🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. باب صِفَّةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ
باب: قیامت اور جنت اور دوزخ کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2785 ترقیم شاملہ: -- 7045
حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنِي الْمُغِيرَةُ يَعْنِي الْحِزَامِيَّ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّهُ لَيَأْتِي الرَّجُلُ الْعَظِيمُ السَّمِينُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا يَزِنُ عِنْدَ اللَّهِ جَنَاحَ بَعُوضَةٍ اقْرَءُوا فَلا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَزْنًا سورة الكهف آية 105 ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (قیامت کے دن) ایک بہت بڑا (اور) موٹا آدمی آئے گا، (لیکن) اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ (وزن میں) مچھر کے پر کے برابر بھی نہ ہو گا۔ (یہ آیت) پڑھ لو: «فَلَا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَزْنًا» پس ہم قیامت کے دن ان کے لیے کوئی وزن قائم نہیں کریں گے۔ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7045]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: واقعہ یہ ہے قیامت کے دن ایک بڑا موٹا تازہ آدمی آئے گا، جس کا اللہ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی وزن نہیں ہو گا، یہ آیت پڑھ لو: ﴿فَلَا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَزْنًا﴾ [سورة الكهف: 105] ہم قیامت کے دن انہیں کوئی وزن نہیں دیں گے، یعنی بد اعمالیوں کی بنا پر اس کی کوئی قدر و منزلت نہیں ہو گی۔ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7045]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2785
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2786 ترقیم شاملہ: -- 7046
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلٌ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: " جَاءَ حَبْرٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ أَوْ يَا أَبَا الْقَاسِمِ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يُمْسِكُ السَّمَاوَاتِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى إِصْبَعٍ، وَالْأَرَضِينَ عَلَى إِصْبَعٍ، وَالْجِبَالَ وَالشَّجَرَ عَلَى إِصْبَعٍ، وَالْمَاءَ وَالثَّرَى عَلَى إِصْبَعٍ، وَسَائِرَ الْخَلْقِ عَلَى إِصْبَعٍ، ثُمَّ يَهُزُّهُنَّ، فَيَقُولُ: أَنَا الْمَلِكُ أَنَا الْمَلِكُ؟ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعَجُّبًا مِمَّا قَالَ الْحَبْرُ تَصْدِيقًا لَهُ، ثُمَّ قَرَأَ وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ سورة الزمر آية 67 "،
فضیل بن عیاض نے منصور سے، انہوں نے ابراہیم سے، انہوں نے عبیدہ سلمانی سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ایک یہودی عالم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم یا کہا: ابوالقاسم! بے شک اللہ تعالیٰ قیامت کے دن آسمانوں کو ایک انگلی پر رکھ لے گا، اور زمینوں کو ایک انگلی پر، اور پہاڑوں اور درختوں کو ایک انگلی پر اور پانی اور گیلی مٹی کو ایک انگلی پر اور تمام مخلوق کو ایک انگلی پر تھام لے گا، پھر ان کو بلائے گا اور فرمائے گا: بادشاہ میں ہوں، بادشاہ میں ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس یہودی عالم کی بات پر تعجب اور اس کے تصدیق کرتے ہوئے ہنسے، پھر آپ نے (یہ آیت) پڑھی: «وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ ۚ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ» انہوں نے اس طرح اللہ کی قدر نہیں کی جس طرح اس کی قدر کرنے کا حق ہے۔ ساری زمین اور سب کے سب آسمان قیامت کے دن اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے۔ وہ (ہر اس چیز کی شراکت سے) پاک اور بلند ہے جنہیں وہ (اس کے ساتھ) شریک کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7046]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک یہودی عالم، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! یا اے ابو القاسم! اللہ تعالیٰ قیامت کے دن آسمانوں کو ایک انگلی پر رکھے گا اور زمینوں کو ایک انگلی پر اٹھائے گا اور پہاڑوں اور درختوں کو ایک انگلی سے پکڑے گا، پانی اور نمدار زمین کو ایک انگلی پر اٹھائے گا اور باقی تمام مخلوق کو ایک انگلی پر اٹھائے گا، پھر ان کو حرکت دے گا، ہلائے گا اور فرمائے گا: میں ہی حقیقی بادشاہ ہوں، میں ہی اصل بادشاہ ہوں، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہودی عالم کی بات پر تعجب کرتے ہوئے اور اس کی تصدیق کرتے ہوئے ہنس پڑے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: ﴿وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ ۚ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ﴾ [سورة الزمر: 67] ان لوگوں نے اللہ کی قدر نہیں کی، جیسا کہ اس کی قدر و منزلت کا حق ہے، قیامت کے دن ساری زمین اس کی مٹھی میں ہو گی اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپیٹے ہوں گے۔ وہ پاک اور بالاتر ہے ان سے جن کو یہ لوگ شریک ٹھہراتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7046]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2786
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2786 ترقیم شاملہ: -- 7047
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ كِلَاهُمَا، عَنْ جَرِيرٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ: جَاءَ حَبْرٌ مِنَ الْيَهُودِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ فُضَيْلٍ، وَلَمْ يَذْكُرْ، ثُمَّ يَهُزُّهُنَّ، وَقَالَ: فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ تَعَجُّبًا لِمَا، قَالَ تَصْدِيقًا لَهُ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ سورة الزمر آية 67 وَتَلَا الْآيَةَ.
جریر نے منصور سے اسی سند کے ساتھ روایت کی، کہا: یہود میں سے ایک عالم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، فضیل کی حدیث کے مانند، اور اس میں یہ بیان نہیں کیا: وہ (اللہ) ان (انگلیوں) کو ہلائے گا۔ اور (حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے) کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دے کھا، آپ اس بات پر تعجب سے اس کی تصدیق کرتے ہوئے (اس طرح) ہنسے کہ آپ کے پچھلے دندان مبارک ظاہر ہو گئے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہوں نے (اس طرح) اللہ کی قدر نہیں کی (جس طرح) اس کی قدر کرنے کا حق ہے۔ (اور (پوری) آیت تلاوت فرمائی) «وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ ۚ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ» انہوں نے اس طرح اللہ کی قدر نہیں کی جس طرح اس کی قدر کرنے کا حق ہے۔ ساری زمین اور سب کے سب آسمان قیامت کے دن اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے۔ وہ (ہر اس چیز کی شراکت سے) پاک اور بلند ہے جنہیں وہ (اس کے ساتھ) شریک کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7047]
امام صاحب اپنے دو اساتذہ سے یہی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک یہودی آیا، لیکن اس میں ان کے ہلانے کا ذکر نہیں ہے اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اس قدر ہنسے کہ آپ کی کچلیاں ظاہر ہو گئیں، آپ نے اس کے قول پر تعجب کیا اور اس کی تصدیق کی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انھوں نے اللہ کی اس قدر تعظیم نہیں کی جیسا کہ اس کی قدر کرنے کا حق ہے اور یہ آیت پڑھی: ﴿وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ﴾ [سورة الزمر: 67] ۔ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7047]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2786
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2786 ترقیم شاملہ: -- 7048
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، قَالَ: سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَلْقَمَةَ ، يَقُولُ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : جَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا أَبَا الْقَاسِمِ، إِنَّ اللَّهَ يُمْسِكُ السَّمَاوَاتِ عَلَى إِصْبَعٍ، وَالْأَرْضِينَ عَلَى إِصْبَعٍ، وَالشَّجَرَ وَالثَّرَى عَلَى إِصْبَعٍ، وَالْخَلَائِقَ عَلَى إِصْبَعٍ، ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا الْمَلِكُ أَنَا الْمَلِكُ، قَالَ: فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ ثُمَّ قَرَأَ وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ سورة الزمر آية 67 "،
حفص بن غیاث نے کہا: ہمیں اعمش نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے ابراہیم کو کہتے ہوئے سنا: میں نے علقمہ کو کہتے ہوئے سنا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: اہل کتاب میں سے ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور اس نے کہا: ابوالقاسم! بے شک اللہ تعالیٰ تمام آسمانوں کو ایک انگلی پر، زمینوں کو ایک انگلی پر اور درختوں اور گیلی مٹی کو ایک انگلی پر اور تمام مخلوق کو ایک انگلی پر تھام لے گا، پھر فرمائے گا: بادشاہ میں ہوں، بادشاہ میں ہوں۔ (ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے) کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دے کھا، آپ (اس بات پر) ہنس پڑے یہاں تک کہ آپ کے پچھلے دندان مبارک ظاہر ہو گئے، پھر آپ نے (اس آیت کی) تلاوت کی: «وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ» انہوں نے اللہ تعالیٰ کی (اس طرح) قدر نہیں پہچانی جس طرح قدر پہچاننے کا حق ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7048]
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اہل کتاب میں سے ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! یا اے ابو القاسم! اللہ تعالیٰ قیامت کے دن آسمانوں کو ایک انگلی پر اور زمینوں کو ایک انگلی پر، درختوں اور گیلی مٹی کو ایک انگلی پر اور تمام مخلوق کو ایک انگلی پر اٹھائے گا، پھر فرمائے گا: «أَنَا الْمَلِكُ، أَنَا الْمَلِكُ» میں ہی بادشاہ ہوں، میں ہی بادشاہ ہوں، چنانچہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کچلیاں ظاہر ہو گئیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا: ﴿وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ﴾ [سورة الزمر: 67] ان لوگوں نے اللہ کی اس قدر تعظیم نہیں کی جس قدر اس کا حق تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7048]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2786
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2786 ترقیم شاملہ: -- 7049
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحاَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ . ح وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ كُلُّهُمْ، عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِهِمْ جَمِيعًا وَالشَّجَرَ عَلَى إِصْبَعٍ، وَالثَّرَى عَلَى إِصْبَعٍ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ وَالْخَلَائِقَ عَلَى إِصْبَعٍ، وَلَكِنْ فِي حَدِيثِهِ وَالْجِبَالَ عَلَى إِصْبَعٍ وَزَادَ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ، تَصْدِيقًا لَهُ تَعَجُّبًا لِمَا قَالَ.
ابومعاویہ، عیسیٰ بن یونس اور جریر سب نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ روایت کی، مگر ان سب کی روایتوں میں ہے: اور درختوں کو ایک انگلی پر اور گیلی مٹی کو ایک انگلی پر تھام لے گا۔ اور جریر کی حدیث میں یہ نہیں ہے: اور مخلوق کو ایک انگلی پر تھامے گا۔ لیکن اس کی حدیث میں یہ ہے: اور پہاڑوں کو ایک انگلی پر تھام لے گا۔ اور انہوں نے جریر کی حدیث میں مزید یہ کہا: اس کی بات کی تصدیق اور اس پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے (آپ ہنسے)۔ «وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ» انہوں نے اللہ تعالیٰ کی (اس طرح) قدر نہیں پہچانی جس طرح قدر پہچاننے کا حق ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7049]
امام صاحب اپنے کئی اساتذہ سے یہ روایت بیان کرتے ہیں، ان سب کی روایت میں ہے: درختوں کو ایک انگلی پر اور گیلی مٹی کو ایک انگلی پر، جریر کی حدیث میں یہ نہیں ہے: تمام مخلوقات کو ایک انگلی پر، لیکن اس کی حدیث میں ہے: اور پہاڑوں کو ایک انگلی پر اور جریر کی حدیث میں یہ اضافہ ہے: اس نے جو کچھ کہا، اس کی تصدیق اور اس پر تعجب کرتے ہوئے صلی اللہ علیہ وسلم ۔ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7049]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2786
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2787 ترقیم شاملہ: -- 7050
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، كَانَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَقْبِضُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى الْأَرْضَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَيَطْوِي السَّمَاءَ بِيَمِينِهِ، ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا الْمَلِكُ أَيْنَ مُلُوكُ الْأَرْضِ ".
ابن مسیب نے حدیث بیان کی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کیا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ قیامت کے دن زمین کو اپنی مٹھی میں لے لے گا اور آسمان کو اپنے داہنے ہاتھ میں لپیٹ لے گا، پھر فرمائے گا: بادشاہ میں ہوں، زمین کے بادشاہ کہاں ہیں؟ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7050]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن اللہ تبارک و تعالیٰ زمین کو مٹھی میں لے گا اور آسمانوں کو اپنے دائیں ہاتھ میں لپیٹ لے گا، پھر فرمائے گا: میں ہوں بادشاہ، کہاں ہیں زمین کے بادشاہ؟ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7050]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2787
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2788 ترقیم شاملہ: -- 7051
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَمْزَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَطْوِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ السَّمَاوَاتِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، ثُمَّ يَأْخُذُهُنَّ بِيَدِهِ الْيُمْنَى، ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا الْمَلِكُ أَيْنَ الْجَبَّارُونَ أَيْنَ الْمُتَكَبِّرُونَ، ثُمَّ يَطْوِي الْأَرَضِينَ بِشِمَالِهِ، ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا الْمَلِكُ أَيْنَ الْجَبَّارُونَ أَيْنَ الْمُتَكَبِّرُونَ ".
سالم بن عبداللہ نے کہا: مجھے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل قیامت کے دن آسمانوں کو لپیٹے گا، پھر ان کو دائیں ہاتھ سے پکڑ لے گا اور فرمائے گا: بادشاہ میں ہوں۔ (آج دوسروں پر) جبر کرنے والے کہاں ہیں؟ تکبر کرنے والے کہاں ہیں؟ پھر بائیں ہاتھ سے زمین کو لپیٹ لے گا، پھر فرمائے گا: بادشاہ میں ہوں، (آج) جبر کرنے والے کہاں ہیں؟ تکبر کرنے والے کہاں ہیں؟ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7051]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل قیامت کے دن آسمانوں کو لپیٹے گا، پھر انہیں اپنے دائیں ہاتھ میں پکڑے گا، پھر فرمائے گا: میں ہوں بادشاہ، کہاں ہیں جبر کرنے والے؟ کہاں ہیں تکبر کرنے والے؟ پھر زمینوں کو اپنے بائیں ہاتھ میں لپیٹے گا، پھر فرمائے گا: میں ہوں بادشاہ، کہاں ہیں جبر کرنے والے؟ کہاں ہیں تکبر کرنے والے؟ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7051]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2788
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2788 ترقیم شاملہ: -- 7052
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ ، أَنَّهُ نَظَرَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، كَيْفَ يَحْكِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَ: " يَأْخُذُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ سَمَاوَاتِهِ وَأَرَضِيهِ بِيَدَيْهِ، فَيَقُولُ: أَنَا اللَّهُ وَيَقْبِضُ أَصَابِعَهُ وَيَبْسُطُهَا، أَنَا الْمَلِكُ حَتَّى نَظَرْتُ إِلَى الْمِنْبَرِ يَتَحَرَّكُ مِنْ أَسْفَلِ شَيْءٍ مِنْهُ حَتَّى إِنِّي لَأَقُولُ أَسَاقِطٌ هُوَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "،
یعقوب بن عبدالرحمان نے کہا: مجھے ابوحازم نے عبیداللہ بن مقسم سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی طرف دیکھا کہ وہ (حدیث بیان کرتے ہوئے عملاً) کس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح کر کے دکھاتے ہیں۔ (ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے) فرمایا: اللہ عزوجل اپنے آسمانوں اور اپنی زمینوں کو اپنے دونوں ہاتھوں سے پکڑ لے گا پھر فرمائے گا: میں اللہ، میں بادشاہ ہوں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی انگلیوں کو بند کرتے تھے اور کھولتے تھے۔ حتیٰ کہ میں نے منبر کو دیکھا، وہ اپنے نچلے حصے سے (لے کر اوپر کے حصے تک) ہل رہا تھا۔ یہاں تک کہ میں نے کہا: کیا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر گر جائے گا؟ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7052]
عبید اللہ بن مقسم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی طرف دیکھا وہ کیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل اپنے آسمانوں اور اپنی زمینوں کو اپنے دونوں ہاتھوں میں پکڑے گا اور فرمائے گا: «أَنَا اللَّهُ» میں ہوں، اللہ، اور اپنی انگلیوں کو سمیٹے گا اور انہیں پھیلائے گا: «أَنَا الْمَلِكُ» میں ہوں بادشاہ۔ حتیٰ کہ میں نے منبر کو دیکھا وہ نیچے تک سے حرکت کر رہا تھا حتیٰ کہ میں دل میں کہہ رہا تھا: کیا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گر جائے گا؟ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7052]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2788
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2788 ترقیم شاملہ: -- 7053
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ، وَهُوَ يَقُولُ: يَأْخُذُ الْجَبَّارُ عَزَّ وَجَلَّ سَمَاوَاتِهِ وَأَرَضِيهِ بِيَدَيْهِ ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ يَعْقُوبَ.
عبدالعزیز بن ابی حازم نے کہا: مجھے میرے والد نے عبیداللہ بن مقسم سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر دیکھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: (اللہ) جبار عزوجل اپنے آسمانوں اور اپنی زمینوں کو اپنے ہاتھوں میں پکڑ لے گا۔ پھر یعقوب کی حدیث کی طرح بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7053]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر دیکھا اور آپ فرما رہے تھے: جبار عزوجل اپنے آسمانوں اور اپنی زمینوں کو اپنے دونوں ہاتھوں میں پکڑے گا۔ پھر مذکورہ بالا حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7053]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2788
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1. باب ابْتِدَاءِ الْخَلْقِ وَخَلْقِ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ:
باب: مخلوق اور آدم علیہ السلام کی ابتداء کے بیان میں۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2789 ترقیم شاملہ: -- 7054
حَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي، فَقَالَ: " خَلَقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ التُّرْبَةَ يَوْمَ السَّبْتِ، وَخَلَقَ فِيهَا الْجِبَالَ يَوْمَ الْأَحَدِ، وَخَلَقَ الشَّجَرَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، وَخَلَقَ الْمَكْرُوهَ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ، وَخَلَقَ النُّورَ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ، وَبَثَّ فِيهَا الدَّوَابَّ يَوْمَ الْخَمِيسِ، وَخَلَقَ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَام بَعْدَ الْعَصْرِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فِي آخِرِ الْخَلْقِ فِي آخِرِ سَاعَةٍ مِنْ سَاعَاتِ الْجُمُعَةِ، فِيمَا بَيْنَ الْعَصْرِ إِلَى اللَّيْلِ "، قَالَ إِبْرَاهِيمُ: حَدَّثَنَا الْبِسْطَامِيُّ وَهُوَ الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى، وَسَهْلُ بْنُ عَمَّارٍ، وَإِبْرَاهِيمُ ابْنُ بِنْتِ حَفْصٍ، وَغَيْرُهُمْ عَنْ حَجَّاجٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ.
سریج بن یونس اور ہارون بن عبداللہ نے مجھے حدیث بیان کی، دونوں نے کہا: ہمیں حجاج بن محمد نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ابن جریج نے کہا: مجھے اسماعیل بن امیہ نے ایوب بن خالد سے حدیث بیان کی۔ انہوں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام عبداللہ بن رافع سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا، پھر فرمایا: اللہ عزوجل نے مٹی (زمین) کو ہفتے کے دن پیدا کیا اور اس میں پہاڑوں کو اتوار کے دن پیدا کیا اور درختوں کو پیر کے دن پیدا کیا اور ناپسندیدہ چیزوں کو منگل کے دن پیدا کیا اور نور کو بدھ کے دن پیدا کیا اور اس میں چوپایوں کو جمعرات کے دن پھیلا دیا اور سب مخلوقات کے آخر میں آدم علیہ السلام کو جمعہ کے دن عصر کے بعد سے لے کر رات تک کے درمیان جمعہ (کے دن کی آخری ساعتوں میں سے کسی ساعت میں) پیدا فرمایا۔ جلودی نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں امام مسلم رحمہ اللہ کے شاگرد ابراہیم نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں حسین بن علی بسطامی، سہل بن عمار، حفص کے نواسے ابراہیم اور دوسروں نے حجاج سے یہی حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7054]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: اللہ عزوجل نے مٹی (خاک، زمین) کو ہفتہ کے دن پیدا کیا اور اس میں پہاڑ اتوار کے دن پیدا کیے اور درخت سوموار کو پیدا کیے اور ناپسندیدہ چیزوں کو منگل کے دن پیدا کیا اور نور (روشنی) کو بدھ کے دن پیدا کیا، اور زمین میں چوپائے جمعرات کے دن پھیلائے اور آدم علیہ السلام کو تمام مخلوقات کے بعد، جمعہ کے دن، عصر کے وقت جمعہ کی گھڑیوں میں سے آخری گھڑی میں عصر سے شام تک پیدا کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7054]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2789
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں