Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. من رخص في الدواء والطب
جن لوگوں نے دوائی اور طب میں رخصت کا کہا ہے (ان کے دلائل)
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 24958
٢٤٩٥٨ - (حدثنا ابو عبد الرحمن قال: حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة قال) (١): حدثنا سفيان بن عيينة قال: حدثنا عمرو بن دينار عن هلال بن (يساف) (٢) قال: جرح رجل على عهد رسول الله ﷺ فقال:"ادعوا له الطبيب" (فقالوا) (٣): يا رسول الله (هل) (٤) يغني عنه الطبيب؟ قال:"نعم، إن الله ﵎ (٥) لم ينزل داء إلا انزل معه شفاء" (٦).

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) ساقط في: [جـ].
(٢) في [ح]: (يساق).
(٣) في [أ، هـ]: (فقال:)
(٤) سقط من: [ح].
(٥) سقط من: [جـ].
(٦) مرسل؛ هلال بن يساف تابعي، رواه القضاعي في مسند الشهاب (٧٩٦)، وأخرجه أحمد متصلًا (٢٣١٥٦)، وابن منيع كما في إتحاف الخيرة (٥٢٧٧) من حديث رجل من الأنصار.

تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24958، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 23881 ترقیم الشثری: -- 24959
٢٤٩٥٩ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا يونس بن محمد قال: حدثنا حرب بن ميمون قال: سمعت عمران العمي يقول: سمعت انسا ﵁ يقول: إن رسول الله ﷺ قال:"إن الله حيث خلق الداء خلق الدواء، فتداووا" (١).

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) حسن؛ عمران صدوق، أخرجه أحمد (١٢٥٩٦)، وابن عبد البر في التمهيد ٥/ ٢٨٤.
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یقینا اللہ تعالیٰ نے جہاں بیماری پیدا کی ہے۔ دوائی بھی پیدا کی ہے۔ پس تم دواء استعمال کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الطب/حدیث: 24959]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24959، ترقيم محمد عوامة 23881)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 23882 ترقیم الشثری: -- 24960
٢٤٩٦٠ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا محمد بن عبد الله الاسدي عن (عمر) (١) بن سعيد (بن) (٢) ابي حسين قال: حدثنا عطاء عن ابي هريرة ﵁ قال: قال رسول ⦗١٠٤⦘ الله ﷺ:"ما انزل الله من داء إلا انزل له شفاء" (٣).

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، جـ، ح، ز، ط]: (عمرو).
(٢) في [جـ]: (عن).
(٣) صحيح؛ أخرجه البخاري (٥٦٧٨)، والنسائي في الكبرى (٧٥٥٥)، وابن ماجه (٣٤٣٩).

حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے۔ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے کوئی بیماری نازل نہیں کی مگر یہ کہ اس کے لئے شفاء بھی پیدا کی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الطب/حدیث: 24960]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24960، ترقيم محمد عوامة 23882)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 23883 ترقیم الشثری: -- 24961
٢٤٩٦١ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن زياد بن علاقة عن (١) اسامة ابن شريك قال: شهدت الاعراب يسالون رسول الله ﷺ (٢) فقال:"تداووا عباد الله، فإن الله لم يضع داء إلا وضع معه شفاء إلا إلهرم" (٣).

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، جـ، ح، ز، ط] زيادة: (أبي).
(٢) ساقطة في: [ز].
(٣) صحيح؛ أخرجه أحمد (١٨٤٥٤)، وأبو داود (٣٨٥٥)، والترمذي (٢٠٣٨)، والنسائي في الكبرى (٥٨٧٥ و ٧٥٥٧)، وابن ماجه (٣٤٣٦)، والبخاري في الأدب (٢٩٢)، والحميدي (٨٢٤)، والحاكم ٤/ ٤٠٠، وابن حبان (٦٠٦٤)، والطيالسي (١٢٣٢)، والخطيب في الموضح ٢/ ١١٠، والطبراني (٤٦٣)، والبيهقي ٩/ ٣٤٣، والخطابي في غريب الحديث ١/ ٥٣٧، والدارقطني ٢/ ٢٥١.

حضرت اسامہ بن شریک سے روایت ہے۔ کہتے ہیں کہ کچھ دیہاتیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ اے اللہ کے بندو! دوائی، استعمال کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے بڑھاپے کے سوا کوئی بھی بیماری نہیں اتاری مگر یہ کہ اس کے ساتھ شفاء بھی نازل کی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الطب/حدیث: 24961]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24961، ترقيم محمد عوامة 23883)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 23884 ترقیم الشثری: -- 24962
٢٤٩٦٢ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا هاشم بن القاسم قال: حدثنا شبيب بن (شيبة) (١) قال: حدثنا عطاء بن ابي رباح عن ابي سعيد الخدري ﵁ عن النبي ﷺ (٢) قال:"إن الله لم ينزل داء، (او) (٣) لم يخلق داء، إلا وقد انزل او (٤) خلق له (دواء) (٥) علمه من علمه (و) (٦) جهله من جهله، إلا السام" قالوا: يا رسول الله وما السام؟ قال:"الموت" (٧).

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ح]: (شبيب).
(٢) في [ح، هـ]: ﵇.
(٣) ساقطة في: [ح].
(٤) في [جـ]: زيادة (قد).
(٥) في [جـ]: (دا).
(٦) في [ز]: (أو).
(٧) ضعيف؛ لحال شبيب بن شيبة، أخرجه الحاكم ٤/ ٤٠١، والبزار (٣٠١٦/ كشف)، والطبراني في الأوسط (٢٥٥٥) والصغير (٩٢).

حضرت ابو سعید خدری، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے کوئی بیماری نازل نہیں فرمائی یا کوئی بیماری پیدا نہیں کی مگر یہ کہ اس کے لئے دوائی نازل کی ہے یا پیدا کی ہے۔ جس نے اس کو جان لیا سو جان لیا اور جو اس سے جاہل رہا وہ جاہل رہا سوائے سام کے۔ صحابہ نے پوچھا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! سام کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا موت۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الطب/حدیث: 24962]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24962، ترقيم محمد عوامة 23884)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 23885 ترقیم الشثری: -- 24963
٢٤٩٦٣ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن عطاء بن السائب عن ابي عبد الرحمن قال: قال عبد الله: لم ينزل الله داء (او لم يخلق داء) (١)، إلا وقد انزل معه شفاء، جهله من جهله، وعلمه من علمه (٢).

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ، ز].
(٢) صحيح؛ أخرجه عبد الرزاق (١٧١٤٤)، والطبراني (٩١٦٣)، كما أخرجه مرفوعًا أحمد (٣٥٧٨)، وابن ماجه (٣٤٣٨)، والنسائي في الكبرى (٦٨٦٥)، وابن حبان (٦٠٦٢)، والحاكم ٤/ ١٩٦.

حضرت ابو عبد الرحمن سے روایت ہے۔ کہتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے کوئی بیماری نہیں اتاری یا بیماری نہیں پیدا کی مگر یہ کہ اس کے ساتھ شفاء بھی اتاری ہے۔ جو اس سے جاہل رہا وہ جاہل رہا اور جس نے اس کو جان لیا، اس نے جان لیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الطب/حدیث: 24963]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24963، ترقيم محمد عوامة 23885)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 23886 ترقیم الشثری: -- 24964
٢٤٩٦٤ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن يحيى بن سعيد عن زيد بن اسلم ان رجلا اصابه جرح، فاحتقن الدم، وان رسول الله ﷺ دعا له رجلين من بني انمار فقال:"ايكما (اطب) (١)؟"، فقال: رجل يا رسول الله او في الطب خير؟ فقال (٢):"إن الذي انزل الداء (٣) انزل الدواء" (٤).

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ح]: (أصيب).
(٢) في [ز]: زيادة (له).
(٣) في [جـ]: زيادة (الذي).
(٤) مرسل؛ زيد بن أسلم تابعي، أخرجه مالك (٢/ ٩٤٣)، وابن عبد البر في الاستذكار (٨/ ٤١٣).

حضرت زید بن اسلم سے روایت ہے کہ ایک آدمی کو زخم لگ گیا پس خون منجمد ہوگیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے لئے بنو انمار کے دو آدمیوں کو بلایا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ تم میں سے کون بڑا طبیب ہے؟ ایک آدمی نے پوچھا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! کیا طب میں بھی کوئی خیر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یقینا جس ذات نے بیماری اتاری ہے اس نے دوائی بھی اتاری ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الطب/حدیث: 24964]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24964، ترقيم محمد عوامة 23886)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 23887 ترقیم الشثری: -- 24965
٢٤٩٦٥ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا معتمر عن ابيه عن شبيب عن ابي قلابة (١) قال: ﴿وقيل (٢) من راق﴾ [القيامة: ٢٧]، قال: من طبيب.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط، هـ]: زيادة (قال).
(٢) ناقصة في: [ط].

حضرت ابو قلابہ سے وقیل من راقٍ کے بارے میں روایت ہے کہتے ہیں۔ اس سے مراد طبیب ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الطب/حدیث: 24965]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24965، ترقيم محمد عوامة 23887)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 23888 ترقیم الشثری: -- 24966
٢٤٩٦٦ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا (يعمر) (١) عن (ابن) (٢) مبارك عن ⦗١٠٦⦘ خالد عن ابي قلابة عن كعب قال: إن الله يقول:"انا الذي (اصح) (٣) واداوي".

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، هـ]: (معتمر)، وفي [أ، ح، ط]: (معمر).
(٢) ساقطة من: [ط].
(٣) في [ز]: (أسح وكذلك).

حضرت کعب سے روایت ہے۔ کہتے ہیں کہ حق جل شانہ ٔ کا فرمان ہے۔ میں ہی وہ ذات ہوں جو صحت دیتا ہوں اور علاج کرتا ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الطب/حدیث: 24966]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24966، ترقيم محمد عوامة 23888)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. من كره الطب ولم يره
جو لوگ علاج کو ناپسند سمجھتے ہیں (ان کے دلائل)
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 23889 ترقیم الشثری: -- 24967
٢٤٩٦٧ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا حسين بن علي عن (ابن ابجر عن) (١) اياد ابن لقيط عن ابي رمثة قال: انطلقت مع ابي وانا غلام إلى النبي ﷺ (٢) قال: فقال له (ابي) (٣): إني رجل طبيب، فارني هذه السلعة التي بظهرك، قال:" (و) (٤) ما تصنع بها؟" قال: اقطعها قال:"لست بطبيب، ولكنك (رفيق) (٥)، طبيبها الذي وضعها" -وقال غيره:"الذي خلقها" (٦).

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ز].
(٢) في [ز]: ﵇.
(٣) سقط من: [ز].
(٤) سقط من: [أ، ح، ط].
(٥) في [جـ]: (رقيق).
(٦) صحيح؛ أخرجه أحمد (٧١١٧)، وابنه (٧١١٠)، وأبو داود (٤٢٠٧)، والنسائي ٨/ ٥٣، وابن حبان (٥٩٩٥)، وابن سعد ١/ ٤٢٦، والشافعي في المسند ٢/ ٩٨، والحميدي (٨٦٦)، والطبراني ٢٢/ (٧١٥)، والبيهقي ٨/ ٢٧، والبغوي (٢٥٣٤)، والدولابي ١/ ٨٤، وابن شبه (٩٩٧)، وابن أبي عاصم (١١٤٢).

حضرت ابو رمثہ سے روایت ہے۔ کہتے ہیں کہ میں چھوٹا تھا اور اپنے والد کے ہمراہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ ابو رمثہ کہتے ہیں۔ میرے والد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا۔ میں حکیم آدمی ہوں لہٰذا آپ کی پشت پر جو ابھرا ہوا گوشت ہے۔ وہ آپ مجھے دکھائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا۔ ’ ’ تم اس کو کیا کرو گے؟ میرے والد نے جواب دیا، میں اس کو کاٹ دوں گا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ تم طبیب نہیں ہو، ہاں مگر تم دوست ہو۔ اس کا طبیب وہی ہے جس نے اس کو بنایا ہے۔ یا فرمایا۔ جس نے اس کو پیدا کیا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/ كتاب الطب/حدیث: 24967]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24967، ترقيم محمد عوامة 23889)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں