Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. بَابُ مَا جَاءَ فِي صَيْدِ الْكَلْبِ الْمُعَلَّم وَالْبَازِى وَنَحْوِهِمَا
سدھائے ہوئے شکاری کتے اور باز وغیرہ کے شکار کابیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7578
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي كِلَابًا مُكَلَّبَةً فَأَفْتِنِي فِي صَيْدِهَا فَقَالَ إِنْ كَانَتْ لَكَ كِلَابٌ مُكَلَّبَةٌ فَكُلْ مِمَّا أَمْسَكَتْ عَلَيْكَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَكِيٌّ وَغَيْرُ ذَكِيٍّ قَالَ ذَكِيٌّ وَغَيْرُ ذَكِيٍّ قَالَ وَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ قَالَ وَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفْتِنِي فِي قَوْسِي قَالَ كُلْ مَا أَمْسَكَتْ عَلَيْكَ قَوْسُكَ قَالَ ذَكِيٌّ وَغَيْرُ ذَكِيٍّ قَالَ ذَكِيٌّ وَغَيْرُ ذَكِيٍّ قَالَ وَإِنْ تَغَيَّبَ عَنِّي قَالَ وَإِنْ تَغَيَّبَ عَنْكَ مَا لَمْ يَصِلَّ يَعْنِي يَتَغَيَّرْ أَوْ تَجِدْ فِيهِ أَثَرًا غَيْرَ سَهْمِكَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفْتِنَا فِي آنِيَةِ الْمَجُوسِ إِذَا اضْطُرِرْنَا إِلَيْهَا قَالَ إِذَا اضْطُرِرْتُمْ إِلَيْهَا فَاغْسِلُوهَا بِالْمَاءِ وَاطْبُخُوا فِيهَا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! میرے پاس سدھائے ہوئے کتے ہیں، مجھے ان کے شکار کے بارے میں تفصیل بتائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہارے پاس شکاری کتے ہیں تو جو شکار وہ تمہارے لیے روکیں، وہ کھانا جائزہے۔ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! ذبح ہو سکے یا نہ سکے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں، ذبح کر سکو یا نہ کر سکو، دونوں صورتوں میں جائز ہو گا۔ انھوں نے کہا: اگرچہ کتے نے اس سے کھا بھی لیا ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ کتے نے اس سے کھا بھی لیا ہو۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے کمان سے شکار کئے ہوئے جانور کے بارے میں بتائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو تم کمان کے ذریعے شکار کر لو، اس کو کھا لو۔ انہوں نے کہا: خواہ ذبح کر سکوں یا نہ کر سکوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی بالکل، ذبح کر سکو یا ذبح نہ کر سکو۔ انہوں نے کہا: اگروہ شکار نظروں سے اوجھل ہو جائے تو پھر بھی جائز ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگروہ غائب ہوجائے تو اس وقت تک جائز ہے، جب تک اس میں تغیر سے بدبو پیدا نہ ہوئی ہو یا اس میں تمہارے لگے ہوئے تیر کے علاوہ کسی اور تیر کا نشان نہ ہو۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب ہم مجبور ہوں تو مجوسیوں کے برتن میں کھانے کے متعلق فتویٰ جاری فرمائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم ان کے برتنوں میں کھانے پر مجبور ہو تو انہیں پانی سے دھو لو اور پھر ان میں کھانا پکا لو۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيد و الذبائح/حدیث: 7578]
تخریج الحدیث: «حسن الا قوله وان اكل منه منكر، قاله الالباني، أخرجه ابوداود: 2857، والنسائي: 7/ 191، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6725 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6725»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7579
عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا بِأَرْضِ أَهْلِ كِتَابٍ أَفَنَأْكُلُ فِي آنِيَتِهِمْ وَإِنَّا فِي أَرْضِ صَيْدٍ أَصِيدُ بِقَوْسِي وَأَصِيدُ بِكَلْبِي الْمُعَلَّمِ وَأَصِيدُ بِكَلْبِي الَّذِي لَيْسَ بِمُعَلَّمٍ فَأَخْبِرْنِي مَاذَا يَصْلُحُ قَالَ أَمَّا مَا ذَكَرْتَ أَنَّكُمْ بِأَرْضِ أَهْلِ كِتَابٍ تَأْكُلُونَ فِي آنِيَتِهِمْ فَإِنْ وَجَدْتُمْ غَيْرَ آنِيَتِهِمْ فَلَا تَأْكُلُوا فِيهَا وَإِنْ لَمْ تَجِدُوا غَيْرَ آنِيَتِهِمْ فَاغْسِلُوهَا ثُمَّ كُلُوا فِيهَا وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ أَنَّكُمْ بِأَرْضِ صَيْدٍ فَإِنْ صِدْتَ بِقَوْسِكَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ فَكُلْ وَمَا صِدْتَ بِكَلْبِكَ الْمُعَلَّمِ فَاذْكُرْ اسْمَ اللَّهِ ثُمَّ كُلْ وَمَا صِدْتَ بِكَلْبِكَ الَّذِي لَيْسَ بِمُعَلَّمٍ فَأَدْرَكْتَ ذَكَاتَهُ فَكُلْ
۔ سیدنا ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا! اے اللہ کے رسول! ہم اہل کتاب کی سر زمین میں رہتے ہیں، کیا ہم ان کے برتنوں میں کھا سکتے ہیں اورہم ایسی سر زمین میں ہیں، جو شکار کے لیے سازگار ہے، میں اپنے کمان یا سدھائے ہوئے کتے کے ذریعہ شکار کرتاہوں اور اپنے اس کتے کے ذریعہ بھی شکار کرتا ہوں جو سدھایا ہوا نہیں، اب آپ ان کے بارے میں فرمائیں۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو تم نے یہ کہا ہے کہ ہم اہل کتاب کی سر زمین میں ہیں اور ان کے برتنوں میں کھانے کا کیا حکم ہے، تو اس بارے میں فتویٰ یہ ے کہ اگر تم ان کے برتنوں کے علاوہ برتن پاؤ تو پھر ان میں نہ کھاؤ، اگر تم ان کے برتنوں کے علاوہ برتن نہیں پاتے ہو تو ان کو دھو لو اور ان میں کھا لو۔جو تم نے یہ کہا ہے کہ تم شکار والی زمین میں ہو، اگر تم نے اپنے تیر کمان سے شکار کرتے وقت بسم اللہ پڑھی تھی تو پھر وہ شکار کھا لو اور جب تم نے سدھائے ہوئے کتے کو شکار پر چھوڑنے سے پہلے بسم اللہ پڑھی تھی تو وہ شکار بھی کھا لو اور جو تم نے نہ سدھائے ہوئے کتے سے شکار کیا ہے، اگر اسے ذبح کر لو تو اس کو بھی کھا لو اور اگر وہ ذبح کرنے سے پہلے مر جائے تو پھر نہ کھانا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيد و الذبائح/حدیث: 7579]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5478، ومسلم: 1930، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17752 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17904»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7580
عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَعَلَّمَنِي الْإِسْلَامَ وَنَعَتَ لِي الصَّلَاةَ وَكَيْفَ أُصَلِّي كُلَّ صَلَاةٍ لِوَقْتِهَا ثُمَّ قَالَ لِي كَيْفَ أَنْتَ يَا ابْنَ حَاتِمٍ إِذَا رَكِبْتَ مِنْ قُصُورِ الْيَمَنِ لَا تَخَافُ إِلَّا اللَّهَ حَتَّى تَنْزِلَ قُصُورَ الْحِيرَةِ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَيْنَ مَقَانِبُ طَيِّئٍ وَرِجَالُهَا قَالَ يَكْفِيكَ اللَّهُ طَيِّئًا وَمَنْ سِوَاهَا قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا قَوْمٌ نَتَصَيَّدُ بِهَذِهِ الْكِلَابِ وَالْبُزَاةِ فَمَا يَحِلُّ لَنَا مِنْهَا قَالَ يَحِلُّ لَكُمْ {مَا عَلَّمْتُمْ مِنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِينَ تُعَلِّمُونَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ اللَّهُ فَكُلُوا مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ} [المائدة ٤] فَمَا عَلَّمْتَ مِنْ كَلْبٍ أَوْ بَازٍ ثُمَّ أَرْسَلْتَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ فَكُلْ مِمَّا أَمْسَكَ عَلَيْكَ قُلْتُ وَإِنْ قَتَلَ قَالَ وَإِنْ قَتَلَ وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ شَيْئًا فَإِنَّمَا أَمْسَكَهُ عَلَيْكَ قُلْتُ أَفَرَأَيْتَ إِنْ خَالَطَ كِلَابَنَا كِلَابٌ أُخْرَى حِينَ نُرْسِلُهَا قَالَ لَا تَأْكُلْ حَتَّى تَعْلَمَ أَنَّ كَلْبَكَ هُوَ الَّذِي أَمْسَكَ عَلَيْكَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا قَوْمٌ نَرْمِي بِالْمِعْرَاضِ فَمَا يَحِلُّ لَنَا قَالَ لَا تَأْكُلْ مَا أَصَبْتَ بِالْمِعْرَاضِ إِلَّا مَا ذَكَّيْتَ
۔ سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے مجھے اسلام کی تعلیم دی اور وضاحت کی کہ میں نے کیسے ہر نماز اس کے وقت پر پڑھنی ہے۔ پھر آپ نے مجھے فرمایا: اے ابن حاتم! تیری اس وقت کیا حالت ہو گی جب تو یمن کے قلعوں پر چڑھے گا، تجھے اللہ کے سوا کسی کا ڈر نہ ہو گا حتی کہ تو حیرہ کے قلعوں میں اترے گا، وہ کہتے ہیں،میں نے پوچھا:طی قبیلہ کے شہسوار اور پیادہ (جرائم پیشہ) لوگ کہاں ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تجھے طی اور دیگر لوگوں سے کافی ہو جائے گا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم لوگ کتوں اور بازوں کے ذریعے شکار کرتے ہیں، ہمارے لیے ان کے شکار میں سے کیا حلال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شکاری کتے تم نے سدھائے ہیں، اس تعلیم سے جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں دے رکھی ہے، ان کے روکے ہوئے شکار کو کھا سکتے ہو اور اس پر اللہ تعالیٰ کا نام لیا ہو اور جو کتایا باز تم نے چھوڑا ہے اور اللہ کا نام ذکر کیا ہے، تو وہ جو شکار روک کر رکھیں، وہ کھا لو۔ میں نے کہا: اگرچہ یہ شکار کو مار بھی دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ یہ مار بھی دیں، لیکن شکار سے خود نہ کھایا ہو تو انہوں نے شکار تمہارے لیے روکا ہے۔ میں نے کہا: اب یہ فرمائیں کہ چھوڑتے وقت اگر ہمارے کتے کے ساتھ دوسرے کتے مل جل جاتے ہیں تو پھر کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اس وقت تک شکار نہ کھاؤ جب تک تمہیں یہ معلوم نہ ہو جائے کہ یہ شکار تمہارے کتے نے ہی کیا ہے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم تیر کے درمیانی موٹے حصے سے شکار کرتے ہیں، اس میں سے ہمارے لیے کیا حلال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شکار تیر کے اس حصے سے مر جائے، اس کو نہ کھاؤ، الا یہ کہ خود ذبح کر لو۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيد و الذبائح/حدیث: 7580]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح بغير ھذه السياقة في بعض الفاظه، وھذا اسناد ضعيف من اجل مجالد بن سعيد، أخرج منه قسم الصيد بالكلاب والبزاة ابوداود: 2851، والترمذي: 1467، 1470، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18258 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18447»
وضاحت: فوائد: … جو شکار تیر کے درمیانی موٹے حصے کے لگنے سے مرے گا، وہ مردار ہو گا اور اس جانور کی مانند ہو گا، جس کو لاٹھی سے مار دیا جائے، جس کا ذکر قرآن مجید میں ہے، جانور کے حلال ہونے کے لیے ضروری ہے کہ تیز دھار والا آلہ استعمال کیا جائے۔ دوسرے کتے کی وجہ سے یہ شبہ پیدا ہو جائے گا کہ ممکن ہے کہ اُس کتے نے شکار کو مارا ہو اور اس کو چھوڑتے وقت اللہ تعالی کا نام نہ لیا گیا ہو۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. بَابُ مَا جَاءَ فِي مَا إِذَا أَكَلَ الْكَلْبُ مِنَ الصَّيْدِ
کتا شکار میں سے کھا لے تو اس کا حکم
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7581
عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَيْدِ الْكَلْبِ فَقَالَ إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ الْمُعَلَّمَ فَسَمَّيْتَ عَلَيْهِ فَأَخَذَ فَأَدْرَكْتَ ذَكَاتَهُ فَذَكِّهِ وَإِنْ قَتَلَ فَكُلْ فَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ فَلَا تَأْكُلْ وَفِي رِوَايَةٍ فَإِنَّمَا أَمْسَكَ عَلَى نَفْسِهِ
۔ سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کتے کے شکار کے بارے میں پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم اپنا سدھایا ہوا کتا بھیجو اور بسم اللہ پڑھو تو اس کتے نے جو شکار پکڑا ہے، اگر تم اسے اس حالت میں پاتے ہیں کہ ابھی وہ زندہ ہے تو اسے ذبح کرو، اور اگر اس نے شکار مار بھی دیا ہے پھر بھی کھا لو، لیکن اگر کتے نے شکار میں سے خود کھا لیا ہے تو پھر نہ کھاؤ، کیونکہ اس کھانے کا مطلب یہ ہو گا کہ اس نے اپنے لیے روکا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيد و الذبائح/حدیث: 7581]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه مطولا البخاري: 5475، ومسلم: 1929، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19383 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19602»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7582
عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرْسَلْتَ الْكَلْبَ فَأَكَلَ مِنَ الصَّيْدِ فَلَا تَأْكُلْ فَإِنَّمَا أَمْسَكَ عَلَى نَفْسِهِ وَإِذَا أَرْسَلْتَهُ فَقَتَلَ وَلَمْ يَأْكُلْ فَكُلْ فَإِنَّمَا أَمْسَكَ عَلَى صَاحِبِهِ
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم اپنا کتا شکار کے لیے چھوڑتے ہو اور وہ اس میں سے کچھ کھا لیتا ہے تو پھر وہ شکار نہ کھانا، کیونکہ اس کا مطلب یہ ہو گا کہ اس نے اپنے لیے روکا ہے اور جب تم اپناکتا چھوڑتے ہو اور وہ اس میں سے کچھ نہیں کھاتا تو پھر اس کو کھا لو، کیونکہ اس نے شکار مالک کے لیے روکا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيد و الذبائح/حدیث: 7582]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2049 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2049»
وضاحت: فوائد: … ان دو احادیث سے معلوم ہوا کہ شکار کو اس وقت کھانا جائز ہو گا، جب شکاری کتا شکار کر کے خود اس میں کچھ نہ کھائے، بلکہ مالک کے لیے روک کر رکھے، نیز ارشادِ باری تعالی ہے: {فَکُلُوْا مِمَّا اَمْسَکْنَ عَلَیْکُمْ} … پس تم کھاؤ اس شکار سے، جو وہ تمہارے لیے روکے رکھیں۔ جب کتا خود کھانا شروع کر دے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ اس نے شکار کو مالک کے لیے نہیں روکا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. بَابُ مَا جَاءَ فِي التسمية عِندَ إِرْسَالِ الْكَلْبِ وَنَحْوہ
کتے پر بسم اللہ پڑھ کرچھوڑنے کا مسئلہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7583
عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّا أَهْلُ صَيْدٍ فَقَالَ إِذَا رَمَى أَحَدُكُمْ بِسَهْمِهِ فَلْيَذْكُرْ اسْمَ اللَّهِ تَعَالَى فَإِنْ قَتَلَ فَلْيَأْكُلْ وَإِنْ وَقَعَ فِي مَاءٍ فَوَجَدَهُ مَيْتًا فَلَا يَأْكُلْهُ فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي لَعَلَّ الْمَاءَ قَتَلَهُ فَإِنْ وَجَدَ سَهْمَهُ فِي صَيْدٍ بَعْدَ يَوْمٍ أَوْ اثْنَيْنِ وَلَمْ يَجِدْ فِيهِ أَثَرًا غَيْرَ سَهْمِهِ فَإِنْ شَاءَ فَلْيَأْكُلْهُ قَالَ وَإِذَا أَرْسَلَ عَلَيْهِ كَلْبَهُ فَلْيَذْكُرْ اسْمَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَإِنْ أَدْرَكَهُ قَدْ قَتَلَهُ فَلْيَأْكُلْ وَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ فَلَا يَأْكُلْ فَإِنَّهُ إِنَّمَا أَمْسَكَ عَلَى نَفْسِهِ وَلَمْ يُمْسِكْ عَلَيْهِ وَإِنْ أَرْسَلَ كَلْبَهُ فَخَالَطَ كِلَابًا لَمْ يَذْكُرْ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهَا فَلَا يَأْكُلْ فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَيُّهَا قَتَلَهُ
۔ سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! ہم شکاری لوگ ہیں، اس بارے میں آپ ہمیں ہدایات دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شکار پر اپنا تیر پھینکے تو وہ بسم اللہ پڑھ لے، اگر وہ تیر شکار کو مار بھی دے، پھر بھی کھا لو، لیکن اگر وہ شکار زخمی ہو کر پانی میں گر جائے اور وہیں مر جائے تو پھر نہیں کھانا، کیونکہ ہو سکتا ہے وہ پانی میں ڈوب کر مرا ہو، اور اگرشکار میں تیر لگا ہو اور وہ ایک دو دن بعد میں ملا ہو اور اس میں سوائے تمہارے تیر کے کسی اور کے تیر کا نشان نہ ہو تو اگر مرضی ہوتو کھا سکتے ہو اور جب شکار پر کتا چھوڑا ہو تو چھوڑتے وقت بسم اللہ پڑھ لو، اگر وہ شکار اس حالت میں مر بھی گیا ہو تو اس کو کھا لو اور اگر کتا شکار میں سے کچھ کھا لے، تو پھر نہ کھانا، کیونکہ یہ کتے نے اپنے لیے روکا ہے، شکاری کے لیے نہیں روکا، اگر کتا شکار کے لیے چھوڑا ہے اور اس کے ساتھ دوسرے کتے بھی مل جل گئے ہوں، جن کو چھوڑتے وقت بسم اللہ نہ پڑھی گئی ہو تو پھر اس کو نہیں کھانا، کیونکہ معلوم نہیں کہ ان میں سے کس نے شکار ماراہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيد و الذبائح/حدیث: 7583]
تخریج الحدیث: «أخرجه مطولا ومختصرا البخاري: 5475، 5484، ومسلم: 1929، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19388 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19607»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7584
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَيْدِ الْمِعْرَاضِ فَقَالَ مَا أَصَبْتَ بِحَدِّهِ فَكُلْهُ وَمَا أَصَبْتَ بِعَرْضِهِ فَهُوَ وَقِيذٌ وَسَأَلْتُهُ عَنْ صَيْدِ الْكَلْبِ قَالَ وَكِيعٌ قَالَ إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ فَكُلْ فَقَالَ وَمَا أَمْسَكَ عَلَيْكَ وَلَمْ يَأْكُلْ فَكُلْهُ فَإِنَّ أَخْذَهُ ذَكَاتُهُ وَإِنْ وَجَدْتَ مَعَ كَلْبِكَ كَلْبًا آخَرَ فَخَشِيتَ أَنْ يَكُونَ أَخَذَهُ مَعَهُ وَقَدْ قَتَلَهُ فَلَا تَأْكُلْ فَإِنَّكَ إِنَّمَا ذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَلَى كَلْبِكَ وَلَمْ تَذْكُرْهُ عَلَى غَيْرِهِ
۔ سیدنا عدی رضی اللہ عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا کہ جو شکار تیر کے درمیانی موٹے حصے کے لگنے سے مرے گا، اس کا کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو دھار کی جانب سے تیر شکار کو لگے وہ کھا لو اور جو اس موٹے حصے کی جانب سے لگے، وہ لاٹھی سے مارے ہوئے جانور کی مانند ہے، اسے کھانا جائز نہیں۔ میں نے کتے کے شکار کے متعلق سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم اپنا کتا شکار کے لیے چھوڑو اور اس پر اللہ کا نام ذکر کیا ہو، اگر وہ کتا شکار روکتا ہے تو کھا لو، لیکن اگر تم اپنے کتے کے ساتھ کوئی دوسرا کتا پاتے ہو اور یہ خدشہ ہو کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اُس کتے نے مارا ہو تو پھر شکار نہ کھاؤ، کیونکہ تم نے اپنے کتے پر بسم اللہ پڑھی ہے، دوسرے کتے پر تو نہیں پڑھی۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيد و الذبائح/حدیث: 7584]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18434»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7585
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِي كَانَ يَصِلُ الرَّحِمَ وَيَقْرِي الضَّيْفَ وَيَفْعَلُ كَذَا قَالَ إِنَّ أَبَاكَ أَرَادَ شَيْئًا فَأَدْرَكَهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرْمِي الصَّيْدَ وَلَا أَجِدُ مَا أُذَكِّيهِ بِهِ إِلَّا الْمَرْوَةَ وَالْعَصَا قَالَ أَمِرَّ الدَّمَ بِمَا شِئْتَ ثُمَّ اذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قُلْتُ طَعَامٌ مَا أَدَعُهُ إِلَّا تَحَرُّجًا قَالَ مَا ضَارَعْتَ فِيهِ نَصْرَانِيَّةً فَلَا تَدَعْهُ
۔ سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے باپ حاتم طائی صلہ رحمی کرتے تھے اور کوئی نیک کام کرتے تھے؟ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک تمہارے والد نے جس کام کا ارادہ کیا تھا، اس نے اس کو پا لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد شہرت اور نمود و نمائش تھی، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں تیر پھینکتا ہوں اب شکار ذبح کرنے کے لیے میرے پاس صرف پتھر یا لاٹھی ہوتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بسم اللہ پڑھو اور شکار سے خون جاری کردو (یعنی خون جاری کر دینے والا کوئی آلہ استعمال کر لو)۔ میں نے کہا: بعض کھانے ایسے ہوتے ہیں کہ میں ان کو صرف گناہ میں واقع ہونے کے خوف سے چھوڑ دیتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کھانے کو چھوڑنے میں عیسائیت سے مشابہت پیدا ہوتی ہو وہ کھانا نہ چھوڑنا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيد و الذبائح/حدیث: 7585]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح دون قصة مضارعة النصرانية، فان ھذه القصة ضعيفة لجھالة مري بن قطري، أخرجه ابن ماجه: 3177، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18250، 18262 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18439»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ شکاری جانور چھوڑتے وقت یا تیر چلاتے اور گولی فائر کرتے وقت بسم اللہ پڑھنی چاہیے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. بابُ الصَّيْدِ بِالقَوْسِ وَحُكْمِ الْرَمِيَّةِ إِذَا غَابَتْ أَوْ وَقَعَتْ فِي مَاءٍ
کمان سے شکار کرنے کا اور غائب ہو جانے والے یا پانی میں گر جانے والے شکار کے حکم کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7586
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ وَحُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولَانِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كُلْ مَا رَدَّتْ عَلَيْكَ قَوْسُكَ
۔ سیدنا عقبہ بن عامر اور سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہماما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیری کمان جس چیز کو شکار کر لے، تو اس کو کھا لے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيد و الذبائح/حدیث: 7586]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه البيھقي: 9/ 245، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23293 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23682»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7587
عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَمَيْتَ بِسَهْمِكَ فَغَابَ ثَلَاثَ لَيَالٍ فَأَدْرَكْتَهُ فَكُلْ مَا لَمْ يُنْتِنْ
۔ سیدنا ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم تیر شکار پر پھینکتے ہو اور وہ تین دن تک تم سے غائب ہو جاتا ہے اور پھر اسے پا لیتے ہو تو اس کو کھایا جاسکتا ہے، بشرطیکہ وہ بدبودار نہ ہوا ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيد و الذبائح/حدیث: 7587]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1931، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17744 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17896»
وضاحت: فوائد: … یہ ظن غالب ہونا چاہیے کہ یہ وہی جانور ہے، جس پر اِس شکاری نے تیر چلایا تھا اور اسی تیر کی وجہ سے یہ مرا ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں