الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. باب
باب
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيد و الذبائح/حدیث: Q7598]
8. بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّسْمِيَةِ وَالذَّبْحِ لِغَيْرِ اللَّهِ
ذبح پر بسم اللہ پڑھنے اور غیر اللہ کے لیے ذبح کرنے کابیان
حدیث نمبر: 7598
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَلْعُونٌ مَنْ سَبَّ أَبَاهُ مَلْعُونٌ مَنْ سَبَّ أُمَّهُ مَلْعُونٌ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہماما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو اپنے باپ کو گالی دے، وہ ملعون ہے، جو اپنی ماں کو گالی دے، وہ ملعون ہے اور جو غیر اللہ کے لیے ذبح کرے، وہ بھی ملعون ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيد و الذبائح/حدیث: 7598]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه البيھقي: 8/ 231، والحاكم: 4/ 356، وابويعلي: 2521، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1875 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1875»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7599
عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْنَا لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبِرْنَا بِشَيْءٍ أَسَرَّهُ إِلَيْكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا أَسَرَّ إِلَيَّ شَيْئًا كَتَمَهُ النَّاسَ وَلَكِنْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ آوَى مُحْدِثًا وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ لَعَنَ وَالِدَيْهِ وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ غَيَّرَ تُخُومَ الْأَرْضِ يَعْنِي الْمَنَارَ
۔ ابو طفیل کہتے ہیں: ہم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا: ہمیں وہ چیز بتاؤ، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تم لوگوں کو راز داری سے بتائی ہو، انہوں نے کہا: ہمارے لے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی چیز بطور راز داری کے بیان نہیں کی کہ جسے لوگوں سے چھپایا ہو، البتہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: اللہ تعالیٰ نے اس پر لعنت کی، جو غیر اللہ کے لیے ذبح کرے گا، اللہ تعالیٰ اس شخص پر لعنت کی، جوبدعتی کوجگہ دے گا، اللہ تعالیٰ نے اس آدمی پر لعنت کی، جو اپنے والدین پر لعنت کرے گا اور اللہ تعالیٰ نے اس شخص پر لعنت کی، جو زمین کی علامات تبدیل کرے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيد و الذبائح/حدیث: 7599]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1978، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 855 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 855»
وضاحت: فوائد: … لعنت سے مراد اللہ تعالی کی پھٹکار، اس کی مار، اللہ تعالی کی خیر و رحمت سے دوری اور اس کے عتاب و غضب کی بد دعا کرنا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7600
عَنْ سَالِمٍ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ لَقِيَ زَيْدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِأَسْفَلِ بَلْدَحَ وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْوَحْيُ فَقَدَّمَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سُفْرَةً فِيهَا لَحْمٌ فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا وَقَالَ إِنِّي لَا آكُلُ مِمَّا تَذْبَحُونَ عَلَى أَنْصَابِكُمْ وَلَا آكُلُ إِلَّا مَا ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَحَدَّثَ هَذَا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، زید بن عمرو بن نفیل کو بلدح وادی کی نچلی جانب ملے، یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی نازل ہونے سے پہلے کی بات ہے، زید کے سامنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دستر خوان پیش کیا، اس پر گوشت بھی رکھا گیا، لیکن زید نے کھانے سے انکار کر دیا اور کہا: میں وہ چیز نہیں کھاتا، جو تم لوگ اپنے بتوں پر ذبح کرتے ہو، میں صرف وہی کھاتا ہوں جس پر اللہ تعالیٰ کا نام لیا جائے، سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ حدیث رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيد و الذبائح/حدیث: 7600]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3826، 5499، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5631 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5631»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث میں یہ وضاحت تو نہیں ہے کہ آیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ گوشت خود بھی کھایا تھا، فرض کریں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تناول فرمایا ہے تو زید بن عمرو کی اس بات کو ان کی ذاتی رائے سمجھیں گے، کیونکہ انھوں نے اپنی رائے کی روشنی میں یہ بات کی تھی، جبکہ دورِ جاہلیت والے لوگوں کے پاس ابراہیم علیہ السلام کے دین کی کچھ باتیں تھیں، ان میں سے ایک یہ تھی کہ مردار حرام تھا، ان کے ہاں یہ بات نہیں تھی کہ جس جانور پر اللہ تعالی کا نام نہ لیا جائے،
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7601
عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّيْدِ أَصِيدُهُ قَالَ انْهَرُوا الدَّمَ بِمَا شِئْتُمْ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ وَكُلُوا
۔ سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شکار کے بارے میں سوال کیا، جس کو میں شکار کرتا ہوں (لیکن میرے پاس ایسا کوئی آلہ نہیں ہوتا، جس سے میں اس کو ذبح کروں)، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس چیز کے ساتھ تم چاہو، اس کا خون بہادو اور اس پر اللہ کا نام لو اور اس کو کھالو۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيد و الذبائح/حدیث: 7601]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابوداود: 2824، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18267 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18456»
وضاحت: فوائد: … ترجمۃ الباب سے متعلقہ فرمودات ِ نبویہ سے معلوم ہوا کہ جانور کو ذبح کرتے وقت بسم اللہ پڑھنا فرض ہے اور غیر اللہ کے نام پر ذبح ہونے والا جانور حرام ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
9. بَابُ الرِّفْقِ بِالذَبِيحَةِ وَالْإِجْهَازِ عَلَيْهَا، وَحَدٌ السُّفْرَةِ وَتَرْكِ ذَاتِ الدَّرُ وَالنَّسل
ذبیحہ سے نرمی کرنے، اس کو جلدی جلدی ذبح کر دینے، چھری کو تیز کرنے اور دودھ والے جانور کو چھوڑ دینے کا بیان
حدیث نمبر: 7602
عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ ثِنْتَانِ حَفِظْتُهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ وَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ
۔ سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: دو چیزیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یاد کی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ہر چیز پر احسان کرنا فرض قرار دیا ہے، پس جب تم کسی کو ضرورت کے تحت قتل کرو تو اچھے انداز میں قتل کرو اور جب تم ذبح کرو تو ذبح کا اچھا انداز اختیار کرو، اپنی چھری تیز رکھو اور اپنے ذبح کئے جانے والے جانور کو آرام پہنچاؤ۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيد و الذبائح/حدیث: 7602]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1955، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17116 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17246»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7603
عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِحَدِّ الشِّفَارِ وَأَنْ تُوَارَى عَنِ الْبَهَائِمِ وَإِذَا ذَبَحَ أَحَدُكُمْ فَلْيُجْهِزْ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چھری تیز کرنے کا اور اس کو جانورں سے اوجھل رکھنے کا حکم دیا اور یہ بھی فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی جانور ذبح کرے تو جلدی جلدی ذبح کر دے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيد و الذبائح/حدیث: 7603]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ابن لھيعة، أخرجه ابن ماجه: 3172، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5864 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5864»
وضاحت: فوائد: … جلدی ذبح کرنے سے مراد یہ ہے کہ اس انداز میں ذبح نہ کیا جائے کہ جانور کو خواہ مخواہ کی تکلیف ہوتی رہے، مثلا جانور کو دیر تک لٹائے رکھنا، گلہ کاٹنے کے لیے چھری بہت آہستہ چلانا، ذبح کے ماہرین اس مسئلہ کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 7604
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ ذَبَحَ عُصْفُورًا بِغَيْرِ حَقِّهِ سَأَلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قِيلَ وَمَا حَقُّهُ قَالَ يَذْبَحُهُ ذَبْحًا وَلَا يَأْخُذُ بِعُنُقِهِ فَيَقْطَعَهُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے چڑیا کو بغیر حق کے ذبح کیا اس سے روز قیامت اللہ تعالیٰ پوچھیں گے۔ کسی نے پوچھا: اس کا حق کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے ذبح کیا جائے اور اس کی گردن اس طرح نہ پکڑی جائے کہ وہ مکمل کٹ جائے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيد و الذبائح/حدیث: 7604]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة صھيب الحذاء، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6861 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6861»
وضاحت: فوائد: … یہ روایت تو ضعیف ہے، بہرحال اگر ذبح کے دوران مکمل گردن کٹ بھی جائے تو اس سے جانور کی حلت متاثر نہیں ہوتی اور اس پر کراہت یا حرمت کا حکم نہیں لگایا جا سکتا۔
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 7605
عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَأَذْبَحُ الشَّاةَ وَأَنَا أَرْحَمُهَا أَوْ قَالَ إِنِّي لَأَرْحَمُ الشَّاةَ أَنْ أَذْبَحَهَا فَقَالَ وَالشَّاةُ إِنْ رَحِمْتَهَا رَحِمَكَ اللَّهُ
۔ سیدنا قرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں بکری ذبح کرتاہوں اور مجھے اس پر ترس آتا ہے کہ میں اسے ذبح کر رہا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو بکری پر رحم کرتا ہے تو اللہ تجھ پر رحم کرے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيد و الذبائح/حدیث: 7605]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه الحاكم: 4/ 231، والبزار: 1221، والطبراني في الكبير: 19/ 45، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15592 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15677»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7606
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَعَمِدْتُ إِلَى عَنْزٍ لِأَذْبَحَهَا فَثَغَتْ فَسَمِعَ ثَغَاءَهَا فَقَالَ يَا جَابِرُ لَا تَقْطَعْ دَرًّا وَلَا نَسْلًا فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّمَا هِيَ عَتُودَةٌ عَلَفْتُهَا الْبَلَحَ وَالرُّطَبَ حَتَّى سَمِنَتْ
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے، میں نے ایک بکری ذبح کرنے کا ارادہ کیا، تو اس نے آواز نکالی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی آواز سن لی اور فرمایا: اے جابر! دودھ اور نسل والی بکری ذبح نہ کرنا۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! یہ بکری چھوٹی ہے، میں نے اسے کچی اورترکھجوریں چارہ ڈال کر موٹا تازہ کیا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيد و الذبائح/حدیث: 7606]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عمر بن سلمة وابوه مجھولان، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15266 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15339»
وضاحت: فوائد: … تمام احادیث اپنے مفہوم میںواضح ہیں، اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ جانور کے لیے مشکل ترین مرحلہ ذبح کا ہوتا ہے، لیکن حتی الوسع ایسا طریقہ اختیار کیا جائے کہ اس کو کم سے کم تکلیف ہو۔
الحكم على الحديث: ضعیف