الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابُ افْتِرَاضِ الزَّكَاةِ وَالْحَثِّ عَلَيْهَا وَالتَّشْدِيدِ فِي مَنْعِهَا
زکوۃ کی فرضیت، اس کی ترغیب اور زکوۃ ادا نہ کرنے کی مذمت کا بیان
حدیث نمبر: 3376
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ، فَقَالَ: ((هُمُ الْأَخْسَرُونَ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ! هُمُ الْأَخْسَرُونَ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ!))، فَأَخَذَنِي غَمٌّ وَجَعَلْتُ أَتَنَفَّسُ، قَالَ: قُلْتُ: هَذَا شَيْءٌ حَدَثَ فِيَّ! قَالَ: قُلْتُ: مَنْ هُمْ فَدَاكَ أَبِي وَأُمِّي؟ قَالَ: ((الْأَكْثَرُونَ، إِلَّا مَنْ قَالَ فِي عِبَادِ اللَّهِ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا وَقَلِيلٌ مَا هُمْ، مَا مِنْ رَجُلٍ يَمُوتُ فَيَتْرُكُ غَنَمًا أَوْ إِبِلًا أَوْ بَقَرًا لَمْ يُؤَدِّ زَكَاتَهُ، إِلَّا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْظَمَ مَا تَكُونُ وَأَسْمَنَ حَتَّى تَطَؤَهُ بِأَظْلَافِهَا وَتَنْطَحَهُ بِقُرُونِهَا حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ، ثُمَّ تَعُودُ أُوْلَاهَا عَلَى أُخْرَاهَا))، وَفِي رِوَايَةٍ: ((كُلَّمَا نَفَدَتْ أُخْرَاهَا عَادَتْ عَلَيْهِ أُوْلَاهَا))
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمانے لگے: ربِّ کعبہ کی قسم! وہی بہت زیادہ خسارے والے ہیں، ربِّ کعبہ کی قسم! وہی خسارے میں ہیں۔ مجھے شدید غم نے دبوچ لیا اور اور میں ٹھنڈی آہیں بھرنے لگا، (میں دل میں ہی کہنے لگا کہ) کیا میرے اندر کوئی خرابی آگئی ہے، جس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ کچھ فرما رہے ہیں، اس لیے میں نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر نثار ہوں، کون لوگ خسارے میں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: زیادہ مال والے، ماسوائے ان لوگوں کے جو (صدقہ کرتے ہوئے) مال کو اِدھر اُدھر لٹا دیتے ہیں، لیکن ایسے لوگ تھوڑے ہیں، جو شخص بکریاں، اونٹ اور گائے وغیرہ اس حالت میں چھوڑ کر مرتا ہے کہ وہ ان کی زکوۃ ادا نہ کرتا ہو تو قیامت کے دن یہ جانور خوب موٹے تازے ہو کر آئیں گے اور اپنے مالک کو اپنے پاؤں، کھروں سے روندیں گے اور اپنے سینگوں سے اس کو ماریں گے، یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ ہو جائے گا، آخری جانور کے گزرنے کے بعد پھر پہلے کو دوبارہ لایا جائے گا۔ ایک روایت میں ہے: جب آخری جانور گزر جائے گا تو پہلے کو لوٹا لیا جائے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3376]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 990، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21351 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21678»
وضاحت: فوائد: مال کو ادھر ادھر لٹانے سے مراد کثرت سے صدقہ و خیرات کرنا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانا کہ زیادہ مال والے خسارے میں ہیں، اس فرمانِ عالی شان کی حقیقت کو سمجھنے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ اور غرباء و فقراء کی فضیلت پر مشتمل احادیث ِ مبارکہ اور صحابۂ کرام اور سلف صالحین کی سوانح عمریوں کا مطالعہ کرناضروری ہے، بہرحال سونے کا چمچ لے کر پیدا ہونے والے عام طور پر ان حقائق کو سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 3377
عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ: سَمِعْتُ قَبِيصَةَ بْنَ هُلْبٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: وَذَكَرَ الصَّدَقَةَ قَالَ: ((لَا يَجِيئَنَّ أَحَدُكُمْ بِشَاةٍ لَهَا يُعَارٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ))
سیدنا ہُلب طائی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زکوۃ پر مشتمل ایک حدیث بیان، اس میں یہ فرمایا تھا کہ: تم میں سے کوئی آدمی قیامت کے دن اس حال میں نہ آئے کہ اس کے ساتھ اس کی بکری ہو، جو ممیا رہی ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3377]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره أخرجه الطيالسي في مسنده: 1086، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21970 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22317»
وضاحت: فوائد: زکوۃ ایک اہم رکنِ اسلام اور نماز کی طرح کا فریضہ ہے، اس کی عدم ادائیگی پر کئی وعیدیں بیان کی گئی ہیں، بعض کا ذکر اس باب میں ہو چکا ہے۔ آخری حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ اگر کوئی مالک اپنے جانوروں کی زکوۃ ادا نہیں کرتا تو ایسا جانور قیامت والے دن اس کے ساتھ ہو گا اور اپنی مخصوص آواز نکال رہا ہو گا۔
الحكم على الحديث: صحیح
3. بَابُ مَا جَاءَ فِي كِتَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي جَمَعَ فِيهِ فَرَائِضَ
زکوۃ کے فرائض پر مشتمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تحریر کا بیان
حدیث نمبر: 3378
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ يَعْنِي الْوَاسِطِيَّ عَنْ سُفْيَانَ يَعْنِي بْنَ حُسَيْنٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ (عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا) قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَتَبَ الصَّدَقَةَ وَلَمْ يُخْرِجْهَا إِلَى عُمَّالِهِ حَتَّى تُوُفِّيَ، قَالَ فَأَخْرَجَهَا أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ بَعْدِهِ فَعَمِلَ بِهَا حَتَّى تُوُفِّيَ، ثُمَّ أَخْرَجَهَا عُمَرُ مِنْ بَعْدِهِ فَعَمِلَ بِهَا، قَالَ فَلَقَدْ هَلَكَ عُمَرُ يَوْمَ هَلَكَ وَإِنَّ ذَلِكَ لَمَقْرُونٌ بِوَصِيَّتِهِ، فَقَالَ كَانَ فِيهَا فِي الْإِبِلِ فِي كُلِّ خَمْسٍ شَاةٌ، حَتَّى تَنْتَهِيَ إِلَى أَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ، فَإِذَا بَلَغَتْ إِلَى خَمْسٍ وَعِشْرِينَ فَفِيهَا بِنْتُ مَخَاضٍ، إِلَى خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ ابْنَةُ مَخَاضٍ فَابْنُ لَبُونٍ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ فَفِيهَا ابْنَةُ لَبُونٍ، إِلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةٌ فَفِيهَا حِقَّةٌ، إِلَى سِتِّينَ، فَإِذَا زَادَتْ فَفِيهَا حِقَّتَانِ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ، فَإِذَا كَثُرَتْ الْإِبِلَ فَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ، وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ ابْنَةُ لَبُونَ، (وَفِي الْغَنَمِ) مِنْ أَرْبَعِينَ شَاةٌ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ، فَإِذَا زَادَتْ بَعْدُ فَلَيْسَ فِيهَا شَيْءٌ حَتَّى تَبْلُغَ أَرْبَعَمِائَةٍ، فَإِذَا كَثُرَتْ الْغَنَمُ فَفِي كُلِّ مِائَةٍ شَاةٌ، وَكَذَلِكَ لَا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ وَلَا يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ مَخَافَةَ الصَّدَقَةِ، وَمَا كَانَ مِنْ خَلِيطَيْنِ فَهُمَا يَتَرَاجَعَانِ بِالسَّوِيَّةِ، لَا تُؤْخَذُ هَرِمَةٌ وَلَا ذَاتُ عَيْبٍ مِنَ الْغَنَمِ
ٔٔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زکوۃ کے احکام تحریر کروائے، لیکن ابھی تک ان کو عاملین کی طرف نہیں بھیجاتھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انتقال فرما گئے، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے وہ تحریر عمال کی طرف بھجوائی اور ان کی وفات تک اس پر عمل ہوتا رہا، ان کے بعد سیدناعمر رضی اللہ عنہ نے بھی وہی تحریر اپنے عمال کو بھجوائی اور اس پر عمل ہوتا رہا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے وقت وہ تحریر ان کی وصیت کے ساتھ موجود تھی، سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: اس میں یہ تفصیل لکھی ہوئی تھی: چوبیس اونٹوں تک ہر پانچ اونٹ میں ایک بکری بطور زکوۃ مقرر ہے، جب پچیس اونٹ ہو جائیں تو ایک بنت ِ مخاض فرض ہے، اگر بنت ِ مخاض نہ ہو تو ابن لبون دیا جا سکتا ہے، زکوۃ کی یہ مقدار پینتیس اونٹوں تک ہے، جب چھتیس ہو جائیں تو پینتالیس اونٹوں تک بنت ِ لبون واجب ہے، پھر چھیالیس سے ساٹھ تک حِقّہ ہے، اس سے بڑھ جائیں تو پچھتر تک جذعہ ہے، جب اونٹ اس مقدار سے بھی بڑھ جائیں تو نوے (۹۰) تک دو عدد بنت ِ لبون ہوں گی۔ اس کے بعد اکانوے سے ایک سو بیس تک تین حقّے واجب ہیں اور جب اونٹ اس سے بھی زائد ہوں تو ہر پچاس پرایک حقّہ اور ہر چالیس میں ایک بنت ِ لبون بطور زکوۃ فرض ہے۔ رہا مسئلہ بکریوں کی زکوۃ کا تو (۴۰) سے (۱۲۰) بکریوں تک ایک بکری اور (۱۲۱) سے (۲۰۰)تک دو بکریاں بطورِ زکوۃ فرض ہیں، اگر وہ اس سے زیادہ ہو جائیں تو (۳۰۰) تک تین بکریاں اور اس کے بعد (۴۰۰) ہو جائیں تو چار بکریاں ہیں۔ اس سے بھی زیادہ بکریاں ہوں تو ہر (۱۰۰) میں ایک بکری۔زکوۃ سے بچنے کے لیے ایک ریوڑ کو الگ الگ یا الگ الگ ریوڑوں کو اکٹھا نہ کیا جائے۔ اگر ایک سے زائد شرکاء کی بکریوں میں سے زکوۃ واجب ہو گئی تو وہ آپس میں برابر برابر تقسیم کر لیں گے۔ زکوۃ میں کوئی بوڑھی یا عیب والی بکری نہ لی جائے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3378]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وھذا اسناد ضعيف لضعف سفيان بن حسين في روايته عن الزھري أخرجه ابوداود: 1568، والترمذي: 621، وابن ماجه: 17798، 1805، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4632، 4634 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4634»
وضاحت: فوائد: ساری حدیث واضح احکام پر مشتمل ہے، استعمال ہونے والی اصطلاحات کے معانی یہ ہیں:
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 3379
عَنْ طَارِقٍ قَالَ: خَطَبَنَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ: مَا عِنْدَنَا شَيْءٌ مِنَ الْوَحْيِ أَوْ قَالَ كِتَابٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مَا فِي كِتَابِ اللَّهِ، وَهَذِهِ الصَّحِيفَةِ، الْمَقْرُونَةِ بِسَيْفِي، وَعَلَيْهَا سَيْفٌ حِلْيَتُهُ حَدِيدٌ، وَفِيهَا فَرَائِضُ الصَّدَقَاتِ
طارق کہتے ہیں:سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیا اور اس میں یہ بھی کہا:ہمارے پاس کوئی مخصوص وحی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی الگ تحریرنہیں ہے، ہمیں بھی اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اس صحیفہ والی ہدایات دی گئی ہیں، جو صحیفہ میری تلوار کے ساتھ بندھا ہوا ہے۔ اس وقت سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک تلوار تھی اور اس کا زیور لوہے کا تھا، اس میں زکوۃ کا نصاب تحریر تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3379]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره أخرجه البزار: 513، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 782 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 798»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 3380
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: مَا عِنْدَنَا كِتَابٌ نَقْرَؤُهُ عَلَيْكُمْ إِلَّا مَا فِي الْقُرْآنِ وَمَا هَذِهِ الصَّحِيفَةِ، صَحِيفَةٌ كَانَتْ فِي قِرَابِ سَيْفٍ كَانَ عَلَيْهِ، حِلْيَتُهُ حَدِيدٌ، أَخَذْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيهَا فَرَائِضُ الصَّدَقَةِ
(دوسری سند) طارق کہتے ہیں: میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا:ہمارے پاس کوئی علیحدہ تحریر نہیں ہے جو ہم تم لوگوں پر پڑھیں، ما سوائے قرآن اور اس صحیفہ کے، اس وقت وہ صحیفہ ان کی تلوار کے میان میں تھا، جس کا زیور لوہے کا تھا،میں نے یہ صحیفہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لیا تھا، اس میں زکوۃ کا نصاب تحریر کیا گیا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3380]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 874»
وضاحت: فوائد: یہ وہی صحیفہ تھا، جس کا ذکر پچھلی حدیث میں گزر چکا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 3381
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ: أَخَذْتُ هَذَا الْكِتَابَ مِنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَتَبَ لَهُمْ: أَنَّ هَذِهِ فَرَائِضُ الصَّدَقَةِ الَّتِي فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَمَنْ سُئِلَهَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَلَى وَجْهِهَا فَلْيُعْطِهَا، وَمَنْ سُئِلَ فَوْقَ ذَلِكَ فَلَا يُعْطِهِ، فِيمَا دُونَ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ مِنَ الْإِبِلِ، فَفِي كُلِّ خَمْسٍ ذَوْدٍ شَاةٌ، فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا وَعِشْرِينَ فَفِيهَا ابْنَةُ مَخَاضٍ إِلَى خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةٌ فَفِيهَا ابْنَةُ لَبُونٍ إِلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةٌ فَفِيهَا حِقَّةٌ طَرُوقَةَ الْفَحْلِ إِلَى سِتِّينَ، فَإِذَا بَلَغَتْ إِحْدَى وَسِتِّينَ فَفِيهَا جَذَعَةٌ إِلَى خَمْسٍ وَسَبْعِينَ، فَإِذَا بَلَغَتْ سِتَّةً وَسَبْعِينَ فَفِيهَا ابْنَتَا لَبُونٍ إِلَى تِسْعِينَ، فَإِذَا بَلَغَتْ إِحْدَى وَتِسْعِينَ فَفِيهَا حِقَّتَانِ طَرُوقَتَا الْفَحْلِ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ، فَإِنْ زَادَتْ عَلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ ابْنَةُ لَبُونٍ، وَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ، فَإِذَا تَبَايَنَ أَسْنَانُ الْإِبِلِ فِي فَرَائِضِ الصَّدَقَاتِ، فَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةُ الْجَذَعَةِ وَلَيْسَ عِنْدَهُ جَذَعَةٌ وَعِنْدَهُ حِقَّةٌ، فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ وَيَجْعَلُ مَعَهَا شَاتَيْنِ إِنْ اسْتَيْسَرَتَا لَهُ أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا، وَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةُ الْحِقَّةِ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ إِلَّا جَذَعَةٌ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ وَيُعْطِيهِ الْمُصَدِّقُ عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ، وَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةُ ابْنَةِ لَبُونٍ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ ابْنَةُ لَبُونٍ وَعِنْدَهُ ابْنَةُ مَخَاضٍ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ وَيَجْعَلُ مَعَهَا شَاتَيْنِ إِنْ اسْتَيْسَرَتَا لَهُ أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا، وَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةُ بِنْتِ مَخَاضٍ وَلَيْسَ عِنْدَهُ إِلَّا ابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ فَإِنَّهُ يُقْبَلُ مِنْهُ وَلَيْسَ مَعَهُ شَيْءٌ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ إِلَّا أَرْبَعٌ مِنَ الْإِبِلِ فَلَيْسَ فِيهَا شَيْءٌ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا، وَفِي الْغَنَمِ فِي سَائِمَتِهَا، إِذَا كَانَتْ أَرْبَعِينَ فَفِيهَا شَاةٌ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ، فَإِنْ زَادَتْ فَفِيهَا شَاتَانِ إِلَى مِائَتَيْنِ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةٌ فَفِيهَا ثَلَاثُ شِيَاهٍ إِلَى ثَلَاثِمِائَةٍ، فَإِذَا زَادَتْ فَفِي كُلِّ مِائَةٍ شَاةٌ، وَلَا تُؤْخَذُ فِي الصَّدَقَةِ هَرِمَةٌ وَلَا ذَاتُ عَوَارٍ، وَلَا تَيْسٌ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ الْمُتَصَدِّقُ، وَلَا يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ وَلَا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ، وَمَا كَانَ مِنْ خَلِيطَيْنِ فَإِنَّهُمَا يَتَرَاجَعَانِ بَيْنَهُمَا بِالسَّوِيَّةِ، وَإِذَا كَانَتْ سَائِمَةُ الرَّجُلِ نَاقِصَةً مِنْ أَرْبَعِينَ شَاةً وَاحِدَةٌ فَلَيْسَ فِيهَا شَيْءٌ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا، وَفِي الرِّقَاقِ رُبْعُ الْعُشُورِ، فَإِذَا لَمْ يَكُنِ الْمَالُ إِلَّا تِسْعِينَ وَمِائَةَ دِرْهَمٍ فَلَيْسَ فِيهَا شَيْءٌ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا))
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان (بحرین والوں) کی طرف یہ تحریر لکھ کر بھیجی: یہ زکوۃ کا وہ نصاب ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمانوں پر فرض کیا اور جس کا اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو حکم دیا ہے، جس مسلمان سے اس کے مطابق زکوۃ وصول کی جائے، وہ ادا کرے اور جس سے اس سے زائد کا مطالبہ کیا جائے، وہ نہ دے۔ (تفصیل یہ ہے:) اونٹوں کی تعداد (۲۵) سے کم ہو تو ہر پانچ اونٹوں پر ایک بکری ہے۔ (۲۵) سے (۳۵) تک ایک بنت ِ مخاض یا ابن لبون، (۳۶) سے (۴۵) تک بنت ِ لبون،(۴۶) سے (۶۰) تک نر کی جفتی کے قابل حِقّہ،(۶۱) سے (۶۵) تک جذعہ، (۷۶) سے (۹۰) تک دو عدد بنت ِ لبون اور (۹۱)سے (۱۲۰) تک دو عدد حقّے ہیں۔ جب اونٹوں کی تعداد اس سے بڑھ جائے تو ہر (۴۰) پر ایک بنت ِ لبون اور ہر (۵۰) پر ایک حقّہ زکوۃ ہو گی اور اگر زکوۃ کے اس سلسلے میں اونٹوں کی عمریں مختلف ہو جائیں، یعنی جس نے زکوۃ میں جذعہ ادا کرنی ہو، لیکن اس کے پاس جذعہ نہ ہو، البتہ حِقّہ ہو تو اس سے وہی لیا جائے گا اور اس کے ساتھ اگر میسر ہو تو دو بکریاں دے دے یا بیس درہم، اسی طرح اگر کسی نے زکوۃ میں حقّہ ادا کرنا ہو، لیکن اس کے پاس جذعہ ہو تو وہی اس سے قبول کر لی جائے گی، لیکن زکوۃ وصول کرنے والا نمائندہ بیس درہم یا دو بکریاں اسے واپس کرے گا، اور جس پر حِقّہ کی زکوۃ ہو، لیکن اس کے پاس یہ اونٹنی نہ ہو، بلکہ بنت لبون ہو تو اس سے وہی لے لی جائے گی، لیکن (اس کمی کو پورا کرنے کے لیے) اگر میسر ہو تو دو بکریاں دینا پڑیں گی، نہیں تو بیس درہم، اسی طرح جس پر بنت ِ لبون کی زکوۃ پڑ جائے، لیکن اس کے پاس حِقّہ ہو تو وہی اس سے لے لیا جائے گا، لیکن زکوۃ وصول کنندہ اسے بیس درہم یا دو بکریاں واپس کرے گا، اسی طرح جس نے زکوۃ میں بنت لبون ادا کرنی ہو، لیکن اس کے پاس یہ اونٹنی نہ ہو، بلکہ بنت ِ مخاض ہو تو اس سے یہی لے لی جائے گی، لیکن اسے اس کے ساتھ اگر میسر ہوں تو بکریاں، وگرنہ بیس درہم دینا پڑیں گے، اور جس نے زکوۃ میں بنت ِ مخاض ادا کرنی ہو، لیکن اس کے پاس یہ اونٹنی نہ ہو، بلکہ ابن لبون ہو تو اس سے وہی قبول کیا جائے گا، لیکن اس کے ساتھ مزید کوئی چیز نہیں لی جائے گی۔ اور جس کے پاس صرف چار اونٹ ہوں تو اس پر زکوۃ نہیں ہے، ہاں اگر وہ از خود (بطورِ نفل) کچھ دینا چاہے تو (ٹھیک ہے)۔ چرنے والی بکریوں کا نصابِ زکوۃ یہ ہے: (۴۰) سے (۱۲۰) تک ایک بکری، (۱۲۱) سے (۲۰۰) تک دو بکریاں اور (۲۰۰) سے (۳۰۰) تک تین بکریاں زکوۃ لی جائے گی، اس کے بعد ہر (۱۰۰) میں ایک بکری وصول کی جائے گی۔زکوۃ میں بوڑھی، کانی یا نر جانور نہیں لیا جائے گا، اگر مالک چاہے تو نر جانور بھی دے سکتا ہے، زکوۃ سے بچنے کے لیے نہ الگ الگ ریوڑوں کو اکٹھا کیا جا سکتا اور نہ اکٹھے ریوڑ کو علیحدہ علیحدہ کیا جا سکتا ہے، اگر کسی (ریوڑ میں) دو آدمیوں کا اشتراک ہو تو وہ (ادا شدہ زکوۃ) کو برابر تقسیم کریں گے، اگر چرنے والی بکریوں کی تعداد چالیس سے ایک بھی کم ہو تو ان پر زکوۃ واجب نہیں ہو گی، ہاں اگر مالک (از خود بطورِ نفل) دینا چاہے تو اس کی مرضی ہے۔ چاندی میں چالیسواں حصہ بطور زکوۃ واجب ہے، اگر چاندی (۱۹۰) درہم ہو، تو اس میں زکوۃ واجب نہیں ہو گی، ہاں اگر مالک از خود بطور نفل دینا چاہے تو اس کی مرضی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3381]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري مفرقا 1448، 1450، 1451، 1453، 1454، 2487، 3106، 5878، 6955، رواه ابوداود:1567، وابن ماجه: 1800، والنسائي: 5/ 27، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 72 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 72»
وضاحت: وصول کرنے والا نمائندہ بیس درہم یا دو بکریاں اسے واپس کرے گا، اور جس پر حِقّہ کی زکوۃ ہو، لیکن اس کے پاس یہ اونٹنی نہ ہو، بلکہ بنت لبون ہو تو اس سے وہی لے لی جائے گی، لیکن (اس کمی کو پورا کرنے کے لیے) اگر میسر ہو تو دو بکریاں دینا پڑیں گی، نہیں تو بیس درہم، اسی طرح جس پر بنت ِ لبون کی زکوۃ پڑ جائے، لیکن اس کے پاس حِقّہ ہو تو وہی اس سے لے لیا جائے گا، لیکن زکوۃ وصول کنندہ اسے بیس درہم یا دو بکریاں واپس کرے گا، اسی طرح جس نے زکوۃ میں بنت لبون ادا کرنی ہو، لیکن اس کے پاس یہ اونٹنی نہ ہو، بلکہ بنت ِ مخاض ہو تو اس سے یہی لے لی جائے گی، لیکن اسے اس کے ساتھ اگر میسر ہوں تو بکریاں، وگرنہ بیس درہم دینا پڑیں گے، اور جس نے زکوۃ میں بنت ِ مخاض ادا کرنی ہو، لیکن اس کے پاس یہ اونٹنی نہ ہو، بلکہ ابن لبون ہو تو اس سے وہی قبول کیا جائے گا، لیکن اس کے ساتھ مزید کوئی چیز نہیں لی جائے گی۔ اور جس کے پاس صرف چار اونٹ ہوں تو اس پر زکوۃ نہیں ہے، ہاں اگر وہ از خود (بطورِ نفل) کچھ دینا چاہے تو (ٹھیک ہے)۔ چرنے والی بکریوں کا نصابِ زکوۃ یہ ہے: (۴۰) سے (۱۲۰) تک ایک بکری، (۱۲۱) سے (۲۰۰) تک دو بکریاں اور (۲۰۰) سے (۳۰۰) تک تین بکریاںزکوۃ لی جائے گی، اس کے بعد ہر (۱۰۰) میں ایک بکری وصول کی جائے گی۔زکوۃ میں بوڑھی، کانی یا نر جانور نہیں لیا جائے گا، اگر مالک چاہے تو نر جانور بھی دے سکتا ہے، زکوۃ سے بچنے کے لیے نہ الگ الگ ریوڑوں کو اکٹھا کیا جا سکتا اور نہ اکٹھے ریوڑ کو علیحدہ علیحدہ کیا جا سکتا ہے، اگر کسی (ریوڑ میں) دو آدمیوں کا اشتراک ہو تو وہ (ادا شدہ زکوۃ) کو برابر تقسیم کریں گے، اگر چرنے والی بکریوں کی تعداد چالیس سے ایک بھی کم ہو تو ان پر زکوۃ واجب نہیں ہو گی، ہاں اگر مالک (از خود بطورِ نفل) دینا چاہے تو اس کی مرضی ہے۔ چاندی میں چالیسواں حصہ بطور زکوۃ واجب ہے، اگر چاندی (۱۹۰) درہم ہو، تو اس میں زکوۃ واجب نہیں ہو گی، ہاں اگر مالک از خود بطور نفل دینا چاہے تو اس کی مرضی ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
4. بَابُ جَامِعِ الْأَنْوَاعِ تَجِبُ فِيهَا الزَّكَاةُ وَبَيَانِ نِصَابِ كُلِّ مِنْهَا
جن چیزوں میں زکوۃ واجب ہے، ان کا اور ان میں سے ہر ایک کے نصاب کا بیان
حدیث نمبر: 3382
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسٍ أَوَاقٍ مِنَ الْوَرِقِ صَدَقَةٌ وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسٍ مِنَ الْإِبِلِ صَدَقَةٌ وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ مِنَ التَّمْرِ صَدَقَةٌ))
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: پانچ اوقیوں سے کم چاندی پر کوئی زکوۃ نہیں، پانچ اونٹوں سے کم پر زکوۃ نہیں اور پانچ وسق سے کم کھجور پر کوئی زکوۃ نہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3382]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1405، 1447، ومسلم: 979، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1130 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11835»
وضاحت: فوائد: اونٹوں کے نصاب اور شرح کی تفصیل گزشتہ باب میں گزر چکی ہے، باقی دو چیزوں کی وضاحت یہ ہے:
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 3383
عَنْ قَزْعَةَ وَقَدْ سَأَلَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَشْيَاءَ قَالَ وَسَأَلْتُهُ عَنِ الزَّكَاةِ (لَا أَدْرِي أَرَفَعَهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمْ لَا) فِي مِائَتَيْ دِرْهَمٍ خَمْسَةُ دَرَاهِمَ، وَفِي أَرْبَعِينَ شَاةً شَاةٌ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةٌ فَفِيهَا شَاتَانِ إِلَى مِائَتَيْنِ فَإِذَا زَادَتْ فَفِيهَا ثَلَاثُ شِيَاهٍ إِلَى ثَلَاثِمِائَةٍ، فَإِذَا زَادَتْ فَفِي كُلِّ مِائَةٍ شَاةٌ، وَفِي الْإِبِلِ فِي خَمْسٍ شَاةٌ وَفِي عَشْرٍ شَاتَانِ وَفِي خَمْسَ عَشْرَةَ ثَلَاثُ شِيَاهٍ، وَفِي عِشْرِينَ أَرْبَعُ شِيَاهٍ، وَفِي خَمْسٍ وَعِشْرِينَ ابْنَةُ مَخَاضٍ إِلَى خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةٌ فَفِيهَا ابْنَةُ لَبُونٍ إِلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةٌ فَفِيهَا حِقَّةٌ إِلَى سِتِّينَ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةٌ فَفِيهَا جَذَعَةٌ إِلَى خَمْسٍ وَسَبْعِينَ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةٌ فَفِيهَا ابْنَتَا لَبُونٍ إِلَى تِسْعِينَ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةٌ فَفِيهَا حِقَّتَانِ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَإِذَا زَادَتْ فَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ، وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بِنْتُ لَبُونٍ
قزعہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مختلف اشیاء میں زکوۃ کے بارے میں دریافت کیا، انہوں نے جواب تو دیا، لیکن مجھے یہ یاد نہیں کہ انہوں نے اس جواب کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف منسوب کیا تھا یا نہیں، بہرحال انھوں نے کہا: (۲۰۰)درہم چاندی میں پانچ درہم اور بکریوں میں (۴۰)سے (۱۲۰) تک ایک بکری زکوۃ ہے، (۱۲۰) سے ایک بھی بڑھ جائے تو (۲۰۰) تک دو بکریاں، (۲۰۰) سے زائد بکریاں ہو جائیں تو (۳۰۰) تک تین بکریاں اور اس کے بعد ہر (۱۰۰) میں ایک بکری زکوۃ ہو گی۔پانچ اونٹوں میں ایک بکری، دس میں دو، پندرہ میں تین، بیس میں چار بکریاں، (۲۵) سے (۳۵) تک ایک بنت ِ مخاض، (۳۶) سے (۴۵) تک ایک بنت ِ لبون، (۴۶) سے (۶۰) تک ایک حِقّہ، (۶۱) سے (۷۵) تک ایک جذعہ، (۷۶) سے (۹۰) تک دو عدد بنت ِ لبون اور (۹۱) سے (۱۲۰) تک دو عدد حِقّے زکوۃ ہو گی، اس کے بعد ہر (۵۰) میں ایک عدد حقّہ اور ہر (۴۰) میں ایک بنت ِ لبون کی زکوۃ فرض ہو گی۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3383]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11307 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11327»
وضاحت: فوائد: یہ سارے احکام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھی ثابت ہیں۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 3384
عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ (مُعَاوِيَةَ بْنِ حَيْدَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) قَالَ: سَمِعْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((فِي كُلِّ إِبِلٍ سَائِمَةٍ فِي كُلِّ أَرْبَعِينَ ابْنَةُ لَبُونٍ لَا تُفَرَّقُ إِبِلٌ عَنْ حِسَابِهَا، مَنْ أَعْطَاهَا مُؤْتَجِرًا فَلَهُ أَجْرُهَا وَمَنْ مَنَعَهَا فَإِنَّا آخِذُوهَا مِنْهُ وَشَطْرَ إِبِلِهِ، عَزْمَةً مِنْ عَزَمَاتِ رَبِّنَا عَزَّ وَجَلَّ، لَا يَحِلُّ لِآلِ مُحَمَّدٍ مِنْهَا شَيْءٌ))
سیدنامعاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چرنے والے چالیس اونٹوں میں ایک بنت ِ لبون کی زکوۃ ہو گی، (زکوۃ سے بچنے کے لیے مشترک) اونٹوں کو الگ الگ نہیں کیا جائے گا، جو آدمی اجر وثواب کی نیت سے زکوۃ دے گا، اسے اس کا اجر ملے گا اور جو یہ ادا نہیں کرے گا، تو ہم خود اس سے (جبراً) وصول کریں گے اور (بطورِ جرمانہ) اس کے اونٹوں میں سے کچھ اونٹ بھی لیں گے، کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے واجب حقوق میں سے ہے اور آلِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے اس میں سے کچھ لینا حلال نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3384]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن أخرجه ابوداود: 1575، والنسائي: 5/ 25، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20016 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20265»
وضاحت: فوائد: اگر کسی سے جبراً زکوۃ لی جائے تو یہ اسے کفایت کرے گی، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ خلیفہ کو رعایا کے کسی جرم پر ان سے جرمانہ لینے کا حق حاصل ہے، سنن ابی داود کی روایات کے مطابق اس کی دو مثالیں اور بھی ہیں: (۱)گم شدہ اونٹ کو چھپا لینے والے سے اس وجہ سے ایک اونٹ زائد لینا اور (۲) جو آدمی درخت پر لگے ہوئے پھل اپنے ساتھ لے کر جائے گا، اس سے اس پھل کا دو گنا جرمانہ لیا جائے گا۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 3385
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي الْإِبِلِ صَدَقَتُهَا، وَفِي الْغَنَمِ صَدَقَتُهَا، وَفِي الْبَقَرِ صَدَقَتُهَا، وَفِي الْبُرِّ صَدَقَتُهُ
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اونٹوں میں زکوۃ ہے، بکریوں میں زکوۃ ہے، گایوں میں زکوۃ ہے اور گندم میں بھی زکوۃ ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3385]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، ابن جريج لم يسمعه من عمران بن ابي انس أخرجه الدارقطني: 2/ 102، والحاكم: 1/ 388، والبيھقي: 4/ 147، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21557 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21890»
الحكم على الحديث: ضعیف