سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
1. كِتَابُ الْحُدُودِ وَالدِّيَاتِ وَغَيْرِهِ
حدود اور دیات وغیرہ کے بارے میں روایات
ترقیم العلمیہ : 3147 ترقیم الرسالہ : -- 3186
نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، نَا عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ ، نَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ سَعْدَوَيْهِ ، عَنْ عَبَّادٍ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: خَرَجَ مُحَيِّصَةُ، وَحُوَيِّصَةُ ابْنَا مَسْعُودٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلٍ، إِلَى خَيْبَرَ يَمْتَارُونَ فَتَفَرَّقُوا لِحَاجَتِهِمْ، فَمَرُّوا بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَهْلٍ قَتِيلا، فَرَجَعُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخْبَرُوهُ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَحْلِفُونَ خَمْسِينَ يَمِينًا قَسَامَةً تَسْتَحِقُّونَ بِهِ قَاتِلَكُمْ؟، فَكَرِهُوا، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَحْلِفُ عَلَى الْغَيْبِ، نَحْلِفُ عَلَى أَمْرٍ غِبْنَا عَنْهُ؟، قَالَ: فَتَحْلِفُ الْيَهُودُ خَمْسِينَ يَمِينًا فَيَبْرَءُونَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَقْبَلُ أَيْمَانَ قَوْمٍ كُفَّارٍ؟، فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَالٍ مِنْ مَالِ الصَّدَقَةِ، فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ" .
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: سیدنا محیصہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، سیدنا حویصہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، سیدنا عبدالرحمن بن سہل رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ خیبر گئے، وہاں یہ حضرات اپنے کام کے سلسلے میں ایک دوسرے سے جدا ہو گئے، پھر انہیں سیدنا عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ مقتول ملے، یہ حضرات واپس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم پچاس افراد قسامت کے طور پر قسم اٹھا کر اپنے قاتل (کو سزا) دے سکتے ہو۔“ تو ان حضرات کو یہ گوارا نہیں ہوا، انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! ہم غیب کے بارے میں کیسے قسم اٹھا سکتے ہیں، ہم ایک ایسے معاملے کے بارے میں قسم اٹھائیں، جس میں ہم موجود نہیں تھے؟“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر یہودیوں کے پچاس افراد قسم اٹھا کر بری الذمہ ہو جائیں گے۔“ انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! کیا ہم کفار کی قسموں کو قبول کر لیں؟“ (راوی بیان کرتے ہیں:) پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں زکوٰة کا مال آیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود (اس مقتول) کی دیت ادا کی۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3186]
ترقیم العلمیہ: 3147
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2678، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3186، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 28386، 37594»
ترقیم العلمیہ : 3148 ترقیم الرسالہ : -- 3187
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نَا أَبُو نُعَيْمٍ ، نَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّائِيُّ ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّ رَجُلا مِنَ الأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ سَهْلُ بْنُ أَبِي حَثْمَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ نَفَرًا مِنْ قَوْمِهِ انْطَلَقُوا إِلَى خَيْبَرَ فَتَفَرَّقُوا فِيهَا، فَوَجَدُوا أَحَدَهُمْ قَتِيلا، فَقَالُوا لِلَّذِينَ وَجَدُوهُ عِنْدَهُمْ قَتَلْتُمْ صَاحِبَنَا؟، فَقَالُوا: مَا قَتَلْنَا وَلا عَلِمْنَا قَاتِلا، فَانْطَلَقُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، انْطَلَقْنَا إِلَى خَيْبَرَ فَوَجَدْنَا أَحَدَنَا قَتِيلا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْكُبْرَ الْكُبْرَ، فَقَالَ لَهُمْ: تَأْتُونَ بِالْبَيِّنَةِ عَلَى مَنْ قَتَلَ، فَقَالُوا: مَا لَنَا بَيِّنَةٌ، قَالَ: فَيَحْلِفُونَ لَكُمْ، قَالُوا: لا نَرْضَى أَيْمَانَ الْيَهُودِ، وَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُبْطِلَ دَمَهُ، فَوَدَاهُ مِائَةً مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ" ،.
بشیر بن یسار بیان کرتے ہیں: انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صحابی، جن کا نام سیدنا سہل بن ابوحثمہ رضی اللہ عنہ تھا، انہوں نے یہ بات بتائی، وہ اپنے قبیلے کے کچھ افراد کے ہمراہ خیبر گئے، وہاں وہ لوگ ایک دوسرے سے جدا ہو گئے، پھر انہوں نے اپنے ایک فرد کو مقتول پایا، تو جن لوگوں کے پاس انہوں نے مقتول کو پایا تھا، ان لوگوں سے انہوں نے کہا: ”تم نے ہمارے ساتھی کو قتل کیوں کیا ہے؟“ تو وہ لوگ بولے: ”ہم نے قتل نہیں کیا اور نہ ہی ہمیں قاتل کے بارے میں علم ہے۔“ پھر یہ حضرات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کی: ”اے اللہ کے نبی! ہم خیبر گئے، وہاں ہم نے اپنے ایک فرد کو مقتول پایا۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”پہلے بڑے کو موقع دو۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم اس بارے میں ثبوت پیش کرو کہ کس نے اسے قتل کیا ہے؟“ انہوں نے عرض کی: ”ہمارے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر (وہ یہودی) قسم اٹھا لیں (اور بری الذمہ ہو جائیں گے)۔“ انہوں نے عرض کی: ”ہم یہودیوں کے قسم اٹھانے پر راضی نہیں ہوں گے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بھی اچھا نہیں لگا کہ مقتول کا خون رائیگاں جائے، اس لیے آپ نے خود زکوٰة کے اونٹوں میں سے ایک سو اونٹ دیت کے طور پر ادا کیے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3187]
ترقیم العلمیہ: 3148
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2702، 3173، 6142، 6898، 7192، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1669، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1544، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2384، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 6009، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4716، 4717، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1638، 4520، 4521، 4523، 4524، 4525، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1422، 1422 م، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2398، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2677، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3183، 3184، 3185، 3187، 3188، 3189، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 16339»
ترقیم العلمیہ : 3149 ترقیم الرسالہ : -- 3188
نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْحَمَّالُ ، نَا أَبُو نُعَيْمٍ ، نَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3188]
ترقیم العلمیہ: 3149
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2702، 3173، 6142، 6898، 7192، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1669، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1544، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2384، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 6009، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4716، 4717، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1638، 4520، 4521، 4523، 4524، 4525، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1422، 1422 م، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2398، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2677، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3183، 3184، 3185، 3187، 3188، 3189، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 16339»
ترقیم العلمیہ : 3150 ترقیم الرسالہ : -- 3189
حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْمَارَسْتَانِيُّ ، وَالْقَاضِي الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالا: نَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الأَسَدِيُّ ، نَا أَبِي ، نَا قَيْسٌ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، قَالَ:" خَرَجَ قَوْمٌ مِنَ الأَنْصَارِ إِلَى خَيْبَرَ فَقُتِلَ مِنْهُمْ رَجُلٌ، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: بَيِّنَتُكُمْ، قَالُوا: مَا لَنَا بَيِّنَةٌ، قَالَ: فَتَنْفُلُكُمْ أَيْمَانُهُمْ، فَقَالُوا: إِذًا تَقْتُلُنَا الْيَهُودُ، قَالَ: فَأَيْمَانُكُمْ أَنْتُمْ، قَالُوا: لَمْ نَشْهَدْ، فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَالٍ أَتَاهُ" .
سیدنا سہل بن ابوحثمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انصار کے کچھ افراد خیبر گئے، وہاں ان میں سے ایک شخص قتل ہو گیا، یہ معاملہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش آ گیا، تو آپ نے فرمایا: ”تمہارے ثبوت (کہاں ہیں)؟“ انہوں نے عرض کی: ”ہمارے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو ان (یہودیوں کا) قسم اٹھانا (معاملہ ختم کر دے گا)۔“ انہوں نے عرض کی: ”پھر تو یہودی (ایک ایک کر کے) ہمیں قتل کر دیں گے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تم قسم اٹھا لو۔“ انہوں نے عرض کی: ”ہم وہاں موجود نہیں تھے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جو مال آیا تھا، آپ نے اس میں سے اس (مقتول) کی دیت ادا کی۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3189]
ترقیم العلمیہ: 3150
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2702، 3173، 6142، 6898، 7192، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1669، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1544، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2384، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 6009، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4716، 4717، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1638، 4520، 4521، 4523، 4524، 4525، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1422، 1422 م، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2398، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2677، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3183، 3184، 3185، 3187، 3188، 3189، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 16339»
ترقیم العلمیہ : 3151 ترقیم الرسالہ : -- 3190
نَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ ، وَأَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ، قَالُوا: نَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، نَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْبَيِّنَةُ عَلَى مَنِ ادَّعَى، وَالْيَمِينُ عَلَى مَنْ أَنْكَرَ، إِلا فِي الْقَسَامَةِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”مدعی پر ثبوت پیش کرنا لازم ہو گا اور انکار کرنے والے پر قسم اٹھانا لازم ہو گا، البتہ قسامت کا حکم مختلف ہے۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3190]
ترقیم العلمیہ: 3151
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2702، 3173، 6142، 6898، 7192، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1669، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1544، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2384، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 6009، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4716، 4717، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1638، 4520، 4521، 4523، 4524، 4525، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1422، 1422 م، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2398، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2677، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3183، 3184، 3185، 3187، 3188، 3189، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 16339»
ترقیم العلمیہ : 3152 ترقیم الرسالہ : -- 3191
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، وَأَبُو عَلِيٍّ الصَّفَّارُ ، قَالا: نَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا مُطَرِّفٌ . ح وَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعُمَرِيُّ نَا الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الضَّحَّاكِ ، وَمُطَرِّفُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، ح وَنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَتِيقُ ، نَا مُطَرِّفٌ ، قَالا: نَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْبَيِّنَةُ عَلَى مَنِ ادَّعَى، وَالْيَمِينُ عَلَى مَنْ أَنْكَرَ، إِلا فِي الْقَسَامَةِ" ،.
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کے حوالے سے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”مدعی پر ثبوت پیش کرنا لازم ہو گا اور انکار کرنے والے پر قسم اٹھانا لازم ہو گا، البتہ قسامت کا حکم مختلف ہے۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3191]
ترقیم العلمیہ: 3152
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 16542، 16543، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3191، 3192، 4508»
«قال ابن عبدالبر: إسناده لين، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (4 / 74)»
«قال ابن عبدالبر: إسناده لين، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (4 / 74)»
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
ترقیم العلمیہ : 3153 ترقیم الرسالہ : -- 3192
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ الزَّنْجِيِّ بْنِ خَالِدٍ ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ. خَالَفَهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، وَحَجَّاجٌ، رَوَيَاهُ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلامٍ.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، عبدالرزاق نے اس کے برعکس اسے مرسل روایت کے طور پر نقل کیا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3192]
ترقیم العلمیہ: 3153
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 16542، 16543، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3191، 3192، 4508»
«قال ابن عبدالبر: إسناده لين، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (4 / 74)»
«قال ابن عبدالبر: إسناده لين، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (4 / 74)»
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
ترقیم العلمیہ : 3154 ترقیم الرسالہ : -- 3193
نَا نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ صَالِحٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ بُدَيْلٍ ، نَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَضْرَمِيُّ، نَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، قَالَ: شَهِدْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَأَتَى بِأَخِي بَنِي عِجْلٍ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ قَبِيصَةَ تَنَصَّرَ بَعْدَ إِسْلامِهِ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ :" مَا حُدِّثْتُ عَنْكَ؟، قَالَ: مَا حُدِّثْتَ عَنِّي؟، قَالَ: حُدِّثْتُ عَنْكَ أَنَّكَ تَنَصَّرْتَ، فَقَالَ: أَنَا عَلَى دِينِ الْمَسِيحِ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ:" وَأَنَا عَلَى دِينِ الْمَسِيحِ"، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: مَا تَقُولُ فِيهِ؟، فَتَكَلَّمَ بِكَلامٍ خَفِيَ عَلَيَّ، فَقَالَ عَلِيٌّ: طَئُوهُ، فَوُطِئَ حَتَّى مَاتَ، فَقُلْتُ لِلَّذِي يَلِينِي: مَا قَالَ؟، قَالَ: الْمَسِيحُ رَبُّهُ" .
عبدالملک بن عمیر بیان کرتے ہیں: میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا، ان کے پاس بنو عجل کا ایک شخص مستورد بن قبیصہ لایا گیا، جو اسلام چھوڑ کر عیسائی ہو گیا تھا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس سے دریافت کیا: ”تمہارے بارے میں مجھے کیا بتایا گیا ہے؟“ اس نے دریافت کیا: ”آپ کو میرے بارے میں کیا بتایا گیا ہے؟“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”مجھے تمہارے بارے میں یہ بتایا گیا ہے کہ تم عیسائی ہو گئے ہو۔“ اس نے کہا: ”میں سیدنا مسیح علیہ الصلوٰة والسلام کے دین پر قائم ہوں۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: ”میں بھی سیدنا مسیح علیہ الصلوٰة والسلام کے دین پر قائم ہوں۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس سے دریافت کیا: ”تم ان (یعنی سیدنا مسیح علیہ الصلوٰة والسلام) کے بارے میں کیا کہتے ہو؟“ تو اس شخص نے جو جواب دیا، وہ مجھے سمجھ نہیں آیا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے حکم دیا: ”اسے قتل کر دو۔“ اسے قتل کر دیا گیا (راوی کہتے ہیں:) میں نے اپنے ساتھ والے سے پوچھا: ”اس نے کیا کہا تھا؟“ تو اس نے جواب دیا: ”اس نے کہا تھا: سیدنا مسیح علیہ الصلوٰة والسلام اس کے پروردگار ہیں۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3193]
ترقیم العلمیہ: 3154
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 16986، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3193، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 461، 18710»
ترقیم العلمیہ : 3155 ترقیم الرسالہ : -- 3194
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي سَمِينَةَ . ح وَنا عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيٍّ الْقَطَّانُ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ كَرَامَةَ ، قَالا: نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، نَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عُثْمَانَ الشَّحَّامِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، نَا ابْنُ عَبَّاسٍ ،" أَنَّ رَجُلا كَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ لَهُ مِنْهَا ابْنَانِ مثل اللُّؤْلُؤَتَيْنِ، فَكَانَتْ تَشْتُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَنْهَاهَا فَلا تَنْتَهِي، وَيَزْجُرُهَا فَلا تَنْزَجِرُ، فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ لَيْلَةٍ ذَكَرَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَا صَبَرَ أَنْ قَامَ إِلَى مِعْوَلٍ فَوَضَعَهُ، ثُمَّ اتَّكَأَ عَلَيْهَا حَتَّى أَنْفَذَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلا اشْهَدُوا أَنَّ دَمَهَا هَدَرٌ" ، لَفْظُ ابْنِ كَرَامَةَ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک شخص کی ام ولد تھی، جس سے اس شخص کے دو بیٹے تھے، جو دونوں موتیوں کی طرح تھے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کیا کرتی تھی، اس شخص نے اسے منع کیا، لیکن وہ باز نہیں آئی، اس شخص نے اسے جھڑکا، لیکن وہ پھر بھی باز نہ آئی، ایک رات اس عورت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر (گستاخی کے الفاظ کے ساتھ) کیا، تو اس شخص سے صبر نہیں ہوا، اس نے پھاؤڑا لیا اور اس عورت کے پیٹ میں گھونپ دیا (جس سے وہ عورت مر گئی، جب یہ مقدمہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش ہوا)، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گواہ ہو جاؤ، اس عورت کا خون رائیگاں گیا۔“ یہ الفاظ ابن کرامت نامی راوی کے ہیں۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3194]
ترقیم العلمیہ: 3155
تخریج الحدیث: «أخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 177، 178، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 8136، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4075، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 3519، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4361، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3194، 3195، 4503، 4504، 4505، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 11984»
ترقیم العلمیہ : 3156 ترقیم الرسالہ : -- 3195
نَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْعَبْدِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مِرْدَاسٍ ، قَالا: نَا أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ ، نَا عَبَّادُ بْنُ مُوسَى ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَدَنِيُّ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ عُثْمَانَ الشَّحَّامِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، نَا ابْنُ عَبَّاسٍ ، أَنَّ أَعْمَى كَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ تَشْتُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَقَعُ فِيهِ، فَيَنْهَاهَا فَلا تَنْتَهِي، وَيَزْجُرُهَا فَلا تَنْزَجِرُ، فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ لَيْلَةٍ جَعَلَتْ تَقَعُ فِي النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَشْتُمُهُ، فَقَتَلَهَا، فَلَمَّا أَصْبَحَ ذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ الأَعْمَى، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ،" أَنَا صَاحِبُهَا، كَانَتْ تَشْتُمُكَ وَتَقَعُ فِيكَ، فَأَنْهَاهَا فَلا تَنْتَهِي، وَأَزْجُرُهَا فَلا تَنْزَجِرُ، وَلِيَ مِنْهَا ابْنَانِ مثل اللُّؤْلُؤَتَيْنِ، وَكَانَتْ بِي رَفِيقَةً، فَلَمَّا كَانَ الْبَارِحَةُ جَعَلَتْ تَشْتُمُكَ وَتَقَعُ فِيكَ فَقَتَلْتُهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اشْهَدُوا أَنَّ دَمَهَا هَدَرٌ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک نابینا شخص، جس کی ام ولد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کیا کرتی تھی، اس شخص نے اس عورت کو منع کیا، لیکن وہ باز نہیں آئی، اس شخص نے اس عورت کو ڈانٹ ڈپٹ کی، لیکن وہ پھر بھی باز نہ آئی، ایک رات جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخانہ گفتگو کرنے لگی، تو اس شخص نے اس عورت کو قتل کر دیا، صبح اس بات کا تذکرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا گیا، تو وہ نابینا شخص کھڑا ہوا، اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میں اس عورت کا مالک ہوں، وہ آپ کی شان میں گستاخی کیا کرتی تھی، میں نے اسے روکا، لیکن وہ باز نہیں آئی، میں نے اسے ڈانٹ ڈپٹ کی، لیکن وہ پھر بھی باز نہیں آئی، میرے اس عورت سے دو بچے ہیں، جو دونوں موتیوں کی طرح ہیں، وہ میری رفیقہ (محبوبہ) تھی، گزشتہ رات اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی، تو میں نے اسے قتل کر دیا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ گواہ ہو جاؤ، اس عورت کا خون رائیگاں گیا۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3195]
ترقیم العلمیہ: 3156
تخریج الحدیث: «أخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 177، 178، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 8136، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4075، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 3519، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4361، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3194، 3195، 4503، 4504، 4505، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 11984»