الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. بَابُ عَدَمِ الزَّكَاةِ فِي الرَّقِيقِ وَالْخَيْلِ وَالْحُمُرِ
غلاموں، گھوڑوں اور گدھوں میں زکوۃ کے نہ ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 3396
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ((لَيْسَ فِي الْعَبْدِ صَدَقَةٌ إِلَّا صَدَقَةَ الْفِطْرِ))
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: غلام کی زکوۃ فرض نہیں ہے، البتہ (مالک پر اس کا) صدقۂ فطر فرض ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3396]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 982، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9455 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9436»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 3397
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَحُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَأْخُذْ مِنَ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ صَدَقَةً
سیدنا عمر بن خطاب اور سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھوڑوں اور غلاموں کی زکوۃ وصول نہیں کی۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3397]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 113 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 113»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 3398
عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ، أَنَّهُ حَجَّ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَتَاهُ أَشْرَافُ أَهْلِ الشَّامِ فَقَالُوا: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ! إِنَّا أَصَبْنَا رَقِيقًا وَدَوَابَّ فَخُذْ مِنْ أَمْوَالِنَا صَدَقَةً تُطَهِّرُنَا بِهَا وَتَكُونُ لَنَا زَكَاةً، فَقَالَ: هَذَا شَيْءٌ لَمْ يَفْعَلْهُ اللَّذَانِ قَبْلِي وَلَكِنِ انْتَظِرُوا حَتَّى أَسْأَلَ الْمُسْلِمِينَ
حارثہ بن مضرب کہتے ہیں: میں نے سیدناعمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی معیت میں حج کیا، اہل شام کے معزز لوگ آئے اور انھوں نے کہا: اے امیر المومنین! ہم غلاموں اور جانوروں کے مالک بنے ہیں اور چاہتے ہیں کہ آپ ہم سے ہمارے ان مالوں کی زکوۃ وصول کریں تاکہ ہمارے مال پاک ہو جائیں اور یہ چیز ہمارے لیے باعث ِ تزکیہ ہو۔ لیکن آپ رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھ سے پہلے والی دو شخصیات(رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ) نے یہ عمل نہیں کیا، لیکن تم انتظار کرو تاکہ میں دوسرے مسلمانوں سے اس بارے میں مشورہ کر لوں۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3398]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح أخرجه ابن خزيمة: 2290، والحاكم: 1/ 400، واللبيھقي: 4/ 118، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 82، 218 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 218»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 3399
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: جَاءَ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالُوا: إِنَّا قَدْ أَصَبْنَا أَمْوَالًا وَخَيْلًا وَرَقِيقًا نُحِبُّ أَنْ يَكُونَ لَنَا فِيهَا زَكَاةٌ وَطَهُورٌ، قَالَ: مَا فَعَلَهُ صَاحِبَايَ قَبْلِي فَأَفْعَلُهُ وَاسْتَشَارَ أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَفِيهِمْ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ عَلِيٌّ: هُوَ حَسَنٌ، إِنْ لَمْ يَكُنْ جِزْيَةً رَاتِبَةً يُؤْخَذُونَ بِهَا مِنْ بَعْدِكَ
(دوسری سند) حارثہ کا بیان ہے کہ شام کے کچھ لوگ عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آئے۔ انہوں نے کہا: ہمیں کچھ اموال، گھوڑے اور غلام دستیاب ہوئے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ان کی زکوۃ ادا کریں تاکہ ہمارے اموال پاک ہو جائیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھ سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ عمل نہیں کیا، پھر انہوں نے صحابہ کرام سے مشورہ کیا، ان میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے، انہوں نے کہا: (ان سے قبول کر لینا) اچھی بات ہے، بشرطیکہ اس کو اس طرح مقرر نہ کر دیا جائے کہ بعد والے لوگوں سے بھی لیا جائے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3399]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 82»
وضاحت: فوائد: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے قول سے ظاہر ہو رہا ہے کہ وہ گھوڑوں اور غلاموں کی زکوۃ کے قائل نہیں تھے، یہی وجہ ہے کہ وہ اس کو جزیہ سے تعبیر کر رہے ہیں اور یہ شرط لگا رہے ہیں کہ بعد میں یہ وصول نہیں کی جانی چاہیے، اس موقع پر اس وصولی کو اچھا قرار دینے کی بنیاد یہ تھی کہ وہ لوگ بخوشی یہ نیکی کرنا چاہتے تھے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 3400
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((قَدْ عَفَوْتُ لَكُمْ عَنِ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ وَلَا صَدَقَةَ فِيهِمَا))
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تم سے گھوڑوں اور غلاموں کی زکوۃ معاف کرتا ہوں، ان میں کوئی زکوۃ نہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3400]
تخریج الحدیث: «اسناده جيد أخرجه ابوداود: 1574، والترمذي: 620، وابن ماجه: 1790، والنسائي: 5/ 37، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 771، 1267 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1267»
الحكم على الحديث: صحیح
8. بَابُ زَكَاةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ
سونے اور چاندی کی زکوۃ
حدیث نمبر: 3401
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحَمِيرِ فِيهَا زَكَاةٌ؟ فَقَالَ: ((مَا جَاءَ فِيهَا شَيْءٌ إِلَّا هَذِهِ الْآيَةُ الْفَاذَّةُ {فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ، وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ}))
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ پوچھا گیا کہ آیا گدھوں پر زکوۃ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس بارے میں مجھ پر کوئی چیز نازل نہیں ہوئی، ما سوائے اس ایک جامع آیت کے: {فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَرَہٗ۔ وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَرَہٗ۔}(سورۂ زلزال۔۸) یعنی: جو کوئی ایک ذرہ برابرنیکی کرے گا، وہ اس کا بدلہ پالے گا اور جو کوئی ذرہ برابر گناہ کرے وہ بھی اس کو دیکھ لے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3401]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 987 مطولا، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7563، 9476 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9470»
وضاحت: فوائد: اس باب کی احادیث سے معلوم ہوا کہ غلاموں، گھوڑوں اور گدھوں میں علی الاطلاق زکوۃ واجب نہیں، البتہ یہ ضروری ہے کہ غلاموں کی طرف سے صدقۂ فطر ادا کیا جائے۔ آخری حدیث میں مذکورہ دو آیات کے الفاظ انتہائی مختصر ہیں، مگر وہ ہر قسم کی خیر کو شامل ہیں، اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ گدھوں پر زکوۃ نہیں ہے، ہاں اگر کوئی کسی کو یہ جانور بھی دینا چاہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ماجور ہو گا۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 3402
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((قَدْ عَفَوْتُ لَكُمْ عَنِ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ فَهَاتُوا صَدَقَةَ الرِّقَاقِ مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا دِرْهَمًا وَلَيْسَ فِي تِسْعِينَ وَمِائَةٍ شَيْءٌ، فَإِذَا بَلَغَتْ مِائَتَيْنِ فَفِيهَا خَمْسَةُ دَرَاهِمَ))
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے تم سے گھوڑوں اور غلاموں کی زکوۃ معاف کر دی ہے،البتہ تم چاندی کے ہر چالیس درہموں میں سے ایک درہم بطور زکوۃ ادا کیا کرو،اگر چاندی ایک سو نوے درہم ہو تو اس میں کوئی زکوۃ نہیں ہے، جب وہ دو سو درہم ہو جائے تو اس میں پانچ درہم زکوۃ ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3402]
تخریج الحدیث: «صحيح أخرجه ابوداود: 1574، والترمذي: 620، وابن ماجه: 1790، والنسائي: 5/ 37، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 711 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 711»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 3403
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((قَدْ عَفَوْتُ لَكُمْ عَنِ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ مِائَتَيْنِ زَكَاةٌ))
(دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے تم سے گھوڑوں اور غلاموں کی زکوۃ معاف کر دی ہے، اور دو سو درہم سے کم (چاندی) میں بھی کوئی زکوۃ نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3403]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول_x000D_
تخر يج:حديث صحيح، وھذا اسناد منقطع، فان عمرو بن دينار لم يسمعه من جابر، ويشھد له رواية ابي الزبير عن جابر عند مسلم: 980۔ أخرجه ابن ماجه: 1794، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14162 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 913»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 3404
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا صَدَقَةَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ، وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ))
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پانچ اوقیوں سے کم چاندی پر کوئی زکوۃ نہیں، پانچ وسق سے کم فصل پر کوئی زکوۃ نہیں اور پانچ اونٹوں سے کم پر زکوۃ نہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3404]
تخریج الحدیث: «ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14209»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 3405
وَعَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح کی روایت بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3405]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره أخرجه الطبراني في الاوسط: 697، والبيھقي: 4/ 121، والطحاوي: 2/ 35، والبزار: 888، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5670 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5670»
الحكم على الحديث: صحیح