الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. فَضْلُ الْجِهَادِ وَالرِّبَاطِ وَالْمُجَاهِدِينَ ¤ فَضْلُ الْجِهَادِ وَالتَّرْغِيْبِ فِيهِ
جہاد، رباط اور مجاہدین کی فضیلت¤جہاد کی فضیلت اور اس کی ترغیب
حدیث نمبر: 4792
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ مُكَاتَبًا لَهَا دَخَلَ عَلَيْهَا بِبَقِيَّةِ مُكَاتَبَتِهِ فَقَالَتْ لَهُ أَنْتَ غَيْرُ دَاخِلٍ عَلَيَّ غَيْرَ مَرَّتِكَ هَذِهِ فَعَلَيْكَ بِالْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا خَالَطَ قَلْبَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ رَهَجٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ النَّارَ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ان کا مکاتَب اپنی مکاتبت کا بقیہ حصہ لے کر ان کے پاس آیا، انھوں نے کہا: اب کے بعد تو نے مجھے پر داخل نہیں ہونا، تو جہاد فی سبیل اللہ کو لازم پکڑ، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس مسلمان کے دل کے ساتھ اللہ کے راستے کا غبار ملے گا، اللہ تعالیٰ اس پر آگ کو حرام قرار دے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4792]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه الطبراني في الاوسط: 4919، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24548 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25055»
الحكم على الحديث: صحیح
2. وُجُوبِ الْجِهَادِ وَالْحَثَّ عَلَيْهِ
جہاد کا واجب ہونا اور اس کی رغبت دلانا
حدیث نمبر: 4793
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَإِذَا قَالُوهَا عَصَمُوا مِنِّي بِهَا دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ ثُمَّ قَرَأَ {فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنْتَ مُذَكِّرٌ لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُسَيْطِرٍ} [الغاشية: 21-22]
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مرو ی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے قتال کروں، یہاں تک کہ وہ لَا اِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ کہہ دیں، پس جب وہ یہ کلمہ کہہ دیں گے تو اپنے خونوں اور مالوں کو مجھ سے بچا لیں گے، مگر ان کے حق کے ساتھ اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ پر ہو گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیتیں پڑھیں: {فَذَکِّرْ إِنَّمَا أَنْتَ مُذَکِّرٌ لَسْتَ عَلَیْھِمْ بِمُسَیْطِرٍ} … پس تو نصیحت کر، تو صرف نصیحت کرنے والا ہے۔تو ہرگز ان پر کوئی مسلط کیا ہوا نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4793]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 21، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14209 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14259»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 4794
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَاهِدُوا الْمُشْرِكِينَ بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ وَأَلْسِنَتِكُمْ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے مالوں، جانوں اور زبانوں کے ساتھ مشرکوں سے جہاد کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4794]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه أبوداود: 2504، والنسائي: 6/ 7، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12246 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12271»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 4795
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فتح مکہ کے بعد کوئی ہجرت نہیں ہے، البتہ جہاد اور نیت ہے اور جب تم سے نکلنے کا مطالبہ کیا جائے تو تم نکل پڑو۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4795]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2783، 2825، و مسلم: ص 1488، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3335 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3335»
وضاحت: فوائد: … فتح مکہ کے بعد مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کا حکم ختم ہو گیا، کیونکہ مکہ مکرمہ خود دار الاسلام بن گیا، البتہ کسی بھی دار الحرب سے دار الاسلام کی طرف ہجرت کا حکم باقی ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 4796
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْجِهَادُ عَمُودُ الْإِسْلَامِ وَذُرْوَةُ سَنَامِهِ
۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جہاد اسلام کا ستون اور اس کے کوہان کی چوٹی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4796]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف بھذه السياقة، عطية بن قيس لم يسمع من معاذ، وابو بكر بن عبد الله ضعيف، وقد اخطا في متنه وصوابه الصلاة عمود الاسلام، والجھاد ذروة سنامه۔، أخرجه البزار: 2651، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22047 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22397»
وضاحت: فوائد: … یہ حدیث ان الفاظ کے ساتھ صحیح ہے: ((الصَّلَاۃُ عُمُوْدُ الاِسْلَامِ، وَالْجِھَادُ ذِرْوَۃُ سَنَامِہِ۔‘)) … نماز اسلام کا ستون ہے اور جہاد اس کے کوہان کی چوٹی ہے۔
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 4797
عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ قُلْتُ لِلْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الرَّجُلُ يَحْمِلُ عَلَى الْمُشْرِكِينَ أَهُوَ مِمَّنْ أَلْقَى بِيَدِهِ إِلَى التَّهْلُكَةِ قَالَ لَا لَأَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بَعَثَ رَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ {فَقَاتِلْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ لَا تُكَلَّفُ إِلَّا نَفْسَكَ} [النساء: 84] إِنَّمَا ذَاكَ فِي النَّفَقَةِ
۔ ابو اسحاق کہتے ہیں: میں نے سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے کہا: ایک آدمی مشرکوں پر ٹوٹ پڑتا ہے، کیا یہ وہ آدمی ہے جو اپنے ہاتھ کو ہلاکت کی طرف ڈالتا ہے؟ انھوں نے کہا: نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو بھیجا اور فرمایا: آپ اللہ کے راستے میں جہاد کریں، آپ کو مکلّف نہیں ٹھہرایا جائے گا، مگر اپنے نفس کا۔ یہ تو مال خرچ کرنے کے بارے میں ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4797]
تخریج الحدیث: «سبب نزول الآية صحيح من حديث حذيفة، أخرجه الحاكم: 2/ 275، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18477 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18669»
وضاحت: فوائد: … اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے سے مراد جہاد میں اور دوسرے امورِ خیر میں خرچ نہ کرنا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَ اَنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَلَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلَی التَّھْلُکَۃِ} … اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔ (سورۂ: ۱۹۵)
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 4798
عَنْ عَمْرِو بْنِ مِرْدَاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَيْتُ الشَّامَ أَتْيَةً فَإِذَا رَجُلٌ غَلِيظُ الشَّفَتَيْنِ أَوْ قَالَ ضَخْمُ الشَّفَتَيْنِ وَالْأَنْفِ إِذَا بَيْنَ يَدَيْهِ سِلَاحٌ فَسَأَلُوهُ وَهُوَ يَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ خُذُوا مِنْ هَذَا السِّلَاحِ وَاسْتَصْلِحُوهُ وَجَاهِدُوا بِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالُوا بِلَالٌ
۔ عمرو بن مرداس سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں شام میں آیا اور وہاں موٹے ہونٹوں اور موٹی ناک والا آدمی دیکھا، اس کے سامنے اسلحہ پڑا ہوا تھا، پس انھوں نے اس سے سوال کیا اور وہ یہ کہہ رہا تھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو! یہ اسلحہ لے لو اور اس کو درست کرو اور اس کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کرو۔ میں نے کہا: یہ آدمی کون ہے؟ لوگوں نے بتلایا کہ یہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4798]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة عمرو بن مرداس، وأبي الورد بن ثمامة، أخرجه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24399»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 4799
عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا نَخْرُجُ نُجَاهِدُ مَعَكُمْ قَالَ لَا جِهَادُكُنَّ الْحَجُّ الْمَبْرُورُ هُوَ لَكُنَّ جِهَادٌ
۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: اے اللہ کے رسول! کیا ہم آپ کے ساتھ جہاد کرنے کے لیے نہ نکلیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، تمہارا جہاد حج مبرور ہے، یہی تمہارا جہاد ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4799]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه بنحوه البخاري: 1520، 2784، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24422 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24926»
وضاحت: فوائد: … سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا عورتوں پر جہاد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((نَعَمْ، عَلَیْھِنَّ جِھَادٌ لَا قِتَالَ فِیْہِ، اَلْحَجُّ وَالْعُمْرَۃُ۔)) … جی ہاں، ان پر جہاد ہے، لیکن اس میں کوئی قتال نہیں ہے اور وہ ہے حج اور عمرہ۔ (سنن ابن ماجہ: ۲۹۰۱)
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 4800
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَيْكُمْ بِالْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَإِنَّهُ بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ يُذْهِبُ اللَّهُ بِهِ الْهَمَّ وَالْغَمَّ
۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم جہاد فی سبیل اللہ کا اہتمام کرو، کیونکہ یہ جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے رنج اور غم ختم کر دیتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4800]
تخریج الحدیث: «حسن، أخرجه الحاكم: 2/ 74، وعبد الرزاق: 9278، والطبراني في الاوسط: 8330، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22719 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23096»
الحكم على الحديث: صحیح
3. فَضْلُ الرِّبَاطِ وَالْحَرْسِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ
اللہ تعالیٰ کی راہ میں رباط اور پہرے کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 4801
عَنْ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ قَالَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ يَخْطُبُ عَلَى مِنْبَرِهِ إِنِّي مُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا كَانَ يَمْنَعُنِي أَنْ أُحَدِّثَكُمْ إِلَّا الضِّنُّ عَلَيْكُمْ وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ حَرَسُ لَيْلَةٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ لَيْلَةٍ يُقَامُ لَيْلُهَا وَيُصَامُ نَهَارُهَا
۔ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ منبر پر خطبہ دے رہے تھے کہ انھوں نے کہا: میں تم کو ایک حدیث بیان کرنے والا ہوں، میں نے خود وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے، پہلے مجھے وہ حدیث بیان کرنے سے روکنے والی چیز تم پر بخل تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایک رات کا پہرہ ہزار راتوں کے قیام اور ان کے دنوں کے روزوں سے افضل ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4801]
تخریج الحدیث: «حسن، أخرجه ابن ماجه: 2766، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 433 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 433»
وضاحت: فوائد: … اس بڑے اجر پر تعجب نہیں ہونا چاہیے، اللہ تعالیٰ کی رحمت وسیع ہے، اس کے خزانے لا متناہی ہیں اور وہ قدر دان بھی ہے، شب ِ قدر کے قیام پر بھی تو ہزار مہینوں سے زیادہ اجر ملتا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح