🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. الْقَضَاءُ بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ
باب
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4417 ترقیم الرسالہ : -- 4497
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا عِيسَى بْنُ أَبِي عِمْرَانَ ، نَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، نَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ تَطَبَّبَ وَلَمْ نَعْلَمْ مِنْهُ طِبًّا قَبْلَ ذَلِكَ فَهُوَ ضَامِنٌ" .
عدی الکندی بیان کرتے ہیں کہ دو آدمی مقدمہ لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان میں سے ایک شخص نے کہا: یہ زمین میری ہے، وہ میری ملکیت ہے۔ دوسرے شخص نے کہا: یہ زمین میری ہے، میں وہاں کھیتی باڑی اور زراعت کرتا ہوں۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے حلف لیا، جس کے پاس وہ زمین موجود تھی اور فیصلہ دے دیا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب فى الأقضية والأحكام وغير ذلك/حدیث: 4497]
ترقیم العلمیہ: 4417
تخریج الحدیث: «أخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 7579، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4834، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 7005، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4586، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 3466، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3438، 3439، 4497، 4498، 4499»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4418 ترقیم الرسالہ : -- 4498
نَا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ أَخُو خَطَّابٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْمٍ ، نَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ تَطَبَّبَ وَلَمْ يَكُنْ قَبْلَ ذَلِكَ بِالطِّبِّ مَعْرُوفًا، فَأَصَابَ نَفْسًا فَمَا دُونَهَا فَهُوَ ضَامِنٌ" .
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص حکمت کا پیشہ اختیار کرتا ہے اور اسے اس کے بارے میں پتا نہیں ہوتا تو اگر اس کے علاج کے نتیجے میں کسی شخص کو نقصان پہنچتا ہے، تو وہ تاوان دے گا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب فى الأقضية والأحكام وغير ذلك/حدیث: 4498]
ترقیم العلمیہ: 4418
تخریج الحدیث: «أخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 7579، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4834، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 7005، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4586، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 3466، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3438، 3439، 4497، 4498، 4499»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4419 ترقیم الرسالہ : -- 4499
نَا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، نَا مُحَمَّدُ الْجَرْجَرَائِيُّ ، نَا الْوَلِيدُ ، نَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ تَطَبَّبَ، وَلَمْ يُعْلَمْ مِنْهُ طِبٌّ فَهُوَ ضَامِنٌ" .
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا بیان نقل کرتے ہیں: جو شخص حکمت اختیار کرتا ہے حالانکہ وہ شخص حکمت کے حوالے سے معروف نہیں ہے، تو اس کے نتیجے میں کوئی شخص فوت ہو جاتا ہے، یا اس سے کم نقصان ہوتا ہے، تو وہ شخص تاوان ادا کرے گا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب فى الأقضية والأحكام وغير ذلك/حدیث: 4499]
ترقیم العلمیہ: 4419
تخریج الحدیث: «أخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 7579، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4834، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 7005، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4586، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 3466، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3438، 3439، 4497، 4498، 4499»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4420 ترقیم الرسالہ : -- 4500
نا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ صَالِحٍ الْأَزْدِيُّ، نا الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ عَدِيٍّ الْكِنْدِيِّ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلَانِ يَخْتَصِمَانِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَحَدُهُمَا: أَرْضِي هِيَ لِي، وَقَالَ الْآخَرُ: هِيَ أَرْضِي حَرَثْتُهَا وَزَرَعْتُهَا، «فَأَحْلَفُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي فِي يَدِهِ الْأَرْضُ» .
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص طبیب بنتا ہے اور اس پیشے کے حوالے سے معروف نہ ہو، تو وہ تاوان ادا کرے گا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب فى الأقضية والأحكام وغير ذلك/حدیث: 4500]
ترقیم العلمیہ: 4420
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4500، انفرد به المصنف من هذا الطريق»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4421 ترقیم الرسالہ : -- 4501
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ سَهْلِ الْبَرْبَهَارِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، نَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْمُدَّعِي أَوْلَى بِالْبَيِّنَةِ" ،.
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا بیان نقل کرتے ہیں: دعویٰ کرنے والا اس بات کا زیادہ حق رکھتا ہے کہ وہ ثبوت پیش کرے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب فى الأقضية والأحكام وغير ذلك/حدیث: 4501]
ترقیم العلمیہ: 4421
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4501، 4502»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4422 ترقیم الرسالہ : -- 4502
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب فى الأقضية والأحكام وغير ذلك/حدیث: 4502]
ترقیم العلمیہ: 4422
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4501، 4502»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. بَابٌ فِي قَتْلِ الْمَرْأَةِ إِذَا ارْتَدَّتْ
عورت کے مرتد ہونے پرا سے قتل کرنا
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4423 ترقیم الرسالہ : -- 4503
حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ ابْنِ ابْنَةِ مَنِيعٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ، نَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي سَمِينَةَ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، نَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عُثْمَانَ الشَّحَّامِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ رَجُلٌ لَهُ امْرَأَةٌ وَلَدَتْ مِنْهُ وَلَدَيْنِ، قَالَ:" فَكَانَتْ تُؤْذِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَنْهَاهَا فَلا تَنْتَهِي وَيَزْجُرُهَا فَلا تَنْزَجِرُ، قَالَ: فَذَكَرَتْهُ ذَاتَ يَوْمٍ فَقَامَ إِلَيْهَا بِمِعْوَلٍ فَوَضَعَهُ فِي بَطْنِهَا، ثُمَّ اتَّكَأَ عَلَيْهَا حَتَّى أَنْفَذَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلا اشْهَدُوا أَنَّ دَمَهَا هَدَرٌ" ،.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص کی بیوی جس نے اس شخص کے دو بچوں کو جنم دیا تھا، وہ عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا پہنچایا کرتی تھی۔ وہ شخص اس عورت کو منع کرتا تھا لیکن وہ عورت باز نہیں آتی تھی۔ اس نے اس عورت کو ڈرانے دھمکانے کی کوشش کی، وہ ڈری بھی نہیں۔ ایک دن اس عورت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں نامناسب بات کی تو اس کے شوہر نے کدال لی اور اس کے پیٹ پر رکھ کر وزن ڈالا، یہاں تک کہ وہ کدال اس کے جسم سے پار ہو گئی (اور وہ عورت مر گئی)۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ گواہ رہنا! اس عورت کا خون رائیگاں گیا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب فى الأقضية والأحكام وغير ذلك/حدیث: 4503]
ترقیم العلمیہ: 4423
تخریج الحدیث: «أخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 177، 178، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 8136، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4075، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 3519، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4361، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3194، 3195، 4503، 4504، 4505، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 11984»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4424 ترقیم الرسالہ : -- 4504
یہ روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب فى الأقضية والأحكام وغير ذلك/حدیث: 4504]
ترقیم العلمیہ: 4424
تخریج الحدیث: «أخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 177، 178، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 8136، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4075، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 3519، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4361، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3194، 3195، 4503، 4504، 4505، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 11984»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4425 ترقیم الرسالہ : -- 4505
نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مِرْدَاسٍ ، نَا أَبُو دَاوُدَ ، نَا عَبَّادُ بْنُ مُوسَى ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، نَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عُثْمَانَ الشَّحَّامِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ بِهَذَا وَقَالَ:" فَلَمَّا كَانَ الْبَارِحَةَ جَعَلَتْ تَشْتُمُكَ، وَتَقَعُ فِيكَ فَقَتَلْتُهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلا اشْهَدُوا أَنَّ دَمَهَا هَدَرٌ" ، قَالَ الشَّيْخُ الدَّارَقُطْنِيُّ: فِيهِ سُنَّةٌ فِي الأَصْلِ فِي إِشْهَادِ الْحَاكِمِ عَلَى نَفْسِهِ بِإِنْفَاذِ الْقَضَاءِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے یہی بات منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: اس شخص نے عرض کی: گزشتہ دن اس عورت نے آپ کو برا کہنا شروع کیا اور آپ کی شان میں گستاخی کی تو میں نے اسے قتل کر دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ گواہ رہنا کہ اس عورت کا خون رائیگاں گیا ہے۔ امام دارقطنی نے یہ بات بیان کی ہے کہ اس سے یہ سنت ثابت ہوتی ہے، کوئی فیصلہ دیتے ہوئے حاکم لوگوں کو اپنی ذات کے بارے میں گواہ بنا سکتا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب فى الأقضية والأحكام وغير ذلك/حدیث: 4505]
ترقیم العلمیہ: 4425
تخریج الحدیث: «أخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 177، 178، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 8136، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4075، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 3519، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4361، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3194، 3195، 4503، 4504، 4505، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 11984»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. [ بَابُ إِحْيَاءِ الْمَوَاتِ
باب: بنجر زمینوں کو آباد کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4426 ترقیم الرسالہ : -- 4506
نَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى بْنِ عَلِيٍّ الْخَوَّاصُ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ نَاصِحٍ ، نَا أَبُو دَاوُدَ ، نَا زَمْعَةُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْبِلادُ بِلادُ اللَّهِ، وَالْعِبَادُ عِبَادُ اللَّهِ، وَمَنْ أَحْيَا مِنْ مَوَاتِ الأَرْضِ شَيْئًا فَهُوَ لَهُ، وَلَيْسَ لِعِرْقٍ ظَالِمٍ حَقٌّ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمام شہر، اللہ کے شہر ہیں، تمام بندے اللہ کے بندے ہیں، جو شخص کسی بنجر زمین کو آباد کرتا ہے وہ اسے مل جائے گی اور کوئی شخص ظلم کے طور پر اس پر قبضہ نہیں کر سکتا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب فى الأقضية والأحكام وغير ذلك/حدیث: 4506]
ترقیم العلمیہ: 4426
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2335، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1355، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5727، 5728، 5729، 5730، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3073،برقم: 3076، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1378، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2938، 4506، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 25523، وأخرجه ابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 22824»
«قال ابن حجر: وفي إسناده زمعة وهو ضعيف، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 119)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں