الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. بَابُ جَامِعِ الْأَنْوَاعِ تَجِبُ فِيهَا الزَّكَاةُ وَبَيَانِ نِصَابِ كُلِّ مِنْهَا
جن چیزوں میں زکوۃ واجب ہے، ان کا اور ان میں سے ہر ایک کے نصاب کا بیان
حدیث نمبر: 3386
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ وَأَمَرَنِي أَنْ آخُذَ مِنْ كُلِّ حَالِمٍ دِينَارًا أَوْ عِدْلَهُ مَعَافِرَ وَأَمَرَنِي أَنْ آخُذَ مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ بَقَرَةً مُسِنَّةً وَمِنْ كُلِّ ثَلَاثِينَ بَقَرَةً تَبِيعًا حَوْلِيَّا، وَأَمَرَنِي فِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ الْعُشْرُ وَمَا سُقِيَ بِالدَّوَالِي نِصْفُ الْعُشْرِ
سیدنا معاذبن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یمن کی طرف عامل بنا کر بھیجا اورمجھے حکم دیا کہ میں ہر بالغ ذمِّی سے ایک دینار یا اس کے برابر معافری کپڑا (بطورِ جزیہ) وصول کروں اور ہر چالیس گائیوں پر دو دانتا اور ہر تیس پر ایک سال کا بچھڑا یا بچھڑی بطورِ زکوۃ وصول کروں اور جن کھیتوں کو بارش کے پانی سے سیراب کیا جاتا ہے، ان کی پیدا وار کا دسواں حصہ اور جن کو ڈول یا رہٹ کے ذریعے سیراب کیا جاتا ہے، ان کی پیداوار کا بیسواں حصہ زکوۃ لوں۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3386]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح أخرجه ابوداود: 576، 30038، والنسائي: 5/ 42، وابن ماجه: 1818، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22037 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22387»
وضاحت: فوائد: … گائیوں اور فصلوں کی زکوۃ کا بیان اگلے ابواب میں اور ذمِّی لوگوں کے جزیے کی تفصیل کتاب الجھاد میں آئے گی۔
الحكم على الحديث: صحیح
5. بَابُ زَكَاةِ الْبَقَرِ وَمَا جَاءَ فِي الْوَقْصِ
گائے اور وقص کی زکوۃ کے بارے میں بیان
حدیث نمبر: 3387
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُصَدِّقُ أَهْلَ الْيَمَنِ وَأَمَرَنِي أَنْ آخُذَ مِنَ الْبَقَرِ مِنْ كُلِّ ثَلَاثِينَ تَبِيعًا (قَالَ هَارُونَ: وَالتَّبِيعُ الْجَذَعُ أَوْ الْجَذَعَةُ) وَمِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ مُسِنَّةً، قَالَ: فَعَرَضُوا عَلَيَّ أَنْ آخُذَ مِنَ الأَرْبَعِينَ، قَالَ هَارُونَ: مَا بَيْنَ الأَرْبَعِينَ وَالْخَمْسِينَ وَمَا بَيْنَ السِّتِّينَ وَالسَّبْعِينَ وَمَا بَيْنَ الثَّمَانِينَ وَالتِّسْعِينَ، فَأَبَيْتُ ذَلِكَ، وَقُلْتُ لَهُمْ: حَتَّى أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَقَدِمْتُ، فَأَخْبَرْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَنِي أَنْ آخُذَ مِنْ كُلِّ ثَلَاثِينَ تَبِيعًا، وَمِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ مُسِنَّةً وَمِنَ السِّتِّينَ تَبِيعَتَيْنِ، وَمِنَ السَّبْعِينَ مُسِنَّةً وَتَبِيعًا وَمِنَ الثَّمَانِينَ مُسِنَّتَيْنِ، وَمِنَ التِّسْعِينَ ثَلَاثَةَ أَتْبَاعٍ، وَمِنَ الْمِائَةِ مُسِنَّةً وَتَبِيعَتَيْنِ وَمِنَ الْعَشَرَةِ وَالْمِائَةِ مُسِنَّتَيْنِ وَتَبِيعًا، وَمِنَ الْعِشْرِينَ وَمِائَةٍ ثَلَاثَ مُسِنَّاتٍ أَوْ أَرْبَعَةَ أَتْبَاعٍ قَالَ وَأَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا آخُذَ فِيمَا بَيْنَ ذَلِكَ، وَقَالَ هَارُونَ فِيمَا بَيْنَ ذَلِكَ شَيْئًا إِلَّا أَنْ يَبْلُغَ مُسَنَّةً أَوْ جَذَعًا، وَزَعَمَ أَنَّ الْأَوْقَاصَ لَا فَرِيضَةَ فِيهَا
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اہلِ یمن سے زکوۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا اور حکم دیا کہ ہر (۳۰) گائے پر ایک سالہ بچھڑا یا بچھڑی اور ہر (۴۰) پر دو دانتا وصول کروں،ان لوگوں نے میرے سامنے تجویز پیش کی کہ میں ہر چالیس کے حساب سے زکوۃ وصول کروں، ہارون راوی کہتے ہیں: یعنی چالیس اور پچاس کے درمیان اور ساٹھ اور ستر کے درمیان اور اسی اور نوے کے درمیان۔ لیکن میں نے ان کی تجویز تسلیم کرنے سے انکار کیا اور کہاکہ جب تک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت نہ کرلوں، از خود میں کوئی فیصلہ نہیں کروں گا۔ پس میں آیا اور ساری بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر (۳۰) پر ایک سالہ اور ہر (۴۰) پر دو دانتا، ہر (۶۰) پر ایک سالہ دو جانور، ہر (۷۰) پر ایک جانور دو دانتا اور ایک جانور ایک سالہ، ہر (۸۰) پر دو عدد دو دانتے،ہر (۹۰) پر تین عدد ایک سالہ، ہر (۱۰۰) پر ایک عدد دو دانتا اور دو عدد ایک سالہ، (۱۱۰)پر دو عدد دو دانتے اور ایک عدد ایک سالہ، اور (۱۲۰) پر تین عدد دو دانتے یا چار عدد ایک سالہ جانور وصول کروں۔سیدنامعاذ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یہ حکم بھی دیا کہ میں ان ہر دو نصابوں کی درمیان والی مقدار کی زکوۃ وصول نہ کروں۔ہارون کہتے ہیں: اس کا مطلب یہ ہے کہ جس مقدار پر ایک سالہ یا دو دانتا جانور واجب ہو، وہ وصول کر لوں اور درمیان والی مقدار جسے عربی میں وَقَص کہتے ہیں اس پر زکوۃ فرض نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3387]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة سلمة بن اسامة، وشيخه يحيي بن الحكم مجھول الحال أخرجه الطبراني في الكبير: 20/ 249، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22084 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22434»
وضاحت: فوائد: سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کا نبی کریم کی حیاتِ مبارکہ میں مدینہ منورہ میں واپس آنا ثابت نہیں ہے، بہرحال اس حدیث میں جو مسائل بیان کیے گئے ہیں، وہ درست ہیں کہ گائیوں کی مقدار کو حتی الامکان(۳۰، ۳۰)، (۴۰، ۴۰) اور (۳۰، ۴۰) میں تقسیم کر کے زکوۃ کے جانوروں کا فیصلہ کیا جائے اور باقی بچ جانے والے جانوروں پر زکوۃ نہ لی جائے، اسی تعداد کو وقص کہتے ہیں۔
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 3388
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو (بْنِ دِينَارٍ) عَنْ طَاوُسٍ أُتِي مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِوَقْصِ الْبَقَرِ وَالْعَسَلِ، فَقَالَ: لَمْ يَأْمُرْنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيهَا بِشَيْءٍ، قَالَ سُفْيَانُ: الْأَوْقَاصُ مَا دُونَ الثَّلَاثِينَ
طاؤس کہتے ہیں: سیدنامعاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی خدمت میں گائے اور شہد کا وقص زکوۃ کے لیے پیش کیا گیا، لیکن انھوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اس کے بارے میں کوئی حکم نہیں دیا۔ سفیان کہتے ہیں: (بچ جانے والی گائیوں کی) کی تیس سے کم مقدار وقص ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3388]
تخریج الحدیث: «منقطع، طاووس لم يدرك معاذا أخرجه الشافعي في مسنده: 1/ 237، والدارقطني: 2/ 99، والبيھقي: 4/ 98، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22019 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22369»
وضاحت: فوائد: چونکہ زکوۃ کے لیے گائے کی کم از کم مقدار (۳۰) ہونی چاہیے، اس لیے اگر کسی آدمی کے پاس (۶۹) گائیں ہیں، تو صرف (۴۰) جانوروں کی زکوۃ وصول کی جائے گی اور بقیہ (۲۹) پر کوئی زکوۃ نہیں ہو گی، کیونکہ وہ (۳۰) سے کم ہیں، اسی تعداد کو وقص کہتے ہیں۔ شہد کی زکوۃ کی تفصیل آگے آئے گی۔
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 3389
عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَتَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي صَدَقَةِ الْبَقَرِ إِذَا بَلَغَ الْبَقَرُ ثَلَاثِينَ فِيهَا تَبِيعٌ مِنَ الْبَقَرِ جَذَعٌ أَوْ جَذَعَةٌ حَتَّى تَبْلُغَ أَرْبَعِينَ فَإِذَا بَلَغَتْ أَرْبَعِينَ فَفِيهَا بَقَرَةٌ مُسِنَّةٌ، فَإِذَا كَثُرَتْ فَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ مِنَ الْبَقَرِ بَقَرَةٌ مُسِنَّةٌ
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گائے کی زکوۃ کے بارے میں یہ لکھوایا کہ جب وہ تیس ہو جائیں تو ان میں ایک سال کا بچھڑا یا بچھڑی فرض ہو گی اور جب ان کی تعداد چالیس ہو جائے تو ان میں دو دانتا جانور فرض ہو جائے گا، جب تعداد اس سے بھی بڑھ جائے تو ہر چالیس گائیوں میں ایک دو دانتا جانور ہو گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3389]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره أخرجه مختصرا الترمذي: 622، وابن ماجه: 1804، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3905 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3905»
الحكم على الحديث: صحیح
6. اجْتِنَابُ كَرَائِمِ أَمْوَالِ النَّاسِ فِي الزَّكُوةِ وَمَا يُجْزِئُ مِنَ الْغَنَمِ وَمَنْ أَدَّى أَفْضَلَ مِنَ الْوَاجِبِ
زکوۃ وصول کرتے ہوئے لوگوں کے قیمتی مال سے اجتناب کرنے، بکریوں میں سے¤کس قسم کی بکری کا کفایت کرنے اور زکوۃ کی واجب مقدار سے افضل یا زائد دینے کا بیان
حدیث نمبر: 3390
عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُصَدِّقًا عَلَى بَلِيٍّ وَعُذْرَةَ، وَجَمِيعِ بَنِي سَعْدِ بْنِ هُذَيْمِ بْنِ قُضَاعَةَ (وَفِي رِوَايَةٍ: مِنْ قُضَاعَةَ) قَالَ: فَصَدَّقْتُهُمْ حَتَّى مَرَرْتُ بِآخِرِ رَجُلٍ مِنْهُمْ، وَكَانَ مَنْزِلُهُ وَبَلَدُهُ مِنْ أَقْرَبِ مَنَازِلِهِمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ، قَالَ: فَلَمَّا جَمَعَ إِلَيَّ مَالَهُ لَمْ أَجِدْ عَلَيْهِ فِيهَا إِلَّا ابْنَةَ مَخَاضٍ يَعْنِي فَأَخْبَرْتُهُ أَنَّهَا صَدَقَتُهُ، قَالَ: فَقَالَ: ذَلِكَ مَا لَا لَبَنَ فِيهِ وَلَا ظَهْرَ، وَأَيْمُ اللَّهِ، مَا قَامَ فِي مَالِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَا رَسُولٌ لَهُ قَطُّ قَبْلَكَ، وَمَا كُنْتُ لِأُقْرِضَ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مِنْ مَالِي مَا لَا لَبَنَ فِيهِ وَلَا ظَهْرَ وَلَكِنْ هَذِهِ نَاقَةٌ فَتِيَّةٌ سَمِينَةٌ فَخُذْهَا، قَالَ: قُلْتُ لَهُ: مَا أَنَا بِآخِذٍ مَا لَمْ أُؤْمَرْ بِهِ، فَهَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْكَ قَرِيبٌ فَإِنْ أَحْبَبْتَ أَنْ تَأْتِيَهُ فَتَعْرِضَ عَلَيْهِ مَا عَرَضْتَ عَلَيَّ فَافْعَلْ، فَإِنْ قَبِلَهُ مِنْكَ قَبِلَهُ، وَإِنْ رَدَّهُ عَلَيْكَ رَدَّهُ، قَالَ فَإِنِّي فَاعِلٌ، قَالَ فَخَرَجَ مَعِي وَخَرَجَ بِالنَّاقَةِ التَّيِّ عَرَضَ عَلَيَّ حَتَّى قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! أَتَانِي رَسُولُكَ لِيَأْخُذَ مِنِّي صَدَقَةَ مَالِي، وَأَيْمُ اللَّهِ! مَا قَامَ فِي مَالِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَا رَسُولٌ لَهُ قَطُّ فَجَمَعْتُ لَهُ مَالِي فَزَعَمَ أَنَّ عَلَيَّ فِيهَا ابْنَةَ مَخَاضٍ وَذَلِكَ مَا لَا لَبَنَ فِيهِ وَلَا ظَهْرَ، وَقَدْ عَرَضْتُ عَلَيْهِ نَاقَةً فَتِيَّةً سَمِينَةً لِيَأْخُذَهَا فَأَبَى عَلَيَّ ذَلِكَ وَقَالَ: هَا هِيَ هَذِهِ قَدْ جِئْتُكَ بِهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ! خُذْهَا، قَالَ: فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((ذَلِكَ الَّذِي عَلَيْكَ، فَإِنْ تَطَوَّعْتَ بِخَيْرٍ قَبِلْنَاهُ مِنْكَ وَأَجَرَكَ اللَّهُ فِيهِ))، قَالَ: فَهَا هِيَ ذِهْ يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَدْ جِئْتُكَ بِهَا فَخُذْهَا، قَالَ: فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِقَبْضِهَا وَدَعَا لَهُ فِي مَالِهِ بِالْبَرَكَةِ
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بلی، عذرۃ، بنو سعد بن ہذیم بن قضاعہ کے قبائل کی طرف زکوۃ کی وصولی کے لیے بھیجا، میں نے ان لوگوں سے زکوۃ وصول کی اورجب میں سب سے آخری آدمی کے پاس پہنچا، وہ مدینہ منورہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ترین رہائش پذیر تھا، وہ اپنے جانور جمع کر کے میرے پاس لایا تو میں نے دیکھا کہ اس مال پر ایک سالہ اونٹنی کی زکوۃ فرض ہوتی ہے، لیکن جب میں نے اسے یہ مقدار بتائی تو وہ کہنے لگا کہ یہ جانور تو نہ دودھ والا ہے اور نہ سواری کے قابل، اللہ کی قسم! صورتحال یہ ہے کہ آج سے قبل نہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے مال میں تشریف لائے اور نہ آپ کا کوئی قاصد۔ اب میں اللہ تعالیٰ کو ایسا جانور بطورِ قرضہ نہیں دوں گا، جو نہ دودھ دیتا ہو اور نہ سواری کے قابل ہو، البتہ یہ ایک جوان اور موٹی تازی اونٹنی ہے، تم یہ لے جاؤ، میں نے کہا: میں وہ چیز نہیں لوں گا جس کے لینے کا مجھے حکم نہیں دیا گیا، یہ اللہ کے رسول تمہارے قریب ہی ہیں، اگر تم چاہو تو جو جانور مجھے دینا چاہتے ہو خود جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مرضی ہے وہ اس کو قبول کر لیں یا واپس کر دیں۔ اس نے کہا: ٹھیک ہے۔پس وہ اونٹنی ساتھ لے کر میرے ساتھ روانہ ہوا، جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گئے تو اس نے کہا: اے اللہ کے نبی! آپ کا یہ نمائندہ میرے مال کی زکوۃ وصول کرنے کے لیے میرے پاس آیا، اللہ کی قسم! اس سے پہلے نہ اللہ کے رسول میرے مال میں تشریف لائے اور نہ آپ کا کوئی قاصد، میں نے سارے جانور جمع کر کے اس قاصد کے سامنے پیش کر دیئے۔ اس نے مجھے بتایا کہ اس مال پر ایک سالہ اونٹنی کی زکوۃ واجب ہوتی ہے، چونکہ یہ جانور دودھ والا تھا نہ سواری کے قابل، اس لیے میں نے اس کی خدمت میں ایک موٹی تازی اور جوان اونٹنی پیش کی، تاکہ یہ اسے قبول کر لے، لیکن اس نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا، اے اللہ کے رسول! اب میں خود اسے لے کر آ گیا ہوں، آپ اسے قبول فرمائیں۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم پر واجب تو یہی (ایک سال) ہی ہے، ہاں اگر تم خوشی سے اس سے عمدہ دینا چاہو تو ہم قبول کر لیں گے اور اللہ تمہیں اس کا اجر دے گا، اس نے کہا:اے اللہ کے رسول! یہ وہ بہتر اونٹنی حاضر ہے، میں اسے اپنے ساتھ لے کر آیا ہوں، آپ اسے قبول فرمائیں، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے لے لینے کا حکم دیا اور اس کے مال میں برکت کی دعا کی۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3390]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن أخرجه ابوداود: 1583، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21279 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21603»
وضاحت: فوائد: صحابہ کرام کی رغبت کا اندازہ لگائیں کہ عامل کم لینا چاہتا ہے، لیکن وہ زیادہ دینے پر مصرّ ہیں۔ معلوم ہوا کہ مالک زکوۃ کی معینہ مقدار سے زیادہ دے سکتا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 3391
عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: تَانَا مُصَدِّقُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَجَلَسْتُ لَهُ فَسَمِعْتُهُ وَهُوَ يَقُولُ: إِنَّ فِي عَهْدِي أَنْ لَا أَخُذَ مِنْ رَاضِعِ لَبَنٍ، وَلَا يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ وَلَا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ وَأَتَاهُ رَجُلٌ بِنَاقَةٍ كَوْمَاءَ، فَقَالَ خُذْهَا فَأَبَى أَنْ يَأْخُذَهَا
سیدناسوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا زکوۃ وصول کرنے والا عامل ہمارے پاس آیا، میں اس کے پاس گیا، وہ یہ کہنے لگا: میری ذمہ داری ہے کہ میں دودھ پیتا جانور نہ لوں، (دوسری بات یہ ہے کہ) زکوۃ سے بچنے کے لیے نہ الگ الگ ریوڑوں کو اکٹھا کیا جائے اور نہ اکٹھے ریوڑ کو الگ الگ کیا جائے، اتنے میں ایک آدمی ان کے ہاں بلند کوہان والی شاندار اونٹنی لے کر آیا،لیکن انہوں نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3391]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن أخرجه ابوداود: 1579، 1580، وابن ماجه: 1801، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18837 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19043»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 3392
عَنِ الصُّنَابِحِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي إِبِلِ الصَّدَقَةِ نَاقَةً مُسِنَّةً، فَغَضِبَ وَقَالَ: ((مَا هَذِهِ؟))، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي ارْتَجَعْتُهَا بِبَعِيرَيْنِ مِنْ حَاشِيَةِ الصَّدَقَةِ، فَسَكَتَ
سیدنا صنابحی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صدقہ کے اونٹوں میں ایک بیش قیمت اونٹنی دیکھی تو غصے میں آ کر فرمایا: یہ کیا ہے؟ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے صدقہ کے دو کم تر اونٹ دے کر ان کے عوض یہ لی ہے۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3392]
تخریج الحدیث: «حديث ضعيف، ھذا اسناد اختلف فيه علي قيس بن ابي حازم، فرواه مجالد بن سعيد عنه، عن الصنابحيي، ومجالد ضعيف، ورواهه اسماعيل بن ابي خالد عنه مرسلا، وقال البخاري: لم يصح حديث الصدقة أخرجه ابن ابي شيبة: 3/ 125، 6/ 116، وابويعلي: 1453، والبيھقي:4/ 113، والطبراني في الكبير: 7417، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19066 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19276»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 3393
عَنْ قُرَّةَ بْنِ دُعْمُوضٍ النُّمَيْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَحَوْلَهُ النَّاسُ فَجَعَلْتُ أُرِيدُ أَنْ أَدْنُوَ مِنْهُ فَلَمْ أَسْتَطِعْ فَنَادَيْتُهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! اسْتَغْفِرْ لِلْغُلَامِ النُّمَيْرِي، فَقَالَ: ((غَفَرَ اللَّهُ لَكَ))، قَالَ وَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الضَّحَّاكَ بْنَ قَيْسٍ سَاعِيًا، فَلَمَّا رَجَعَ رَجَعَ بِإِبِلٍ جُلَّةٍ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَتَيْتَ هِلَالَ بْنَ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ فَأَخَذْتَ جُلَّةَ أَمْوَالِهِمْ))، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي سَمِعْتُكَ تَذْكُرُ الْغَزْوَ فَأَحْبَبْتُ أَنْ آتِيَكَ بِإِبِلٍ تَرْكَبُهَا وَتَحْمِلُ عَلَيْهَا، فَقَالَ: ((وَاللَّهِ! لَلَّذِي تَرَكْتَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الَّذِي أَخَذْتَ، أَرْدُدْهَا وَخُذْ مِنْ حَوَاشِي أَمْوَالِهِمْ صَدَقَاتِهِمْ))، قَالَ فَسَمِعْتُ الْمُسْلِمِينَ يَسَمُّونَ تِلْكَ الْإِبِلَ الْمَسَنَّةَ الْمُجَاهِدَاتِ
سیدناقرۃ بن دعموص نمیری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں مدینہ منورہ آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت بہت سے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اردگرد بیٹھے ہوئے تھے۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب جانا چاہتا تھا، لیکن اتنی ہمت نہیں ہوئی، اس لیے میں نے (ذرا فاصلے سے ہی) آواز دی: اے اللہ کے رسول! نمیری نوجوان کے حق میں مغفرت کی دعا فرمادیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تمہاری بخشش فرمائے۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ضحاک بن قیس رضی اللہ عنہ کو زکوۃ کی وصولی کے لیے نمائندہ بنا کر بھیجا تھا، وہ تو بڑا ہی قیمتی اونٹ لے کر آگئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم ہلال بن عامر اور عامر بن ربیعہ کے قبائل میں زکوۃ کی وصولی کے لیے گئے تھے، تم تو ان کا بڑا قیمتی مال لے آئے ہو۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک غزوہ کی تیاری کرتے ہوئے سنا تھا، اس لیے میں نے اس قسم کے اونٹ وصول کیے ہیں تاکہ وہ آپ کی سواری اور بار برداری کے کام آسکیں۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! ان اونٹوں کی نسبت مجھے وہ اونٹ زیادہ پسند ہیں، جنہیں تم چھوڑ آئے ہو، یہ واپس کر کے ان کے کم تر اونٹوں میں سے زکوۃ وصول کر کے لاؤ۔ سیدناقرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے مسلمانوں کو سنا وہ ان قوی عمر والے اونٹوں کو جہادی اونٹ کہا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3393]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة مولي قرة، ويشھد للنھي عن اخذ كرائم الأموال في الصديق احاديث اخري۔ أخرجه البيھقي: 4/ 102، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20693 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20969»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 3394
عَنْ مُسْلِمِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّ عَلْقَمَةَ اسْتَعْمَلَ أَبَاهُ عَلَى عِرَافَةِ قَوْمِهِ، قَالَ مُسْلِمٌ: فَبَعَثَنِي أَبِي إِلَى مَصْدَقَتِهِ فِي طَائِفَةٍ مِنْ قَوْمِي، قَالَ: فَخَرَجْتُ حَتَّى آتِي شَيْخًا، يُقَالُ لَهُ سَعْرٌ، فِي شِعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ، فَقُلْتُ: إِنَّ أَبِي بَعَثَنِي إِلَيْكَ لِتُعْطِيَنِي صَدَقَةَ غَنَمِكَ، فَقَالَ: أَيُّ ابْنَ أَخِي وَأَيَّ نَحْوٍ تَأْخُذُونَ؟ فَقُلْتُ: نَأْخُذُ أَفْضَلَ مَا نَجِدَ، فَقَالَ الشَّيْخُ إِنِّي لَفِي شُعَيْبٍ مِنْ هَذِهِ الشِّعَابِ فِي غَنَمٍ لِي إِذْ جَاءَنِي رَجُلَانِ مُرْتَدِفَانِ بَعِيرٍ فَقَالَا: إِنَّا رَسُولَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعَثَنَا إِلَيْكَ لِتُؤْتِيَنَا صَدَقَةَ غَنَمِكَ، قُلْتُ: وَمَا هِيَ؟ قَالَا: شَاةٌ، فَعَمَدْتُ إِلَى شَاةٍ قَدْ عَلِمْتُ مَكَانَهَا مُمْتَلِئَةً مَخْضًا وَشَحْمًا، فَأَخْرَجْتُهَا إِلَيْهِمَا، فَقَالَا: هَذِهِ شَافِعٌ، وَقَدْ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَأْخُذَ شَافِعًا وَالشَّافِعُ الَّتِي فِي بَطْنِهَا وَلَدُهَا، قَالَ: فَقُلْتُ: فَأَيَّ شَيْءٍ تَأْخُذَانِ؟ قَالَا: عَنَاقًا، أَوْ جَذَعَةً أَوْ ثَنِيَّةً، قَالَ فَأَخْرَجَ لَهُمَا عَنَاقًا، قَالَ: فَقَالَا: ادْفَعْهَا إِلَيْنَا فَتَنَاوَلَاهَا وَجَعَلَاهَا مَعَهُمَا عَلَى بَعِيرِهِمَا
مسلم بن شعبہ کہتے ہیں: علقمہ نے ان کے والد (شعبہ) کو ان کی قوم پر عامل مقرر کیا، پھر میرے والد نے مجھے میری قوم کے ایک حصہ پر زکوۃ کی وصولی کے لیے روانہ کیا، میں ایک بزرگ کے ہاں پہنچا، اس کو سِعْر کہتے تھے، وہ ایک گھاٹی میں مقیم تھا، میں نے اسے کہا: میرے والد نے مجھے آپ کی طرف بھیجا ہے، تاکہ آپ اپنی بکریوں کی زکوۃ مجھے جمع کرادیں۔ انہوں نے کہا: بھتیجے! تم بطور زکوۃ کس قسم کا جانور قبول کرو گے؟ میں نے کہا: ہم سب سے افضل اور بہترین جانور لیں گے۔ پھر اس نے کہا: میں انہی گھاٹیوں میں سے ایک گھاٹی میں مقیم تھا کہ دو شتر سوار میرے پاس آئے اور انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نمائندے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں آپ کے پاس بھیجا ہے تاکہ آپ ہمیں اپنی بکریوں کی زکوۃ جمع کرادیں۔ میں نے پوچھا: کتنی زکوۃ جی؟ انہوں نے کہا: ایک بکری۔ میں نے ایک ایسی بکری نکالی، جو دودھ اور چربی سے بھری ہوئی تھی، لیکن انہوں نے کہا: یہ تو حاملہ ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ایسا جانور لینے سے منع فرمایا ہے۔ میں نے کہا: تو پھر آپ کیسی بکری لیں گے؟ انہوں نے کہا: عَنَاق یا جَذَعہ یا ثَنِیّہ دے دو، جب میں نے عَنَاق بکری نکالی تو انھوں نے کہا: یہ ہمیں دے دو، پس انھوں نے وہ وصول کی اور اپنے ساتھ اونٹ پر رکھ کر چلے گئے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3394]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عمرو بن أبي سفيان أخرجه ابوداود: 1582، والنسائي: 5/ 33، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15427 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15505»
وضاحت: فوائد: عَنَاق: ایک سال سے کم بکری کا بچہ
الحكم على الحديث: ضعیف
7. بَابُ عَدَمِ الزَّكَاةِ فِي الرَّقِيقِ وَالْخَيْلِ وَالْحُمُرِ
غلاموں، گھوڑوں اور گدھوں میں زکوۃ کے نہ ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 3395
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِ فِي فَرَسِهِ وَلَا عَبْدِهِ صَدَقَةٌ))
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسلمان پر گھوڑے اور غلام کی زکوۃ فرض نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3395]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1463، ومسلم: 982، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7295، 9314 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7293»
الحكم على الحديث: صحیح