرِسْلِھَا» یعنی ”تنگدستی اور خوشحالی میں“ ہے [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صدقة الحبوب والثمار/حدیث: Q2322]