سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
1. كِتَابُ الْحُدُودِ وَالدِّيَاتِ وَغَيْرِهِ
حدود اور دیات وغیرہ کے بارے میں روایات
ترقیم العلمیہ : 3195 ترقیم الرسالہ : -- 3236
نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَيْرُوزَ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، نَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ: يَا مُخَنَّثُ، فَاجْلِدُوهُ عِشْرِينَ سَوْطًا، وَإِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ: يَا يَهُودِيُّ، فَاجْلِدُوهُ عِشْرِينَ، وَمَنْ وَقَعَ عَلَى ذَاتِ مَحْرَمٍ فَاقْتُلُوهُ، وَمَنْ وَقَعَ عَلَى بَهِيمَةٍ فَاقْتُلُوهُ وَاقْتُلُوا الْبَهِيمَةَ" .
سید شهسیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب کوئی شخص کسی دوسرے شخص کو یہ کہے، ’اے ہیجڑے‘، تو (کہنے والے شخص کو) بیس لاٹھیاں مارو، جب کوئی شخص کسی دوسرے شخص کو یہ کہے، ’اے یہودی‘، (تو کہنے والے شخص کو) بیس لاٹھیاں مارو، اور جو شخص کسی محرم عورت کے ساتھ صحبت کر لے، اسے قتل کر دو، جو شخص کسی جانور کے ساتھ بدفعلی کر لے، اس شخص کو قتل کر دو، اور اس جانور کو بھی مار دو۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3236]
ترقیم العلمیہ: 3195
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 885، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 220، 221، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 8139، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 7300، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4462، 4464، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1455، 1456، 1462، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2561، 2564، 2568، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3234، 3236، 3237، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 2459»
«قال يحيى بن معين: منكر، الكامل في الضعفاء: (6 / 205)»
«قال يحيى بن معين: منكر، الكامل في الضعفاء: (6 / 205)»
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
ترقیم العلمیہ : 3196 ترقیم الرسالہ : -- 3237
نَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْخَطَّابِيُّ ، نَا الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ وَقَعَ عَلَى بَهِيمَةٍ فَاقْتُلُوهُ وَاقْتُلُوا الْبَهِيمَةَ مَعَهُ، فَقُلْنَا لابْنِ عَبَّاسٍ: مَا شَأْنُ الْبَهِيمَةِ؟، قَالَ: مَا سَمِعْتُ عَنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا، وَلَكِنْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَرِهَ أَنْ يُؤْكَلَ مِنْ لَحْمِهَا شَيْءٌ، أَوْ يُنْتَفَعُ بِهَا، وَقَدْ عُمِلَ بِهَا ذَلِكَ الْعَمَلُ" .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جو شخص کسی جانور کے ساتھ بدفعلی کرے، اسے قتل کر دو اور اس کے ساتھ اس جانور کو بھی مار دو۔“ راوی کہتے ہیں: ہم نے سیدنا ابن عباس سے کہا: ”جانور کا کیا قصور ہے؟“ تو انہوں نے فرمایا: ”میں نے یہ الفاظ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تو نہیں سنے، تاہم میرا خیال ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کو ناپسند کیا ہے کہ جس جانور کے ساتھ یہ عمل کیا گیا ہو، اس کا گوشت کھایا جائے یا اس سے کوئی نفع حاصل کیا جائے۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3237]
ترقیم العلمیہ: 3196
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 885، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 220، 221، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 8139، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 7300، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4462، 4464، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1455، 1456، 1462، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2561، 2564، 2568، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3234، 3236، 3237، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 2459»
«قال يحيى بن معين: منكر، الكامل في الضعفاء: (6 / 205)»
«قال يحيى بن معين: منكر، الكامل في الضعفاء: (6 / 205)»
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
ترقیم العلمیہ : 3197 ترقیم الرسالہ : -- 3238
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْهَيْثَمِ بْنِ خَالِدٍ الطَّيِّبِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أنا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ جُهَيْنَةَ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاعْتَرَفَتْ بِالزِّنَا، فَقَالَتْ:" إِنِّي حُبْلَى، فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِيَّهَا، فَقَالَ: أَحْسِنْ إِلَيْهَا، فَإِذَا وَضَعَتْ فَأْتِنِي بِهَا، فَفَعَلَ، فَلَمَّا وَضَعَتْ جَاءَ بِهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: اذْهَبِي فَأَرْضِعِيهِ، فَفَعَلَتْ، ثُمَّ جَاءَتْ فَأَمَرَ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشُكَّتْ عَلَيْهَا ثِيَابُهَا، ثُمَّ أَمَرَ بِرَجْمِهَا فَصَلَّى عَلَيْهَا، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَجَمْتَهَا ثُمَّ تُصَلِّي عَلَيْهَا؟، فَقَالَ: لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ قُسِمَتْ بَيْنَ سَبْعِينَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَوَسِعَتْهُمْ، هَلْ وَجَدْتَ أَفْضَلَ مِنْ أَنْ جَادَتْ بِنَفْسِهَا" ،.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جہینہ قبیلے کی ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے زنا کا اعتراف کیا، اس نے بتایا: ”میں حاملہ ہوں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سرپرست کو بلایا اور فرمایا: ”اس کا اچھی طرح خیال رکھنا، جب یہ بچے کو جنم دے، تو اسے میرے پاس لے آنا۔“ اس شخص نے ایسا ہی کیا، جب اس عورت نے بچے کو جنم دیا، وہ اس عورت کو لے کر نبی کی خدمت میں حاضر ہوا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس عورت) سے فرمایا: ”تم جاؤ اور بچے کو دودھ پلاؤ۔“ اس عورت نے ایسا ہی کیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت اس کے جسم پر کپڑوں کو اچھی طرح باندھ دیا گیا، پھر آپ کے حکم کے تحت اسے سنگسار کر دیا گیا، آپ نے اس کی نماز جنازہ ادا کی، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! آپ نے پہلے اسے سنگسار کیا، پھر اس کی نماز جنازہ ادا کی؟“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس عورت نے ایسی توبہ کی ہے، اگر وہ اہل مدینہ میں ستر افراد کے درمیان تقسیم کی جائے، تو ان سب کے لیے کافی ہو گی، کیا تمہیں اس سے زیادہ فضیلت والا شخص کوئی مل سکتا ہے کہ اس نے اپنی جان قربان کر دی؟“ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3238]
ترقیم العلمیہ: 3197
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1696، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4403، 4441، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 1959، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 2095، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4440، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1435، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2370، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2555،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3160، 3161، 3162، 3238، 3239، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 20177»
«قال ابن عبدالبر: أحسن إسناد لهذا الحديث حديث بريدة وحديث عمران، التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد: (24 / 126)»
«قال ابن عبدالبر: أحسن إسناد لهذا الحديث حديث بريدة وحديث عمران، التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد: (24 / 126)»
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
ترقیم العلمیہ : 3198 ترقیم الرسالہ : -- 3239
نَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ، نَا مَالِكُ بْنُ يَحْيَى ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، نَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ. قَالَ: فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: تُصَلِّي عَلَيْهَا وَقَدْ زَنَتْ؟.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے حوالے سے اسی کی مانند نقل کرتے ہیں: تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے آپ کی خدمت میں عرض کی: ”کیا آپ اس کی نماز جنازہ ادا کریں گے، حالانکہ اس نے زنا کا ارتکاب کیا ہے؟“ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3239]
ترقیم العلمیہ: 3198
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1696، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4403، 4441، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 1959، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 2095، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4440، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1435، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2370، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2555،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3160، 3161، 3162، 3238، 3239، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 20177»
«قال ابن عبدالبر: أحسن إسناد لهذا الحديث حديث بريدة وحديث عمران، التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد: (24 / 126)»
«قال ابن عبدالبر: أحسن إسناد لهذا الحديث حديث بريدة وحديث عمران، التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد: (24 / 126)»
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
ترقیم العلمیہ : 3199 ترقیم الرسالہ : -- 3240
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْهَيْثَمِ بْنِ خَالِدٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أنا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَجُلا مِنْ أَسْلَمَ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاعْتَرَفَ بِالزِّنَا فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ اعْتَرَفَ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، حَتَّى شَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَبِكَ جُنُونٌ؟، قَالَ: لا، قَالَ: أَحْصَنْتَ؟، قَالَ: نَعَمْ، فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرُجِمَ بِالْمُصَلَّى، فَلَمَّا أَذْلَقَتْهُ الْحِجَارَةُ فَرَّ، فَأُدْرِكَ فَرُجِمَ حَتَّى مَاتَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرًا، وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: اسلم قبیلے کا ایک فرد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے زنا کا اعتراف کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ پھیر لیا، اس نے پھر اعتراف کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اس سے اعراض کیا، یہاں تک کہ اس نے چار مرتبہ اپنے بارے میں یہ گواہی دی (کہ وہ زنا کر چکا ہے)، تو نبی نے فرمایا: ”کیا تم مجنون ہو؟“ اس نے عرض کی: ”جی نہیں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تم شادی شدہ ہو؟“ اس نے عرض کی: ”جی ہاں۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت اسے عیدگاہ میں سنگسار کر دیا گیا، جب اسے پتھر لگے، وہ بھاگا، لیکن لوگ اس تک پہنچ گئے اور اسے سنگسار کر دیا گیا، یہاں تک کہ وہ مر گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں اچھے الفاظ ذکر کیے، تاہم آپ نے اس کی نماز جنازہ ادا نہیں کی۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3240]
ترقیم العلمیہ: 3199
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 5270، 5272، 6814، 6820، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1691،وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 3094، 4440، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 1958، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 2094، 7136، 7137، 7138، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4420، 4430، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1429، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2361، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3240، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 14686»
ترقیم العلمیہ : 3200 ترقیم الرسالہ : -- 3241
نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زَيْدٍ الْحِنَّائِيُّ ، نَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَائِذٍ ، نَا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ ، نَا الْعَلاءُ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَضَى فِي الْعَيْنِ الْعَوْرَاءِ السَّادَّةِ لِمَكَانِهَا، إِذَا طُمِسَتْ، بِثُلُثِ دِيَتِهَا، وَفِي الْيَدِ الشَّلاءِ، إِذَا قُطِعَتْ بِثُلُثِ، دِيَتِهَا" .
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نابینا شخص کی آنکھ کو اس کی مخصوص جگہ سے نکال دینے کی دیت (جان کی دیت) کا تہائی حصہ، جب کہ شل (مفلوج) ہاتھ والے شخص کے ہاتھ کاٹے جانے کی دیت (جان کی دیت) کا تہائی حصہ مقرر کیا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3241]
ترقیم العلمیہ: 3200
تخریج الحدیث: «أخرجه النسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4844، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 7015، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4567، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3241»
ترقیم العلمیہ : 3201 ترقیم الرسالہ : -- 3242
نَا عَبْدُ الْبَاقِي بْنُ قَانِعِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ الْفَضْلِ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو مُوسَى الْهَرَوِيُّ ، نَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ ، نَا عُمَرُ بْنُ عَامِرٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ:" جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الدِّيَةَ مِائَةً مِنَ الإِبِلِ، قَالَ: فَقُوِّمَ كُلُّ بَعِيرٍ بِثَمَانِينَ، وَكَانَتِ الدِّيَةُ ثَمَانِيَةَ آلافٍ، وَجَعَلَ دِيَةَ أَهْلِ الْكِتَابِ النِّصْفَ مِنْ دِيَةِ الْمُسْلِمِينَ، فَكَانَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَهْدِ أَبِي بَكْرٍ، فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ غَلَتِ الإِبِلُ فَقَوَّمَهَا عِشْرِينَ وَمِائَةً، فَجَعَلَ الدِّيَةَ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا، وَتَرَكَ دِيَةَ أَهْلِ الْكِتَابِ كَمَا هِيَ، وَجَعَلَ دِيَةَ الْمَجُوسِيِّ ثَمَانَمِائَةٍ" .
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سو اونٹوں (کی ادائیگی کو جان کی) دیت مقرر کیا ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: آپ نے ہر اونٹ کی قیمت اسی درہم مقرر کی، تو دیت کی مجموعی رقم آٹھ ہزار درہم ہوئی، جب کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل کتاب کی دیت، مسلمان کی دیت کا نصف مقرر کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں یہی رقم رہی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں اونٹ مہنگے ہو گئے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی قیمت ایک سو بیس درہم (فی اونٹ) مقرر کی، تو دیت کی رقم بارہ ہزار درہم ہو گئی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اہل کتاب کی وہی دیت رہنے دی، جو پہلے تھی، انہوں نے مجوسی کی دیت بھی آٹھ سو درہم مقرر کر دی۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3242]
ترقیم العلمیہ: 3201
تخریج الحدیث: «أخرجه النسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4805، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 6976، 6981، 6982، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4541، 4542، 4564، 4583، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1413 م، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2630، 2644،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3242، 3359، 3360، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 6774»
ترقیم العلمیہ : 3202 ترقیم الرسالہ : -- 3243
نَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَيْرٍ ، نَا أَبُو أَحْمَدَ ، نَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ، نَا أَبُو كُرْزٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ نَافِعًا ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، ذَكَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنَّهُ وَدَى ذِمِّيًّا دِيَةَ مُسْلِمٍ" ، أَبُو كُرْزٍ هَذَا مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ، وَلَمْ يَرْوِهِ عَنْ نَافِعٍ، غَيْرُهُ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل فرماتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ذمی کو مسلمان کی دیت جتنی دیت ادا کروائی تھی، اس روایت کا راوی ابوکرز متروک الحدیث ہے، نافع کے حوالے سے اس روایت کو صرف اسی نے نقل کیا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3243]
ترقیم العلمیہ: 3202
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 16450، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3243، 3287، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 791»
«قال الدارقطني: أبو كرز هذا متروك الحديث ولم يروه عن نافع غيره، سنن الدارقطني: (4 / 147) برقم: (3243)»
«قال الدارقطني: أبو كرز هذا متروك الحديث ولم يروه عن نافع غيره، سنن الدارقطني: (4 / 147) برقم: (3243)»
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
ترقیم العلمیہ : 3203 ترقیم الرسالہ : -- 3244
نَا نَا الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ، نَا زَحْمَوَيْهِ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، نَا ابْنُ شِهَابٍ ،" أَنَّ أَبَا بَكْرٍ ، وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، كَانَا يَجْعَلانِ دِيَةَ الْيَهُودِيِّ وَالنَّصْرَانِيِّ إِذَا كَانَا مُعَاهَدَيْنِ دِيَةَ الْحُرِّ الْمُسْلِمِ، وَكَانَ عُثْمَانُ، وَمُعَاوِيَةُ لا يُقِيدَانِ الْمُشْرِكَ مِنَ الْمُسْلِمِ" .
ابن شہاب بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ دونوں حضرات نے یہودی عیسائی شخص کی دیت آزاد مسلمان شخص کی دیت جتنی مقرر کی، بشرطیکہ وہ شخص معاہد (یعنی ذمی) ہو، جب کہ سیدنا عثمان غنی اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہما مشرک سے دیت نہیں دلواتے تھے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3244]
ترقیم العلمیہ: 3203
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 16034، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3244»
ترقیم العلمیہ : 3204 ترقیم الرسالہ : -- 3245
نَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ الْخَيَّاطُ الْمَكِّيُّ ، نَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَضَى بِاثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا فِي الدِّيَةِ" ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ: وَإِنَّمَا قَالَ لَنَا فِيهِ: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَرَّةً وَاحِدَةً، وَأَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ كَانَ يَقُولُ: عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیت میں بارہ ہزار درہم کی ادائیگی کا فیصلہ دیا تھا۔ محمد بن میمون نامی راوی بیان کرتے ہیں: ہمارے استاد نے اسے ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے ہمارے سامنے بیان کیا، تاہم اکثر مرتبہ انہوں نے اس روایت کو عکرمہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے (مرسل) روایت کے طور پر نقل کیا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3245]
ترقیم العلمیہ: 3204
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه النسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4807، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 6978، 6979، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4546، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1388، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2408، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2629، 2632، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3245، 3246»
«قال النسائي: هذا الحديث خطأ والصواب عن عكرمة مرسل، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (8 / 434)»
«قال النسائي: هذا الحديث خطأ والصواب عن عكرمة مرسل، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (8 / 434)»
الحكم على الحديث:
مرسل