🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. كِتَابُ الْحُدُودِ وَالدِّيَاتِ وَغَيْرِهِ
حدود اور دیات وغیرہ کے بارے میں روایات
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3108 ترقیم الرسالہ : -- 3146
قُرِئَ عَلَى قُرِئَ عَلَى ابْنِ صَاعِدٍ ، وَأَنَا أَسْمَعُ، حَدَّثَكُمْ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَخْزُومِيُّ ، نَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، نَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ إِسْنَادِهِ نَحْوَهُ، وَقَالَ: " إِنَّكُمْ يَا مَعْشَرَ خُزَاعَةَ قَدْ قَتَلْتُمْ: هَذَا الْقَتِيلُ مِنْ هُذَيْلٍ، وَأَنَا عَاقِلُهُ، فَمَنْ قُتِلَ بَعْدُ فَأَوْلِيَاءُ الْقَتِيلِ بَيْنَ خِيَرَتَيْنِ، إِنْ أَحَبُّوا قَتَلُوا، وَإِنْ أَحَبُّوا أَخَذُوا الْعَقْلَ" .
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: اے خزاعہ قبیلے کے لوگو! تم لوگوں نے ہذیل قبیلے کے ایک شخص کو قتل کر دیا تھا، میں اس کی دیت ادا کروں گا، اس کے بعد جو شخص قتل ہو گا، تو مقتول کے پسماندگان کو دو میں سے ایک بات کا اختیار ہو گا، اگر وہ پسند کریں، تو (قصاص کے طور پر قاتل کو) قتل کر دیں گے، اور اگر وہ پسند کریں، تو دیت وصول کر لیں۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3146]
ترقیم العلمیہ: 3108
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 104، 1832، 4295، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1354، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 2879، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 3845، 5815، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4504، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 809، 1406، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3145، 3146، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 16635»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3109 ترقیم الرسالہ : -- 3147
نَا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي شُعَيْبٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ فُضَيْلٍ ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ أَبِي الْعَوْجَاءِ ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ أُصِيبَ بِدَمٍ أَوْ خَبْلٍ، وَالْخَبْلُ عَرَجٌ، فَهُوَ بِالْخِيَارِ بَيْنَ إِحْدَى ثَلاثٍ، فَإِنْ أَرَادَ الرَّابِعَةَ فَخُذُوا عَلَى يَدَيْهِ، بَيْنَ أَنْ يُقْتَصَّ، أَوْ يَعْفُوَ، أَوْ يَأْخُذَ الْعَقْلَ، فَإِنْ قَبِلَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ ثُمَّ عَدَا بَعْدَ ذَلِكَ فَلَهُ النَّارُ خَالِدًا فِيهَا مُخَلَّدًا" .
سیدنا ابوشریح خزاعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: جو شخص قتل ہو جائے یا اسے خبل لاحق ہو، (راوی کہتے ہیں) خبل سے مراد عرج (یعنی لنگڑا ہو جانا) ہے، تو اسے تین میں سے ایک بات کا اختیار ہو گا، اگر وہ کوئی چوتھی صورت چاہے، تو اس کے ہاتھ پکڑ لو (وہ تین صورتیں یہ ہیں:) وہ قصاص لے، یا معاف کر دے، یا دیت وصول کر لے، اگر وہ ان میں سے کوئی ایک صورت اختیار کر لے، تو پھر اس کے بعد زیادتی کرے، تو وہ جہنم میں جائے گا، جہاں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہے گا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3147]
ترقیم العلمیہ: 3109
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 836، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4496، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2396، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2623، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 16139، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3147، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 16637»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3110 ترقیم الرسالہ : -- 3148
نَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ رَزِينٍ ، نَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَعْتَى الْخَلْقِ عَلَى اللَّهِ مَنْ قَتَلَ غَيْرَ قَاتِلِهِ، وَمَنْ طَلَبَ بِدَمِ الْجَاهِلِيَّةِ، وَمَنْ بَصَّرَ عَيْنَيْهِ فِي النَّوْمِ مَا لَمْ تُبْصِرْ" .
سیدنا ابوشریح خزاعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کی مخلوق میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ وہ شخص ہے جو کسی کو ناحق قتل کر دے، اور وہ شخص ہے جو زمانہ جاہلیت کے خون (کے بدلے) کا طلب گار ہے، اور وہ شخص ہے جو اپنی آنکھوں کو نیند میں وہ چیز دکھائے جو انہوں نے نہیں دیکھی (یعنی جھوٹا خواب بیان کرے)۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3148]
ترقیم العلمیہ: 3110
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 8117، 8118، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15996، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3148، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 16640، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 498، 499»
«قال ابن عدي: وهذا من حديث الزهري لا أعلم يرويه غير عبد الرحمن بن إسحاق عنه ولعبد الرحمن غير ما ذكرت من الحديث ومنها الحديث عن الزهري وعن غيره من شيوخه وفي حديثه بعض ما ينكر ولا يتابع عليه، الكامل في الضعفاء: (5 / 489)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3111 ترقیم الرسالہ : -- 3149
نَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ إِمْلاءً، نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْجَوَازُ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَدِمَ عَلَيْنَا فِي الْمَوْسِمِ، سَنَةَ أَرْبَعٍ وَتِسْعِينَ وَمِائَةٍ، نَا أَبُو عَمْرٍو الأَوْزَاعِيُّ ، نَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" لَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ قَامَ فِي النَّاسِ خَطِيبًا فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَبَسَ عَنْ مَكَّةَ الْفِيلَ، وَسَلَّطَ عَلَيْهَا رَسُولَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ، وَإِنَّهَا لَمْ تُحَلَّ لأَحَدٍ كَانَ قَبْلِي، وَإِنَّمَا أُحِلَّتْ لِيَ سَاعَةً مِنَ النَّهَارِ، وَإِنَّهَا لا تَحِلُّ لأَحَدٍ بَعْدِي، فَلا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا، وَلا يُخْتَلَى شَجَرُهَا، وَلا تَحِلُّ سَقْطَتُهَا إِلا لِمُنْشِدٍ، وَمَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ، أَوْ بِأَحَدِ النَّظَرَيْنِ" ، الشَّكُّ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ" إِمَّا أَنْ يُودِي، وَإِمَّا أَنْ يَقْتُلَ"، فَقَامَ الْعَبَّاسُ، فَقَالَ: إِلا الإِذْخِرَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنَّا نَجْعَلُهُ فِي بُيُوتِنَا وَقُبُورِنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِلا الإِذْخِرَ"، فَقَامَ أَبُو شَاهٍ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ، قَالَ: اكْتُبُوا لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اكْتُبُوا لأَبِي شَاهٍ". قَالَ الْوَلِيدُ: قُلْتُ لِلأَوْزَاعِيِّ: مَا قَوْلُهُ: اكْتُبُوا لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: هَذِهِ الْخُطْبَةَ الَّتِي سَمِعَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا، تو آپ لوگوں کے درمیان خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے، آپ نے اللہ کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے مکہ میں ہاتھیوں کو داخل نہیں ہونے دیا، لیکن اس نے اپنے رسول اور اہل ایمان کو اس پر تسلط عطا کیا، یہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے بھی حلال نہیں تھا، اور میرے لیے بھی دن کے کسی ایک مخصوص حصے میں حلال قرار دیا گیا، اور میرے بعد یہ کسی کے لیے حلال نہیں ہو گا، یہاں کے شکار کو بھگایا نہیں جائے گا، یہاں کے درخت کو کاٹا نہیں جائے گا، یہاں کی گری ہوئی چیز کو اٹھایا نہیں جائے گا، البتہ اعلان کرنے کے لیے اٹھایا جا سکتا ہے، جس شخص کا کوئی عزیز قتل ہو جائے، اسے دو میں سے ایک بات کا اختیار ہو گا، یا تو اسے دیت ادا کر دی جائے، یا (قصاص کے طور پر قاتل کو) قتل کر دیا جائے۔ تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! اذخر (نامی گھاس کاٹنے کی اجازت دیجیے)، کیونکہ ہم اسے اپنے گھروں اور قبروں میں استعمال کرتے ہیں۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اذخر (کاٹنے کی اجازت ہے)۔ ابوشاہ نامی ایک صاحب جو یمن سے تعلق رکھتے تھے، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! یہ مجھے لکھوا دیں۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوشاہ کو لکھ کر دے دو۔ ولید نامی راوی بیان کرتے ہیں: میں نے امام اوزاعی سے دریافت کیا: (سیدنا ابوشاہ کے) اس جملے سے مراد کیا ہے؟ یہ مجھے لکھوا دیں! تو انہوں نے فرمایا: یعنی وہ خطبہ جو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنا تھا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3149]
ترقیم العلمیہ: 3111
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 112، 2434، 6880، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1355،وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 3715، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4789، 4790، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5824، 6961، 6962، 6963، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2017، 3649، 4505، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1405، 2667، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2624،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3149، 3150، 3151، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7362»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3112 ترقیم الرسالہ : -- 3150
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ امام اوزاعی سے منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3150]
ترقیم العلمیہ: 3112
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 112، 2434، 6880، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1355،وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 3715، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4789، 4790، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5824، 6961، 6962، 6963، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2017، 3649، 4505، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1405، 2667، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2624،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3149، 3150، 3151، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7362»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3113 ترقیم الرسالہ : -- 3151
نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، نَا أَبُو زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ ، نَا أَبُو نُعَيْمٍ ، نَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ خُزَاعَةَ قَتَلُوا رَجُلا مِنْ بَنِي لَيْثٍ عَامَ فَتْحِ مَكَّةَ بِقَتِيلٍ مِنْهُمْ قَتَلُوهُ، فَأُخْبِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ فَرَكِبَ رَاحِلَتَهُ فَخَطَبَ، فَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى حَبَسَ عَنْ مَكَّةَ الْفِيلَ وَسَلَّطَ عَلَيْهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُؤْمِنِينَ، أَلا وَإِنَّهَا لَمْ تَحِلُّ لأَحَدٍ قَبْلِي، وَلا تَحِلُّ لأَحَدٍ بَعْدِي، أَلا وَإِنَّهَا أُحِلَّتْ لِيَ سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ، أَلا وَإِنَّهَا سَاعَتِي هَذِهِ حَرَامٌ لا يُخْتَلَى خَلاهَا، وَلا يُعْضَدُ شَجَرُهَا، وَلا تُلْتَقَطُ سَاقِطَتُهَا إِلا لِمُنْشِدٍ، فَمَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ، إِمَّا أَنْ يَقْتُلَ، وَإِمَّا أَنْ يُفَادِيَ أَهْلَ الْقَتِيلِ"، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ، فَقَالَ: اكْتُبُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اكْتُبُوا لأَبِي فُلانٍ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ: إِلا الإِذْخِرَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَإِنَّا نَجْعَلُهُ فِي بُيُوتِنَا وَقُبُورِنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِلا الإِذْخِرَ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: خزاعہ قبیلے کے لوگوں نے فتح مکہ کے سال اپنے ایک مقتول کے بدلے میں بنو لیث کے ایک فرد کو قتل کر دیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا گیا، تو آپ اپنی سواری پر سوار ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ہاتھیوں کو مکہ میں داخل نہیں ہونے دیا، لیکن اس نے اپنے رسول اور اہل ایمان کو اس پر تسلط عطا کیا، یاد رکھنا! یہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں تھا، اور میرے بعد کسی کے لیے حلال نہیں ہو گا، یاد رکھنا! یہ میرے لیے بھی دن کے ایک مخصوص حصے تک حلال ہوا، اب اس وقت یہ حرم ہے، یہاں کے کانٹے کو توڑا نہیں جا سکتا، یہاں کے درخت کو کاٹا نہیں جا سکتا، یہاں کی گری ہوئی چیز کو اٹھایا نہیں جا سکتا، البتہ اعلان کرنے کے لیے اٹھایا جا سکتا ہے، اگر کسی شخص کا کوئی عزیز قتل ہو جائے، تو اسے دو باتوں میں سے ایک کا اختیار ہو گا، یا تو (قاتل کو قصاص میں) قتل کر دیا جائے، یا مقتول کے لواحقین کو دیت ادا کر دی جائے۔ (راوی بیان کرتے ہیں:) یمن سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب آئے اور انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! یہ مجھے لکھوا دیں۔ تو نبی نے فرمایا: ابوفلان کو لکھ کر دے دو۔ قریش سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ اذخر (کاٹنے کی اجازت دیں)، کیونکہ ہم اسے اپنے گھروں اور قبروں میں استعمال کرتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اذخر (کاٹنے کی اجازت ہے)۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3151]
ترقیم العلمیہ: 3113
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 112، 2434، 6880، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1355،وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 3715، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4789، 4790، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5824، 6961، 6962، 6963، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2017، 3649، 4505، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1405، 2667، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2624،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3149، 3150، 3151، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7362»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3114 ترقیم الرسالہ : -- 3152
نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ، نَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، نَا أَبِي ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُسْلِمٍ الأَجْرَدِ ، عَنْ مَالِكٍ الأَشْتَرِ ، قَالَ: أَتَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ،" إِنَّا إِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدَكِ سَمِعْنَا أَشْيَاءَ فَهَلْ عَهِدَ إِلَيْكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا سِوَى الْقُرْآنِ؟، قَالَ: لا، إِلا مَا فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ فِي عِلاقَةِ سَيْفِي، فَدَعَا الْجَارِيَةَ فَجَاءَتْ بِهَا، فَقَالَ: إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ، وَإِنِّي أُحَرِّمُ الْمَدِينَةَ فَهِيَ حَرَامٌ مَا بَيْنَ حَرَّتَيْهَا، أَنْ لا يُعْضَدَ شَوْكُهَا، وَلا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا، فَمَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، وَالْمُؤْمِنُونَ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ، تَتَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ، وَيَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ، لا يُقْتَلُ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ، وَلا ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِ" ،.
مالک اشتر بیان کرتے ہیں: میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے کہا: اے امیر المؤمنین! جب ہم آپ کے پاس سے اٹھ کر گئے، تو ہم نے کچھ باتیں سنی ہیں، کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کے علاوہ کوئی اور چیز بطور خاص آپ کو دی؟ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نہیں، صرف یہ صحیفہ ہے جو میری تلوار کے دستے میں ہے۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کنیز کو بلایا، تو وہ اس صحیفے کو لے کر آئی (اس میں یہ تحریر تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے): بیشک سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا تھا، اور میں مدینہ کو حرم قرار دیتا ہوں، دونوں طرف کی سنگلاخ زمین کے درمیان موجود (مدینہ منورہ) حرم ہے، یہاں کے کانٹے کو توڑا نہیں جا سکتا، یہاں کے شکار کو بھگایا نہیں جا سکتا، جو شخص یہاں کوئی بدعت ایجاد کرے یا کسی بدعتی کو پناہ دے، تو اس پر اللہ، اس کے فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو گی، دوسروں کے مقابلے میں تمام اہل ایمان ایک ہاتھ کی مانند ہیں، ان کے خون یکساں اہمیت کے حامل ہیں، ان کے کسی عام فرد کی دی ہوئی پناہ کو تسلیم کیا جائے گا، اور کسی مسلمان کو کسی کافر کے بدلے میں قتل نہیں کیا جا سکتا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3152]
ترقیم العلمیہ: 3114
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 111، 1870، 3047، 3172، 3179، 6755، 7300، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1370، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 3716، 3717، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2639، 7347، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4759، 4760، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2034، 4530، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1412، 2127، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2658، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3152، 3153، 3254، 3257، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 609»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3114/2 ترقیم الرسالہ : -- 3153
قَالَ حَجَّاجٌ: وَحَدَّثَنِي عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ عَلِيٍّ مِثْلَهُ، إِلا أَنْ يَخْتَلِفَ مَنْطِقُهَا فِي الشَّيْءِ فَأَمَّا الْمَعْنَى فَوَاحِدٌ.
ابوحجیفہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے اسی کی مانند نقل کیا ہے، اس کے الفاظ کچھ مختلف ہیں، تاہم مفہوم ایک ہی ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3153]
ترقیم العلمیہ: 3114/2
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 111، 1870، 3047، 3172، 3179، 6755، 7300، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1370، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 3716، 3717، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2639، 7347، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4759، 4760، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2034، 4530، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1412، 2127، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2658، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3152، 3153، 3254، 3257، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 609»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3115 ترقیم الرسالہ : -- 3154
نَا نَا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَحَامِلِيُّ ، نَا زَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الصَّائِغُ ، نَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، نَا مُوسَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ اللَّخْمِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ: إِنَّ أَعْمَى كَانَ يَنْشُدُ فِي الْمَوْسِمِ فِي خِلافَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَهُوَ يَقُولُ: أَيُّهَا النَّاسُ لَقِيتُ مُنْكَرَا هَلْ يَعْقِلُ الأَعْمَى الصَّحِيحَ الْمُبْصِرَا خَرَّا مَعًا كِلاهُمَا تَكَسَّرَا وَذَلِكَ أَنَّ الأَعْمَى كَانَ يَقُودُهُ بَصِيرٌ فَوَقَعَا فِي بِئْرٍ، فَوَقَعَ الأَعْمَى عَلَى الْبَصِيرِ فَمَاتَ الْبَصِيرُ، فَقَضَى عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِعَقْلِ الْبَصِيرِ عَلَى الأَعْمَى" .
موسیٰ بن علی بیان کرتے ہیں: میں نے اپنے والد کو سنا ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں حج کے موقع پر ایک شخص بلند آواز میں (یہ اشعار پڑھ رہا تھا): اے لوگو! ایک غلط صورت حال میرے سامنے آئی ہے، کیا ایک اندھا شخص ایک صحیح دیکھنے والے شخص کی دیت ادا کرے گا، جب کہ وہ دونوں ایک ساتھ گرے تھے اور دونوں زخمی ہوئے تھے۔ اس کی صورت یوں ہوئی کہ ایک بینا شخص اس اندھے کو ساتھ لے کر جا رہا تھا، وہ دونوں ایک کنویں میں گر گئے، تو وہ نابینا شخص اس بینا شخص کے اوپر گرا، جس کے نتیجے میں وہ بینا شخص فوت ہو گیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ فیصلہ دیا: وہ نابینا اس بینا شخص کی دیت ادا کرے گا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3154]
ترقیم العلمیہ: 3115
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 16500، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3154»
«قال ابن حجر: وفيه انقطاع، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (4 / 69)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3116 ترقیم الرسالہ : -- 3155
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ، نَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ . ح وَنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ، نَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ أَحْمَدُ بْنُ الْحَكَمِ ، نَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ . ح وَنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ الْيَقْطِينِيُّ ، نَا عُمَرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ سِنَانٍ ، نَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، نَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ، نَا عَبَّادُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنَّ رَجُلا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ،" إِنَّهُ زُنِيَ بِفُلانَةَ، امْرَأَةٌ سَمَّاهَا، فَبَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَرْأَةِ فَسَأَلَهَا، فَأَنْكَرَتْ فَرَجَمَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَرْكَهَا" .
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! اس نے فلاں عورت کے ساتھ زنا کا ارتکاب کیا ہے۔ اس نے اس خاتون کا نام بھی لیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کے پاس آدمی بھیجا، جس نے اس سے (اس الزام کے) بارے میں دریافت کیا، اس خاتون نے انکار کر دیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرد کو سنگسار کروا دیا اور اس خاتون کو ترک کر دیا (یعنی اسے سزا نہیں دی)۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3155]
ترقیم العلمیہ: 3116
تخریج الحدیث: «أخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 8202، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4437، 4466، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 17100، 17232، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3155، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 23340، والطحاوي فى ((شرح مشكل الآثار)) برقم: 4941، 4942، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 5767، 5924»
«قال ابن عدي: عبد الرحمن في حديثه بعض ما ينكر ولا يتابع عليه والأكثر منه صحاح وهو صالح الحديث، الكامل في الضعفاء: (5 / 489)»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں