الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. بَابُ جَوَازِ الذَّبْحِ بِكُلِّ مَا أَنْهَرَ الدَّمَ إِلَّا السِّنُ وَالظُّفْرُ وَمَا يُفْعَلُ بِالْبَعِيرِ النَّادِ
جو چیز بھی خون بہا دے،اس کے ذریعے ذبح کرنے کے جواز کا بیان، ما سوائے دانت اور ناخن کے، نیز اس امر کی وضاحت کہ بدک جانے والے اونٹ کے ساتھ کیا کیا جائے گا
حدیث نمبر: 7607
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ امْرَأَةً كَانَتْ تَرْعَى عَلَى آلِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ غَنَمًا بِسَلْعٍ فَخَافَتْ عَلَى شَاةٍ مِنْهَا الْمَوْتَ فَذَبَحَتْهَا بِحَجَرٍ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهُمْ بِأَكْلِهَا
۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ ایک عورت کعب بن مالک کی آل کی بکریاں سلع پہاڑ کے دامن میں چرا رہی تھی، اسے اندیشہ ہوا کہ ایک بکری مرنے کے قریب ہے، پس اس نے اس کو پتھر کے ساتھ ذبح کر دیا، جب اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے کھانے کی اجازت دے دی۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيد و الذبائح/حدیث: 7607]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5502، 5505، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5463 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5463»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7608
عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ جَارِيَةً لِكَعْبٍ كَانَتْ تَرْعَى غَنَمًا لَهُ بِسَلْعٍ فَعَدَا الذِّئْبُ عَلَى شَاةٍ مِنْ شَاتِهَا فَأَدْرَكَتْهَا الرَّاعِيَةُ فَذَكَّتْهَا بِمَرْوَةٍ فَسَأَلَ كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهُ بِأَكْلِهَا
۔ سیدنا کعب بن مالک کا بیٹا بیان کرتا ہے کہ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ کی لونڈی سلع پہاڑ کے دامن میں ان کی بکریاں چرا رہی تھی، ایک بکری پر بھیڑیا حملہ آور ہوا، لیکن جب اس چرواہی نے اس بکری کو زندہ پایا تو اس نے ایک پتھر کے ذریعے اس کو ذبح کر دیا، جب سیدنا کعب بن مالک نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھانے کی اجازت دے دی۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيد و الذبائح/حدیث: 7608]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2304، 5501، 5504، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15765 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15857»
وضاحت: فوائد: … اگر پتھر کی دھار تیز ہو اور وہ چھری کی طرح جسم کو چیر دے تو اس سے ذبح کرنا بھی درست ہے، درج ذیل حدیث میں ذبح والے آلے کا کلیہ بیان کیا گیا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7609
عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لَاقُو الْعَدُوِّ غَدًا وَلَيْسَ مَعَنَا مُدًى قَالَ مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ عَلَيْهِ اسْمُ اللَّهِ فَكُلْ لَيْسَ السِّنَّ وَالظُّفُرَ وَسَأُحَدِّثُكَ أَمَّا السِّنُّ فَعَظْمٌ وَأَمَّا الظُّفُرُ فَمُدَى الْحَبَشَةِ قَالَ وَأَصَابَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهْبًا فَنَدَّ مِنْهَا بَعِيرٌ فَسَعَوْا لَهُ فَلَمْ يَسْتَطِيعُوا فَرَمَاهُ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فَحَبَسَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِهَذِهِ الْإِبِلِ أَوْ قَالَ لِهَذِهِ النَّعَمِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ فَمَا غَلَبَكُمْ فَاصْنَعُوا بِهِ هَكَذَا قَالَ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَجْعَلُ فِي قِسْمِ الْغَنَائِمِ عَشْرًا مِنَ الشَّاءِ بِبَعِيرٍ
۔ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمارا کل دشمن سے مقابلہ ہونے والا ہے، اگر جانور ذبح کرنے کے لیے ہمارے پاس چھری نہ ہو توہمیں کیا کرنا چاہیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو چیز خون بہا دے اور اس پر اللہ کا نام ذکر کیا گیا ہو، اس کو کھا لو، البتہ وہ دانت اور ناخن نہ ہو،میں تمھیں بتاتا ہوں کہ دانت اور ناخن کی وجہ کیا ہے، دانت ہڈی ہے اور ناخن حبشہ کی چھری ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کچھ مال غنیمت ملا، اس میں سے ایک اونٹ بھاگ نکلا، لوگو ں نے بہت روکنے کی کوشش کی، لیکن وہ روکنے کی طاقت نہ رکھ سکے، ایک آدمی نے اس پر تیر پھینکا، تو وہ رک گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بعض اونٹ وحشیوں کی طرح بدک جاتے ہیں، اگر کوئی ایسا جانور تم پر غالب آ جائے تو اس کے ساتھ اسی طرح کیا کرو۔ اس دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مال غنیمت تقسیم کرتے ہوئے ایک اونٹ کے عوض دس بکریاں شمار کی تھیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيد و الذبائح/حدیث: 7609]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5506، 5509، ومسلم: 1968، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17261 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17393»
وضاحت: فوائد: … جس جانور کو پکڑ کر ذبح کیا جا سکے، اس کے ذبح کے قوانین مقرر ہیں، لیکن اگر کوئی ایسا جانور بدک جائے اور اس کو قابو میں لانے کی کوئی صورت نہ ہو تو بسم اللہ پڑھ کر اس پر تیر یا گولی وغیرہ چلا دی جائے، اگر وہ ذبح کرنے سے پہلے مر گیا تو وہ حلال ہو گا، جیسے شکار حلال ہوتا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7610
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَتًى شَابٌّ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ فَقَالَ إِنِّي رَأَيْتُ أَرْنَبًا فَخَذَفْتُهَا وَلَمْ تَكُنْ مَعِي حَدِيدَةٌ أُذَكِّيهَا بِهَا وَإِنِّي ذَكَّيْتُهَا بِمَرْوَةٍ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كُلْ
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ بنو سلمہ میں سے ایک نوجوان، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: میں نے ایک خرگوش دیکھا، جسے میں نے کنکر مارا، پھر میرے پاس چھری نہ تھی، جس کے ساتھ میں اسے ذبح کرتا تو میں نے اس کو پتھر سے ذبح کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو کھا لو۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيد و الذبائح/حدیث: 7610]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الترمذي: 1472، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14486 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14540»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7611
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صَفْوَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ صَادَ أَرْنَبَيْنِ فَلَمْ يَجِدْ حَدِيدَةً يَذْبَحُهُمَا بِهَا فَذَبَحَهُمَا بِمَرْوَةٍ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهُ بِأَكْلِهِمَا
۔ سیدنا محمد بن صفوان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے دو خرگوش شکار کئے، چھری وغیرہ موجود نہ تھی کہ انہیں ذبح کیا جا سکے، سو میں نے ان کو پتھر کے ساتھ ذبح کر دیا، پھر جب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو کھا لینے کا حکم دیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيد و الذبائح/حدیث: 7611]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه ابوداود: 2822، والنسائي: 7/ 197، وابن ماجه: 3175، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15870 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15965»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7612
عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ ذِئْبًا نَيَّبَ فِي شَاةٍ فَذَبَحُوهَا بِمَرْوَةٍ فَرَخَّصَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي أَكْلِهَا
۔ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بکری میں ایک بھیڑیئے نے دانت چبھو دیئے، لیکن پھر لوگوں نے اسے پتھر سے ذبح کر دیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو کھا لینے کی رخصت دے دی۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيد و الذبائح/حدیث: 7612]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه النسائي: 7/ 225، وابن ماجه: 3176، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21597 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21933»
وضاحت: فوائد: … اگر کوئی درندہ حلال جانور کو زخمی کر دے اور اس کو زندہ پا کر ذبح کر لیا جائے تو وہ حلال ہی ہو گا، یہی معاملہ اس جانور کا ہے، جو کسی طرح سے زخمی ہو جائے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7613
عَنْ سَفِينَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا أَشَاطَ نَاقَتَهُ بِجِذْلٍ فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهُمْ بِأَكْلِهَا
۔ سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنی اونٹنی کا ایک تیز دھار لکڑی کے ذریعہ خون بہا دیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو کھانے کی اجازت دے دی۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيد و الذبائح/حدیث: 7613]
تخریج الحدیث: «اسناده معضل ضعيف، يحيي لم يدرك سفينة، بينھما راويان وھما مجھولان، أخرجه البزار: 3831، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21920 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22265»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 7614
عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي حَارِثَةَ أَنَّ رَجُلًا وَجَأَ نَاقَةً فِي لَبَّتِهَا بِوَتَدٍ وَخَشِيَ أَنْ تَفُوتَهُ فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهُمْ بِأَكْلِهَا
۔ عطاء بن یسار، بنو حارثہ کے ایک آدمی سے بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنی اونٹنی کے گلے کے گڑھے میں ایک میخ مار دی اور اسے اندیشہ ہوا تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ ویسے ہی مر جائے، اس لیے اس نے میخ سے ذبح کر دی، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو کھانے کی اجازت دے دی۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيد و الذبائح/حدیث: 7614]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 2823، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23647 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24047»
الحكم على الحديث: صحیح
11. بَابُ ذَكَاةِ الْمُتَرَدِّيَّةِ وَالنَّافِرِةِ وَالْجَنِيْنِ فِي بَطْنِ أُمِّهِ
گر نے والے، بدک جانے والے اور ماں کے پیٹ میں موجود بچے کا بیان
حدیث نمبر: 7615
عَنْ أَبِي الْعُشَرَاءِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمَا تَكُونُ الذَّكَاةُ إِلَّا فِي الْحَلْقِ أَوِ اللَّبَّةِ قَالَ لَوْ طَعَنْتَ فِي فَخِذِهَا لَأَجْزَأَكَ
۔ ابو عشراء کے باپ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا جانور کو صرف گرد ن کے گڑھے میں ذبح کیا جاتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو اس کی ران میں بھی نیزہ مارے گا تو کفایت کرے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيد و الذبائح/حدیث: 7615]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة ابي العشراء أخرجه الترمذي: 1481، وابن ماجه: 3184، والنسائي: 7/ 228، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18947 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19155»
وضاحت: فوائد: … یہ روایت ضعیف ہے، لیکن یہ فقہی مسئلہ ضرور ہے کہ ہر ممکنہ حد تک جانور کو گردن میں ہی ذبح کیا جائے گا، ہاں اگر ایسا کرنا نا ممکن ہو جائے، جیسے جانور بدک جائے،یا وہ واضح طور پر مرنے کے اسباب کے قریب ہو جائے، لیکن اس کی گردن تک نہ پہنچا جا سکتا ہو تو پھر کوئی اور ممکنہ طریقہ استعمال کیا جائے گا، مثلا تیر چلانا، فائر کرنا، تلوار چلانا۔
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 7616
عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وَأَصَابَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهْبًا فَنَدَّ بَعِيرٌ مِنْهَا فَسَعَوْا فَلَمْ يَسْتَطِيعُوهُ فَرَمَاهُ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ بِسَهْمٍ فَحَبَسَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِهَذِهِ الْإِبِلِ أَوِ النَّعَمِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ فَإِذَا غَلَبَكُمْ شَيْءٌ مِنْهَا فَاصْنَعُوا بِهِ هَكَذَا
۔ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کچھ مال غنیمت ملا، اس میں سے ایک اونٹ بدک گیا، لوگو ں نے بہت روکنے کی کوشش کی، لیکن وہ روکنے کی طاقت نہ رکھ سکے، ایک آدمی نے اس پر تیر پھینکا، تو وہ رک گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بعض اونٹ وحشیوں کی طرح بدک جاتے ہیں، اگر کوئی ایسا جانور تم پر غالب آ جائے تو اس کے ساتھ اسی طرح کیا کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيد و الذبائح/حدیث: 7616]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5503، ومسلم: 1968، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15806 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15899»
وضاحت: فوائد: … جس جانور کو پکڑ کر ذبح کیا جا سکے، اس کے ذبح کے قوانین مقرر ہیں، لیکن اگر کوئی ایسا جانور بدک جائے اور اس کو قابو میں لانے کی کوئی صورت نہ ہو تو بسم اللہ پڑھ کر اس پر تیر یا گولی وغیرہ چلا دی جائے، اگر اس کا خون بہہ گیا اور وہ ذبح کرنے سے پہلے مر گیا تو وہ حلال ہو گا، جیسے شکار حلال ہوتا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح