الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. فَضْلُ الرِّبَاطِ وَالْحَرْسِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ
اللہ تعالیٰ کی راہ میں رباط اور پہرے کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 4802
عَنْ أَبِي صَالِحٍ مَوْلَى عُثْمَانَ أَنَّ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَيُّهَا النَّاسُ هَجِّرُوا فَإِنِّي مُهَجِّرٌ فَهَجَّرَ النَّاسُ ثُمَّ قَالَ أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي مُحَدِّثُكُمْ بِحَدِيثٍ مَا تَكَلَّمْتُ بِهِ مُنْذُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى يَوْمِي هَذَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ رِبَاطَ يَوْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ يَوْمٍ مِمَّا سِوَاهُ فَلْيُرَابِطِ امْرُؤٌ حَيْثُ شَاءَ هَلْ بَلَّغْتُكُمْ قَالُوا نَعَمْ قَالَ اللَّهُمَّ اشْهَدْ
۔ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انھوں نے کہا: لوگو! جلدی آ جاؤ، میں بھی جلدی کرنے والا ہوں، پس لوگ پہلے وقت میں جمع ہو گئے، پھر انھوں نے کہا: اے لوگو! میں تم کو ایک ایسی حدیث بیان کرنے والا ہوں کہ جب سے میں نے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی، اس وقت سے آج تک میں نے اس کے بارے میں کوئی بات نہیں کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایک دن کے لیے پہرہ دینا ایک ہزار دنوں کی عبادت سے بہتر ہے، پس آدمی جہاں چاہے، یہ پہرہ دے، کیا میں نے تم کو یہ پیغام پہنچا دیا ہے؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! گواہ ہو جاؤ۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4802]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه الترمذي: 1667، والنسائي: 6/39، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 477 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 477»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 4803
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ رِبَاطُ يَوْمٍ خَيْرٌ مِنْ صِيَامِ شَهْرٍ وَقِيَامِهِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک دن کے لیے پہرہ دینا ایک ماہ کے روزوں اور قیام سے بہتر ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4803]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6653 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6653»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 4804
عَنِ ابْنِ أَبِي زَكَرِيَّا الْخُزَاعِيِّ عَنْ سَلْمَانَ الْخَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَهُ وَهُوَ يُحَدِّثُ شُرَحْبِيلَ بْنَ السِّمْطِ وَهُوَ مُرَابِطٌ عَلَى السَّاحِلِ يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ رَابَطَ يَوْمًا أَوْ لَيْلَةً كَانَ لَهُ كَصِيَامِ شَهْرٍ لِلْقَاعِدِ وَمَنْ مَاتَ مُرَابِطًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَجْرَى اللَّهُ لَهُ أَجْرَهُ وَالَّذِي كَانَ يَعْمَلُ أَجْرَ صَلَاتِهِ وَصِيَامِهِ وَنَفَقَتِهِ وَوُقِيَ مِنْ فَتَّانِ الْقَبْرِ وَأَمِنَ مِنَ الْفَزَعِ الْأَكْبَرِ
۔ سیدنا سلیمان خیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے سیدنا شرحبیل بن سمط رضی اللہ عنہ کو بیان کیا، جبکہ وہ ساحل کی سرحدی چوکی پر مقیم تھے، انھو ں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے ایک دن یا ایک رات کے لیے سرحد پر قیام کیا، اس کے لیے پیچھے بیٹھنے والے کے ایک ماہ کے روزوں کے برابر اجر ہو گا اور جو اسی رباط کے دوران فوت ہو گیا، اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس کے عمل کا اجر جاری کر دے گا، یعنی اس کی نماز، روزے اور مال خرچ کرنے کا اجر، اس کو قبر کے فتنے سے بچایا جائے گا اور وہ بڑی گھبراہٹ سے امن میں رہے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4804]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الترمذي: 1665، وأخرجه بنحوه مسلم: 1913، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:23727 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24128»
وضاحت: فوائد: … بڑی گھبراہٹ سے مراد صورِ اسرافیل اور قیامِ قیامت ہے، دیکھیں حدیث نمبر ۴۸۸۴۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 4805
عَنْ سَلْمَانَ الْخَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ رِبَاطُ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَصِيَامِ شَهْرٍ وَقِيَامِهِ زَادَ فِي رِوَايَةٍ صَائِمًا لَا يُفْطِرُ وَقَائِمًا لَا يَفْتُرُ إِنْ مَاتَ جَرَى عَلَيْهِ أَجْرُ الْمُرَابِطِ حَتَّى يُبْعَثَ وَيُؤْمَنَ الْفَتَّانَ
۔ (دوسری سند) سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے راستے میں سرحد پر ایک دن اور رات کا پہرہ دینا ایک ماہ کے روزوں اور قیام کی طرح ہے، ایک روایت میں یہ زیادہ الفاظ ہیں: اس روزے دار کی طرح ہے جو افطار نہیں کرتا اور اس قیام کرنے والے کی طرح ہے، جو سست نہیں پڑتا، اور وہ اسی حالت میں فوت ہو جاتا ہے تو دوبارہ زندہ ہو کر اٹھنے تک اس کا اجر اس پر جاری کر دیا جائے گا اور وہ قبر کے فتنے سے امن میں رہے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4805]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24129، 24136»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 4806
عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ مَاتَ عَلَى مَرْتَبَةٍ مِنْ هَذِهِ الْمَرَاتِبِ بُعِثَ عَلَيْهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ حَيْوَةُ يَقُولُ رِبَاطٌ أَوْ حَجٍّ أَوْ نَحْوُ ذَلِكَ
۔ سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو ان مراتب میں سے کسی مرتبہ پر فوت ہو گیا تو وہ قیامت کے روز اسی پر اٹھایا جائے گا۔ حیوہ راوی نے کہا: مرتبے سے آپ کی مراد سرحدی چوکی پر قیام اور حج وغیرہ تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4806]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23950 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24449»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 4807
عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَرْفَعُ الْحَدِيثَ قَالَتْ مَنْ رَابَطَ فِي شَيْءٍ مِنْ سَوَاحِلِ الْمُسْلِمِينَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ أَجْزَأَتْ عَنْهُ رِبَاطَ سَنَةٍ
۔ سیدہ ام درداء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے مسلمانوں کے کسی سرحدی علاقوں میں سے کسی علاقے پر تین دن کا پہرہ دیا تو یہ اس کو ایک سال کے رباط سے کفایت کرے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4807]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، اسماعيل بن عياش مخلّط في روايته عن غير اھل بلده، وھذه منھا، واسحاق بن عبد الله مجھول الحال، أخرجه الطبراني في الكبير: 24/ 648، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27040 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27580»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 4808
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ مَاتَ مُرَابِطًا وُقِيَ فِتْنَةَ الْقَبْرِ وَأُومِنَ مِنَ الْفَزَعِ الْأَكْبَرِ وَغُدِيَ عَلَيْهِ وَرِيحَ بِرِزْقِهِ مِنَ الْجَنَّةِ وَكُتِبَ لَهُ أَجْرُ الْمُرَابِطِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو رباط کی حالت میں فوت ہو گیا، اس کو قبر کے فتنے سے بچا لیا جائے گا، بڑی گھبراہٹ سے امن دے دیا جائے گا،جنت سے صبح و شام اس کو رزق دیا جائے گا اور اس کے لیے قیامت کے دن تک رباط والے آدمی کا اجر لکھ دیا جائے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4808]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح بطرقه وشواھده، أخرجه ابن ماجه: 2767، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9244 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9233»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 4809
عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ حَرَسَ مِنْ وَرَاءِ الْمُسْلِمِينَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مُتَطَوِّعًا لَا يَأْخُذُهُ سُلْطَانٌ لَمْ يَرَ النَّارَ بِعَيْنَيْهِ إِلَّا تَحِلَّةَ الْقَسَمِ فَإِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ {وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا} [مريم: 71]
۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں مسلمانوں کی حفاظت کرنے کے لیے پہرہ دیا اور اس کا یہ عمل نفلی طور پر ہو، نہ کہ سلطان کی طرف سے مجبوری کی بنا پر تو وہ اپنے آنکھوں سے آگ کو نہیں دیکھ سکے گا، ما سوائے قسم کو پورا کرنے کے لیے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اور نہیں ہے تم میں سے کوئی بھی، مگر اس آگ میں وارد ہونے والا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4809]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف زبان بن فائد، وسھل بن معاذ في رواية زبان عنه، أخرجه ابويعلي: 1490، والطبراني في الكبير: 20/ 403، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15612 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15697»
وضاحت: فوائد: … ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَ إِنْ مِنْکُمْ إِلَّا وَارِدُھَا کَانَ عَلٰی رَبِّکَ حَتْمًا مَّقْضِیًّا۔} … تم میں سے ہر ایک وہاں ضرور وارد ہونے والا ہے، یہ تیرے پروردگار کے ذمے قطعی، فیصلہ شدہ امر ہے۔ (مریم:۷۱)
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 4810
عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ كُلُّ مَيِّتٍ يُخْتَمُ عَلَى عَمَلِهِ إِلَّا الَّذِي مَاتَ مُرَابِطًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَإِنَّهُ يَنْمُو عَمَلُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَيَأْمَنُ فِتْنَةَ الْقَبْرِ
۔ سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر میت کے عمل کو ختم کر دیا جاتا ہے، ما سوائے اس آدمی کے جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں رباط کی حالت میں مرتا ہے، اس کا عمل تو قیامت کے دن تک بڑھتا رہتا ہے اور وہ قبر کے فتنے سے مامون رہتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4810]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه أبوداود: 2500، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23951 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24450»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 4811
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے بھی اسی قسم کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4811]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الدارمي: 2425، والطبراني في الكبير: 17/ 848، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17359 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17492»
الحكم على الحديث: صحیح