🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. كِتَابُ الْحُدُودِ وَالدِّيَاتِ وَغَيْرِهِ
حدود اور دیات وغیرہ کے بارے میں روایات
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3117 ترقیم الرسالہ : -- 3156
نَا الْقَاضِي الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، نَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ فُلَيْحٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ،" أَنَّ وَلِيدَةً فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَمَلَتْ مِنَ الزِّنَا، فَسُئِلَتْ مَنْ أَحْبَلَكِ؟، قَالَتْ: أَحْبَلَنِي الْمُقْعَدُ، فَسُئِلَ عَنْ ذَلِكَ فَاعْتَرَفَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّهُ لَضَعِيفٌ عَنِ الْجَلْدِ، فَأَمَرَ بِمِائَةِ عُثْكُولٍ فَضَرَبَهُ بِهَا ضَرْبَةً وَاحِدَةً" ، كَذَا قَالَ، وَالصَّوَابُ عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ایک لڑکی زنا کے نتیجے میں حاملہ ہو گئی، اس سے پوچھا گیا: تمہیں کس نے حاملہ کیا ہے؟ اس نے بتایا: مجھے المقعد (نامی صاحب) نے حاملہ کیا ہے۔ ان صاحب سے اس بارے میں دریافت کیا گیا، تو انہوں نے اپنے جرم کا اعتراف کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کوڑے برداشت نہیں کر سکے گا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت 100 ٹہنیاں لے کر ان کے ذریعے اس شخص کو ایک ہی ضرب لگائی گئی۔ راوی نے اسی طرح بیان کیا ہے، لیکن درست یہ ہے کہ یہ ابوحازم کے حوالے سے، سیدنا ابوامامہ بن سہل رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3156]
ترقیم العلمیہ: 3117
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 881، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 5414، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 7259، 7260، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4472، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2574، 2574 م، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 17107، 17108، 20087، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3156، 3157، 3158، 3159، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 22354»
«قال الدارقطني: الصواب عن أبي حازم عن أبي أمامة بن سهل بن حنيف عن النبي صلى الله عليه وسلم يعني مرسلا، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (8 / 624)»

الحكم على الحديث: مرسل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3118 ترقیم الرسالہ : -- 3157
نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ الزَّعْفَرَانِيُّ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ رَاشِدٍ ، نَا دَاوُدُ بْنُ مِهْرَانَ ، نَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ:" كَانَ مَقْعَدٌ عِنْدَ جِدَارِ أُمِّ سَعْدٍ، فَفَجَّرَ بِامْرَأَةٍ، فَسُئِلَ عَنْ ذَلِكَ فَاعْتَرَفَ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُضْرَبَ بِأَثْكَالِ النَّخْلِ" .
سیدنا ابوامامہ بن سہل رضی اللہ عنہ، سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: مقعد نامی صاحب، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے گھر کے پاس رہتے تھے، انہوں نے ایک خاتون کے ساتھ زنا کیا، جب ان سے اس بارے میں دریافت کیا گیا، تو انہوں نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت، انہیں کھجور کی شاخیں ماری گئیں۔ امام دار قطنی فرماتے ہیں: (اس روایت میں لفظ اکثال استعمال ہوا ہے)، لیکن درست لفظ اثکال (یعنی کھجور کی شاخیں) ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3157]
ترقیم العلمیہ: 3118
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 881، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 5414، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 7259، 7260، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4472، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2574، 2574 م، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 17107، 17108، 20087، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3156، 3157، 3158، 3159، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 22354»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3119 ترقیم الرسالہ : -- 3158
نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ السُّيُوطِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ ، نَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، نَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ،" أَنَّ مَقْعَدًا أُحَيْنَ، فَذُكِرَ مِنْهُ زَمَاتَةً كَانَ عِنْدَ جِدَارِ أُمِّ سَعْدٍ فَفَجَرَ بِامْرَأَةٍ حَمَلَتْ، فَسُئِلَتْ فَقَالَتْ: هُوَ مِنْهُ فَاعْتَرَفَ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُجْلَدَ بِأَثْكَالِ النَّخْلِ" .
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ، سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: مقعد نامی صاحب کا پیٹ کچھ بڑھا ہوا تھا، وہ ام سعد کے گھر کے پاس رہتے تھے، ایک لڑکی حاملہ ہو گئی، اس سے اس بارے میں دریافت کیا گیا، تو اس نے بتایا وہ ان (مقعد نامی صاحب) سے حاملہ ہوئی ہے، ان صاحب نے بھی اعتراف کر لیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت انہیں کھجوروں کی شاخوں کے ذریعے سزا دی گئی۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3158]
ترقیم العلمیہ: 3119
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 881، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 5414، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 7259، 7260، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4472، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2574، 2574 م، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 17107، 17108، 20087، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3156، 3157، 3158، 3159، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 22354»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3120 ترقیم الرسالہ : -- 3159
نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الآدَمِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْحُنَيْنِيُّ ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، نَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:" حَمَلَتْ أَمَةٌ فِي بَنِي سَاعِدَةَ مِنَ الزِّنَا، فَلَمَّا وَضَعَتْ قِيلَ لَهَا مِمَّنْ وَلَدُكِ؟، قَالَتْ: مِنْ فُلانٍ، إِنْسَانٌ نَضْوٌ مَمْسُوحٌ كَأَنَّهُ خَرْشَاءُ مِنْ ضَعْفِهِ، فَسُئِلَ الْمَقْعَدُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: صَدَقَتْ هُوَ مِنِّي، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا قَالَ، وَأُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَيْئَةِ الرَّجُلِ وَأَنَّهُ لا مَضْرِبَ فِيهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خُذُوا لَهُ عُثْكُولا، يَعْنِي عَذْقًا فِيهِ مِائَةُ شِمْرَاخٍ، فَاضْرِبُوهُ بِهِ ضَرْبَةً وَاحِدَةً" ، فَفَعَلُوا.
سیدنا ابوامامہ بن سہل رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: بنو ساعدہ کی ایک کنیز زنا کے نتیجے میں حاملہ ہو گئی، جب اس نے بچے کو جنم دے دیا، تو اس سے پوچھا گیا: تمہارا بچہ کس کی اولاد ہے؟ اس نے جواب دیا: فلاں کی۔ وہ (ملزم) ایک نحیف اور کمزور شخص تھا، کمزوری کی وجہ سے اس کی جلد سانپ کی طرح تھی، اس سے اس بارے میں دریافت کیا گیا، تو وہ بولا: اس نے سچ کہا ہے، وہ بچہ میری اولاد ہے۔ یہ معاملہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی حالت کے بارے میں بتایا گیا کہ اسے مارا نہیں جا سکتا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس کے لیے شاخیں لو، جس میں سو ٹہنیاں ہوں اور وہ ایک مرتبہ اسے مار دو۔ تو لوگوں نے ایسا ہی کیا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3159]
ترقیم العلمیہ: 3120
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 881، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 5414، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 7259، 7260، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4472، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2574، 2574 م، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 17107، 17108، 20087، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3156، 3157، 3158، 3159، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 22354»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3121 ترقیم الرسالہ : -- 3160
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْمَارِسْتَانِيُّ ، نَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، نَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ حُبْلَى مِنَ الزِّنَا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ،" أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ، فَدَعَا وَلِيَّهَا، فَقَالَ: أَحْسِنْ إِلَيْهَا، فَإِذَا وَضَعَتْ مَا فِي بَطْنِهَا فَأْتِنِي، فَفَعَلَ، فَأَمَرَ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشُدَّتْ أَوْ شُكَّتْ ثِيَابُهَا عَلَيْهَا، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَرُجِمَتْ، ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهَا، فَقِيلَ لَهُ: رَجَمْتَهَا ثُمَّ تُصَلِّي عَلَيْهَا؟، فَقَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ تَابَهَا سَبْعُونَ مُذْنِبًا لَوَسِعَتْهُمْ، وَهَلْ وَجَدْتَ أَفْضَلَ مِنْ أَنْ جَادَتْ بِنَفْسِهَا!" .
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی جو زنا کے نتیجے میں حاملہ ہو گئی تھی، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں نے قابل حد جرم کا ارتکاب کیا ہے، آپ مجھ پر حد قائم کریں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سرپرست کو بلایا اور ہدایت کی: تم اس کا خیال رکھو، جب یہ بچے کو جنم دے، تو اسے میرے پاس لے آنا۔ اس شخص نے ایسا ہی کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت اس کے جسم پر لباس کو اچھی طرح باندھ دیا گیا، پھر اسے سنگسار کر دیا گیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ ادا کی، تو آپ کی خدمت میں عرض کی گئی: پہلے آپ نے اسے سنگسار کر دیا اور پھر اس کی نماز جنازہ بھی ادا کر لی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، اس عورت نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر 70 گناہ گار توبہ کرتے، تو ان کے لیے کافی ہوتی، کیا تمہیں اس سے افضل کوئی شخص مل سکتا ہے؟ جو اپنے آپ کو (اللہ کے حکم کی فرمانبرداری میں) قربان کر دے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3160]
ترقیم العلمیہ: 3121
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1696، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4403، 4441، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 1959، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 2095، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4440، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1435، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2370، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2555،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3160، 3161، 3162، 3238، 3239، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 20177»
«قال ابن عبدالبر: أحسن إسناد لهذا الحديث حديث بريدة وحديث عمران، التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد: (24 / 126)»

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3122 ترقیم الرسالہ : -- 3161
نَا عَبْدُ اللَّهِ ، نَا يَحْيَى ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، نَا هِشَامٌ ، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: رَجَمْتَهَا، وَقَالَ:" لَوْ تَابَهَا أَهْلُ الْمَدِينَةِ لَوَسِعَتْهُمْ، هَلْ وَجَدْتَ أَفْضَلَ مِنْ أَنْ جَادَتْ بِنَفْسِهَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ!" ،.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کی خدمت میں عرض کی: آپ نے اسے سنگسار کر دیا، (اور اب نماز جنازہ بھی ادا کر لی)؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر مدینہ کے تمام افراد یہ توبہ کرتے، تو یہ ان سب کے لیے کافی ہوتی، کیا تمہیں اس سے افضل کوئی شخص مل سکتا ہے، جو اللہ کے لیے اپنی جان دے دے؟ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3161]
ترقیم العلمیہ: 3122
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1696، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4403، 4441، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 1959، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 2095، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4440، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1435، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2370، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2555،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3160، 3161، 3162، 3238، 3239، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 20177»
«قال ابن عبدالبر: أحسن إسناد لهذا الحديث حديث بريدة وحديث عمران، التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد: (24 / 126)»

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3123 ترقیم الرسالہ : -- 3162
نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ، نَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا هَارُونُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْخَزَّازُ ، نَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ، نَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو قِلابَةَ ، حَدَّثَنِي أَبُو الْمُهَلَّبِ ، أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ ، حَدَّثَهُمْ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ مِنْ جُهَيْنَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَهُ.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جہینہ قبیلے سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی (اس کے بعد انہوں نے حسب سابق حدیث نقل کی ہے)۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3162]
ترقیم العلمیہ: 3123
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1696، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4403، 4441، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 1959، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 2095، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4440، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1435، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2370، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2555،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3160، 3161، 3162، 3238، 3239، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 20177»
«قال ابن عبدالبر: أحسن إسناد لهذا الحديث حديث بريدة وحديث عمران، التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد: (24 / 126)»

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3124 ترقیم الرسالہ : -- 3163
نَا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِسَارِقٍ سَرَقَ شَمْلَةً، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ،" إِنَّ هَذَا قَدْ سَرَقَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اذْهَبُوا بِهِ فَاقْطَعُوهُ، ثُمَّ احْسِمُوهُ، ثُمَّ ائْتُونِي بِهِ، فَقُطِعَ فَأُتِيَ بِهِ، فَقَالَ: تُبْ إِلَى اللَّهِ، فَقَالَ: قَدْ تُبْتُ إِلَى اللَّهِ، قَالَ: تَابَ اللَّهُ عَلَيْكَ" ، وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ، مُرْسَلا.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک چور کو لایا گیا، جس نے چادر چوری کی تھی، لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! اس نے چوری کی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا واقعی اس نے چوری کی ہے؟ چور نے عرض کی: یا رسول اللہ! جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے لے جاؤ اور اس کا ہاتھ کاٹ دو، پھر اسے داغ لگاؤ (تاکہ خون بہنا بند ہو جائے)، پھر اسے میرے پاس لاؤ۔ اس چور کا ہاتھ کاٹ دیا گیا اور اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرو۔ وہ بولا: میں اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے تمہاری توبہ قبول کی۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3163]
ترقیم العلمیہ: 3124
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 8242، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 17348، 17349، 17367، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3163، 3164، 3165، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 8259»
«قال الدارقطني: والمرسل أصح، العلل الواردة في الأحاديث النبوية: (10 / 65)»

الحكم على الحديث: مرسل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3125 ترقیم الرسالہ : -- 3164
نَا ابْنُ مُبَشِّرٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَارِقٍ قَدْ سَرَقَ شَمْلَةً، فَقَالَ:" أَسَرَقْتَ مَا إِخَالُهُ سَرَقَ، قَالَ: بَلَى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اقْطَعُوهُ ثُمَّ احْسِمُوهُ، فَقَطَعُوهُ ثُمَّ حَسَمُوهُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تُبْ، فَقَالَ: تُبْتُ إِلَى اللَّهِ، قَالَ: اللَّهُمَّ تُبْ عَلَيْهِ" ،.
محمد بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک چور کو لایا گیا، جس نے چادر چوری کی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے واقعی چوری کی ہے؟ اس نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا ہاتھ کاٹ دو، پھر اسے داغ لگاؤ۔ لوگوں نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا، پھر اسے داغ لگایا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: تم توبہ کرو۔ وہ بولا: میں اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: اے اللہ! اس کی توبہ قبول کر لے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3164]
ترقیم العلمیہ: 3125
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 8242، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 17348، 17349، 17367، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3163، 3164، 3165، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 8259»
«قال الدارقطني: والمرسل أصح، العلل الواردة في الأحاديث النبوية: (10 / 65)»

الحكم على الحديث: مرسل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3126 ترقیم الرسالہ : -- 3165
محمد بن عبدالرحمن نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کی مانند روایت نقل کی ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3165]
ترقیم العلمیہ: 3126
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 8242، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 17348، 17349، 17367، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3163، 3164، 3165، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 8259»
«قال الدارقطني: والمرسل أصح، العلل الواردة في الأحاديث النبوية: (10 / 65)»

الحكم على الحديث: مرسل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں