Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. فَضْلُ الرِّبَاطِ وَالْحَرْسِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ
اللہ تعالیٰ کی راہ میں رباط اور پہرے کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4812
عَنْ أَبِي رَيْحَانَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ فَأَتَيْنَا ذَاتَ لَيْلَةٍ إِلَى شَرَفٍ فَبِتْنَا عَلَيْهِ فَأَصَابَنَا بَرْدٌ شَدِيدٌ حَتَّى رَأَيْتُ مَنْ يَحْفِرُ فِي الْأَرْضِ حُفْرَةً يَدْخُلُ فِيهَا يُلْقِي عَلَيْهِ الْحَجَفَةَ يَعْنِي التُّرْسَ فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ النَّاسِ نَادَى مَنْ يَحْرُسُنَا فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَأَدْعُو لَهُ بِدُعَاءٍ يَكُونُ فِيهِ فَضْلًا فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ ادْنُهْ فَدَنَا فَقَالَ مَنْ أَنْتَ فَتَسَمَّى لَهُ الْأَنْصَارِيُّ فَفَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالدُّعَاءِ فَأَكْثَرَ مِنْهُ قَالَ أَبُو رَيْحَانَةَ فَلَمَّا سَمِعْتُ مَا دَعَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ أَنَا رَجُلٌ آخَرُ فَقَالَ ادْنُهْ فَدَنَوْتُ فَقَالَ مَنْ أَنْتَ قَالَ فَقُلْتُ أَنَا أَبُو رَيْحَانَةَ فَدَعَا بِدُعَاءٍ هُوَ دُونَ مَا دَعَا لِلْأَنْصَارِيِّ ثُمَّ قَالَ حُرِّمَتِ النَّارُ عَلَى عَيْنٍ دَمَعَتْ أَوْ بَكَتْ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ وَحُرِّمَتِ النَّارُ عَلَى عَيْنٍ سَهِرَتْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَقَالَ حُرِّمَتِ النَّارُ عَلَى عَيْنٍ أُخْرَى ثَالِثَةٍ لَمْ يَسْمَعْهَا مُحَمَّدُ بْنُ سُمَيْرٍ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَبِي وَقَالَ غَيْرُهُ يَعْنِي غَيْرَ زَيْدٍ أَبُو عَلِيِّ بْنِ الْجَنَبِيِّ
۔ سیدنا ابو ریحانہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں تھے، ہم ایک رات ایک ٹیلے پر آئے اور وہاں رات گزاری، لیکن وہاں اتنی سخت سردی تھی کہ میں نے بعض لوگوں کو دیکھا وہ زمین میں گڑھا کھودتے اور اس میں داخل ہو کر اوپر ڈھال ڈال دیتے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ صورتحال دیکھی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آواز دی: اس رات کو ہمارا پہرہ کون دے گا، اس کے عوض میں اس کے لیے ایسی دعائیں کروں گا کہ ان میں فضیلت ہو گی؟ ایک انصاری نے کہا: جی میں پہرہ دوں گا اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: ذرا قریب ہو جا۔ پس وہ قریب ہو گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو کون ہے؟ انصاری نے اپنا نام بتایا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے لیے دعائیں کرنا شروع کیں اور بہت زیادہ کیں، جب میں ابو ریحانہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وہ دعائیں سنیں تو میں نے کہا: میں پہرہ دینے کے لیے دوسرا آدمی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ذرا قریب ہو جا۔ پس میں قریب ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو کون ہے؟ میں نے کہا: میں ابو ریحانہ ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے بھی دعائیں تو دیں مگر وہ انصاری والی دعاؤں سے کم تھیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس آنکھ پر آگ کو حرام قرار دیا گیا ہے، جو اللہ کے ڈر کی وجہ سے روتی ہے اور اس آنکھ پر بھی آگ حرام ہے، جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں جاگتی ہے۔ راوی کہتا ہے: ایک اور آنکھ پر بھی آگ حرام تھی، لیکن محمد بن سمیر نے وہ حصہ نہیں سنا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4812]
تخریج الحدیث: «مرفوعه حسن لغيره، أخرجه ابن ابي شيبة: 5/ 350، والطبراني في الاوسط: 8736، والحاكم: 2/ 63، وأخرجه النسائي: 6/ 15 مختصرا، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17213 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17345»
وضاحت: فوائد: … صرف لڑنا ہی جہاد نہیں ہے، بلکہ لڑائی کی تربیت حاصل کرنا، لڑائی کی تیاری کرنا اور دشمن سے مقابلے کے لیے تیار رہنا بھی جہاد ہے، فوج سرحدوں پر بیٹھی رہے اور اس کے ڈر سے دشمن دبکا رہے، یہ بھی جہاد ہے، اس پر بھی اجر عظیم حاصل ہو گا، لڑائی تو آخری چارۂ کار ہے، جو بامر مجبوری اختیار کیا جائے گا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. فَضْلُ الْمُجَاهِدِيْنَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ
اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4813
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَيْهِمْ وَهُمْ جُلُوسٌ فَقَالَ أَلَا أُحَدِّثُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ مَنْزِلَةً فَقَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَجُلٌ مُمْسِكٌ بِعِنَانِ فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى يَمُوتَ أَوْ يُقْتَلَ أَفَأُخْبِرُكُمْ بِالَّذِي يَلِيهِ قَالُوا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ امْرُؤٌ مُعْتَزِلٌ فِي شِعْبٍ يُقِيمُ الصَّلَاةَ وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ وَيَعْتَزِلُ شُرُورَ النَّاسِ أَفَأُخْبِرُكُمْ بِشَرِّ النَّاسِ مَنْزِلَةً قَالُوا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الَّذِي يُسْأَلُ بِاللَّهِ وَلَا يُعْطِي بِهِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے صحابہ کے پاس تشریف لائے، جبکہ وہ بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تم کو بتاؤں کہ مرتبہ کے اعتبار سے سب سے بہترین آدمی کون ہے؟ انھوں نے کہا: جی بالکل، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ آدمی ہے جو اللہ کی راہ میں اپنے گھوڑے کی لگام تھامے ہوئے ہے، یہاں تک کہ وہ فوت جاتا ہے یا اس کو قتل کر دیا جاتا ہے، اچھا کیا میں تم کو اس شخص کے بارے میں بتلاؤں، جس کا مرتبہ اس کے بعد ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ آدمی جو کسی گھاٹی میں الگ تھلگ ہو کر نماز قائم کرتا ہو اور زکاۃ ادا کرتا ہو اور لوگوں کے شرور سے دور ہو گیا ہو، اب کیا میں تم کو بتاؤں کہ بدترین مرتبہ کس کا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ آدمی ہے، جس سے اللہ تعالیٰ کے نام پر سوال کیا جاتا ہے، لیکن وہ پھر بھی نہیں دیتا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4813]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه الترمذي: 1652، والنسائي: 5/ 83، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2116 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2116»
وضاحت: فوائد: … گھاٹی میں الگ تھلگ رہنا، عام حالات میں گوشہ نشینی اور مسلم معاشرے سے علیحدگی جائز نہیں، نماز باجماعت اور جمعہ فرض ہیں، بیماروں کی بیمار پرسی اور ضعیفوں کی مدد کرنا بھی مسلمانوں کے حقوق میں سے ہیں، یہ سب کچھ معاشرے کے اندر ہ کر ہی ممکن ہے، اکیلا شخص ان سب فرائض اور حقوق کا تارک ہو گا، وہ افضل کیسے ہو سکتا ہے؟ البتہ جب معاشرے میں رہ کر دین کے ضائع ہونے کا قوی امکان اور خطرہ موجود ہو تو گوشہ نشینی بہتر ہے، مگر موہوم خطرات کے پیش نظر جائز نہیں۔ دیکھیں کہ صحابۂ کرام نے انتہائی تکالیف برداشت کر کے بھی معاشرے کو نہیں چھوڑا بلکہ اصلاح کی کوشش کرتے رہے، نیز تبلیغ بھی تو ایک فریضہ ہے اور یہ معاشرے میں رہ کر ہی ممکن ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4814
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَطَبَ النَّاسَ بِتَبُوكَ مَا فِي النَّاسِ مِثْلُ رَجُلٍ آخِذٍ بِرَأْسِ فَرَسِهِ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَيَجْتَنِبُ شُرُورَ النَّاسِ وَمِثْلُ آخَرَ بَادٍ فِي نِعْمَةٍ يَقْرِي ضَيْفَهُ وَيُعْطِي حَقَّهُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس دن تبوک میں لوگوں سے خطاب کیا تھا، اس میں یہ بھی فرمایا تھا: لوگوں میں اس آدمی کی مثل کوئی نہیں ہے، جو اپنے گھوڑے کا سر پکڑ کر اور لوگوں کے شرور سے اجتناب کر کے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کر رہا ہو، اور وہ آدمی بھی بے مثال ہے، جو دیہات میں نعمتوں میں رہ رہا ہو، مہمان کی ضیافت کرتا ہو اور اپنا حق ادا کرتا ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4814]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه الطبراني: 12924، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1987 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1987»
وضاحت: فوائد: … جہاد بے مثال عبادت ہے، یہ ایک بھٹھی ہے، جس سے ایمان وایقان میں نکھار پیدا ہوتا ہے، ہر مسلمان پر لازم ہے کہ جہاد کرنے کی صلاحیت پیدا کر کے رکھے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4815
مَالِكُ بْنُ يَخَامِرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ وَقَالَ رَوْحٌ حَدَّثَهُمْ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ جَاهَدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَقَالَ رَوْحٌ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مِنْ رَجُلٍ مُسْلِمٍ فُوَاقَ نَاقَةٍ فَقَدْ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ وَمَنْ سَأَلَ اللَّهَ الْقَتْلَ مِنْ عِنْدِ نَفْسِهِ صَادِقًا ثُمَّ مَاتَ أَوْ قُتِلَ فَلَهُ أَجْرُ الشُّهَدَاءِ وَمَنْ جُرِحَ جُرْحًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ نُكِبَ نَكْبَةً فَإِنَّهَا تَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَغْزَرِ مَا كَانَتْ وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ كَأَغَزِّ وَرَوْحٌ كَأَغْزَرِ وَحَجَّاجٌ كَأَعَزِّ مَا كَانَتْ لَوْنُهَا كَالزَّعْفَرَانِ وَرِيحُهَا كَالْمِسْكِ وَمَنْ جُرِحَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَعَلَيْهِ طَابَعُ الشُّهَدَاءِ
۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں اونٹنی کے فَوَاق کے برابر جہاد کیا، اس کے لیے جنت واجب ہو جائے گی، (فَوَاق سے مراد اتنا وقت ہے، جس میں اونٹنی اپنا دودھ دوہنے والے کے لیے اتار دیتی ہے) اور جس نے سچے دل سے اللہ تعالیٰ سے شہادت کا سوال کیا اور پھر وہ طبعی موت مرا یا شہید ہوا، بہرحال اس کو شہید کا ہی اجر ملے گا، جس کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں زخم لگا یا کسی اور مصیبت میں مبتلا ہوا تو وہ زخم قیامت والے دن اس طرح ہو گا کہ اس سے زیادہ خون بہنے والا ہو گا، اس کا رنگ زعفران کی طرح ہو گا اور اس کی خوشبو کستوری کی طرح ہو گی اور جس کو اللہ کی راہ میں زخم لگے گا، اس پر شہداء کی مہر ہو گی۔ اَغْزَر اور اَغَرّ کا ایک ہی معنی ہے، صرف راویوں کا اختلاف ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4815]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه الترمذي: 1654، 1657، وابن ماجه: 2792، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22116 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22467»
وضاحت: فوائد: اونٹنی کا فَوَاق: یہ لفظ وقت کی ایک مقدار بیان کرتا ہے، اس کے یہ معانی ہیں: (۱)دو دفعہ دوہنے کے درمیان کا وقت، (۲) دوہنے والے کے تھن کو دو دفعہ پکڑنے کے درمیان کا وقت، (۳) جو ترجمہ میں بیان کیا گیا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4816
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَجِبَ رَبُّنَا عَزَّ وَجَلَّ مِنْ رَجُلَيْنِ رَجُلٍ ثَارَ عَنْ وِطَائِهِ وَلِحَافِهِ مِنْ بَيْنِ أَهْلِهِ وَحَيِّهِ إِلَى صَلَاتِهِ فَيَقُولُ رَبُّنَا يَا مَلَائِكَتِي انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي ثَارَ مِنْ فِرَاشِهِ وَوِطَائِهِ وَمِنْ بَيْنِ حَيِّهِ وَأَهْلِهِ إِلَى صَلَاتِهِ رَغْبَةً فِيمَا عِنْدِي وَشَفَقَةً مِمَّا عِنْدِي وَرَجُلٍ غَزَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَانْهَزَمُوا فَعَلِمَ مَا عَلَيْهِ مِنَ الْفِرَارِ وَمَا لَهُ فِي الرُّجُوعِ فَرَجَعَ حَتَّى أُهْرِيقَ دَمُهُ رَغْبَةً فِيمَا عِنْدِي وَشَفَقَةً مِمَّا عِنْدِي فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِمَلَائِكَتِهِ انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي رَجَعَ رَغْبَةً فِيمَا عِنْدِي وَرَهْبَةً مِمَّا عِنْدِي حَتَّى أُهْرِيقَ دَمُهُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہمارے ربّ کو دوآدمیوں پر تعجب ہوتا ہے، ایک وہ آدمی جو اپنے بچھونے، لحاف، بیوی اور قبیلے کے درمیان سے اٹھ کھڑا ہو کر نماز پڑھتا ہے، اللہ تعالیٰ کہتا ہے: اے فرشتو! میرے اس بندے کی طرف دیکھو، وہ نماز کے لیے اپنے بستر، بچھونے، قبیلے اور بیوی کے پاس سے کھڑا ہو گیا ہے، اس چیز کی رغبت کے لیے جو میرے پاس ہے اور اس چیز سے ڈرتے ہوئے جو میرے پاس ہے اور دوسرا وہ آدمی کہ جس نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کیا، ہوا یوں کہ اس کا لشکر شکست کھا گیا، لیکن جب اسے یہ معلوم ہو اکہ بھاگ جانے میں کتنا گناہ ہے اور دشمن کی طرف لوٹ جانے میں کتنا ثواب ہے تو وہ دشمن کی طرف پلٹ پڑا، یہاں تک کہ اس کا خون بہا دیا گیا، اس کا یہ اقدام اس چیز کی رغبت کے لیے تھا، جو میرے پاس ہے اور اس چیز سے بچنے کے لیے تھا، جو میرے پاس ہے، پس اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے کہتا ہے: میرے بندے کی طرف دیکھو، وہ میرے انعامات کی رغبت کی بنا پر اور میرے عذاب سے ڈرتے ہوئے لوٹ آیا، یہاں تک کہ اس کا خون بہادیا گیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4816]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابويعلي: 5272، وابن حبان: 2557، وأخرجه بذكر رجل غزا: 2536، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3949 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3949»
وضاحت: فوائد: … تعجب کرنا اللہ تعالیٰ کی صفت ہے، جیسے اس کے شایانِ شان ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4817
عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ الصَّائِمِ نَهَارَهُ وَالْقَائِمِ لَيْلَهُ حَتَّى يَرْجِعَ مَتَى يَرْجِعُ
۔ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو دن کو روزہ رکھتا ہے اور رات کو قیام کرتا ہے، یہاں تک کہ مجاہد لوٹ آئے، وہ جب بھی لوٹے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4817]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه البزار: 1645، وعبد الرزاق: 9537، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18401 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18591»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4818
عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَبَلَغَ فَأَصَابَ أَوْ أَخْطَأَ كَانَ كَمَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ
۔ سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے تیر پھینکا اور وہ پہنچ گیا،وہ اپنے نشانے پر لگا یا نہ لگا، تو وہ اس شخص کی مانند ہو گا، جس نے اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ایک گردن آزاد کی ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4818]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح دون قوله من ولد اسماعيل وھذا اسناد منقطع، سُلَيم بن عامر الخبائري لم يُدرك عمرو بن عبسة، أخرجه أبوداود: 3966، والنسائي: 626، وابن ماجه: 2812، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17020 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17145»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4819
عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ لِكَعْبِ بْنِ مُرَّةَ يَا كَعْبَ بْنَ مُرَّةَ حَدِّثْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَاحْذَرْ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ارْمُوا أَهْلَ صُنْعٍ مَنْ بَلَغَ الْعَدُوَّ بِسَهْمٍ رَفَعَهُ اللَّهُ بِهِ دَرَجَةً قَالَ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي النَّحَّامِ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الدَّرَجَةُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَا إِنَّهَا لَيْسَتْ بِعَتَبَةِ أُمِّكَ وَلَكِنَّهَا بَيْنَ الدَّرَجَتَيْنِ مِائَةُ عَامٍ
۔ سیدنا شرحبیل بن سمط رضی اللہ عنہ نے سیدنا کعب بن مرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: اے کعب بن مرہ! ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کرو، لیکن احتیاط کرنا، انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: ہنر مندو! تیر پھینکو، جس کا تیر دشمن تک پہنچ گیا، اللہ تعالیٰ اس کو ایک درجہ بلند کر دے گا۔ سیدنا عبد الرحمن بن ابی نحام رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! درجہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ درجہ تیری اماں جان کی دہلیز نہیں ہے، بلکہ دو درجوں کے درمیان سو برسوں کی مسافت جتنا فاصلہ ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4819]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه النسائي: 6/27، وأخرجه أبوداود: 3967 ولم يسق لفظه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18063 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18230»
وضاحت: فوائد: … اگرچہ کسی کے منہ پر اس کی ماں کا ذکر کرنا عرفِ عام میںمعیوب سمجھا جاتا ہے، مگر شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں ہے، خصوصاً جب کہ متعلقہ شخص اسے محسوس نہ کرے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4820
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَحْكِي عَنْ رَبِّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ أَيُّمَا عَبْدٍ مِنْ عِبَادِي خَرَجَ مُجَاهِدًا فِي سَبِيلِي ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِي ضَمِنْتُ لَهُ أَنْ أُرْجِعَهُ بِمَا أَصَابَ مِنْ أَجْرٍ وَغَنِيمَةٍ وَإِنْ قَبَضْتُهُ أَنْ أَغْفِرَ لَهُ وَأَرْحَمَهُ وَأُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ربّ سے بیان کرتے ہوئے فرمایا: میرا جو بندہ میری رضامندی کی تلاش میں میرے راستے میں جہاد کرنے کے لیے نکلتا ہے تو میں ضمانت دیتا ہوں کہ اگر میں نے اس کو لوٹایا تو اجر اور غنیمت کے ساتھ لوٹاؤں گا اور اگر اس کی روح قبض کر لی تو اس کو بخش دوں گا، اس پر رحم کروں گا اور اس کو جنت میں داخل کر دوں گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4820]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه النسائي: 6/18، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5977 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5977»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4821
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنِ اغْبَرَّتْ قَدَمَاهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُمَا حَرَامٌ عَلَى النَّارِ
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاؤں اللہ کی راہ میں غبار آلود ہو گئے، وہ آگ پر حرام ہو جائیں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4821]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابويعلي: 2075، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14947 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15010»
وضاحت: فوائد: … یہ بڑا شرف تھا جو خیر القرون کی مقدس ہستیوں کو مل چکا، ان کے پاس اس مبارک عمل کی مقدار بھی بہت زیادہ تھی اور معیار بھی بہت اعلی تھا، اللہ تعالیٰ ہمیں بھی پر خلوص موقع عطا فرمائے۔ آمین۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں