الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. فَضْلُ الْجِهَادِ وَالرِّبَاطِ وَالْمُجَاهِدِينَ ¤ فَضْلُ الْجِهَادِ وَالتَّرْغِيْبِ فِيهِ
جہاد، رباط اور مجاہدین کی فضیلت¤جہاد کی فضیلت اور اس کی ترغیب
حدیث نمبر: 4782
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ قَالَ الْإِيمَانُ بِاللَّهِ قَالَ ثُمَّ مَاذَا قَالَ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ ثُمَّ مَاذَا قَالَ ثُمَّ حَجٌّ مَبْرُورٌ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ کون سا عمل سب سے زیادہ فضیلت والا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ پر ایمان۔ اس نے کہا: پھر کون سا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنا۔ اس نے کہا: پھر کون سا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر حج مبرور ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4782]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 26، 1519، ومسلم: 83، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7641 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7629»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 4783
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ قَالَ إِيمَانٌ بِاللَّهِ تَعَالَى وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِهِ
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا اور اس کی راہ میں جہاد کرنا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4783]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2518، ومسلم: 84، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21331 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21657»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 4784
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوَدِدْتُ أَنْ أُقَاتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأُقْتَلَ ثُمَّ أُحْيَا ثُمَّ أُقْتَلَ ثُمَّ أُحْيَا ثُمَّ أُقْتَلَ ثُمَّ أُحْيَا ثُمَّ أُقْتَلَ وَلَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ مَا تَخَلَّفْتُ خَلْفَ سَرِيَّةٍ تَخْرُجُ أَوْ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَكِنْ لَا أَجِدُ سَعَةً فَأَحْمِلَهُمْ وَلَا يَجِدُونَ سَعَةً فَيَتَّبِعُونِي وَلَا تَطِيبُ أَنْفُسُهُمْ أَنْ يَتَخَلَّفُوا بَعْدِي أَوْ يَقْعُدُوا بَعْدِي
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے! میں چاہتا ہوں کہ اللہ کے راستے میں جہاد کروں پس شہید کیا جاؤں، پھر مجھے زندہ کیا جائے اور پھر شہید کر دیا جائے، پھر زندہ کیا جائے اور پھر شہید کر دیا جائے، پھر زندہ کیا جائے اور پھر شہید کر دیا جائے، اور اگر میں مؤمنوں پر گراں نہ سمجھتا تو میں کسی ایسے لشکر سے پیچھے نہ رہتا جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرتا ہے، لیکن میرے پاس اتنی گنجائش نہیں ہے کہ ان کو سواریاں دوں اور ان کے پاس بھی اتنی وسعت نہیں کہ وہ خود تیاری کر کے میرے ساتھ چلیں اور مجھ سے پیچھے رہ جانا بھی ان کے نفسوں کو گوارا نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4784]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 7226، ومسلم: 1876، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10523 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10530»
وضاحت: فوائد: … یہ صرف خواہش ہے، مقصد شہادت کی فضیلت بیان کرنا ہے، ورنہ ایسا ہونا ممکن نہیں ہے،کبھی کوئی شہید زندہ نہیں ہوا، شہدائے احد نے اللہ تعالیٰ سے زندگی کی درخواست کی تھی مگر منظور نہیں ہوئی، جیسا کہ صحیح مسلم (۱۸۸۷) میں ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہر شخص کا میدانِ جنگ میں جانا ضروری نہیں ہے، بلکہ حالات، وسائل اور ضرورت کا لحاظ رکھا جائے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 4785
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنِي عَمَلًا يَعْدِلُ الْجِهَادَ قَالَ لَا أَجِدُهُ قَالَ هَلْ تَسْتَطِيعُ إِذَا خَرَجَ الْمُجَاهِدُ أَنْ تَدْخُلَ مَسْجِدًا فَتَقُومَ لَا تَفْتُرُ وَتَصُومَ لَا تُفْطِرُ قَالَ لَا أَسْتَطِيعُ قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ إِنَّ فَرَسَ الْمُجَاهِدِ يَسْتَنُّ فِي طِوَلِهِ فَيُكْتَبُ لَهُ حَسَنَاتٍ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے ایسا عمل بتلائیں جو جہاد کے برابر ہو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں ایسا عمل نہیں پاتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بھلا کیا تو طاقت رکھتا ہے کہ جب مجاہد نکل جائے تو تو مسجد میں داخل ہو جائے اور لگاتار قیام کرتا رہے اور سست نہ پڑے اور لگاتار روزے رکھتا رہے اور کوئی روزہ ترک نہ کرے؟ اس نے کہا: اتنی طاقت تو مجھے نہیں ہے۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جب مجاہد کا گھوڑا اپنے رسی کے احاطے کے اندر اندر چلتا ہے تو اس کے لیے اس کے چلنے کی بھی نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4785]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2785، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8540 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8521»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 4786
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنَا بِعَمَلٍ يَعْدِلُ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ لَا تُطِيقُونَهُ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا قَالَ قَالُوا أَخْبِرْنَا فَلَعَلَّنَا نُطِيقُهُ قَالَ مَثَلُ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ الصَّائِمِ الْقَائِمِ الْقَانِتِ بِآيَاتِ اللَّهِ لَا يَفْتُرُ مِنْ صِيَامٍ وَلَا صَلَاةٍ حَتَّى يَرْجِعَ الْمُجَاهِدُ إِلَى أَهْلِهِ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صحابہ کرام نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمیں ایسے عمل کے بارے میں بتلا دیں جو جہاد کی سبیل اللہ کے برابر ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اس کی طاقت نہیں رکھتے۔ دو یا تین بار ایسے ہی فرمایا، لوگوں نے کہا: آپ بتلا تو دیں، شاید ہم میں اس کی طاقت ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجاہد کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو لگاتار روزہ رکھنے والا ہو اور اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ مسلسل قیام کرنے والا ہو، نہ وہ روزے سے اکتاتا ہو اور نہ نماز سے، یہاں تک کہ مجاہد اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ آئے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4786]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2787، ومسلم: 1878، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9481 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9477»
وضاحت: فوائد: … مسلسل یعنی مجاہد جب سے جہاد کو نکلا، اس وقت سے اس کی واپسی تک کوئی شخص لگاتار روزے اور نماز کی حالت میں رہے، ایک لمحہ بھی سستی نہ کرے، ظاہر ہے کہ یہ ممکن نہیں ہے، گویا جہاد کے برابر کوئی اور عمل نہیں ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 4787
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِكُلِّ نَبِيٍّ رَهْبَانِيَّةٌ وَرَهْبَانِيَّةُ هَذِهِ الْأُمَّةِ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر نبی کی رہبانیت ہے اور اس امت کی رہبانیت جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4787]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف زيد العمي، وقد اعِلّ بالارسال، أخرجه ابن ابي شيبة: 5/ 295، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13807 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13844»
وضاحت: فوائد: … رہبانیت: دنیا اور علائق دنیا سے منقطع ہو کر کسی جنگل، صحراء میں اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مگن ہو جانا۔ نصرانیوں نے یہ رسم نکالی تھی، جسے اسلام نے غلط قرار دیا۔
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 4788
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ رَوْحَةٌ خَيْرٌ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ وَغَرَبَتْ
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے راستے میں صبح یا شام کے وقت ایک دفعہ چلنا ان چیزوں سے بہتر ہے، جن پر سورج طلوع اور غروب ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4788]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1883، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23586 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23984»
وضاحت: فوائد: … لغت کے لحاظ سے تو سبیل اللہ کا اطلاق ہر نیکی کے کام پر ہونا چاہیے، مگر شرعی اصطلاح لغت سے زیادہ معتبر ہے اور قرآن و حدیث میں فی سبیل اللہ کا لفظ بالعموم جہاد کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 4789
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ غَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ رَوْحَةٌ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے راستے میں صبح یا شام کے وقت ایک دفعہ چلنا دنیا و ما فیہا سے بہتر ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4789]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2793، ومسلم: 1882، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10883 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10896»
وضاحت: فوائد: … جہاد میں جانے کا ثواب باقی رہنے والا ہے اور دنیا کی ہر چیز فانی ہے، لہٰذا فانی اور باقی کا کیا مقابلہ؟
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 4790
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ قَالَ مَنْ عُقِرَ جَوَادُهُ وَأُهْرِيقَ دَمُهُ
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سا جہاد افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کے گھوڑے کی کونچیں کاٹ دی جائیں اور خود اس کا خون بہا دیا جائے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4790]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 756، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14210 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14259»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 4791
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَفْلَةٌ كَغَزْوَةٍ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جہاد سے واپسی بھی جہاد کی طرح ہی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4791]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه أبوداود: 2487، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6625 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6625»
الحكم على الحديث: صحیح