صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
15. باب رَحْمَتِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصِّبْيَانَ وَالْعِيَالَ وَتَوَاضُعِهِ وَفَضْلِ ذَلِكَ:
باب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفقت کا بیان جو بچوں بالوں پر تھی اور اس کی فضیلت۔
ترقیم عبدالباقی: 2318 ترقیم شاملہ: -- 6028
وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ جَمِيعًا، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ عَمْرٌو، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ، أَبْصَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُقَبِّلُ الْحَسَنَ، فَقَالَ: إِنَّ لِي عَشْرَةً مِنَ الْوَلَدِ مَا قَبَّلْتُ وَاحِدًا مِنْهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّهُ مَنْ لَا يَرْحَمْ، لَا يُرْحَمْ ".
سفیان بن عیینہ نے زہری سے، انہوں نے ابوسلمہ سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو بوسہ دے رہے تھے، انہوں نے کہا: میرے دس بچے ہیں اور میں نے ان میں سے کسی کو کبھی بوسہ نہیں دیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”جو شخص رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جائے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6028]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اقرع بن حابس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت حسن رضی اللہ عنہ کا بوسہ لیتے دیکھا تو کہنے لگا: میرے دس بیٹے ہیں، میں نے ان میں سے کسی ایک کا بوسہ نہیں لیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «مَنْ لَا يَرْحَمُ لَا يُرْحَمُ» ”واقعہ یہ ہے جو رحم نہیں کرتا، اس پر رحم نہیں کیا جائے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6028]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2318
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2318 ترقیم شاملہ: -- 6029
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ.
معمر نے زہری سے روایت کی، کہا: مجھے ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند حدیث بیان کی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6029]
امام صاحب کے ایک اور استاد اسی طرح روایت سناتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6029]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2318
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2319 ترقیم شاملہ: -- 6030
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، كلاهما، عَنْ جَرِيرٍ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ ، كُلُّهُمْ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ لَا يَرْحَمْ النَّاسَ، لَا يَرْحَمْهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ".
جریر، عیسیٰ بن یونس، ابومعاویہ اور حفص بن غیاث سب نے اعمش سے، انہوں نے زید بن وہب اور ابوظبیان سے، انہوں نے حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”جو شخص لوگوں پر رحم نہیں کرتا اللہ عزوجل اس پر رحم نہیں کرتا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6030]
حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا، اللہ عزوجل اس پر رحم نہیں فرمائے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6030]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2319
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2319 ترقیم شاملہ: -- 6031
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ جَرِيرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ جَرِيرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ.
قیس اور نافع بن جبیر نے جریر سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اعمش کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6031]
امام صاحب اپنے مختلف اساتذہ کی سندوں سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6031]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2319
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
16. باب كَثْرَةِ حَيَائِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
باب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیا اور شرم کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2320 ترقیم شاملہ: -- 6032
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي عُتْبَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ . ح وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَأَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي عُتْبَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَشَدَّ حَيَاءً مِنَ الْعَذْرَاءِ فِي خِدْرِهَا، وَكَانَ إِذَا كَرِهَ شَيْئًا، عَرَفْنَاهُ فِي وَجْهِهِ ".
عبداللہ بن ابی عتبہ نے کہا: میں نے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا، کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کنواری لڑکی سے زیادہ حیا کرنے والے تھے جو پردے میں ہوتی ہے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز کو ناپسند فرماتے تو ہمیں آپ کے چہرے سے اس کا پتہ چل جاتا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6032]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2320
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2321 ترقیم شاملہ: -- 6033
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو حِينَ قَدِمَ مُعَاوِيَةُ إِلَى الْكُوفَةِ، فَذَكَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: لَمْ يَكُنْ فَاحِشًا، وَلَا مُتَفَحِّشًا، وَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ مِنْ خِيَارِكُمْ أَحَاسِنَكُمْ أَخْلَاقًا "، قَالَ عُثْمَانُ: حِينَ قَدِمَ مَعَ مُعَاوِيَةَ إِلَى الْكُوفَةِ.
زہیر بن حرب اور عثمان بن ابی شیبہ نے ہمیں حدیث بیان کی، دونوں نے کہا: ہمیں جریر نے اعمش سے، انہوں نے شقیق سے، انہوں نے مسروق سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: جب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کوفہ آئے تو ہم (ان کے ساتھ آنے والے) حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے جا کر ملے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا اور کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ طبعاً زبان سے کوئی بری بات نکالنے والے تھے اور نہ تکلف کر کے برا کہنے والے تھے، نیز انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تم میں سب سے اچھے لوگ وہی ہیں جو اخلاق میں سب سے اچھے ہیں۔“عثمان (بن ابی شیبہ) نے کہا: جس موقع پر حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کوفہ آئے تھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6033]
امام مسروق رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ جس وقت حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کوفہ تشریف لائے، ہم حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے پاس گئے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا اور کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ طبعاً بدگو تھے اور نہ تکلفاً بدگوئی کرتے تھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں بہترین وہی ہیں جو اخلاق میں اچھے ہیں۔“ عثمان کی روایت میں ہے: جب حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کوفہ آئے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6033]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2321
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2321 ترقیم شاملہ: -- 6034
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ يَعْنِي الْأَحْمَرَ ، كُلُّهُمْ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
ابومعاویہ، وکیع، عبداللہ بن نمیر اور ابوخالد احمر، ان سب نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6034]
امام صاحب یہی روایت تین اور اساتذہ کی سندوں سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6034]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2321
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
17. باب تَبَسُّمِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحُسْنِ عِشْرَتِهِ:
باب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہنسی اور حسن معاشرت کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2322 ترقیم شاملہ: -- 6035
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ : " أَكُنْتَ تُجَالِسُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: نَعَمْ، كَثِيرًا، كَانَ لَا يَقُومُ مِنْ مُصَلَّاهُ الَّذِي يُصَلِّي فِيهِ الصُّبْحَ، حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَإِذَا طَلَعَتْ قَامَ، وَكَانُوا يَتَحَدَّثُونَ فَيَأْخُذُونَ فِي أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ، فَيَضْحَكُونَ، وَيَتَبَسَّمُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
سماک بن حرب سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں شرکت کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: ہاں، بہت شرکت کی، آپ جس جگہ پر صبح کی نماز پڑھتے تھے تو سورج نکلنے سے پہلے وہاں نہیں اٹھتے تھے۔ جب سورج نکل آیا تو آپ وہاں سے اٹھتے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جاہلیت کے (کسی نہ کسی) معاملے کو لیتے اور (اس پر باہم) بات چیت کرتے تو ہنسی مذاق بھی کرتے، (لیکن) آپ صلی اللہ علیہ وسلم (صرف) مسکراتے تھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6035]
سماک بن حرب رحمہ اللہ کہتے ہیں، میں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: ہاں، بہت دفعہ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس جگہ صبح کی نماز پڑھاتے، وہاں سے سورج نکلنے تک نہ اٹھتے، جب سورج طلوع ہو جاتا تو اٹھتے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم باتیں کرتے رہتے حتی کہ جاہلیت کے دور کے کاموں کا ذکر چھیڑ لیتے اور ہنستے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تبسم فرماتے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6035]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2322
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
18. باب فِي رَحْمَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلنِّسَاءِ وَأَمْرِ السُّوَّاقِ مَطَايَاهُنَّ بِالرِّفْقِ بِهِنَّ:
باب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عورتوں پر رحم کرنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2323 ترقیم شاملہ: -- 6036
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، وَحَامِدُ بْنُ عُمَرَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو كَامِلٍ جَمِيعًا، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ أَبُو الرَّبِيعِ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، وَغُلَامٌ أَسْوَدُ يُقَالُ لَهُ: أَنْجَشَةُ، يَحْدُو، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَنْجَشَةُ، رُوَيْدَكَ سَوْقًا بِالْقَوَارِيرِ ".
حماد نے ہمیں ثابت سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اسی کے مانند روایت کی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6036]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کسی سفر پر تھے اور آپ کا انجشہ نامی حبشی (سیاہ فام) غلام حدی خوانی کر رہا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے انجشہ! شیشوں کے لیے، سواری آہستہ آہستہ ہانکو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6036]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2323
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2323 ترقیم شاملہ: -- 6037
وحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، وَحَامِدُ بْنُ عُمَرَ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، بِنَحْوِهِ.
اسماعیل (بن علیہ) نے کہا: ہمیں ایوب نے ابوقلابہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج کے پاس گئے، اس وقت انجشہ نام کا ایک اونٹ ہانکنے والا ان (کے اونٹوں) کو ہانک رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”انجشہ تم پر افسوس! شیشہ آلات (خواتین) کو آہستگی اور آرام سے چلاؤ۔“ایوب نے کہا: ابوقلابہ نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کلمہ بولا کہ اگر تم میں سے کوئی ایسا کلمہ کہتا تو تم اس پر عیب لگاتے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6037]
امام صاحب رحمہ اللہ اپنے تین اساتذہ سے اس کے ہم معنی روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 6037]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2323
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة