الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ مَا وَرَدَ فِي فَضْلِهَا
زکوۃ کی فضیلت اور اس کی انواع¤زکوۃ کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 3356
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقْبَلُ الصَّدَقَاتِ وَيَأْخُذُهَا بِيَمِينِهِ فَيُرَبِّيهَا لِأَحَدِكُمْ كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ مُهْرَهُ أَوْ فَلُوَّهُ أَوْ فَصِيلَهُ حَتَّى إِنَّ اللُّقْمَةَ لَتَصِيرُ مِثْلَ جَبَلِ أُحُدٍ، قَالَ وَكِيعٌ فِي حَدِيثِهِ: وَتَصْدِيقُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ {وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَأْخُذُ الصَّدَقَاتِ} {وَيَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ}))
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ صدقات کو قبول کرتا ہے اور ان کو دائیں ہاتھ میں وصول کرتا ہے، پھر وہ ان کو یوں بڑھاتا رہتا ہے، جیسے تم میں سے کوئی گھوڑی، اونٹنی یا گائے کے بچے کی پرورش کرتا ہے،یہاں تک کہ ایک لقمہ احد پہاڑ کے برابر ہو جاتا ہے۔ وکیع نے اپنی روایت میں کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان کی تصدیق قرآن مجید کی ان آیات سے ہوتی ہے: اللہ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور ان کے صدقات کو پکڑ لیتا ہے۔ (سورۂ توبہ:۱۰۴) اور اللہ سود کو ختم کرنا اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔ (سورۂ بقرۃ:۲۸۶) [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3356]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح أخرجه الترمذي: 662، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10088 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10090»
وضاحت: فوائد: … پہلی آیت کے الفاظ کسی راوی کی بھول چوک کا نتیجہ ہیں، قرآن مجید میں یہ آیت اس طرح ہے: {اَلَمْ یَعْلَمُوْا اَنَّ اللّٰہَ ھُوَ یَقْبَلُ التَّوْبَۃَ عَنْ عِبَادِہِ وَیَأْخُذُ الصَّدَقَاتِ} اور سورۂ شوری کے الفاظ یوں ہیں: {وَھُوَ الَّذِیْ یَقْبَلُ التَّوْبَۃَ عَنْ عِبَادِہٖ وَیَعْفُوْا عَنِ السَّیِّاتِ}۔ اللہ تعالیٰ ہی ہے جو بھول چوک سے پاک ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 3357
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَا مِنْ عَبْدٍ مُؤْمِنٍ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ مِنْ طَيِّبٍ، وَلَا يَقْبَلُ اللَّهُ إِلَّا طَيِّبًا وَلَا يَصْعَدُ إِلَى السَّمَاءِ إِلَّا طَيِّبٌ إِلَّا وَهُوَ يَضَعُهَا فِي يَدِ الرَّحْمَنِ أَوْ فِي كَفِّ الرَّحْمَنِ فَيُرَبِّيهَا لَهُ كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فَلُوَّهُ أَوْ فَصِيلَهُ حَتَّى إِنَّ التَّمْرَةَ لَتَكُونُ مِثْلَ الْجَبْلِ الْعَظِيمِ))
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو مومن حلال اور پاکیزہ کمائی میں سے صدقہ کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ بھی صرف پاکیزہ ہی کو قبول فرماتا ہے اور آسمان کی طرف بھی صرف یہی حلال کمائی چڑھتی ہے، بہرحال اللہ تعالیٰ اس (صدقہ کو) اپنے ہاتھ میں لے کر یوں بڑھاتا رہتا ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنی گھوڑی، یا گائے کے بچے کو پالتا ہے، یہاں تک کہ ایک کھجور بہت بڑے پہاڑ کے برابر ہو جاتی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3357]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1014، وعلقه البخاري باثر الحديثين: 1410، 7430، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10945 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9413»
وضاحت: فوائد: صدقہ و خیرات کسی بھی عبادت گزار کی عبادات کا اہم جزو ہے اور اس کے بغیر زندگی نامکمل ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات ِ مبارکہ میں مختلف انداز میں صدقہ کی عظیم مثالیں پیش کیں، صحابہ کرام eنے بھی اس پہلو کو تشنہ نہ رہنے دیا۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 3358
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3358]
تخریج الحدیث: «ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26503»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 3359
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَثَلُ الْبَخِيلِ وَالْمُتَصَدِّقِ مَثَلُ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُبَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ قَدِ اضْطُرَّتْ أَيْدِيهِمَا إِلَى تَرَاقِيهِمَا، فَكُلَّمَا هَمَّ الْمُتَصَدِّقُ بِصَدَقَةٍ اتَّسَعَتْ عَلَيْهِ حَتَّى تُعَفِّيَ أَثَرَهُ، وَكُلَّمَا هَمَّ الْبَخِيلُ بِصَدَقَةٍ انْقَبَضَتْ عَلَيْهِ كُلُّ حَلْقَةٍ مِنْهَا إِلَى صَاحِبَتِهَا وَتَقَلَّصَتْ عَلَيْهِ))، قَالَ فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((فَيَجْهَدُ أَنْ يُوَسِّعَهَا فَلَا تَتَّسِعُ))
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بخل کرنے والے اور صدقہ کرنے والے کی مثال ان دو آدمیوں کی سی ہے جن پر لوہے کے دو جُبّے ہوں اور ان کے ہاتھ ہنسلی کی ہڈیوں تک باندھ دیئے گئے ہوں، جب صدقہ کرنے والا صدقہ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کا جبہ اس حد تک کھل کر وسیع ہو جاتا ہے کہ اس کے پاؤں کے نشان مٹانے لگ جاتا ہے، لیکن جب بخیل آدمی صدقہ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے جبہ کا ایک ایک حلقہ سکڑ کر اس کے اوپر بری طرح تنگ ہو جاتا ہے۔ پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: پھر وہ اپنے جبہ کو کھلا کرنے کی پوری کوشش کرتا ہے مگر وہ وسیع نہیں ہوتا۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3359]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1443، 2917، ومسلم: 1021، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9057 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9045»
وضاحت: فوائد: جس طرح نمازی کے لیے نماز پڑھنا آسان اور بے نمازی کے لیے یہی عمل بہت مشکل ہوتا ہے، اسی طرح صدقہ کرنا سخی کے لیے انتہائی آسان اور بخیل کے لیے بڑا مشکل ہوتا ہے، اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہر شخص کو اپنے کمائے ہوئے مال سے محبت ہوتی ہے اور ایسا مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کر دینا دل گردے کا کام ہے، لیکن نجات کے لیے ضروری بھی، کسی بخیل شخص کو سخاوت پر آمادہ کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ تھوڑی مقدار میں اس سے صدقہ و خیرات کروایا جائے، آہستہ آہستہ راہیں کھلتی چلی جائیں گی۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 3360
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَا طَلَعَتْ شَمْسٌ قَطُّ إِلَّا بُعِثَ بِجَنْبَتَيْهَا مَلَكَانِ يُنَادِيَانِ يُسْمِعَانِ أَهْلَ الْأَرْضِ إِلَّا الثَّقَلَيْنِ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ! هَلُمُّوا إِلَى رَبِّكُمْ فَإِنَّ مَا قَلَّ وَكَفَى خَيْرٌ مِمَّا كَثُرَ وَأَلْهَى، وَلَا أَبَتْ شَمْسٌ قَطُّ إِلَّا بُعِثَ بِجَنْبَتَيْهَا مَلَكَانِ يُنَادِيَانِ يُسْمِعَانِ أَهْلَ الْأَرْضِ إِلَّا الثَّقَلَيْنِ: اللَّهُمَّ أَعْطِ مُنْفِقًا خَلَفًا وَأَعْطِ مُمْسِكًا مَالًا تَلَفًا))
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب سورج طلوع ہوتا ہے تو اس کے دونوں پہلوؤں میں دو فرشتے بھیجے جاتے ہیں، وہ جن و انس کے علاوہ روئے زمین کی ہر چیز کو سناتے ہوئے اعلان کرتے ہیں: لوگو! اپنے پروردگار کی طرف آجاؤ، بے شک کم مقدار اور کفایت کرنے والی چیز اس سے بہتر ہے جو زیادہ تو ہو مگر غافل کر دے، اسی طرح جب سورج غروب ہوتا ہے تو اس وقت بھی دو فرشتے اس کے دونوں پہلوؤں میں بھیجے جاتے ہیں اور جن وانس کے علاوہ باقی اہل زمین کو سناتے ہوئے یہ اعلان کرتے ہیں: اے اللہ! اپنی راہ میں خرچ کرنے والے کو اس کا نعم البدل عطا فرما اور بخیل کے مال کو تلف کردے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3360]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن أخرجه الطيالسي: 979، وابن حبان: 686، 3329، والطبراني في ’’الاوسط‘‘: 2912، والحاكم: 2/ 444، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:21721 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22064»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 3361
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: يَا ابْنَ آدَمَ! اَنْفِقْ أَنْفِقْ عَلَيْكَ، وَقَالَ: يَمِينُ اللَّهِ مَلَأَى سَحَّائُ، لَا يَغِيضُهَا شَيْءٌ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ))
سیدنا ابوہریرہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیان کیا کہ: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے ابن آدم! تو (میری راہ میں) خرچ کر، میں تجھ پر خرچ کروں گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کا دایاں ہاتھ بھرا ہوا اور ہمیشہ عطا کرنے والا ہے اور رات اور دن میں (خرچ کی جانے والی) کوئی چیز اس میں کمی نہیں کر سکتی۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3361]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 993، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7298 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7296»
وضاحت: فوائد: یعنی اللہ تعالیٰ کے خزانے لامتناہی ہیں اور کسی قسم کی سخاوت اور عطا سے ان میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی، حالانکہ پوری مخلوق ان سے مستفید ہو رہی ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 3362
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((بَيْنَمَا رَجُلٌ بِفَلَاةٍ مِنَ الْأَرْضِ فَسَمِعَ صَوْتًا فِي سَحَابَةٍ: اسْقِ حَدِيقَةَ فُلَانٍ، فَتَنَحَّى ذَلِكَ السَّحَابُ فَأَفْرَغَ مَاءَهُ فِي حَرَّةٍ، فَانْتَهَى إِلَى الْحَرَّةِ، فَإِذَا هُوَ فِي أَذْنَابِ شِرَاجٍ، وَإِذَا شَرْجَةٌ مِنْ تِلْكَ الشِّرَاجِ قَدِ اسْتَوْعَبَتْ ذَلِكَ الْمَاءَ كُلَّهُ، فَتَبِعَ الْمَاءَ فَإِذَا رَجُلٌ قَائِمٌ فِي حَدِيقَتِهِ يُحَوِّلُ الْمَاءَ بِمِسْحَاتِهِ، فَقَالَ لَهُ: يَا عَبْدَ اللَّهِ! مَا اسْمُكَ؟ قَالَ: فُلَانٌ بِالِاسْمِ الَّذِي سَمِعَ فِي السَّحَابَةِ، فَقَالَ لَهُ: يَا عَبْدَ اللَّهِ! لِمَ تَسْأَلُنِي عَنِ اسْمِي؟ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ صَوْتًا فِي السَّحَابِ الَّذِي هَذَا مَاءُهُ، يَقُولُ: اسْقِ حَدِيقَةَ فُلَانٍ لِاسْمِكَ، فَمَا تَصْنَعُ فِيهَا؟ قَالَ: أَمَّا إِذَا قُلْتَ هَذَا، فَإِنِّي أَنْظُرُ إِلَى مَا خَرَجَ مِنْهَا فَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثِهِ وَآكُلُ أَنَا وَعِيَالِي ثُلُثَهُ وَأَرُدُّ فِيهَا ثُلُثَهُ))
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی ایک جنگل میں تھا کہ اس نے بادل میں یہ آواز سنی: (بادل!) فلاں آدمی کے باغ کو سیراب کر۔ وہ بادل ایک طرف کو چل پڑا اور جا کر ایک پختہ زمین پر برسا، جب یہ آدمی وہاں پہنچا تو وہ کیا دیکھتا ہے کہ سارا پانی جمع ہو کر مختلف نالیوں سے ہوتا ہوا ایک بڑے نالے کی صورت بن گیا۔ یہ آدمی پانی کے ساتھ ساتھ چل پڑا، آگے جا کر دیکھا کہ ایک آدمی اپنے باغ میں کھڑا اپنی کَسّی سے پودوں کو پانی لگا رہا ہے۔ اس نے پوچھا: اللہ کے بندے! تیرا نام کیا ہے؟ اس نے وہی نام بتایا جو اس نے بادل میں سنا تھا۔ باغ والے نے کہا: اللہ کے بندے! تو میرا نام کیوں پوچھتا ہے؟ اس نے کہا: جس بادل کا یہ پانی ہے، میں نے اس میں آواز سنی تھی، تمہارا نام لے کر کہا گیا کہ جا کر اس کے باغ کو سیراب کر۔ لہٰذا اب آپ یہ بتائیں کہ آپ کونسا کوئی خاص کام کرتے ہیں؟ جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی خصوصی رحمت آپ کو حاصل رہتی ہے؟ باغ والے نے کہا: آپ نے پوچھ ہی لیا ہے تو سنو! میں اس باغ کی کل آمدنی میں سے ایک تہائی اللہ کی راہ میں صدقہ کر دیتا ہوں، ایک تہائی میں اور میرے اہل وعیال کھا لیتے ہیں اور ایک تہائی اسی باغ پر خرچ کرتا ہوں۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3362]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2984، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7941 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7928»
وضاحت: فوائد: ایک روایت میں ہے: وَاَجْعَلُ ثُلَثَہٗ فِیْ الْمَسَاکِیْنِ وَالسَّائِلِیْنَ وَابْنِ السَّبِیْلِ۔ یعنی: ”میں اس پیداوار کا تیسرا حصہ مسکینوں، سائلوںاور مسافروں پر خرچ کر دیتا ہوں۔“ اس حدیث سے ایسے لوگوں پر صدقہ
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 3363
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: أَتَى رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي ذُو مَالٍ كَثِيرٍ وَذُو أَهْلٍ وَوَلَدٍ وَحَاضِرَةٍ، فَأَخْبِرْنِي كَيْفَ أُنْفِقُ وَكَيْفَ أَصْنَعُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((تُخْرِجُ الزَّكَاةَ مِنْ مَالِكَ، فَإِنَّهَا طُهْرَةٌ تُطَهِّرُكَ، وَتَصِلُ أَقْرِبَاءَكَ وَتَعْرِفُ حَقَّ السَّائِلِ وَالْجَارِ وَالْمِسْكِينِ))، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَقْلِلْ لِي، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((فَآتِ ذَا الْقُرْبَى حَقَّهُ وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيرًا))، قَالَ: حَسْبِي يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِذَا أَدَّيْتُ الزَّكَاةَ إِلَى رَسُولِكَ فَقَدْ بَرِئْتُ مِنْهَا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((نَعَمْ إِذَا أَدَّيْتَهَا إِلَى رَسُولِي فَقَدْ بَرِئْتَ مِنْهَا، فَلَكَ أَجْرُهَا وَإِثْمُهَا عَلَى مَنْ بَدَّلَهَا))
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: بنو تمیم کا ایک آدمی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں کافی مال دار ہوں اور میرا خاندان بھی بڑا ہے، بچے بھی ہیں اور میرے ہاں مہمان بھی بکثرت آتے ہیں، اب آپ مجھے بتائیں کہ میں مال کیسے خرچ کروں یا کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے مال کی زکوۃ ادا کیا کر، یہ پاکیزہ عمل تجھے پاک کر دے گا، اسی طرح اپنے رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کیا کر اور تجھے سائل، پڑوسی اور مسکین کے حق کی بھی معرفت ہونی چاہیے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! ان باتوں کو میرے لیے ذرا اختصار کے ساتھ واضح کرو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے رشتہ داروں، مسکینوں اور مسافروں کو ان کے حقوق ادا کر اور فضول خرچی سے بچ۔ یہ سن کر اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ میرے لیے کافی ہے کہ جب میں آپ کے قاصد کو زکوۃ ادا کردوں تو کیا میں اللہ اور رسول کے ہاں اپنی ذمہ داری سے عہدہ برآ ہو جاؤں گا؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، جب تو میرے قاصد کو زکوۃ ادا کردے گا تو تو اس سے بری ہو جائے گا اور تجھے اس کا اجر مل جا ئے گا، ہاں جو اس کو (ناجائز انداز میں) تبدیل کر دے گا تو اس کا گناہ اسی پر ہی ہو گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3363]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات رجال الشيخين، لكن قيل في رواية سعيد بن ابي ھلال عن انس: انھا مرسلة أخرجه الحاكم: 2/ 360، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12394 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12421»
وضاحت: فوائد:اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب کوئی آدمی خلیفۂ وقت یا اس کے قاصد کو زکوۃ دے دے تو وہ اس فرض سے بریٔ الذمہ ہو جائے گا، اگر خلافِ توقع ایسا ذمہ دار خیانت کرتا ہے تو اس کا ذمہ دار وہ خود ہو گا، زکوۃ دینے والے اللہ تعالیٰ کے ہاں ماجور ہو گا۔ لیکن یہ اصول اس وقت ہے جب قاصد وغیرہ کی امانت کے بارے میں حسنِ ظن ہو، وگرنہ استطاعت کے مطابق مالدار کو چاہیے کہ وہ اپنی زکوۃ کی رقم خود مستحق لوگوں تک پہنچا دے، اس کی مزید وضاحت باب ”زکوۃ کے عامل کو زکوۃ دے دینے سے مالک بریٔ الذمہ ہو جاتا ہے، خواہ وہ نمائندہ اس میں جائز تصرف کرے“ میں آ رہی ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
2. بَابُ افْتِرَاضِ الزَّكَاةِ وَالْحَثِّ عَلَيْهَا وَالتَّشْدِيدِ فِي مَنْعِهَا
زکوۃ کی فرضیت، اس کی ترغیب اور زکوۃ ادا نہ کرنے کی مذمت کا بیان
حدیث نمبر: 3364
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَعَثَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى الْيَمَنِ، قَالَ: ((إِنَّكَ تَأْتِي قَوْمًا أَهْلَ كِتَابٍ، فَادْعُهُمْ إِلَى شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوكَ لِذَلِكَ فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوكَ لِذَلِكَ، فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً فِي أَمْوَالِهِمْ تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ، وَتُرَدُّ فِي فُقَرَائِهِمْ فَإِنْ هُمْ أَطَاعُواكَ لِذَلِكَ فَإِيَّاكَ وَكَرَائِمَ أَمْوَالِهِمْ، وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ فَإِنَّهَا لَيْسَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ حِجَابٌ))
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا تو ان سے فرمایا: تم اہل کتاب لوگوں کے ہاں جا رہے ہو، تم سب سے پہلے ان کویہ دعوت دینا کہ وہ یہ شہادت دیں کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں۔ اگر وہ تمہاری یہ بات تسلیم کر لیں تو انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر دن رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ اگر وہ تمہاری یہ بات بھی مان لیں تو انہیں بتانا کہ اللہ نے ان کے مالوں پر زکوۃ بھی فرض کی ہے جو ان کے مالدار وں سے لے کر ان کے فقیروں میں تقسیم کی جائے گی۔ اگر وہ تمہاری یہ بات بھی تسلیم کر لیں تو (زکوۃ لیتے وقت) ان کے قیمتی مال سے بچنا اورمظلوم کی بددعا سے بھی بچ کر رہنا، کیونکہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3364]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2448، ومسلم: 19، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2071 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2071»
وضاحت: فوائد: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس ترتیب سے داعی کو سبق حاصل کرنا چاہیے اور اہم امور سے پہلے زیادہ اہم کو ترجیح دینی چاہیے۔ اس حدیث ِ مبارکہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ وتر نفلی نماز ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو ۱۰ ہجری میں یمن کی طرف بھیجا تھا، جبکہ اس وقت وتر ایک معروف نماز تھی۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 3365
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالُوهَا عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ))، قَالَ: فَلَمَّا قَامَ أَبُو بَكْرٍ، وَارْتَدَّ مَنْ ارْتَدَّ، أَرَادَ أَبُو بَكْرٍ قِتَالَهُمْ، قَالَ عُمَرُ: كَيْفَ تُقَاتِلُ هَؤُلَاءِ الْقَوْمَ وَهُمْ يُصَلُّونَ؟ قَالَ: فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَاللَّهِ! لَأُقَاتِلَنَّ قَوْمًا ارْتَدُّوا عَنِ الزَّكَاةِ وَاللَّهِ! لَوْ مَنَعُونِي عَنَاقًا مِمَّا فَرَضَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ لَقَاتَلْتُهُمْ، قَالَ عُمَرُ: فَلَمَّا رَأَيْتُ اللَّهَ شَرَحَ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ لِقِتَالِهِمْ عَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک قتال کروں جب تک وہ لَا إِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ کا اعتراف نہ کر لیں، جب وہ اس کا اعتراف کر لیں گے تو وہ اپنے خون اور مال مجھ سے محفوظ کر لیں گے اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ پر ہو گا۔ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے خلافت سنبھالی اور مرتدّ ہونے والے مرتد ہو گئے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے قتال کا ارادہ کیا۔ لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جو لوگ نماز پڑھتے ہیں، آپ ان سے کیسے قتال کریں گے؟ لیکن سیدناابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں ان لوگوں سے ضرور قتال کروں گا جو زکوۃ ادا کرنے سے انکاری ہیں۔اللہ کی قسم ہے،اگر ان لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول کی فرض کی ہوئی ایک بکری بھی نہ دی تو میں ان سے لڑوں گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جب میں نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے (زکوۃ کے اِن انکاریوں سے) لڑنے کے لیے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کا سینہ کھول دیا ہے تو میں جان گیا کہ یہی حق ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3365]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6924، 6925، 7284، ومسلم: 20، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 67، 10840 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10852»
الحكم على الحديث: صحیح