🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. كِتَابُ الْحُدُودِ وَالدِّيَاتِ وَغَيْرِهِ
حدود اور دیات وغیرہ کے بارے میں روایات
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3185 ترقیم الرسالہ : -- 3226
نَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، نَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، أنا يَعْلَى بْنُ حَكِيمٍ . ح وَنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ نَا أَبُو السَّائِبِ ، نَا يَزِيدُ ، أنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِمَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ حِينَ أَتَاهُ فَأَقَرَّ عِنْدَهُ بِالزِّنَا: " لَعَلَّكَ قَبَّلْتَ أَوْ لَمَسْتَ"، فَقَالَ: لا، قَالَ:" فَكَذَا؟"، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَأَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ". وَقَالَ ابْنُ سِنَانٍ:" لَعَلَّكَ قَبَّلْتَ أَوْ غَمَزْتَ أَوْ نَظَرْتَ"، قَالَ: لا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَفَعَلْتَ كَذَا؟"، لا يُكَنِّي، قَالَ: نَعَمْ، فَعِنْدَ ذَلِكَ أَمَرَ بِرَجْمِهِ .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب سیدنا ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کے سامنے زنا کا اعتراف کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ماعز سے فرمایا: ”ہو سکتا ہے، تو نے صرف بوسہ لیا ہو، یا صرف چھو لیا ہو؟“ انہوں نے عرض کی: ”نہیں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو ایسا ہی ہے (یعنی تم نے زنا ہی کیا ہے)؟“ انہوں نے عرض کی: ”جی ہاں۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت انہیں سنگسار کر دیا گیا۔ ابن سنان نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”شاید تم نے بوسہ لیا ہو، تم نے ہاتھ لگایا ہو، یا دیکھا ہو؟“ انہوں نے عرض کی: ”نہیں۔“ راوی بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا: ”کیا تم نے یہ یہ (یعنی زنا) کیا ہے؟“ (راوی بیان کرتے ہیں:) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کنایہ کا کوئی لفظ استعمال نہیں کیا، تو انہوں نے عرض کی: ”جی ہاں۔“ (راوی بیان کرتے ہیں:) اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سنگسار کرنے کا حکم دیا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3226]
ترقیم العلمیہ: 3185
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 6824، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1693، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 8169، 8170، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 7130، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4421، 4425، 4426، 4427، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1427،، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3225، 3226، 3227، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 2161»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3186 ترقیم الرسالہ : -- 3227
نَا ابْنُ مُبَشِّرٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، نَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْحُبُلِيُّ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِلأَسْلَمِيِّ الَّذِي أَتَاهُ وَقَدْ زَنَى:" لَعَلَّكَ قَبَّلْتَ، أَوْ لَمَسْتَ، أَوْ نَظَرْتَ" .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: اسلم قبیلے کا جو شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تھا، جس نے زنا کیا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”ہو سکتا ہے، تم نے صرف بوسہ لیا ہو، یا صرف چھو لیا ہو، یا صرف دیکھا ہو؟“ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3227]
ترقیم العلمیہ: 3186
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 6824، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1693، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 8169، 8170، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 7130، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4421، 4425، 4426، 4427، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1427،، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3225، 3226، 3227، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 2161»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3187 ترقیم الرسالہ : -- 3228
نَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ، نَا أَبِي ، نَا أَبُو حَمْزَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ الصَّائِغِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ امْرَأَةً أَتَت النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ:" إِنِّي زَنَيْتُ فَأَقِمْ عَلَيَّ الْحَدَّ، فَقَالَ: انْطَلِقِي حَتَّى تَفْطِمِي وَلَدَكِ، فَلَمَّا فَطَمَتْ وَلَدَهَا أَتَتْهُ، فَقَالَتْ: إِنِّي زَنَيْتُ فَأَقِمْ فِيَّ الْحَدَّ، فَقَالَ: هَاتِ مَنْ يَكْفُلُ وَلَدَكِ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ، فَقَالَ: أَنَا أَكْفُلُ وَلَدَهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَرَجَمَهَا" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس نے عرض کی: ”میں نے زنا کا ارتکاب کیا ہے، آپ مجھ پر حد جاری کریں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم جاؤ اور اس وقت آنا، جب تمہارا بچہ دودھ پینا چھوڑ دے۔“ جب اس عورت کے بچے نے دودھ پینا چھوڑ دیا، تو وہ عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی: ”میں نے زنا کا ارتکاب کیا تھا، آپ مجھ پر حد جاری کر دیں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی ایسا شخص لے کر آؤ، جو تمہارے بچے کا کفیل بن سکے۔“ تو ایک شخص کھڑا ہوا، اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میں اس کے بچے کا کفیل بنتا ہوں۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو سنگسار کروا دیا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3228]
ترقیم العلمیہ: 3187
تخریج الحدیث: «أخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 8177، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 7149، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3228»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3188 ترقیم الرسالہ : -- 3229
نَا نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْقَاضِي ، وَابْنُ قَحْطَبَةَ قَالا: نَا مَحْمُودُ بْنُ خِرَاشٍ، أنا هُشَيْمٌ ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ: أُتِيَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ بِزَانٍ مُحْصَنٍ فَجَلَدَهُ يَوْمَ الْخَمِيسِ مِائَةَ جَلْدَةٍ، ثُمَّ رَجَمَهُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَقِيلَ لَهُ جَمَعْتَ عَلَيْهِ حَدَّيْنِ، فَقَالَ: جَلَدْتُهُ بِكِتَابِ اللَّهِ، وَرَجَمْتُهُ بِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
شعبی بیان کرتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک شادی شدہ زانی کو لایا گیا، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جمعرات کے دن اسے کوڑے لگوائے، اور جمعے کے دن اسے سنگسار کروا دیا، تو ان سے کہا گیا: ”آپ نے دو سزائیں اکٹھی کیوں کر دیں؟“ تو انہوں نے فرمایا: ”میں نے اللہ کی کتاب کے حکم کے تحت اسے کوڑے لگوائے ہیں اور اللہ کے رسول کی سنت کے مطابق اسے سنگسار کروایا ہے۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3229]
ترقیم العلمیہ: 3188
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3229، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 956، وأبو يعلى فى ((مسنده)) برقم: 290، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 13362، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 29385، 29390»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3189 ترقیم الرسالہ : -- 3230
نَا نَا الْحُسَيْنُ، وَابْنُ قَحْطَبَةَ ، قَالا: نَا مَحْمُودُ بْنُ خِرَاشٍ، نَا هِشَامٌ، نَا حُصَيْنٌ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ: أُتِيَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِمَوْلاةٍ لِسَعِيدِ بْنِ قَيْسٍ قَدْ فَجَرَتْ فَضَرَبَهَا مِائَةً ثُمَّ رَجَمَهَا، ثُمَّ قَالَ:" جَلَدْتُهَا بِكِتَابِ اللَّهِ، وَرَجَمْتُهَا بِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
شعبی بیان کرتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں سعید بن قیس کی کنیز کو لایا گیا، جس نے زنا کا ارتکاب کیا تھا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اسے سو کوڑے لگوائے، پھر اسے سنگسار بھی کروا دیا، پھر انہوں نے فرمایا: ”میں نے اللہ کی کتاب کے حکم کے تحت اسے کوڑے لگوائے ہیں اور اللہ کے رسول کی سنت کے مطابق اسے سنگسار کروایا ہے۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3230]
ترقیم العلمیہ: 3189
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 6812، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 8179، 8180، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 7102، 7103، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 17061، 17062، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3230، 3231، 3232، 3233، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 727، 854، 957»
«قال الزیلعي: وتكلم الناس في سماع الشعبي من علي، نصب الراية لأحاديث الهداية: (3 / 318)»

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3190 ترقیم الرسالہ : -- 3231
نَا نَا أَبُو عُمَرَ الْقَاضِي، نَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، نَا مُحَمَّدٌ هُوَ الدُّولابِيُّ ، نَا هُشَيْمٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سَالِمٍ ، وَحُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" جَلَدَ يَوْمَ الْخَمِيسِ وَرَجَمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَقَالَ: جَلَدْتُهَا بِكِتَابِ اللَّهِ، وَرَجَمْتُهَا بِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
شعبی بیان کرتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جمعرات کے دن اسے کوڑے لگوائے اور جمعے کے دن اسے سنگسار کروا دیا، تو ان سے کہا گیا: ”آپ نے دو سزائیں اکٹھی کر دیں؟“ تو انہوں نے فرمایا: ”میں نے اللہ کی کتاب کے حکم کے تحت اسے کوڑے لگوائے ہیں اور اللہ کے رسول کی سنت کے مطابق اسے سنگسار کروایا ہے۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3231]
ترقیم العلمیہ: 3190
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 6812، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 8179، 8180، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 7102، 7103، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 17061، 17062، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3230، 3231، 3232، 3233، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 727، 854، 957»
«قال الزیلعي: وتكلم الناس في سماع الشعبي من علي، نصب الراية لأحاديث الهداية: (3 / 318)»

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3191 ترقیم الرسالہ : -- 3232
نَا نَا أَبُو عُمَرَ الْقَاضِي، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ جَرِيرِ بْنِ جَبَلَةَ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ: أُتِيَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِمَوْلاةِ سَعِيدِ بْنِ قَيْسٍ الْهَمْدَانِيِّ،" فَجَلَدَهَا ثُمَّ رَجَمَهَا، وَقَالَ: جَلَدْتُهَا بِكِتَابِ اللَّهِ، وَرَجَمْتُهَا بِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
شعبی بیان کرتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں سعید بن قیس کی کنیز کو لایا گیا، جس نے زنا کا ارتکاب کیا تھا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اسے سو کوڑے لگوائے، پھر اسے سنگسار بھی کروا دیا، پھر انہوں نے فرمایا: ”میں نے اللہ کی کتاب کے حکم کے تحت اسے کوڑے لگوائے ہیں اور اللہ کے رسول کی سنت کے مطابق اسے سنگسار کروایا ہے۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3232]
ترقیم العلمیہ: 3191
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 6812، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 8179، 8180، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 7102، 7103، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 17061، 17062، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3230، 3231، 3232، 3233، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 727، 854، 957»
«قال الزیلعي: وتكلم الناس في سماع الشعبي من علي، نصب الراية لأحاديث الهداية: (3 / 318)»

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3192 ترقیم الرسالہ : -- 3233
نَا نَا أَبُو عُمَرَ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نَا أَبُو الْجَوَّابِ ، نَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ: أُتِيَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، بِشِرَاحَةَ الْهَمْدَانِيَّةِ قَدْ فَجَرَتْ، فَرَدَّهَا حَتَّى وَلَدَتْ فَلَمَّا وَلَدَتْ، قَالَ: ائْتُونِي بِأَقْرَبِ النِّسَاءِ مِنْهَا، فَأَعْطَاهَا وَلَدَهَا ثُمَّ جَلَدَهَا وَرَجَمَهَا، وَقَالَ: جَلَدْتُهَا بِكِتَابِ اللَّهِ، وَرَجَمْتُهَا بِالسُّنَّةِ، ثُمَّ قَالَ: أَيُّمَا امْرَأَةٍ نُعِيَ عَلَيْهَا وَلَدُهَا أَوْ كَانَ اعْتِرَافٌ، فَالإِمَامُ أَوَّلُ مَنْ يَرْجُمُ، ثُمَّ النَّاسُ، فَإِنْ نَعَتَهَا شُهُودٌ، فَالشُّهُودُ أَوَّلُ مَنْ يَرْجُمُ، ثُمَّ النَّاسُ" .
شعبی بیان کرتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سامنے شرحہ ہمدانیہ (نامی عورت) کو لایا گیا، جس نے زنا کا ارتکاب کیا تھا، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اسے واپس بھیج دیا کہ وہ پہلے بچے کو جنم دے، جب اس عورت نے بچے کو جنم دیا، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اس کی سب سے قریبی رشتہ دار خاتون کو میرے پاس لاؤ۔“ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس عورت کا بچہ اس خاتون کو دے دیا، اس عورت کو پہلے کوڑے لگوائے، پھر سنگسار کروایا اور فرمایا: ”میں نے اللہ کی کتاب کے حکم کے تحت اسے کوڑے لگوائے ہیں اور سنت کے حکم کے تحت اسے سنگسار کیا ہے۔“ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جو عورت ناجائز بچے کو جنم دے یا اعتراف کر لے، تو اسے پہلے امام پتھر مارے گا، پھر دوسرے لوگ پتھر ماریں گے، لیکن جس عورت کا جرم گواہوں کے ذریعے ثابت ہو، اسے پہلے گواہ پتھر ماریں گے، پھر دوسرے لوگ پتھر ماریں گے۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3233]
ترقیم العلمیہ: 3192
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 6812، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 8179، 8180، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 7102، 7103، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 17061، 17062، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3230، 3231، 3232، 3233، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 727، 854، 957»
«قال الزیلعي: وتكلم الناس في سماع الشعبي من علي، نصب الراية لأحاديث الهداية: (3 / 318)»

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3193 ترقیم الرسالہ : -- 3234
نَا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ مَنِيعٍ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْخَطَّابِيُّ ، نَا الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ وَجَدْتُمُوهُ يَعْمَلُ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ، فَاقْتُلُوا الْفَاعِلَ، وَالْمَفْعُولَ بِهِ" .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب تم کسی ایسے شخص کو پاؤ، جو قوم لوط کا سا عمل کر رہا ہو، تو یہ عمل کرنے والے اور جس کے ساتھ یہ عمل کیا گیا ہو، دونوں کو قتل کر دو۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3234]
ترقیم العلمیہ: 3193
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 885، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 220، 221، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 8139، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 7300، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4462، 4464، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1455، 1456، 1462، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2561، 2564، 2568، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3234، 3236، 3237، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 2459»
«قال يحيى بن معين: منكر، الكامل في الضعفاء: (6 / 205)»

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3194 ترقیم الرسالہ : -- 3235
نَا نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَغَوِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ،" فِي الْبِكْرِ يُوجَدُ عَلَى اللُّوطِيَّةِ، قَالَ: يُرْجَمُ" .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ایسے کنوارے شخص کے بارے میں، جو قوم لوط کا سا عمل کرتے ہوئے پکڑا جائے، یہ فرماتے ہیں: ”اسے سنگسار کیا جائے گا۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3235]
ترقیم العلمیہ: 3194
تخریج الحدیث: «أخرجه النسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 7298، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4463، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 17120، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3235، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 13491، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 28926»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں