صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
9. باب إِثْبَاتِ حَوْضِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاتِهِ:
باب: حوض کوثر کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2303 ترقیم شاملہ: -- 5998
وحَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ ، وَهُرَيْمُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى وَاللَّفْظُ لِعَاصِمٍ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، سَمِعْتُ أَبِي ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَا بَيْنَ نَاحِيَتَيْ حَوْضِي كَمَا بَيْنَ صَنْعَاءَ، وَالْمَدِينَةِ ".
معتمر کے والد سلیمان نے کہا: ہمیں قتادہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”میرے حوض کی دو طرفوں (دونوں کناروں) کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا صنعاء اور مدینہ کے درمیان ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5998]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے حوض کے دونوں کناروں کا درمیانی فاصلہ صنعاء اور مدینہ کے درمیانی فاصلے کی مانند ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5998]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2303
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2303 ترقیم شاملہ: -- 5999
وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ . ح وحَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ كِلَاهُمَا، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّهُمَا شَكَّا، فَقَالَا: أَوْ مِثْلَ مَا بَيْنَ الْمَدِينَةِ وَعَمَّانَ، وَفِي حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ: مَا بَيْنَ لَابَتَيْ حَوْضِي.
ہشام اور ابوعوانہ دونوں نے قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی، مگر ان دونوں نے شک سے کام لیتے ہوئے کہا: یا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) ”مدینہ اور عمان کے درمیان کی مسافت کے مانند (فاصلہ ہے)“اور ابوعوانہ کی حدیث میں یہ الفاظ ہیں۔”میرے حوض کے دونوں کناروں کے درمیان۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5999]
امام صاحب رحمہ اللہ کے دو اور اساتذہ یہی روایت بیان کرتے ہیں، مگر ان دونوں نے شک کرتے ہوئے کہا: یا مدینہ اور عمان کا درمیانی فاصلہ، اور ابوعوانہ کی حدیث میں ہے: ”میرے حوض کے دونوں اطراف کا فاصلہ“، جہاں «نَاحِيَتَيْ» کی جگہ «لَابَتَيْ» کے الفاظ ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5999]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2303
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2303 ترقیم شاملہ: -- 6000
وحَدَّثَنِي يَحْيَي بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرُّزِّيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: قَالَ أَنَسٌ : قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تُرَى فِيهِ أَبَارِيقُ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ كَعَدَدِ نُجُومِ السَّمَاءِ ".
سعید نے قتادہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”اس میں آسمان کے ستاروں جتنی تعداد میں سونے چاندی کے کوزے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6000]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس میں سونے اور چاندی کے کوزے آسمان کے ستاروں کی تعداد میں ہوں گے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6000]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2303
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2303 ترقیم شاملہ: -- 6001
وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ مِثْلَهُ، وَزَادَ: أَوْ أَكْثَرُ مِنْ عَدَدِ نُجُومِ السَّمَاءِ.
شیبان نے قتادہ سے روایت کی کہا: ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اس (سابقہ روایت) کے مانند اور مزید بیان کیا:”یا آسمان کے ستاروں سے زیادہ دکھائی دیتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6001]
امام صاحب یہی روایت ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں، اس میں یہ اضافہ ہے: ”یا آسمان کے ستاروں کی تعداد سے زیادہ ہوں گے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6001]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2303
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2305 ترقیم شاملہ: -- 6002
حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعِ بْنِ الْوَلِيدِ السَّكُونِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي رَحِمَهُ اللَّهُ، حَدَّثَنِي زِيَادُ بْنُ خَيْثَمَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَلَا إِنِّي فَرَطٌ لَكُمْ عَلَى الْحَوْضِ، وَإِنَّ بُعْدَ مَا بَيْنَ طَرَفَيْهِ كَمَا بَيْنَ صَنْعَاءَ، وَأَيْلَةَ، كَأَنَّ الْأَبَارِيقَ فِيهِ النُّجُومُ ".
سماک بن حرب نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا:”سنو! میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا اور اس (حوض) کے دو کناروں کا فاصلہ صنعاء اور ایلہ کے مابین فاصلے کی طرح ہے۔ اس میں کوزے ستاروں جیسے لگتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6002]
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خبردار! میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا اور اس کے دو کناروں کا فاصلہ صنعاء اور ایلہ کے درمیانی فاصلہ جتنا ہے اور گویا اس میں کوزے ستارے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6002]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2305
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2305 ترقیم شاملہ: -- 6003
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ الْمُهَاجِرِ بْنِ مِسْمَارٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ: كَتَبْتُ إِلَى جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ مَعَ غُلَامِي نَافِعٍ، أَخْبِرْنِي بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَكَتَبَ إِلَيَّ إِنِّي سَمِعْتُهُ، يَقُولُ: " أَنَا الْفَرَطُ عَلَى الْحَوْضِ ".
عامر بن سعد بن ابی وقاص نے کہا: میں نے اپنے غلام نافع کے ہاتھ حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کو خط بھیجا کہ آپ مجھے کوئی ایسی چیز بتائیں۔ جو آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو، انہوں نے مجھے (جواب میں) لکھا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے۔”میں حوض پر (تمہارا) پیش رو ہوں گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6003]
عامر بن سعد بن ابی وقاص روایت کرتے ہیں کہ میں نے اپنے غلام نافع کے ہاتھ حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو حدیثیں سنی ہیں، ان میں سے کوئی مجھے بتائیں، تو انہوں نے مجھے لکھا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”حوض پر میں ہی تمہارا پیش رو ہوں گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6003]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2305
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
10. باب إِكْرَامِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقِتَالِ الْمَلَائِكَةِ مَعَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
باب: فرشتوں کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ساتھ ہو کر لڑنا۔
ترقیم عبدالباقی: 2306 ترقیم شاملہ: -- 6004
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، وَأَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَعْدٍ ، قَالَ: " رَأَيْتُ عَنْ يَمِينِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَنْ شِمَالِهِ يَوْمَ أُحُدٍ، رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا ثِيَابُ بَيَاضٍ، مَا رَأَيْتُهُمَا قَبْلُ وَلَا بَعْدُ يَعْنِي جِبْرِيلَ، وَمِيكَائِيلَ عَلَيْهِمَا السَّلَام ".
مسعر نے سعد بن ابراہیم سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے احد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں اور بائیں دو آدمیوں کو دیکھا وہ سفید لباس میں تھے، ان کو نہ میں نے اس سے پہلے کبھی دیکھا تھا نہ بعد میں یعنی حضرت جبرئیل علیہ السلام اور مکائیل علیہ السلام کو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6004]
حضرت سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے احد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں اور بائیں دو آدمی دیکھے جو سفید لباس پہنے ہوئے تھے، میں نے انہیں اس سے پہلے یا بعد میں نہیں دیکھا، یعنی جبرائیل علیہ السلام اور میکائیل علیہ السلام تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6004]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2306
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2306 ترقیم شاملہ: -- 6005
وحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا سَعْدٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ: " لَقَدْ رَأَيْتُ يَوْمَ أُحُدٍ، عَنْ يَمِينِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَنْ يَسَارِهِ، رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا ثِيَابٌ بِيضٌ، يُقَاتِلَانِ عَنْهُ كَأَشَدِّ الْقِتَالِ، مَا رَأَيْتُهُمَا قَبْلُ وَلَا بَعْدُ ".
ابراہیم بن سعد نے کہا: ہمیں سعد نے اپنے والد (ابراہیم) سے انہوں نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے احد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں اور بائیں سفید کپڑوں میں ملبوس دو آدمی دیکھے وہ آپ کی طرف سے شدت کے ساتھ جنگ کررہے تھے۔ میں نے ان کو نہ اس سے پہلے دیکھا تھا نہ بعد میں کبھی دیکھا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6005]
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے اُحد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں اور بائیں، سفید پوش دو آدمی دیکھے، جو آپ کی طرف سے انتہائی سخت جنگ لڑ رہے تھے، میں نے نہ ان کو پہلے دیکھا اور نہ بعد میں۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6005]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2306
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
11. باب شُجَاعَتِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
باب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شجاعت کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2307 ترقیم شاملہ: -- 6006
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَي، قَالَ يَحْيَي: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَحْسَنَ النَّاسِ، وَكَانَ أَجْوَدَ النَّاسِ، وَكَانَ أَشْجَعَ النَّاسِ، وَلَقَدْ فَزِعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَانْطَلَقَ نَاسٌ قِبَلَ الصَّوْتِ، فَتَلَقَّاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاجِعًا، وَقَدْ سَبَقَهُمْ إِلَى الصَّوْتِ وَهُوَ عَلَى فَرَسٍ لِأَبِي طَلْحَةَ، عُرْيٍ فِي عُنُقِهِ السَّيْفُ، وَهُوَ يَقُولُ: لَمْ تُرَاعُوا، لَمْ تُرَاعُوا، قَالَ: وَجَدْنَاهُ بَحْرًا، أَوْ إِنَّهُ لَبَحْرٌ، قَالَ: وَكَانَ فَرَسًا يُبَطَّأُ ".
ثابت نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام انسانوں میں سب سے بڑھ کر خوبصورت سب انسانوں سے بڑھ کر سخی اور سب سے زیادہ بہادر تھے۔ ایک رات اہل مدینہ (ایک آواز سن کر) خوف زدہ ہو گئے، صحابہ رضی اللہ عنہم اس آواز کی طرف گئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اس جگہ سے واپس آتے ہوئے ملے، آپ سب سے پہلے آواز (کی جگہ) تک پہنچے، آپ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر سوار تھے، آپ کی گردن مبارک میں تلوار حمائل تھی اور آپ فرما رہے تھے۔”خوف میں مبتلا نہ ہو خوف میں مبتلا نہ ہو۔“(پھر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”ہم نے اس (گھوڑے) کو سمندر کی طرح پایا ہے یا (فرمایا) وہ تو سمندر ہے۔“انہوں (انس رضی اللہ عنہ) نے کہا: اور (اس سے پہلے) وہ سست رفتار گھوڑا تھا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6006]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام لوگوں سے زیادہ حسین تھے، سب لوگوں سے زیادہ سخی تھے اور سب لوگوں سے زیادہ دلیر تھے۔ ایک رات اہل مدینہ خوف زدہ ہو گئے، تو لوگ آواز کی طرف نکل کھڑے ہوئے، سو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں واپس آتے ہوئے ملے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے پہلے ہی آواز کی طرف جا چکے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کے گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر سوار تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گلے (گردن میں) تلوار تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: «لَنْ تُرَاعُوا، لَنْ تُرَاعُوا» ”خوف زدہ نہ ہو، خوف زدہ نہ ہو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «إِنْ وَجَدْنَاهُ لَبَحْرًا» ”ہم نے اس کو سمندر کی طرح تیز پایا“ یا فرمایا: «إِنَّهُ لَبَحْرٌ» ”یہ سمندر ہے۔“ اور وہ گھوڑا سست رفتار سمجھا جاتا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6006]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2307
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2307 ترقیم شاملہ: -- 6007
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: " كَانَ بِالْمَدِينَةِ فَزَعٌ، فَاسْتَعَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا لِأَبِي طَلْحَةَ، يُقَالُ لَهُ: مَنْدُوبٌ، فَرَكِبَهُ، فَقَالَ: مَا رَأَيْنَا مِنْ فَزَعٍ، وَإِنْ وَجَدْنَاهُ لَبَحْرًا ".
وکیع نے شعبہ سے، انہوں نے قتادہ سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ایک بار مدینہ میں خوف پھیل گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا ایک گھوڑا مستعار لیا، اسے مندوب کہا جاتا تھا آپ اس پر سوار ہوئے تو آپ نے فرمایا:”ہم نے کوئی ڈر اور خوف کی بات نہیں دیکھی اور اس گھوڑے کو ہم نے سمندر (کی طرح) پایا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6007]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مدینہ میں دہشت و گھبراہٹ پھیل گئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے گھوڑا مستعار (مانگ کر) لیا، جسے «مَنْدُوب» کہا جاتا تھا، سو اس پر سوار ہوئے، (واپسی پر) فرمایا: ”ہم نے گھبراہٹ و پریشانی کی کوئی چیز نہیں دیکھی اور ہم نے اسے انتہائی تیز رفتار پایا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6007]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2307
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة