Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. وَهِيَ الثَّالِثَهُ مِنْ أَزْوَاجِهِ¤بَابٌ فِي تَارِيخِ الْعَقْدِ عَلَيْهَا وَالْبَنَاءِ بِهَا وَكَمْ كَانَ عُمَرُهَا وَقِصَّةِ زِفَافِهَا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے عقد نکاح کی تاریخ، رخصتی کا بیان، اس وقت ان کی عمر اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں حاضری کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11407
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي شَوَّالٍ وَأُدْخِلْتُ عَلَيْهِ فِي شَوَّالٍ فَأَيُّ نِسَائِهِ كَانَ أَحْظَى عِنْدَهُ مِنِّي فَكَانَتْ تَسْتَحِبُّ أَنْ تَدْخُلَ نِسَاؤُهَا فِي شَوَّالٍ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے شوال کے مہینے میں نکاح کیا اور مجھے شوال ہی کے مہینہ میں آپ کے ہاںروانہ کیا گیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کونسی بیوی آپ کی نظروں میں مجھ سے زیادہ وقعت والی تھی؟ چنانچہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اپنے خاندان کی عورتوں کیشادیاں ماہ شوال میں کرنا زیادہ پسند کیا کرتی تھیں۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11407]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1423، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24272 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24776»
وضاحت: فوائد: … عربوں کے ہاں ماہ شوال کو منحوس سمجھا جاتا تھا، اس لیے وہ شوال کے مہینے میں نکاح وغیرہ کے کرنے سے اجتناب کرتے تھے، اسلام نے ایسی توہم پرستی اور بد خیالی کا انکار کیا ہے، اسی سلسلہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میرے ساتھ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نکاح بھی اسی مہینے میں اور رخصتی بھی اسی مہینے میں ہوئی تھی، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیک سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بڑی وقعت والی تھیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11408
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ تَزَوَّجَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ وَمَاتَ عَنْهَا وَهِيَ بِنْتُ ثَمَانِ عَشْرَةَ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب ان سے شادی کی تو اس وقت ان کی عمر نو سال تھی اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتقال ہوا تو اس وقت سیدہ رضی اللہ عنہ کی عمر اٹھارہ برس تھی۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11408]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1422، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24152 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24653»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11409
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُتَوَفَّى خَدِيجَةَ قَبْلَ مَخْرَجِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ بِسَنَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثٍ وَأَنَا بِنْتُ سَبْعِ سِنِينَ فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ جَاءَتْنِي نِسْوَةٌ وَأَنَا أَلْعَبُ فِي أُرْجُوحَةٍ وَأَنَا مُجَمَّمَةٌ فَذَهَبْنَ بِي فَهَيَّأْنَنِي وَصَنَعْنَنِي ثُمَّ أَتَيْنَ بِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَبَنَى بِي وَأَنَا بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ام المؤمنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے بعد مدینہ منورہ کی طرف روانگی سے دویاتین سال قبل نکاح کیا، جبکہ میری عمر سات سال تھی۔ جب ہم مدینہ منورہ آئے تو چند خواتین میرے پاس آئیں، جبکہ میں جھولا جھول رہی تھی اور میرے بال کندھوں تک تھے، وہ عورتیں مجھے لے گئیں اور انہوں نے مجھے تیار کیا اور بنا سنوار دیا اور پھر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے گئیں اور میری رخصتی کر دی۔ اس وقت میری عمر نو برس تھی۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11409]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3894، 5133، ومسلم: 1422، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26397 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26929»
وضاحت: فوائد: … شریعت ِ اسلامیہ میں عقل، نقلی علوم کے تابع ہے، نقلی علوم سے مراد قرآن و حدیث ہیں، شادی اور نکاح کے بارے ایک قانون یہ ہے کہ جب رخصتی ہونے لگے تو وہ مرد اور عورت بالغ ہوں اور ایک دوسرے کے ساتھ شادی کرنے پر رضامند ہوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پہلی شادی پر غور کریں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پچیس برس کے نوجوان تھے اور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا چالیس برس کی بیوہ تھیں، چونکہ دونوں راضی تھے، اس لیے ہر ایک نے قبول کیا،یہی معاملہ ان احادیث کا ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نو برس کی عمر میں بالغ ہو گئیں، جبکہ اس عمر میں خواتین کے بالغ ہو جانے کی دیگر مثالیںبھی موجود ہیں، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمر ترپن برس تھی، چونکہ دونوں طرف سے رضامندی تھی، بلکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو تو بڑی سعادت کا حصول ہو رہا تھا، اس لیے ہمیں یہ حق نہیں ہے کہ ہم اپنی عقل کو دخل دیں کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر نو برس ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ترپن برس اور شادی کر دی جائے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. بَابٌ فِي مُلاطَفَةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَائِشَةَ وَإِدْخَـالِـهِ السُّرُور عَلَيْهَا
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ دل لگی اور ان کو خوش کرنے کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11410
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كُنْتُ أَلْعَبُ بِالْبَنَاتِ وَيَجِيءُ صَوَاحِبِي فَيَلْعَبْنَ مَعِي فَإِذَا رَأَيْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ انْقَمَعْنَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُدْخِلُهُنَّ عَلَيَّ فَيَلْعَبْنَ مَعِي
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں:میں اپنی گڑیوں کے ساتھ کھیلتی تھی اور میری سہیلیاں بھی آکر میرے ساتھ مل کر کھیلتی تھیں، جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھتیں تو چلی جاتیں، لیکن پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود ان کو میرے پاس بھیجتے، پس وہ میرے پاس آ کر کھیلتی تھیں۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11410]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6130، ومسلم: 2440، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24298 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24802»
وضاحت: فوائد: … سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی نو برس میں شادی ہوئی تھی، انھوں نے کل دس سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت میں گزارے، چونکہ وہ نوعمر تھیں، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو عمر کے تقاضے پورے کرنے کا موقع دیتے تھے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11411
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ لَهَا ”إِنِّي أَعْرِفُ غَضَبَكِ إِذَا غَضِبْتِ وَرِضَاكِ إِذَا رَضِيتِ“ قَالَتْ وَكَيْفَ تَعْرِفُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”إِذَا غَضِبْتِ قُلْتِ يَا مُحَمَّدُ وَإِذَا رَضِيتِ قُلْتِ يَا رَسُولَ اللَّهِ“
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سے فرمایا کرتے تھے: تم جب ناراض یا خوش ہوتی ہو تو میں تمہاری ناراضی یا خوشی کو جان جاتا ہوں۔ انہوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! آپ کیسے جان جاتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم ناراض ہوتی ہو تو یوں کہتی ہو: اے محمد اور جب تم راضی ہوتی ہو تو کہتی ہو: اے اللہ کے رسول۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11411]
تخریج الحدیث: «حديث غير محفوظ بھذه السياقة، وانظر الحديث الآتي، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24012 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24513»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11412
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَتْ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنِّي لَأَعْلَمُ إِذَا كُنْتِ عَنِّي رَاضِيَةً وَإِذَا كُنْتِ عَلَيَّ غَضْبَى“ قَالَتْ فَقُلْتُ مِنْ أَيْنَ تَعْلَمُ ذَاكَ قَالَ ”إِذَا كُنْتِ عَنِّي رَاضِيَةً فَإِنَّكِ تَقُولِينَ لَا وَرَبِّ مُحَمَّدٍ وَإِذَا كُنْتِ عَلَيَّ غَضْبَى تَقُولِينَ لَا وَرَبِّ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام“ قُلْتُ أَجَلْ وَاللَّهِ مَا أَهْجُرُ إِلَّا اسْمَكَ
۔(دوسری سند) سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے یہ فرمایا: تم جب مجھ سے خوش یا ناراض ہوتی ہو تو مجھے پتہ چل جاتا ہے۔ میں نے دریافت کیا کہ آپ کو کیسے پتہ چلتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم راضی ہوتی ہو تویوں کہتی ہو: محمد کے رب کی قسم۔ اور جب تم ناراض ہو تی ہو تو یوں کہتی ہو: ابراہیم کے رب کی قسم۔ میں نے عرض کیا: بالکل ٹھیک ہے، لیکن اللہ کی قسم میں صرف آپ کا نام ترک کرتی ہوں (دل میں آپ کی محبت اور مقام وہی رہتا ہے)۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11412]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 5228، ومسلم: 2439، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24318 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24822»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11413
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أُرِيتُكِ فِي الْمَنَامِ مَرَّتَيْنِ وَرَجُلٌ يَحْمِلُكِ فِي سَرَقَةٍ مِنْ حَرِيرٍ فَيَقُولُ هَذِهِ امْرَأَتُكَ فَأَقُولُ إِنْ يَكُ هَذَا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يُمْضِهِ“
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم دو مرتبہ مجھے خواب میں دکھائی گئیں، کوئی آدمی تمہیں ایک سفید ریشمی ٹکڑے میں اٹھائے ہوئے تھا، وہ کہتا تھا کہ یہ آپ کی بیوی ہے۔ میں کہتا تھا کہ اگر یہ خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے تو وہ اسے پورا کرے گا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11413]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5125، 7012،ومسلم: 2438، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24142 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24643»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11414
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَابِ حُجْرَتِي وَالْحَبَشَةُ يَلْعَبُونَ بِحِرَابِهِمْ يَسْتُرُنِي بِرِدَائِهِ لِكَيْ أَنْظُرَ إِلَى لَعِبِهِمْ ثُمَّ يَقُومُ حَتَّى أَكُونَ أَنَا الَّتِي أَنْصَرِفُ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے حجرے کے دروازے پر دیکھا، جبکہ حبشی جنگی ہتھیاروں کے ساتھ کھیل رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے لئے اپنی چادر سے پر دہ کر رہے تھے، تاکہ میں ان کے کھیل کو دیکھ سکوں، پھر آپ کھڑے رہتے تھے، یہاں تک کہ میں خود واپس پھرتی تھی۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11414]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري:5190، ومسلم: 892، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26101 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26630»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس طرح بھی اپنی بیویوں کا دل بہلانے کی کوشش کرتے تھے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11415
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ وَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَقْنِي عَلَى مَنْكِبَيْهِ لِأَنْظُرَ إِلَى زَفْنِ الْحَبَشَةِ حَتَّى كُنْتُ الَّتِي مَلِلْتُ فَانْصَرَفْتُ عَنْهُمْ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری ٹھوڑی اپنے کندھوں پر رکھوائی تاکہ میں حبشیوں کے جنگی کرتب دیکھ لوں، یہاں تک کہ انہیں دیکھ دیکھ کر میں ہی تھک کر پیچھے ہٹ گئی۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11415]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25366»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11416
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ الْحَبَشَةَ لَعِبُوا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَدَعَانِي فَنَظَرْتُ مِنْ فَوْقِ مَنْكِبِهِ حَتَّى شَبِعْتُ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حبشیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دکھانے کے لیے جنگی کھیلوں کا مظاہر پیش کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بلا لیا، میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کندھے کے اوپر سے دیکھتی رہی،یہاں تک کہ میں نے جی بھر کر یہ منظر دیکھا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11416]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26487»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں