الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. بابُ الصَّيْدِ بِالقَوْسِ وَحُكْمِ الْرَمِيَّةِ إِذَا غَابَتْ أَوْ وَقَعَتْ فِي مَاءٍ
کمان سے شکار کرنے کا اور غائب ہو جانے والے یا پانی میں گر جانے والے شکار کے حکم کا بیان
حدیث نمبر: 7588
عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْتُ إِنَّ أَرْضَنَا أَرْضُ صَيْدٍ فَيَرْمِي أَحَدُنَا الصَّيْدَ فَيَغِيبُ عَنْهُ لَيْلَةً أَوْ لَيْلَتَيْنِ فَيَجِدُهُ وَفِيهِ سَهْمُهُ قَالَ إِذَا وَجَدْتَ سَهْمَكَ وَلَمْ تَجِدْ فِيهِ أَثَرًا غَيْرَهُ وَعَلِمْتَ أَنَّ سَهْمَكَ قَتَلَهُ فَكُلْهُ وَبِلَفْظٍ آخَرَ فَإِذَا وَجَدْتَ فِيهِ سَهْمَكَ وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ سَبُعٌ فَكُلْ
۔ سیدنا عدی بن حاتم طائی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا کہ ہماری سر زمین شکارکے لیے بہت موزوں ہے، ہم میں سے اگر کوئی شکارکو تیر مارتا ہے اوروہ شکار ایک یا د ودن غائب رہتاہے اور پھر وہ پایا جاتا ہے اور اس میں وہی تیر موجود ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم اس میں اپنا تیر پاتے ہو اور اس میں کسی اور تیرکے اثرات نہ ہوں اور تم جانتے ہو کہ اسے تمہارے تیر نے ہی مارا ہے تو تم اسے کھا لو۔ ایک روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم اس میں اپنا تیر لگا ہوا دیکھتے ہیں اور اس سے کسی درندے نے نہ کھایا ہو تو پھر تم وہ شکار کھا سکتے ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيد و الذبائح/حدیث: 7588]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الترمذي: 2970، 2971، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19376 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19594»
وضاحت: فوائد: … اگر درندے کے کھانے کے اثرات موجود ہوں تو یہ شبہ پیدا ہو جائے گا کہ ممکن ہے کہ یہ جانور درندے کے کھانے کی وجہ سے مرا ہو۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7589
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا وَقَعَتْ رَمْيَتُكَ فِي الْمَاءِ فَغَرَقَ فَلَا تَأْكُلْ
۔ سیدنا عدی رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس شکار پر تم نے تیر چلایا ہو، لیکن (تیر لگنے کے بعد) وہ پانی میں گر کر مر گیا ہو تو اس کو نہیں کھانا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيد و الذبائح/حدیث: 7589]
تخریج الحدیث: «أخرجه مطولا ومختصرا البخاري: 5484، ومسلم: 1929، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19379 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19598»
وضاحت: فوائد: … ممکن ہے کہ ایسا جانور پانی میں ڈوب جانے کی وجہ سے مرا ہو، اس لیے اس کو حرام سمجھا جائے گا۔
الحكم على الحديث: صحیح
5. باب مَا جَاءَ فِي الصَّيْدِ بِالْمِعْرَاضِ
معراض کے شکار کا بیان
حدیث نمبر: 7590
عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَيْدِ الْمِعْرَاضِ فَقَالَ مَا أَصَابَ بِحَدِّهِ فَخَزَقَ فَكُلْ وَمَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَقَتَلَ فَإِنَّهُ وَقِيذٌ فَلَا تَأْكُلْ
۔ سیدنا عدی رضی اللہ عنہ ہی بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا کہ جو شکار تیر کے درمیانی موٹے حصے کے لگنے سے مرے گا، اس کا کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس شکار کو تیر کی دھار لگے اور وہ اس میں گھس جائے اس کو کھا لو اور جب تیر کا درمیانی حصہ لگے اور شکار کو قتل کر دے تو وہ لاٹھی سے مارے ہوئے جانور کی مانند ہے، پس اسے نہیں کھانا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيد و الذبائح/حدیث: 7590]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5475، ومسلم: 1929، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19371 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19588»
وضاحت: فوائد: … تیر کا درمیانی حصہ محض ایک لاٹھی کی مانند ہوتا ہے، اس کو معراض کہا گیا ہے، اس کے ذریعے جو شکار مر جائے گا، وہ حرام ہو گا، کیونکہ یہ حصہ تیر دھار کے حکم میں نہیں آتا اور نہ شکار میں پیوست ہوتا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7591
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ وَسَمَّيْتَ فَخَالَطَ كِلَابًا أُخْرَى فَأَخَذَتْهُ جَمِيعًا فَلَا تَأْكُلْ فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي أَيُّهَا أَخَذَهُ وَإِذَا رَمَيْتَ فَسَمَّيْتَ فَخَزَقَتْ فَكُلْ فَإِنْ لَمْ تَخْزَقْ فَلَا تَأْكُلْ وَلَا تَأْكُلْ مِنَ الْمِعْرَاضِ وَلَا تَأْكُلْ مِنَ الْبُنْدُقَةِ إِلَّا مَا ذَكَّيْتَ
۔ سیدنا عدی رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم اپنے کتے کو شکار پر چھوڑو اور بسم اللہ بھی کہو، لیکن اگر یہ کتا دوسرے کتوں کے ساتھ مل جائے تو وہ شکار نہیں کھانا، کیونکہ تم نہیں جانتے کہ کس کتے نے اس شکار کو مارا ہے (جبکہ تم نے صرف اپنے کتے پر بسم اللہ پڑھی ہے)، اسی طرح جب تم تیر پھینکو اور بسم اللہ کہی ہو اور وہ تیر شکار میں پیوست ہو گیا ہو تو اس کو کھا لو، اگر وہ پیوست نہ ہو اور تیر کے درمیانی موٹے حصے کی ضرب سے مرے ہوئے شکار کو نہ کھاؤ اور بندق کے کیے گئے شکار کو نہ کھاؤ، الا یہ کہ اس کو ذبح کر لو۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيد و الذبائح/حدیث: 7591]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح دون قوله: ولا تأكل من البندقة الا ما ذكيت وھذا اسناد ضعيف لانقطاعه ما بين ابراهيم النخعي وعدي بن حاتم، أخرجه مطولا لكن دون ذكر صيد البندقة البخاري: 5475، ومسلم: 1929، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19392 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19611»
وضاحت: فوائد: … بندق سے مراد وہ کنکر ہیں جو مٹی سے بنا کر خشک کر لیے جاتے ہیں اور وہ شکار کو مارے جاتے ہیں، اگر شکار مر جائے تو وہ مردار ہوتا ہے،کیونکہ وہ لاٹھی سے مارے ہوئے جانور کی طرح ہوتا ہے، جس کو سورۂ مائدہ کی آیت نمبر (۳) میں حرام قرار دیا گیا ہے، ہاں اگر ایسا جانور زندہ مل جائے تو اس کو ذبح کیا جا سکتا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7592
وَعَنْهُ أَيْضًا قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّا قَوْمٌ نَرْمِي بِالْمِعْرَاضِ فَمَا يَحِلُّ لَنَا قَالَ لَا تَأْكُلْ مَا أَصَبْتَ بِالْمِعْرَاضِ إِلَّا مَا ذَكَّيْتَ
۔ سیدنا عدی رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم لوگ تیر کے درمیانے موٹے حصے سے شکار کرتے ہیں، کیا وہ ہمارے لیے حلال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو تیر کے درمیانے موٹے حصے سے شکار کرو، اس کو نہ کھاؤ، الا یہ کہ اس کو خود ذبح کر لو۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيد و الذبائح/حدیث: 7592]
تخریج الحدیث: «صحيح بالطرق، أخرجه ابن ابي شيبة: 5/ 375، وعبد الرزاق: 8531، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18258 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18447»
الحكم على الحديث: صحیح
6. بَابُ النَّهْي عَنِ الرَّمْيِ بِالْمُنْدُقِ وَمَا فِي مَعْنَاهُ
بندق اور اس جیسی چیزوں کو پھینکنے سے ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 7593
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْخَذْفِ وَقَالَ إِنَّهَا لَا يُنْكَأُ بِهَا عَدُوٌّ وَلَا يُصَادُ بِهَا صَيْدٌ
۔ سیدنا عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کنکریاں پھینکنے سے منع کیا ہے، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس سے نہ تو دشمن کو نقصان پہنچایا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس سے شکار ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيد و الذبائح/حدیث: 7593]
تخریج الحدیث: «أخرجه مطولا البخاري: 5479، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16794 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16917»
وضاحت: فوائد: … بندق کی تفصیل کے لیے دیکھیں حدیث نمبر (۷۵۹۱)
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7594
عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ قَرِيبًا لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَذَفَ فَنَهَاهُ وَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْخَذْفِ وَقَالَ إِنَّهَا لَا تَصِيدُ صَيْدًا وَلَا تَنْكَأُ عَدُوًّا وَلَكِنَّهَا تَكْسِرُ السِّنَّ وَتَفْقَأُ الْعَيْنَ قَالَ فَعَادَ فَقَالَ حَدَّثْتُكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهَا ثُمَّ عُدْتَ لَا أُكَلِّمُكَ أَبَدًا
۔ سعید بن جبیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کے ایک رشتہ دار نے کنکری پھینکی، انہوں نے اس کو منع کیا اور کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کنکری پھینکنے سے منع کیا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا ہے کہ اس سے نہ تو شکارہو گا اور نہ دشمن کا نقصان ہو گا، البتہ یہ چیز دانت کو توڑ سکتی ہے اور کسی کی آنکھ پھوڑ سکتی ہے۔ اس آدمی نے دوبارہ کنکری پھینکی، اس بار انھوں نے کہا: میں نے تجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث سنائی ہے تو پھر وہی کام کر رہا ہے، جس سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع کیا ہے، میں تجھ سے کبھی کلام نہیں کروں گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيد و الذبائح/حدیث: 7594]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1954، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20551 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20825»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7595
أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ أَنَّ أَبَا بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْخَذْفِ فَأَخَذَ ابْنُ عَمٍّ لَهُ فَقَالَ عَنْ هَذَا وَخَذَفَ فَقَالَ أَلَا أُرَانِي أُخْبِرُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ وَأَنْتَ تَخْذِفُ وَاللَّهِ لَا أُكَلِّمُكَ عَزْمَةً مَا عِشْتُ أَوْ مَا بَقِيتُ أَوْ نَحْوَ هَذَا
۔ سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کنکریاں پھینکنے سے منع کیا ہے، ان کے ایک بھتیجے نے کنکری لی اور اسے اس بارے میں کہا اور اسے پھینکا، سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: میں تجھے دیکھ رہا ہوں کہ میں نے تجھے بتایا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع کیا ہے اور تو کنکریاں پھینک رہا ہے، میں پختہ عزم سے کہتا ہوں کہ جب تک میری زندگی باقی ہے، میں تجھ سے کلام نہیں کروں گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيد و الذبائح/حدیث: 7595]
تخریج الحدیث: «متن الحديث صحيح،لكن من حديث عبد الله بن مغفل، وھو في الصحيحين، ولا يبعد ان يكون الوھم فيه من حماد بن سلمة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20463 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20737»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7596
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنِ الرَّمِيَّةِ أَنْ تُرْمَى الدَّابَّةُ ثُمَّ تُؤْكَلَ وَلَكِنْ تُذْبَحُ ثُمَّ لْيَرْمُوا إِنْ شَاءُوا
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پتھر پھینکنے سے منع کیا ہے، یعنی اس صورت سے منع فرمایا کہ جانور کو پتھر یا کند چیز ماری جائے اور پھر اس کو کھا لیا جائے، بلکہ اس کو پہلے ذبح کیا جائے، پھر اس کے بعد جو چیز مرضی ہو وہ مار لیں، اگرچہ وہ کند ہی کیوں نہ ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيد و الذبائح/حدیث: 7596]
تخریج الحدیث: «ابن لھيعة سييء الحفظ، وقد تفرد به، أخرجه الطبراني في الاوسط: 8612، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9228 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9217»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 7597
عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَأْكُلْ مِنَ الْبُنْدُقَةِ إِلَّا مَا ذَكَّيْتَ
۔ سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بندق سے مارا ہوا شکار نہ کھاؤ، الا یہ کہ اس کو ذبح کر لو۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيد و الذبائح/حدیث: 7597]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه بين ابراهيم النخعي وعدي بن حاتم، أخرجه عبد الرزاق: 8530، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19392 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19611»
وضاحت: فوائد: … ارشادِ باری تعالی ہے: {حُرِّمَتْ عَلَیْکُمُ الْمَیْتَۃُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِیْرِ وَمَا اُھِلَّ لِغَیْرِ اللّٰہِ بِہٖ وَالْمُنْخَنِقَۃُ وَالْمَوْقُوْذَۃُ وَالْمُتَرَدِّیَۃُ وَالنَّطِیْحَۃُ} … تم پر حرام کیا گیا ہے مردار، خون، خنزیر کا گوشت، جس پر اللہ کے سوا دوسرے کا نام پکارا گیا ہو، جو گلا گھٹنے سے مرا ہو، جو کسی ضرب سے مر گیا ہو، جو اونچی جگہ سے گر کر مرا ہو اور جو کسی کے سینگ مارنے سے مرا ہو۔ (سورۂ مائدہ: ۳)
الحكم على الحديث: ضعیف