الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. بَابُ مَا جَاءَ فِي غَيْرَةِ ضَرَائِرِهَا مِنْ مَحْبَةِ رَسُولِ اللَّهِ إِيَّاهَا وَإِنْتِصَارِهَا عَلَيْهِنَّ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے محبت پر دیگر ازواج کی غیرت نیز سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے دیگر ازواج پر غلبہ کا بیان
حدیث نمبر: 11427
عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ اجْتَمَعْنَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلْنَ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَ لَهَا قُولِي لَهُ إِنَّ نِسَاءَكَ يَنْشُدْنَكَ الْعَدْلَ فِي ابْنَةِ أَبِي قُحَافَةَ قَالَتْ فَدَخَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مَعَ عَائِشَةَ فِي مِرْطِهَا فَقَالَتْ لَهُ إِنَّ نِسَاءَكَ أَرْسَلْنَنِي إِلَيْكَ وَهُنَّ يَنْشُدْنَكَ الْعَدْلَ فِي ابْنَةِ أَبِي قُحَافَةَ فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَتُحِبِّينِي“ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ ”فَأَحِبِّيهَا“ فَرَجَعَتْ إِلَيْهِنَّ فَأَخْبَرَتْهُنَّ مَا قَالَ لَهَا فَقُلْنَ إِنَّكِ لَمْ تَصْنَعِي شَيْئًا فَارْجِعِي إِلَيْهِ فَقَالَتْ وَاللَّهِ لَا أَرْجِعُ إِلَيْهِ فِيهَا أَبَدًا قَالَ الزُّهْرِيُّ وَكَانَتْ ابْنَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَقًّا فَأَرْسَلْنَ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ عَائِشَةُ هِيَ الَّتِي كَانَتْ تُسَامِينِي مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ إِنَّ أَزْوَاجَكَ أَرْسَلْنَنِي إِلَيْكَ وَهُنَّ يَنْشُدْنَكَ الْعَدْلَ فِي ابْنَةِ أَبِي قُحَافَةَ قَالَتْ ثُمَّ أَقْبَلَتْ عَلَيَّ تَشْتُمُنِي فَجَعَلْتُ أُرَاقِبُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنْظُرُ إِلَى طَرْفِهِ هَلْ يَأْذَنُ لِي فِي أَنْ أَنْتَصِرَ مِنْهَا فَلَمْ يَتَكَلَّمْ قَالَتْ فَشَتَمَتْنِي حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ لَا يَكْرَهُ أَنْ أَنْتَصِرَ مِنْهَا فَاسْتَقْبَلْتُهَا فَلَمْ أَلْبَثْ أَنْ أَفْحَمْتُهَا قَالَتْ فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّهَا ابْنَةُ أَبِي بَكْرٍ“ قَالَتْ عَائِشَةُ وَلَمْ أَرَ امْرَأَةً خَيْرًا مِنْهَا وَأَكْثَرَ صَدَقَةً وَأَوْصَلَ لِلرَّحِمِ وَأَبْذَلَ لِنَفْسِهَا فِي كُلِّ شَيْءٍ يُتَقَرَّبُ بِهِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ زَيْنَبَ مَا عَدَا سَوْرَةً مِنْ غَرَبٍ حَدٍّ كَانَ فِيهَا تُوشِكُ مِنْهَا الْفَيْئَةُ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج نے اکٹھے ہو کر مشورہ کیا اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بھیجا اور ان سے کہا کہ آپ جا کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہیں کہ آپ کی ازواج ابو قحافہ کی بیٹی کے بارے میں آپ سے عدل کا مطالبہ کرتی ہیں۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں گئی تو آپ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی چادر میں ان کے ساتھ تھے۔ انہوں نے جا کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا کہ آپ کی ازواج نے مجھے آپ کی خدمت میں بھیجا ہے، وہ ابو قحافہ کی بیٹی کے بارے میں آپ سے عدل کا مطالبہ کرتی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: کیاتمہیں مجھ سے محبت ہے؟ زہری نے کہا: سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر تم بھی اس عائشہ سے محبت رکھو۔ دوسری روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیٹی! جو کچھ مجھے پسند ہے کیا تمہیں پسند نہیں ہے؟ سیدہفاطمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: کیوں نہیں،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تم بھی ان سے یعنی عائشہ رضی اللہ عنہا سے محبت رکھو۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ کی بات سن کر واپس آگئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جواب سے انہیں مطلع کیا، ان سب نے کہا: تم نے تو کچھ بھی نہیں کیا؟ تم دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف جاؤ، لیکن سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کی قسم! اس بارے میں میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بالکل نہیں جاؤں گی۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا واقعی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی تھیں۔ اس کے بعد ازواج نے ام المؤمنین سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کو (تیار کرکے) بھیجا۔ ازواج مطہرات میں صرف وہی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے مد مقابل تھیں۔ انہوں نے جا کر کہا: آپ کی بیویوں نے مجھے آپ کی خدمت میں بھیجا ہے، وہ آپ سے ابو قحافہ کی دختر کے بارے میں عدل و مساوات کا مطالبہ کرتی ہیں۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: وہ یہ کہتے ہی میری طرف متوجہ ہوئیں اور مجھے براہ راست برا بھلا کہنے لگیں۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتظار کرنے اور ان کی آنکھ کی طرف دیکھنے لگی کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے ان سے بدلہ لینے کی اجازت دیتے ہیں؟ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ بھی نہ فرمایا، انہوں نے مجھے اس قدر کوسا کہ مجھے یقین ہو گیا کہ اب اگر میں ان سے بدلہ لوں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گراں نہ گزرے گا۔ چنانچہ میں نے ان کا رخ کیا اور جلد ہی ان پر غالب آگئی،یہ صورت حال دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: آخر یہ ابو بکر کی بیٹی ہے۔ دوسری روایت کے الفاظ یوں ہیں: میری باتیں سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تبسم کیا اور فرمایا: یہ تو ابو بکر کی بیٹی ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ازواج مطہرات میں سے میں نے کسی کو ام المؤمنین سیدہ زینب رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر بہتر زیادہ صدقہ کرنے والی، زیادہ صلہ رحمی کرنے والی اور اللہ کا قرب حاصل کرنے کے لیے سعی کرنے والی ان سے بڑھ کر کسی کو نہیں پایا، ان میں صرف ایک خامی تھی کہ انہیں جوش اور غصہ بہت جلد آجاتا تھا، لیکن پھر جلد ہی اس کو ختم کر دیتی تھیں۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11427]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، اخرجه النسائي: 7/ 67، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25174 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25689»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11428
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ مَا عَلِمْتُ حَتَّى دَخَلَتْ عَلَيَّ زَيْنَبُ بِغَيْرِ إِذْنٍ وَهِيَ غَضْبَى ثُمَّ قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَحْسِبُكَ إِذَا قَلَبَتْ لَكَ بُنَيَّةُ أَبِي بَكْرٍ ذُرَيِّعَيْهَا ثُمَّ أَقْبَلَتْ إِلَيَّ فَأَعْرَضْتُ عَنْهَا حَتَّى قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”دُونَكِ فَانْتَصِرِي“ فَأَقْبَلْتُ عَلَيْهَا حَتَّى رَأَيْتُهَا قَدْ يَبِسَ رِيقُهَا فِي فَمِهَا مَا تَرُدُّ عَلَيَّ شَيْئًا فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَهَلَّلُ وَجْهُهُ
۔(دوسری سند) ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: مجھے پتہ ہی نہ چل سکا حتیٰ کہ ام المؤمنین سیدہ زینب رضی اللہ عنہا غصے میں بھری ہوئی بلا اجازت آدھمکیں اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: میں سمجھتی ہوں کہ جب ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بیٹی آپ کے سامنے اپنے ہاتھوں اور کلائیوں کے اشارے کرتی ہے تو آپ اسی کی بات مانتے ہیں۔ اس کے بعد وہ میری طرف متوجہ ہوئیں اور میں ان کی باتیں خاموشی سے سنتی رہی، میں نے کوئی جواب نہ دیا۔ یہاں تک کہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم بھی کچھ کہو اور بدلہ لو۔ چنانچہ میں نے ان کی طرف رخ کیا۔ (یعنی ایسی جوابی کاروائی کی) میں نے دیکھا کہ ان کا منہ خشک ہو گیا اور وہ مجھے کچھ نہ کہہ سکیں۔ میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ خوشی سے دمک رہا تھا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11428]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن ماجه: 1981، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24620 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25127»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11429
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَلَّمَنِي صَوَاحِبِي أَنْ أُكَلِّمَ رَسُولَ اللَّهِ أَنْ يَأْمُرَ النَّاسَ فَيُهْدُوا لَهُ حَيْثُ كَانَ فَإِنَّهُمْ يَتَحَرَّوْنَ بِهَدِيَّتِهِ يَوْمَ عَائِشَةَ وَإِنَّا نُحِبُّ الْخَيْرَ كَمَا تُحِبُّهُ عَائِشَةُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ صَوَاحِبِي كَلَّمْنَنِي أَنْ أُكَلِّمَكَ لِتَأْمُرَ النَّاسَ أَنْ يُهْدُوا لَكَ حَيْثُ كُنْتَ فَإِنَّ النَّاسَ يَتَحَرَّوْنَ بِهَدَايَاهُمْ يَوْمَ عَائِشَةَ وَإِنَّمَا نُحِبُّ الْخَيْرَ كَمَا تُحِبُّ عَائِشَةُ قَالَتْ فَسَكَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يُرَاجِعْنِي فَجَاءَنِي صَوَاحِبِي فَأَخْبَرْتُهُنَّ أَنَّهُ لَمْ يُكَلِّمْنِي فَقُلْنَ لَا تَدَعِيهِ وَمَا هَذَا حِينَ تَدَعِينَهُ قَالَتْ ثُمَّ دَارَ فَكَلَّمْتُهُ فَقُلْتُ إِنَّ صَوَاحِبِي قَدْ أَمَرْنَنِي أَنْ أُكَلِّمَكَ تَأْمُرُ النَّاسَ فَلْيُهْدُوا لَكَ حَيْثُ كُنْتَ فَقَالَتْ لَهُ مِثْلَ تِلْكَ الْمَقَالَةِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا كُلُّ ذَلِكَ يَسْكُتُ عَنْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ ”يَا أُمَّ سَلَمَةَ لَا تُؤْذِينِي فِي عَائِشَةَ فَإِنَّهُ وَاللَّهِ مَا نَزَلَ عَلَيَّ الْوَحْيُ وَأَنَا فِي بَيْتِ امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِي غَيْرَ عَائِشَةَ“ فَقَالَتْ أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أَسُوءَكَ فِي عَائِشَةَ
ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج نے مجھ سے کہا کہ میں ان کی نمائندگی کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں جا کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہوں کہ آپ لوگوں کو حکم دیں کہ آپ جہاں کہیں بھی ہوں یعنی جس بیوی کے ہاں ہوں، لوگ اپنے تحائف اُدھر ہی بھیج دیا کریں۔ لوگ اپنے ہدایا اور تحائف بھیجنے کے لیے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی باری کی انتظار کیا کرتے تھے۔،جس طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اس قسم کی چیزوں کو کو پسند کرتی ہیں، ہم بھی پسند کرتی ہیں۔ سو میں نے جا کر کہا: اللہ کے رسول! میری صاحبات یعنی آپ کی ازواج نے مجھ سے کہا ہے کہ میں آپ سے اس بارے میں بات کروں کہ آپ لوگوں کو یہ حکم دیں کہ آپ جہاں کہیں بھی ہوا کریں، وہ اپنے تحائف آپ کی خدمت میں بھیج دیا کریں۔ لوگ اپنے تحائف بھیجنے کے لیے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی باری کی انتظار کرتے رہتے ہیں۔ ہم بھی بھلائی کو اسی طرح پسند کرتی ہیں، جیسے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پسند کرتی ہیں۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں:میری بات سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے اور مجھے کچھ جواب نہ دیا، جب میری صاحبات میر ے پاس آئیں تو میں نے انہیں بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو مجھے جواب میں کچھ نہیں فرمایا۔ انھوں نے کہا: تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس طرح نہ چھوڑو اور آپ سے اس بارے میں دوبارہ بات کرو۔ تمہارے خاموش رہنے کا کیا فائدہ؟ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اس کے بعد میں دو بارہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملاقات کے لیے گئی اور میں نے پھر یہی بات کی اور عرض کیا کہ میری سوکنوں نے مجھ سے کہا ہے کہ میں آپ سے یہ بات کروں کہ آپ لوگوں کو حکم فرمائیں کہ آپ جہاں کہیں بھی یعنی کسی زوجہ کے ہاں ہوں، لوگ اپنے تحائف ادھر ہی بھیج دیا کریں۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ بات دو یا تین بار کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر بار خاموش رہتے۔ بالآخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ام سلمہ! تم عائشہ کے بارے میں ایسی باتیں کرکے مجھے ایذا مت پہنچاؤ۔ اللہ کی قسم! عائشہ کا تویہ مقام اور مرتبہ ہے کہ اس کے بستر کے سوا میری کسی بھی دوسری زوجہ کے بستر میں مجھ پر کبھی وحی نازل نہیں ہوئی۔ یہ سن کر سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں اللہ تعالیٰ سے اس بات سے پناہ چاہتی ہوں کہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں کوئی بات کرکے آپ کا دل دکھاؤں۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11429]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2580، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26512 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27047»
وضاحت: فوائد: … امہات المؤمنین اگرچہ اس امت کی نہایت ہی افضل خواتین تھیں، تاہم بسا اوقات بشری تقاضوں کے پیش نظر ان کے درمیان بھی سوتنوں والی کیفیت پیدا ہو جاتی اور وہ ایک دوسری کو کوسنے لگتی تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی تمام ازواج میں سے سب سے زیادہ قلبی لگائو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے تھا۔
الحكم على الحديث: صحیح
5. بَابُ مَا جَاءَ فِي مَحَبَّيْهَا النَّبِيُّ ﷺ وَغَيْرَتِهَا عَلَيْهِ وَمُحَافَظَتِهَا عَلَى مَا كَانَ عَلَى عَهْدِهِ
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ محبت، آپ کے بارے میں ان کی غیرت اور سیدہ رضی اللہ عنہا آپ کی حیات ِ مبارکہ میں جو جو عمل کیا کرتی تھیں، بعد میں بھی ان کی حفاظت کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 11430
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ بْنِ الْمُطَّلِبِ أَنَّهُ قَالَ يَوْمًا أَلَا أُحَدِّثُكُمْ عَنِّي وَعَنْ أُمِّي فَظَنَنَّا أَنَّهُ يُرِيدُ أُمَّهُ الَّتِي وَلَدَتْهُ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَلَا أُحَدِّثُكُمْ عَنِّي وَعَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ بَلَى قَالَ قَالَتْ لَمَّا كَانَتْ لَيْلَتِي الَّتِي كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيهَا عِنْدِي انْقَلَبَ فَوَضَعَ رِدَاءَهُ وَخَلَعَ نَعْلَيْهِ فَوَضَعَهُمَا عِنْدَ رِجْلَيْهِ وَبَسَطَ طَرَفَ إِزَارِهِ عَلَى فِرَاشِهِ فَاضْطَجَعَ فَلَمْ يَلْبَثْ إِلَّا رَيْثَمَا ظَنَّ أَنِّي قَدْ رَقَدْتُ فَأَخَذَ رِدَاءَهُ رُوَيْدًا وَانْتَعَلَ رُوَيْدًا وَفَتَحَ الْبَابَ فَخَرَجَ ثُمَّ أَجَافَهُ رُوَيْدًا فَجَعَلْتُ دِرْعِي فِي رَأْسِي وَاخْتَمَرْتُ وَتَقَنَّعْتُ إِزَارِي ثُمَّ انْطَلَقْتُ عَلَى أَثَرِهِ حَتَّى جَاءَ الْبَقِيعَ فَقَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ انْحَرَفَ فَانْحَرَفْتُ فَأَسْرَعَ فَأَسْرَعْتُ فَهَرْوَلَ فَهَرْوَلْتُ فَأَحْضَرَ فَأَحْضَرْتُ فَسَبَقْتُهُ فَدَخَلْتُ فَلَيْسَ إِلَّا أَنِّي اضْطَجَعْتُ فَدَخَلَ فَقَالَ ”مَا لَكِ يَا عَائِشَةُ حَشْيًا رَابِيَةً“ قَالَتْ قُلْتُ لَا شَيْءَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”لَتُخْبِرِينِّي أَوْ لَيُخْبِرَنِّيَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ“ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي فَأَخْبَرْتُهُ قَالَ ”فَأَنْتِ السَّوَادُ الَّذِي رَأَيْتُ أَمَامِي“ قُلْتُ نَعَمْ فَلَهَزَنِي فِي ظَهْرِي لَهْزَةً أَوْجَعَتْنِي وَقَالَ ”أَظَنَنْتِ أَنْ يَحِيفَ عَلَيْكِ اللَّهُ وَرَسُولُهُ“ قَالَتْ مَهْمَا يَكْتُمِ النَّاسُ يَعْلَمْهُ اللَّهُ قَالَ ”نَعَمْ فَإِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَتَانِي حِينَ رَأَيْتِ فَنَادَانِي فَأَخْفَاهُ مِنْكِ فَأَجَبْتُهُ فَأَخْفَيْتُهُ مِنْكِ وَلَمْ يَكُنْ لِيَدْخُلَ عَلَيْكِ وَقَدْ وَضَعْتِ ثِيَابَكِ وَظَنَنْتُ أَنَّكِ قَدْ رَقَدْتِ فَكَرِهْتُ أَنْ أُوقِظَكِ وَخَشِيتُ أَنْ تَسْتَوْحِشِي فَقَالَ إِنَّ رَبَّكَ جَلَّ وَعَزَّ يَأْمُرُكَ أَنْ تَأْتِيَ أَهْلَ الْبَقِيعِ فَتَسْتَغْفِرَ لَهُمْ“ قَالَتْ فَكَيْفَ أَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ ”قُولِي السَّلَامُ عَلَى أَهْلِ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ وَيَرْحَمُ اللَّهُ الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنَّا وَالْمُسْتَأْخِرِينَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَلَاحِقُونَ“
ایک دن محمد بن قیس نے کہا: کیا میں تمہیں اپنی اور اپنی والدہ سے ایک حدیث بیان نہ کر دوں؟ ہم نے سمجھا کہ اس کی مراد اس کی حقیقی والدہ ہے، پھر انہوں نے کہا: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کیا میں تمہیں اپنا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک واقعہ بیان کروں؟ میں نے عرض کیا:جی کیوں نہیں، پھر انھوں نے کہا: جب میری رات تھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (عشاء کے بعد) واپس تشریف لائے، چادر رکھی، جوتے اتار کر پائنتی کی طرف رکھ دیئے اور چادر کا ایک حصہ بستر پر بچھا کر لیٹ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کچھ دیر لیٹے رہے، (میرے خیال کے مطابق) جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سمجھا کہ میں سو گئی ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آہستہ سے اپنی چادر اٹھائی، آرام سے جوتے پہنے اور دروازہ کھول کر باہر تشریف لے گئے اور آہستگی سے اسے بند کر دیا۔ اُدھر میں نے بھی اپنا دوپٹہ سنبھالا، سر پر رکھا، چادر اوڑھی، شلوار پہنی اور آپ کے پیچھے پیچھے چل پڑی۔میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بقیع قبرستان میں جا پہنچے، وہاں کافی دیر کھڑے رہے اور تین مرتبہ دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے، بعد ازاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس لوٹے اور میں بھی لوٹنے لگی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تیز تیز چلے تو میں نے بھی رفتار تیز کر دی،جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کچھ دوڑے تو میں بھی دوڑنے لگی۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مزید تیز ہو گئے تو میں بھی مزید تیز ہو گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آگے نکل گئی اور گھر پہنچ کر ابھی لیٹی ہی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی تشریف لے آئے اور فرمایا: عائشہ! کیا بات ہے، سانس پھولا ہوا ہے، پیٹ اٹھا ہوا ہے؟ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کوئی بات نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم خود ہی مجھے بتا دو، ورنہ باریک بیں اور باخبر ربّ مجھے بتلا دے گا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے والدین آپ پر قربان ہوں، پھرمیں نے سارا واقعہ آپ کو بیان کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو مجھے اپنے سامنے کالا سا وجود نظر آ رہا تھا، یہ تم تھی؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری کمر میں مکا مارا، جس سے مجھے تکلیف ہوئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے یہ سمجھ لیا تھا کہ اللہ اور اس کا رسول تم پر زیادتی کریں گے؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا:لوگ جیسے مرضی چھپا لیں،لیکن اللہ تعالیٰ تو اسے جانتا ہی ہوتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں،بات یہ تھی کہ جب تم نے مجھے دیکھا تھا اس وقت جبریل علیہ السلام نے آکر مجھے آواز دی اور آواز کو تم سے پوشیدہ رکھا، میں نے بھی اپنی آواز کو تم سے مخفی رکھتے ہوئے اس کی بات کا جواب دیا، وہ اس وقت تمہارے پاس تو آ نہیں سکتا تھا، کیونکہ تم نے کپڑے وغیرہ ایک طرف رکھے ہوئے تھے، جبکہ میں نے سمجھا تھا تم سو چکی ہو اورتمہیں جگانا بھی مناسب نہ سمجھا، تاکہ تم اکیلی پریشان نہ ہو جاؤ، جبریل علیہ السلام نے مجھے کہا: آپ کا ربّ آپ کو حکم دے رہا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بقیع والوں کے پاس جا کر اس کے لیے بخشش کی دعا کریں، (اس لیے میں چلا گیا تھا)۔ پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے عرض کیاکہ اے اللہ کے رسول! میں کیسے دعا پڑھا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم یوں کہا کرو: اَلسَّلَامُ عَلٰی أَہْلِ الدِّیَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُسْلِمِیْنَ وَیَرْحَمُ اللّٰہُ الْمُسْتَقْدِمِیْنَ مِنَّا وَالْمُسْتَأْخِرِیْنَ، وَإِنَّا إِنْ شَائَ اللّٰہُ لَلَاحِقُوْنَ۔ (سلامتی ہو ان گھروں والے مومنوں اور مسلمانوں پر اور اللہ تعالیٰ ہم سے پہلے والوں اور بعد والوں پر رحم کرے اور ہم بھی ان شاء اللہ ملنے والے ہیں۔) [الفتح الربانی/حدیث: 11430]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 974، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25855 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26380»
وضاحت: فوائد: … حدیث ِ مبارکہ اپنے مفہوم میں واضح ہے کہ مسلمانوں کے قبرستان میں جا کر ان کے لیے مغفرت کی دعا کرنا اتنا اہم معاملہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جبریل علیہ السلام کے ذریعے اس چیز کا خاص طور پر حکم دیا۔ اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاقِ عالیہ کی بھی ایک بڑی مثال پیشکی گئی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی نیند کا لحاظ کرتے ہوئے سارے امور چپکے چپکے سرانجام دیئے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اس ظن میں مبتلا ہو گئی تھیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی اور بیوی کے گھر جا رہے ہیں۔
اس حدیث کا یہ جملہ بد عقیدہ لوگوں کے لیے قابل توجہ ہے: عائشہ! تم خود ہی مجھے بتا دو، ورنہ بہت باریک بیں اور ہر چیز سے باخبر ربّ مجھے بتلا دے گا۔ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عالم الغیب ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی ساری نقل و حرکت کا علم ہوتا، یہ نقطہ بھی غور طلب ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا جاگ رہی تھیں، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو یہ سمجھ لیا تھا کہ سیدہ سو رہی ہیں۔ دراصل جب کوئی آدمی شرعی علوم سے دور ہو جاتا ہے تو وہ کسی بھی عقیدے اور بدعت کو رواج دے سکتا ہے۔
اس حدیث کا یہ جملہ بد عقیدہ لوگوں کے لیے قابل توجہ ہے: عائشہ! تم خود ہی مجھے بتا دو، ورنہ بہت باریک بیں اور ہر چیز سے باخبر ربّ مجھے بتلا دے گا۔ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عالم الغیب ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی ساری نقل و حرکت کا علم ہوتا، یہ نقطہ بھی غور طلب ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا جاگ رہی تھیں، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو یہ سمجھ لیا تھا کہ سیدہ سو رہی ہیں۔ دراصل جب کوئی آدمی شرعی علوم سے دور ہو جاتا ہے تو وہ کسی بھی عقیدے اور بدعت کو رواج دے سکتا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11431
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ صَلَّيْتُ صَلَاةً كُنْتُ أُصَلِّيهَا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَوْ أَنَّ أَبِي نَشَرَ فَنَهَانِي عَنْهَا مَا تَرَكْتُهَا
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں ایک (نفل) نماز پڑھا کرتی تھی۔ اب اگر میرے والد بھی قبر سے اٹھ کر آکر مجھے اس سے منع کریں تو میں اس نماز کو ترک نہ کروں گی۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11431]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات، غير والد وكيع وھو الجراح بن مليح فمختلف فيه، ام حكيم صحابية، فان لم تكن له صحبة فھي متابعة، اخرجه ابن ابي شيبة: 2/ 410، والبخاري في التاريخ الصغير: 1/172، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25078 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25590»
الحكم على الحديث: صحیح
6. بَابُ مَا جَاءَ فِي حَدِيثِ الْإِفِكِ وَمِحْنَةِ عَائِشَةَ وَنُزُولِ بَرَاءَ تِهَا مِنْ فَوْقِ سَبْعِ سَمَوَاتٍ
واقعۂ افک،سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی آزمائش اور سات آسمانوں کے اوپر سے ان کی براء ت کا نزول
حدیث نمبر: 11432
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَعَلْقَمَةُ بْنُ وَقَّاصٍ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ حَدِيثِ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وآله وسلم حِينَ قَالَ لَهَا أَهْلُ الإِفْكِ مَا قَالُوا فَبَرَّأَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَكُلُّهُمْ حَدَّثَنِي بِطَائِفَةٍ مِنْ حَدِيثِهَا، وَبَعْضُهُمْ كَانَ أَوْعَى لِحَدِيثِهَا مِنْ بَعْضٍ، وَأَثْبَتَ اقْتِصَاصًا، وَقَدْ وَعَيْتُ عَنْ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمُ الْحَدِيثَ الَّذِي حَدَّثَنِي، وَبَعْضُ حَدِيثِهِمْ يُصَدِّقُ بَعْضًا، ذَكَرُوا أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وآله وسلم قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وآله وسلم إِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ سَفَرًا أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ فَأَيَّتُهُنَّ خَرَجَ سَهْمُهَا خَرَجَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وآله وسلم مَعَهُ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَأَقْرَعَ بَيْنَنَا فِي غَزْوَةٍ غَزَاهَا فَخَرَجَ فِيهَا سَهْمِي فَخَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وآله وسلم وَذَلِكَ بَعْدَمَا أُنْزِلَ الْحِجَابُ فَأَنَا أُحْمَلُ فِي هَوْدَجِي، وَأَنْزِلُ فِيهِ مَسِيرَنَا حَتَّى إِذَا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وآله وسلم مِنْ غَزْوِهِ وَقَفَلَ وَدَنَوْنَا مِنَ الْمَدِينَةِ آَذَنَ لَيْلَةً بِالرَّحِيلِ، فَقُمْتُ حِينَ آَذَنُوا بِالرَّحِيلِ، فَمَشَيْتُ حَتَّى جَاوَزْتُ الْجَيْشَ، فَلَمَّا قَضَيْتُ شَأْنِي أَقْبَلْتُ إِلَى الرَّحْلِ فَلَمَسْتُ صَدْرِي فَإِذَا عِقْدٌ مِنْ جَزْعِ ظَفَارٍ قَدْ انْقَطَعَ، فَرَجَعْتُ فَالْتَمَسْتُ عِقْدِي فَاحْتَبَسَنِي ابْتِغَاؤُهُ وَأَقْبَلَ الرَّحْطُ الَّذِي كَانُوا يَرْحَلُونَ بِي، فَحَمَلُوا هَوْدَجِي فَرَحَلُوهُ عَلَى بَعِيرِي الَّذِي كُنْتُ أَرْكَبُ، وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنِّي فِيهِ، قَالَتْ: كَانَتِ النِّسَاءُ إِذْ ذَاكَ خِفَافًا لَمْ يُحَبَّلْهُنَّ وَلَمْ يَغْشَهُنَّ اللَّحْمُ، إِنَّمَا يَأْكُلْنَ الْعُلْقَةَ مِنَ الطَّعَامِ، فَلَمْ يَسْتَنْكِرِ الْقَوْمُ ثِقَلَ الْهَوْدَجِ حِينَ رَحَلُوهُ وَرَفَعُوهُ، وَكُنْتُ جَارِيَةً حَدِيثَةَ السِّنِّ، فَبَعَثُوا الْجَمَلَ وَسَارُوا، فَوَجَدْتُ عِقْدِي بَعْدَمَا اسْتَمَرَّ الْجَيْشُ، فَجِئْتُ مَنَازِلَهُمْ وَلَيْسَ بِهَا دَاعٍ وَلَا مُجِيبٌ، فَيَمَّمْتُ مَنْزِلِي الَّذِي كُنْتُ فِيهِ وَظَنَنْتُ أَنَّ الْقَوْمَ سَيَفْقِدُونِي فَيَرْجِعُونَ إِلَيَّ، فَبَيْنَمَا أَنَا جَالِسَةٌ فِي مَنْزِلِي غَلَبَتْنِي عَيْنِي فَنِمْتُ، وَكَانَ صَفْوَانُ بْنُ الْمُعَطَّلِ السُّلَمِيُّ، ثُمَّ الذَّكْوَانِيُّ قَدْ عَرَّسَ وَرَاءَ الْجَيْشِ، فَأَدْلَجَ فَأَصْبَحَ عِنْدَ مَنْزِلِي فَرَأَى سَوَادَ إِنْسَانٍ نَائِمٍ فَأَتَانِي فَعَرَفَنِي حِينَ رَآنِي وَقَدْ كَانَ يَرَانِي قَبْلَ أَنْ يُضْرَبَ عَلَيَّ الْحِجَابُ، فَاسْتَيْقَظْتُ بِاسْتِرْجَاعِهِ حِينَ عَرَفَنِي فَخَمَّرْتُ وَجْهِي بِجِلْبَابِي، فَوَاللَّهِ! مَا كَلَّمَنِي كَلِمَةً وَلَا سَمِعْتُ مِنْهُ كَلِمَةً غَيْرَ اسْتِرْجَاعِهِ، حَتَّى أَنَاخَ رَاحِلَتَهُ فَوَطِئَ عَلَى يَدِهَا فَرَكِبْتُهَا فَانْطَلَقَ يَقُودُ بِي الرَّاحِلَةَ حَتَّى أَتَيْنَا الْجَيْشَ بَعْدَمَا نَزَلُوا مُوغِرِينَ فِي نَحْرِ الظَّهِيرَةِ فَهَلَكَ مَنْ هَلَكَ فِي شَأْنِي، وَكَانَ الَّذِي تَوَلَّى كِبْرَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيِّ بْنِ سَلُولَ، فَقَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَاشْتَكَيْتُ حِينَ قَدِمْنَا شَهْرًا وَالنَّاسُ يُفِيضُونَ فِي قَوْلِ أَهْلِ الإِفْكِ، وَلَمْ أَشْعُرْ بِشَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ، وَهُوَ يُرِيبُنِي فِي وَجَعِي أَنِّي لَا أَعْرِفُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وآله وسلم اللُّطْفَ الَّذِي كُنْتُ أَرَى مِنْهُ حِينَ أَشْتَكِي، إِنَّمَا يَدْخُلُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وآله وسلم فَيُسَلِّمُ ثُمَّ يَقُولُ: ((كَيْفَ تِيكُمْ)) فَذَاكَ يَرِيبُنِي وَلَا أَشْعُرْ بِالشَّرِّ حَتَّى خَرَجْتُ بَعْدَمَا نَقِهْتُ، وَخَرَجَتْ مَعِي أُمُّ مِسْطَحٍ قِبَلَ الْمَنَاصِعِ وَهُوَ مُتَبَرَّزُنَا وَلَا نَخْرُجُ إِلَّا لَيْلًا إِلَى لَيْلٍ، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ تُتَّخَذَ الْكُنُفُ قَرِيبًا مِنْ بُيُوتِنَا وَأَمْرُنَا أَمْرُ الْعَرَبِ الْأُوَلِ فِي التَّنَزُّهِ، وَكُنَّا نَتَأَذَّى بِالْكُنُفِ أَنْ نَتَّخِذَهَا عِنْدَ بُيُوتِنَا، وَانْطَلَقْتُ أَنَا وَأُمُّ مِسْطَحٍ وَهِيَ بِنْتُ أَبِي رُحْمِ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ، وَأُمُّهَا بِنْتُ صَخْرِ بْنِ عَامِرٍ خَالَةُ أَبِي بَكْرِ الصِّدِّيقِ، وَابْنُهَا مِسْطَحُ بْنُ أُثَاثَةَ بْنِ عَبَّادِ بْنِ الْمُطَّلِبِ، وَأَقْبَلْتُ أَنَا وَبِنْتُ أَبِي رُحْمٍ قِبَلَ بَيْتِي حِينَ فَرَغْنَا مِنْ شَأْنِنَا فَعَثَرَتْ أُمُّ مِسْطَحٍ فِي مِرْطِهَا، فَقَالَتْ: تَعِسَ مِسْطَحٌ، فَقُلْتُ لَهَا: بِئْسَ مَا قُلْتِ تَسُبِّينَ رَجُلًا قَدْ شَهِدَ بَدْرًا، قَالَتْ: أَيْ هَنْتَاهُ أَوَلَمْ تَسْمَعِي مَا قَالَ؟ قُلْتُ: وَمَاذَا قَالَ؟ فَأَخْبَرَتْنِي بِقَوْلِ أَهْلِ الإِفْكِ فَازْدَدْتُ مَرَضًا إِلَى مَرَضِي، فَلَمَّا رَجَعْتُ إِلَى بَيْتِي فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وآله وسلم فَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: ((كَيْفَ تِيكُمْ؟)) قُلْتُ: أَتَأْذَنُ لِي أَنْ آَتِيَ أَبَوَيَّ، قَالَتْ: وَأَنَا حِينَئِذٍ أُرِيدُ أَنْ أَتَيَقَّنَ الْخَبَرَ مِنْ قِبَلِهِمَا، فَأَذِنَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وآله وسلم فَجِئْتُ أَبَوَيَّ، فَقُلْتُ لِأُمِّي: يَا أُمَّتَاهْ! مَا يَتَحَدَّثُ النَّاسُ؟ فَقَالَتْ: أَيْ بُنَيَّةُ! هَوِّنِي عَلَيْكِ، فَوَاللَّهِ لَقَلَّمَا كَانَتْ امْرَأَةٌ قَطُّ وَضِيعَةً عِنْدَ رَجُلٍ يُحِبُّهَا وَلَهَا ضَرَائِرُ إِلَّا كَثَّرْنَ عَلَيْهَا، قَالَتْ: قُلْتُ: سُبْحَانَ اللَّهِ! أَوَقَدْ تَحَدَّثَ النَّاسُ بِهَذَا، قَالَتْ: فَبَكَيْتُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ حَتَّى أَصْبَحْتُ لَا يَرْقَأُ لِي دَمْعٌ وَلَا أَكْتَحِلُ بِنَوْمٍ، ثُمَّ أَصْبَحْتُ أَبْكِي، وَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وآله وسلم عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَأُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ حِينَ اسْتَلْبَثَ الْوَحْيُ لِيَسْتَشِيرَهُمَا فِي فِرَاقِ أَهْلِهِ، قَالَتْ: فَأَمَّا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ فَأَشَارَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وآله وسلم بِالَّذِي يَعْلَمُ مِنْ بَرَاءَةِ أَهْلِهِ وَبِالَّذِي يَعْلَمُ فِي نَفْسِهِ لَهُمْ مِنَ الْوُدِّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! هُمْ أَهْلُكَ وَلَا نَعْلَمُ إِلَّا خَيْرًا، وَأَمَّا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ: لَمْ يُضَيِّقِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْكَ، وَالنِّسَاءُ سِوَاهَا كَثِيرٌ، وَإِنْ تَسْأَلِ الْجَارِيَةَ تَصْدُقْكَ، قَالَتْ: فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وآله وسلم بَرِيرَةَ قَالَ: ((أَيْ بَرِيرَةُ! هَلْ رَأَيْتِ مِنْ شَيْءٍ يَرِيبُكِ مِنْ عَائِشَةَ؟)) قَالَتْ لَهُ بَرِيرَةُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنْ رَأَيْتُ عَلَيْهَا أَمْرًا قَطُّ أَغْمِصُهُ عَلَيْهَا أَكْثَرَ مِنْ أَنَّهَا جَارِيَةٌ حَدِيثَةُ السِّنِّ تَنَامُ عَنْ عَجِينِ أَهْلِهَا فَتَأْتِي الدَّاجِنُ فَتَأْكُلُهُ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وآله وسلم فَاسْتَعْذَرَ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيِّ بْنِ سَلُولَ، فَقَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وآله وسلم وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ: ((يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ مَنْ يَعْذِرُنِي مِنْ رَجُلٍ قَدْ بَلَغَنِي أَذَاهُ فِي أَهْلِ بَيْتِي، فَوَاللَّهِ! مَا عَلِمْتُ عَلَى أَهْلِي إِلَّا خَيْرًا، وَلَقَدْ ذَكَرُوا رَجُلًا مَا عَلِمْتُ عَلَيْهِ إِلَّا خَيْرًا، وَمَا كَانَ يَدْخُلُ عَلَى أَهْلِي إِلَّا مَعِي)) فَقَامَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ الْأَنْصَارِيُّ فَقَالَ: لَقَدْ أَعْذِرُكَ مِنْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنْ كَانَ مِنَ الْأَوْسِ ضَرَبْنَا عُنُقَهُ وَإِنْ كَانَ مِنْ إِخْوَانِنَا مِنَ الْخَزْرَجِ أَمَرْتَنَا فَفَعَلْنَا أَمْرَكَ، قَالَتْ: فَقَامَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ وَهُوَ سَيِّدُ الْخَزْرَجِ وَكَانَ رَجُلًا صَالِحًا وَلَكِنْ اجْتَهَلَتْهُ الْحَمِيَّةُ، فَقَالَ لِسَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ: لَعَمْرُ اللَّهِ لَا تَقْتُلُهُ وَلَا تَقْدِرُ عَلَى قَتْلِهِ، فَقَامَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ وَهُوَ ابْنُ عَمِّ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فَقَالَ لِسَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ: كَذَبْتَ لَعَمْرُ اللَّهِ لَنَقْتُلَنَّهُ فَإِنَّكَ مُنَافِقٌ تُجَادِلُ عَنِ الْمُنَافِقِينَ، فَثَارَ الْحَيَّانِ الْأَوْسُ وَالْخَزْرَجُ حَتَّى هَمُّوا أَنْ يَقْتَتِلُوا وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وآله وسلم قَائِمٌ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وآله وسلم يُخَفِّضُهُمْ حَتَّى سَكَتُوا وَسَكَتَ، قَالَتْ: وَبَكَيْتُ يَوْمِي ذَاكَ لَا يَرْقَأُ لِي دَمْعٌ وَلَا أَكْتَحِلُ بِنَوْمٍ، ثُمَّ بَكَيْتُ لَيْلَتِي الْمُقْبِلَةَ لَا يَرْقَأُ لِي دَمْعٌ وَلَا أَكْتَحِلُ بِنَوْمٍ، وَأَبَوَايَ يَظُنَّانِ أَنَّ الْبُكَاءَ فَالِقٌ كَبِدِي، قَالَتْ: فَبَيْنَمَا هُمَا جَالِسَانِ عِنْدِي وَأَنَا أَبْكِي اسْتَأْذَنَتْ عَلَيَّ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَأُذِنَتْ لَهَا فَجَلَسَتْ تَبْكِي مَعِي، فَبَيْنَمَا نَحْنُ عَلَى ذَلِكَ دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وآله وسلم فَسَلَّمَ ثُمَّ جَلَسَ، قَالَتْ: وَلَمْ يَجْلِسْ عِنْدِي مُنْذُ قِيلَ لِي مَا قِيلَ، وَقَدْ لَبِثَ شَهْرًا لَا يُوحَى إِلَيْهِ فِي شَأْنِي شَيْءٌ، قَالَتْ: فَتَشَهَّدَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وآله وسلم حِينَ جَلَسَ ثُمَّ قَالَ: ((أَمَّا بَعْدُ يَا عَائِشَةُ! فَإِنَّهُ قَدْ بَلَغَنِي عَنْكِ كَذَا وَكَذَا، فَإِنْ كُنْتِ بَرِيئَةً فَسَيُبَرِّئُكِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَإِنْ كُنْتِ أَلْمَمْتِ بِذَنْبٍ فَاسْتَغْفِرِي اللَّهَ ثُمَّ تُوبِي إِلَيْهِ، فَإِنَّ الْعَبْدَ إِذَا اعْتَرَفَ بِذَنْبٍ ثُمَّ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ))، قَالَتْ: فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وآله وسلم مَقَالَتَهُ قَلَصَ دَمْعِي حَتَّى مَا أُحِسُّ مِنْهُ قَطْرَةً، فَقُلْتُ لِأَبِي: أَجِبْ عَنِّي رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وآله وسلم فِيمَا قَالَ، فَقَالَ: مَا أَدْرِي وَاللَّهِ مَا أَقُولُ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وآله وسلم، فَقُلْتُ لِأُمِّي: أَجِيبِي عَنِّي رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وآله وسلم، فَقَالَتْ: وَاللَّهِ مَا أَدْرِي مَا أَقُولُ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وآله وسلم، قَالَتْ: فَقُلْتُ وَأَنَا جَارِيَةٌ حَدِيثَةُ السِّنِّ لَا أَقْرَأُ كَثِيرًا مِنَ الْقُرْآنِ: إِنِّي وَاللَّهِ قَدْ عَرَفْتُ أَنَّكُمْ قَدْ سَمِعْتُمْ بِهَذَا حَتَّى اسْتَقَرَّ فِي أَنْفُسِكُمْ وَصَدَّقْتُمْ بِهِ، وَلَئِنْ قُلْتُ لَكُمْ: إِنِّي بَرِيئَةٌ وَاللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَعْلَمُ أَنِّي بَرِيئَةٌ لَا تُصَدِّقُونِي بِذَلِكَ، وَلَئِنْ اعْتَرَفْتُ لَكُمْ بِأَمْرٍ وَاللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَعْلَمُ أَنِّي بَرِيئَةٌ تُصَدِّقُونِي، وَإِنِّي وَاللَّهِ مَا أَجِدُ لِي وَلَكُمْ مَثَلًا إِلَّا كَمَا قَالَ أَبُو يُوسُفَ: {فَصَبْرٌ جَمِيلٌ وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ} [سورة يوسف: 18]، قَالَتْ: ثُمَّ تَحَوَّلْتُ فَاضْطَجَعْتُ عَلَى فِرَاشِي، قَالَتْ: وَأَنَا وَاللَّهِ حِينَئِذٍ أَعْلَمُ أَنِّي بَرِيئَةٌ وَأَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ مُبَرِّئِي بِبَرَاءَةِ، وَلَكِنْ وَاللَّهِ مَا كُنْتُ أَظُنُّ أَنْ يَنْزِلَ فِيَّ وَحْيٌ يُتْلَى وَلَشَأْنِي كَانَ أَحْقَرَ فِي نَفْسِي مِنْ أَنْ يَتَكَلَّمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيَّ بِأَمْرٍ يُتْلَى، وَلَكِنْ كُنْتُ أَرْجُو أَنْ يَرَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وآله وسلم فِي النَّوْمِ رُؤْيَا تُبَرِّئُنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا، قَالَتْ: فَوَاللَّهِ مَا رَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وآله وسلم مِنْ مَجْلِسِهِ، وَلَا خَرَجَ مِنْ أَهْلِ الْبَيْتِ أَحَدٌ حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى نَبِيِّهِ، وَأَخَذَهُ مَا كَانَ يَأْخُذُهُ مِنَ الْبُرَحَاءِ عِنْدَ الْوَحْيِ حَتَّى إِنَّهُ لَيَتَحَدَّرُ مِنْهُ مِثْلُ الْجُمَانِ مِنِ الْعَرَقِ فِي الْيَوْمِ الشَّاتِي مِنْ ثِقَلِ الْقَوْلِ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَيْهِ، قَالَتْ: فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وآله وسلم وَهُوَ يَضْحَكُ فَكَانَ أَوَّلُ كَلِمَةٍ تَكَلَّمَ بِهَا أَنْ قَالَ: ((أَبْشِرِي يَا عَائِشَةُ! أَمَّا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَقَدْ بَرَّأَكِ))، فَقَالَتْ لِي أُمِّي: قُومِي إِلَيْهِ، فَقُلْتُ: وَاللَّهِ! لَا أَقُومُ إِلَيْهِ (وَفِي رِوَايَةٍ: وَلَا أَحْمَدُهُ وَلَا أَحْمَدُكُمَا لَقَدْ سَمِعْتُمُوهُ فَمَا أَنْكَرْتُمُوهُ وَلَا غَيَّرْتُمُوهُ) وَلَا أَحْمَدُ إِلَّا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ بَرَاءَةِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالْإِفْكِ عُصْبَةٌ مِنْكُمْ} عَشْرَ آيَاتٍ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَذِهِ الْآيَاتِ بَرَاءَتِي، قَالَتْ: فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَكَانَ يُنْفِقُ عَلَى مِسْطَحٍ لِقَرَابَتِهِ مِنْهُ وَفَقْرِهِ: وَاللَّهِ لَا أُنْفِقُ عَلَيْهِ شَيْئًا أَبَدًا بَعْدَ الَّذِي قَالَ لِعَائِشَةَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَلَا يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ إِلَى قَوْلِهِ أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ} [سورة النور: 22]، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لِي فَرَجَعَ إِلَى مِسْطَحٍ النَّفَقَةَ الَّتِي كَانَ يُنْفِقُ عَلَيْهِ، وَقَالَ: لَا أَنْزِعُهَا مِنْهُ أَبَدًا، قَالَتْ عَائِشَةُ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وآله وسلم سَأَلَ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وآله وسلم عَنْ أَمْرِي: ((وَمَا عَلِمْتِ أَوْ مَا رَأَيْتِ أَوْ مَا بَلَغَكِ))، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحْمِي سَمْعِي وَبَصَرِي، وَأَنَا مَا عَلِمْتُ إِلَّا خَيْرًا، قَالَتْ عَائِشَةُ: وَهِيَ الَّتِي كَانَتْ تُسَامِينِي مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وآله وسلم فَعَصَمَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِالْوَرَعِ، وَطَفِقَتْ أُخْتُهَا حَمْنَةُ بِنْتُ جَحْشٍ تُحَارِبُ لَهَا فَهَلَكَتْ فِي مَنْ هَلَكَ، قَالَ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَهَذَا مَا انْتَهَى إِلَيْنَا مِنْ أَمْرِ هَؤُلَاءِ الرَّحْطِ (مسند أحمد: 26141)
امام زہری نے کہا:مجھے سعید بن مسیب، عروہ بن زبیر، علقمہ بن وقاص، عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے زوجۂ نبی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا واقعہ بیان کیا،جب ان کے متعلق اہل افک نے ان پر الزام تراشی کی اور اللہ تعالیٰ نے ان کی براء ت نازل فرمائی، زہری نے کہا کہ میرے ان تمام مشائخ نے اس حدیث کا تھوڑا تھوڑا حصہ بیان کیا، ان میں سے بعض دوسروں کی بہ نسبت اس واقعہ کو زیادہیاد رکھنے والے اور بہتر طور پر بیان کرنے والے تھے۔ ان مشائخ میں سے ہر ایک سے میں نے وہ یاد کی ہے، ان میں سے بعض کا بیان دوسرے بعض کے بیان کی تصدیق کرتا ہے، ان حضرات نے بیان کیا کہ زوجۂ نبی ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سفر پر روانہ ہوتے تو اپنی ازواج کے درمیان قرعہ ڈالتے، جس کے نام کا قرعہ نکل آتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر میں اسے اپنے ساتھ لے جاتے۔ آپ ایک غزوہ کے لیے جانے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے درمیان قرعہ اندازی کی۔ اس میں میرا نام نکل آیا۔ تو رسول اللہ کے ہمراہ سفر پر میں روانہ ہوئی۔ یہ واقعہ نزول حجاب سے بعد کا ہے۔ میں ہودج میں ہوتی۔ دوران سفر اسی طرح مجھے اونٹ سے اتارا اور اٹھا کر سوار کیا جاتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب غزوہ سے فارغ ہو کر واپس روانہ ہوئے اور ہم مدینہ کے قریب آ پہنچے تو آپ نے ایک رات قیام و نزول کے بعد رات کے وقت ہی روانگی کا حکم فرمایا۔ جب ان لوگوں نے روانگی کا اعلان کیا تو میں اٹھ کر لشکر سے ذرا دورقضائے حاجت کے لیے گئی۔ میں فارغ ہو کر اپنی سواری کے قریب پہنچی تو میں نے اپنے سینے پر ہاتھ لگایا۔ تو مجھے پتہ چلا کہ ارض یمن میں مقام ظفار کی کوڑیوں سے بنا ہوا میرا ہار ٹوٹ کر کہیں گر چکا تھا۔ میں وہاں سے ادھر کو ہار کی تلاش میں واپس گئی۔ ہار کی تلاش میں مجھے دیر لگ گئی۔ جو لوگ میرا ہودج اٹھانے پر مامور تھے۔ انہوں نے آکر میرا ہودج اٹھا کر اس اونٹ پر رکھ دیا۔ جس پر میں سفر کرتی اور سوار ہوتی تھی۔ انہوں نے سمجھا کہ میں ہودج کے اندر موجود ہوں۔ ان دنوں عورتیں ہلکی پھلکی ہوتی تھیں۔ ان پر گوشت کی تہیں چڑھی ہوئی نہ ہوتی تھیں۔ وہ بہت کم کھانا کھایا کرتی تھیں۔ ان لوگوں نے جب ہودج کو اٹھا کر اونٹ پر رکھا تو انہیں ہودج کے وزن کا کچھ احساس نہ ہو سکا۔ میں بھی ان دنوں نو عمر تھی۔ وہ اونٹ کو اٹھا کر چل پڑے۔ لشکر روانہ ہو جانے کے بعد مجھے ہار ملا۔ میں لشکر والی جگہ آئی تو وہاں کوئی بلانے والا یا جواب دینے والا فرد بشر نہ تھا۔ تو میں اسی جگہ گئی جہاں میں ٹھہرئی ہوئی تھی۔ مجھے یقین تھا کہ یہ لو گ عنقریب مجھے ہودج میں نہ پائیں گے تو میری تلاش میں ادھر ہی آئیں گے۔میں اپنی اسی جگہ بیٹھی تھی کہ مجھے نیند نے آلیا۔ اور میں سو گئی۔ صفوان بن معطل السلمی الزکوانی وہ لشکر کے پیچھے کہیں رات کے آخری حصہ میں آرام کرکے آئے۔ تو صبح کے وقت وہ اس جگہ آ پہنچے جہاں میں موجود تھی۔ انہوں نے سوئے ہوئے ایک آدمی کا ہیولا دیکھا۔ وہ میرے قریب آئے تو انہوں نے مجھے دیکھتے ہی پہچان لیا۔ کیونکہ حجاب کا حکم نازل ہونے سے قبل انہوں نے مجھے دیکھا ہوا تھا۔ انہوں نے مجھے پہنچانتے ہی بطور اظہار پریشانی بلند آواز سے انا للّٰہ وانا الیہ راجعون پڑھا۔ ان کی آواز سے میں بیدار ہوگئی۔ میں نے جلدی سے اپنی چادر سے اپنا چہرہ ڈھانپ لیا۔ اللہ کی قسم انہوں نے مجھے ایک بھی لفظ نہ کہا اور نہ میں نے ان کی زبان سے انا للّٰہِ کے سوا دوسرا کوئی لفظ سنا۔ انہوں نے اپنا اونٹ بٹھلا کر اس کے ہاتھ پر یعنی اگلی ٹانگ پر اپنا پاؤں رکھ دیا تاکہ وہ کھڑا نہ ہو۔ میں اس پر سوار ہوگئی۔ وہ مجھے سواری پر سوار کرکے آگے چلتے گئے۔ یہاں تک کہ دوپہر کے وقت جبکہ لشکر ایک مقام پر سستانے کے لیے رکا ہوا تھا۔ ہم بھی لشکر میں جا پہنچے۔ بات صرف اتنی ہی تھی لیکن میرے بارے میں باتیں کرکے جن لوگوں نے ہلاک ہونا تھا وہ ہلاک ہوئے۔ ان کا سرغنہ عبداللہ بن ابی بن سلول تھا۔ مدینہ منورہ پہنچ کر میں تو ایک مہینہ تک بیمار پڑی رہی۔ اور لوگ اہل افک کی باتوں میں آکر چہ میگوئیاں کرتے رہے۔ مجھے ان میں سے کسی بھی بات کا علم نہ ہوا۔ صرف اتنا تھا کہ اس سے قبل میں جب بیمار ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جس قدر توجہ میری طرف ہوتی تھی۔ اس دفعہ میں ویسی توجہ محسوس نہ کر رہی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لاتے اور سلام کہہ کر صرف اتنا دریافت کرتے کہ کیسے ہو؟ اس سے مجھے کچھ شک سا گزرتا تھا۔ لیکن مجھے اس فتنہ کا اندازہ نہ تھا جو بپاہوچکا تھا۔ مجھے کافی نقاہت ہو چکی تھی کہ میں ایک دن باہر گئی۔ میرے ساتھ ام مسطح رضی اللہ عنہا بھی مناصع کی طرف ساتھ آئیں۔ یہ ہماری قضائے حاجت کی جگہ تھی۔ اور ہم صرف رات کو و ہیں قضائے حاجت کے لیے باہر جایا کرتی تھیں۔ یہ گھروں کے قریب بیوت الخلاء بنائے جانے سے پہلے کی بات ہے۔ اور قضائے حاجت کے بارے میں ہمارا معمول پہلے عربوں کا تھا۔ ہم گھروں کے قریب بیوت الخلاء بنانے میں تکلیف اور ناگواری محسوس کیا کرتے تھے۔ام مسطح رضی اللہ عنہا، یہ ابو رہم بن مطلب بن عبد مناف کی دختر تھیں اور ان کی ماں صخر بن عامر کی بیٹی اور ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خالہ تھیں۔ ان کا بیٹا مسطح بن اثاثہ بن عباد بن مطلب تھا۔ میں اور ام مسطح بنت ابی رھم قضائے حاجت کے بعد میرے گھر کی طرف آرہی تھیں کہ ام مسطح رضی اللہ عنہا اپنی چادر میں الجھ کر گر گئیں۔ اور بولیں مسطح ہلاک ہو۔ میں نے ان سے کہا آپ نے بہت غلط بات کہہ دی۔ آپ ایک ایسے آدمی کو برا بھلا کہہ رہی ہیں جو کہ بدری ہے۔ انہوں نے کہا، اری! کیا تم نے اس کی بات نہیں سنی کہ اس نے کیا کہا ہے؟ میں نے پوچھا … اس نے کیا کہا ہے؟ تب انہوں نے مجھے اہل افک کی ساری بات بتلائی۔ یہ سن کر میری تو بیماری میں اضافہ ہو گیا۔ میں گھر آئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے۔ اور سلام کہا۔ اور پوچھا کیسی ہو؟ میں نے عرض کیا کیا آپ مجھے اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ میں اپنے والدین کے ہاں چلی جاؤں؟ میں اس وقت ان باتوں کے متعلق اپنے والدین سے تصدیق کرانا چاہتی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے میرے والدین کے ہاں جانے کی اجازت دے دی۔ میں اپنے والدین کے ہاں آگئی۔ میں نے کہا اماں جان! لوگ یہ کیسی باتیں کر رہے ہیں؟ تو انہوں نے کہا بیٹی! صبر کرو۔ برداشت کرو۔ اللہ کی قسم! جو عورت خوبصورت ہو اور اس کا شوہر بھی اس سے محبت کرتا ہو اور اس کی سو تنیں بھی ہوں تو وہ اس کے بارے میں بہت سی باتیں بنایا کرتی ہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے کہا سبحان اللہ! تو کیا عام لوگ بھی ایسی باتیں کرنے لگے ہیں؟ سیدہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں ساری رات صبح تک روتی رہی۔ میرے آنسو رکتے نہ تھے۔ اور نہ آنکھوں میں نیند ہی آتی تھی۔ آخر روتے روتے صبح ہوگئی۔ ایک طویل عرصہ تک وحی بھی نازل نہ ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے علی بن ابی طالب اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہا کو بلوایاآپ ان سے اپنی زوجہ کو طلاق دینے کے بارے میں مشورہ کرنا چاہتے تھے۔ تو اسامہ بن زید رضی اللہ عنہا نے اپنے علم کے مطابق زوجۂ نبی کی براء ت کا اظہار کیا البتہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر کوئی تنگی نہیں کی۔عورتیں اس کے علاوہ بھی بہت ہیں۔ اور اگر آپ لونڈی سے پوچھ لیں وہ آپ سے صحیح صحیح بیان کرے گی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو بلوا کر فرمایا اے بریرہ! کیا تم نے عائشہ رضی اللہ عنہا میں کبھی کوئی ایسی بات دیکھی ہے جو تجھے اچھی نہ لگی ہو؟ تو بریرہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے میں نے تو ان میں کوئی ایسی بات نہیں دیکھی جو ذکر کر سکوں۔ زیادہ سے زیادہ صرف اتنا ہے کہ وہ نو عمر لڑکی ہے۔ آٹے کی طرف سے غافل ہو کر سو جاتی ہے اور بکری آکر آٹا کھا جاتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھڑے ہو کر عبداللہ بن ابی ابن سلول کے متعلق لوگوں کے سامنے اپنی معذوری پیش کی۔ آپ نے منبر پر فرمایا اے مسلمانو! کونسا آدمی مجھے اس آدمی کے بارے میں معذور سمجھتا ہے۔ جس کی ایذاء اب تجاوز کرکے میرے اہل بیت تک جا پہنچی ہے۔ اللہ کی قسم! میں اپنے اہل کے متعلق خیر اور بہتر ہی جانتا ہوں۔ ان تہمت لگانے والوں نے ایک ایسے آدمی کا نام لیایعنی اس پر تہمت لگائی ہے اس کے متعلق بھی میں خیر اور بہترہی جانتا ہوں۔وہ میرے گھر میں میری غیر موجودگی میں کبھی نہیں آیا۔ وہ جب بھی میرے گھر آیا میرے ہم راہ ہی آیا۔ یہ سن کر سعد بن معاذ انصاری رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور بولے اللہ کے رسول! میں آپ کو اس بارے میں معذور سمجھتا ہوں۔ اگر وہ قبیلۂ اوس میں سے ہو تو ہم اس کی گردن اڑانے کو تیار ہیں۔ اور اگر وہ ہمارے بھائی بند قبیلے خزرج میں سے ہو تو حکم فرمائیں ہم آپ کے حکم کی تعمیل کریں گے۔ تو اس کی بات سن کر سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ اٹھے جو کہ ایک صالح آدمی تھے۔ لیکن ان پر قومی غیرت وحمیت غالب آگئی انہوں نے سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ سے مخاطب ہو کر کہا کہ اللہ کی قسم! تم اسے نہ تو قتل کرو گے اور نہ قتل کر سکو گے۔ یہ سن کر سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا چچا زاد اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کھڑا ہوا اور اس نے سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے کہا آپ غلط کہہ رہے ہیں۔ تم غلط کہہ رہے ہو۔ اللہ کی قسم! ہم ایسے آدمی کو ضرور قتل کر دیں گے۔ تم تو منافق ہو اور منافقین کا دفاع کر رہے ہو۔ قبیلہ اوس اور خزرج دونوں آپ میں الجھ گئے۔ یہاں تک کہ وہ لڑائی کے لیے تیار ہوگئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر ہی تھے۔ آپ انہیں خاموش کراتے رہے یہاں تک کہ سب لوگ خاموش ہوگئے۔ اور آپ بھی خاموش ہوگئے۔ میں اس دن بھی روتی ہی رہی۔ میرے آنسو تھمتے نہ تھے اور نہ نیند آئی تھی۔ میں اسی طرح اگلی رات بھی روتی رہی نہ آنسو رکے اور نہ نیند ہی آئی۔ میرے والدین کو یقین ہوگیا کہ میرایہ رونا میرے جگر کو پھاڑ ڈالے گا میں رو رہی تھی اور میرے والدین میرے پاس ہی بیٹھے تھے۔ اسی حال میں ایک انصاری خاتون نے میرے پاس آنے کی اجازت طلب کی۔ میں نے اسے آنے کی اجازت دے دی۔ وہ بیٹھ کر میرے ساتھ رونے لگی۔ ہم اسی کیفیت میں بیٹھے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے اور سلام کہہ کر بیٹھ گئے۔ جب سے میرے متعلق اس قسم کی باتیں اور شو شے پھیلے تھے آپ میرے پاس نہ بیٹھے تھے۔ ایک مہینہ گز ر چکا تھا میرے متعلق آپ پر کچھ بھی وحی نہ آرہی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیٹھ کر خطبہ ارشاد فرمایا پھر کہا اما بعد، عائشہ!تمہارے متعلق مجھ تک اس قسم کی باتیں پہنچی ہیں۔ اگر تم ان الزامات سے بری ہو تو اللہ تعالیٰ تمہاری براء ت کا اعلان کر دے گا۔ اور اگر تم سے کوئی غلطی سرزد ہوگئی ہے تو اللہ سے معافی مانگ لو اور توبہ کرو۔ کیونکہ انسان جب گناہ کا اعتراف کرکے توبہ کرتا ہے تو اللہ بھی اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔ سیدہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بات پوری کرلی تو میرے آنسو رک گئے۔ مجھے آنکھوں میں ایک بھی قطرہ کا احساس نہ ہوا۔ میں نے اپنے والد سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو کچھ کہا ہے آپ میری طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جواب دیں۔ تو انھوں نے کہا اللہ کی قسم مجھے کچھ سمجھ نہیں آتا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کیا جواب دوں؟ اس کے بعد میں نے اپنی والدہ سے کہا امی جان آپ میری طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جواب دیں تو انہوں نے بھی کہا اللہ کی قسم مجھے سمجھ نہیں آتی کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کیا جواب دوں؟ سیدہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں ان دنوں نو عمر لڑکی تھی۔ زیادہ قرآن پڑھی ہوئی نہ تھی۔میں نے کہا کہ اللہ کی قسم میں جانتی ہوں کہ یہ باتیں سن سن کر تمہارے دلوں میں جاگزیں ہو چکی ہیں۔ اور تم ان کو صحیح سمجھنے لگے ہو۔ اگر میںیوں کہو کہ میں اس الزام سے بری ہوں اور اللہ تعالیٰ بھی جانتا ہے کہ میں بری ہوں تو تم میری بات کی تصدیق نہ کرو گے اور اگر میں غلطی کا اعتراف کر لوں جبکہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ میں اس الزام سے بری ہوں تو تم میری تصدیق کر دو گے۔ اللہ کی قسم! میں اس موقعہ پر اپنے اور تمہارے لیے وہی مثال صادق پاتی ہوں جیسا کہ یوسفg کے والد یعقوبg نے کہا تھا: {فَصَبْرٌ جَمِیلٌ وَاللّٰہُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰی مَا تَصِفُونَ} … صبر ہی بہتر ہے اور تم جو کچھ کہہ رہے ہو اس بارے میں اللہ ہی کی مدد کا خواستگار ہوں۔ (سورۂ یوسف:۱۸) سیدہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں اتنی بات کہہ کر منہ دوسری طرف کرکے اپنے بستر پر لیٹ گئی۔ اللہ کی قسم میں اس وقت بھی جانتی تھی کہ میں اس الزام سے بری ہوں۔ اور اللہ تعالیٰ میری برأت کا اعلان فرما دے گا۔ لیکن اللہ کی قسم میںیہ نہ سمجھتی تھی کہ میرے بارے میںکوئی ایسی وحی نازل ہوگی جس کی تلاوت کی جائے گی۔ میں اپنے آپ کو اس سے کہیں کم اور حقیر سمجھتی تھی کہ اللہ تعالیٰ میرے متعلق کوئی ایسی بات ارشاد فرمائے گا جس کی تلاوت کی جائے گی مجھے تو صرف اس قدر امید تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نیند میں کوئی خواب دکھا کر اللہ تعالیٰ اس انداز سے میری برأت کر دے گا۔ سیدہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابھی اپنی جگہ سے نہ اٹھے اور نہ گھر سے باہر تشریف لے گئے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی نازل فرما دی۔ اور آپ کو پسینہ آنے لگا جیسا کہ نزول وحی کے وقت آپ کو آیا کرتا تھا۔ یہاں تک کہ وحی کی شدت کیوجہ سے سردی کے دنوں میں بھی آپ کا پسینہ موتیوں کی طرح گرنے لگتا تھا۔ سیدہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کییہ کیفیت زائل ہوئی تو آپ ہنس رہے تھے۔ آپ نے سب سے پہلے یہ بات کہی کہ عائشہ! خوش ہو جاؤ۔ اللہ تعالیٰ نے تمہاری برأت کا فیصلہ نازل کیا ہے۔ تو میری والدہ نے مجھ سے کہا کہ تم اٹھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف جاؤ۔ تو میں نے کہا کہ اللہ قسم! میں اٹھ کر آپ کی طرف نہ جاؤں گی۔ دوسری روایت میںیوں ہے کہ نہ ہی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حمد کروں گی اور نہ آپ دونوں یعنی والدین کی حمد کروں گی کیونکہ آپ لوگوں نے یہ باتیں سن کر نہ تو ان کا انکار کیا اور نہ انہیں بدلنے کی کوشش کی۔ میں صرف اللہ تعالیٰ کی حمد کروں گی جس نے میری برأت کا فیصلہ نازل کیا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے: {إِنَّ الَّذِینَ جَائُ وْا بِالْإِفْکِ عُصْبَۃٌ مِنْکُمْ} دس آیات نازل فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیات میری برأت کے اعلان کے طور پر نازل کیں۔ سیدہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ابو بکرصدیق رضی اللہ عنہ مسطح رضی اللہ عنہ کے ساتھ رشتہ داری اور ان کے فقر کے سبب ان کو نفقہ دیا کرتے تھے۔ وہ کہنے لگے کہ اللہ کی قسم! اب جبکہ وہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعلق الزام تراشی کر چکا ہے اس کے بعد میں اسے نفقہ بالکل نہ دوں گا۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: {وَلَا یَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْکُمْ وَالسَّعَۃِ إِلٰی قَوْلِہِ اَ لَا تُحِبُّونَ أَنْ یَغْفِرَ اللّٰہُ لَکُمْ وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ } … اور تم میں سے جو لوگ بزرگی والے اور مال دار ہیں وہ اس بات کی قسم نہ اٹھائیں کہ وہ رشتے داروں کو، مساکین کو اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرکے آنے والوں کو صدقات نہ دیں گے۔ بلکہ انہیں چاہیے کہ معاف کر دیں اور درگزر کریں کیا تمہیں یہ بات پسند نہیں کہ اللہ تمہیں بخش دے۔ اور اللہ بہت بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔ (سورۂ نور:۲۲) اس کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں تو چاہتا ہوں کہ اللہ مجھے بخش دے۔ چنانچہ وہ مسطح رضی اللہ عنہ کو جو نفقہ اس سے قبل دیا کرتے تھے وہ بحال کر دیا۔ اور فرمایا کہ اب میں اسے اس سے کبھی بھی منقطع نہیں کروں گا۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زوجہ ام المؤمنین سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے بھی میرے متعلق دریافت کیا تھا کہ تم اس کے بارے میں کیا کچھ جانتی ہو؟ تم نے ان کو کیسا دیکھایا ان کے متعلق تم تک کیا بات پہنچی ہے؟ تو انہوں نے کہا اللہ کے رسول! میں اپنے کانوں اور آنکھوں کی حفاظت کرتی ہوں۔ اللہ کی قسم! میں تو ان کے متعلق اچھا ہی جانتی ہوں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیںکہ ازواج النبی میں سے صرف یہی ایک ایسی تھیں جو میرا مقابلہ کر سکتی تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کی پرہیزگاری کی وجہ سے کوئی ایسی ویسی بات کہنے سے محفوظ رکھا۔ البتہ ان کی خواہر حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا اپنی بہن کی طرف سے لڑائی میں کود پڑیں۔اور ہلاک ہونے والوں کے ساتھ ہلاک ہوئیں۔ ابن شھاب زہری نے کہا کہ ان لوگوں کے متعلق ہمیںیہی کچھ معلوم ہوا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11432]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2879، 4025، 4141، 4690، 4750، 6662، 7500، ومسلم: 2770، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25623 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26141»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11433
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ يَعْنِي ابْنَ شِهَابٍ قَالَ آذَنَ لَيْلَةً بِالرَّحِيلِ فَقُمْتُ حِينَ آذَنُوا بِالرَّحِيلِ وَقَالَ مِنْ جَزْعِ ظَفَارٍ وَقَالَ يُهَبَّلْنَ وَقَالَ فَيَمَّمْتُ مَنْزِلِي وَقَالَ قَالَ عُرْوَةُ أُخْبِرْتُ أَنَّهُ كَانَ يُشَاعُ وَيُحَدَّثُ بِهِ عِنْدَهُ فَيُقِرُّهُ وَيَسْتَمِعُهُ وَيَسْتَوْشِيهِ وَقَالَ عُرْوَةُ أَيْضًا لَمْ يُسَمَّ مِنْ أَهْلِ الْإِفْكِ إِلَّا حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ وَمِسْطَحُ بْنُ أُثَاثَةَ وَحَمْنَةُ بِنْتُ جَحْشٍ فِي نَاسٍ آخَرِينَ لَا عِلْمَ لِي بِهِمْ إِلَّا أَنَّهُمْ عُصْبَةٌ كَمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَإِنَّ كِبْرَ ذَلِكَ كَانَ يُقَالُ عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيِّ ابْنِ سَلُولَ قَالَ عُرْوَةُ وَكَانَتْ عَائِشَةُ تَكْرَهُ أَنْ يُسَبَّ عِنْدَهَا حَسَّانُ وَتَقُولُ إِنَّهُ الَّذِي قَالَ فَإِنَّ أَبِي وَوَالِدَهُ وَعِرْضِي لِعِرْضِ مُحَمَّدٍ مِنْكُمْ وَقَاءٌ وَقَالَتْ وَأَمْرُنَا أَمْرُ الْعَرَبِ الْأُوَلِ فِي التَّنَزُّهِ وَقَالَ لَهَا ضَرَائِرُ وَقَالَ بِالَّذِي يَعْلَمُ مِنْ بَرَاءَةِ أَهْلِهِ وَقَالَ فَتَأْتِي الدَّاجِنُ فَتَأْكُلُهُ وَقَالَ وَإِنْ كَانَ مِنْ إِخْوَانِنَا الْخَزْرَجِ وَقَالَ فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْخَزْرَجِ وَكَانَتْ أُمُّ حَسَّانَ بِنْتَ عَمِّهِ مِنْ فَخِذِهِ وَهُوَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ وَهُوَ سَيِّدُ الْخَزْرَجِ قَالَتْ وَكَانَ قَبْلَ ذَلِكَ رَجُلًا صَالِحًا وَلَكِنِ احْتَمَلَتْهُ الْحَمِيَّةُ وَقَالَ قَلَصَ دَمْعِي وَقَالَ وَطَفِقَتْ أُخْتُهَا حَمْنَةُ تُحَارِبُ لَهَا وَقَالَ عُرْوَةُ قَالَتْ عَائِشَةُ ”وَاللَّهِ إِنَّ الرَّجُلَ الَّذِي قِيلَ لَهُ مَا قِيلَ لَيَقُولُ سُبْحَانَ اللَّهِ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا كَشَفْتُ عَنْ كَنَفِ أُنْثَى قَطُّ“ قَالَتْ ثُمَّ قُتِلَ بَعْدَ ذَلِكَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهِيدًا
۔(دوسری زید) ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گزشتہ حدیث کی مانند ہی مروی ہے۔ البتہ ابن شہاب زہری نے یوں بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک رات روانگی کا حکم دیا تو اس اعلان کو سن کر میں اٹھی۔ اسی طرح زہری نے ہار کے متعلق بیان کیا کہ وہ مقام ظفار کے موتیوں سے بنا ہوا تھا۔ نیز اس نے لفظ یُہَبَّلْنَ کہا ہے، یعنی عورتیں زیادہ بھاری جسامت والی نہیں ہوتی تھیں۔ اسی طرح اس نے فَیَمَّمْتُ مَنْزِلِی (میں نے اپنے مقام کا قصد کیا)کہا ہے، نیز امام زہری نے بیان کیا کہ عروہ نے کہا مجھے بتایا گیا کہ یہ باتیں پھیلائی جارہی تھیں اور اس کے پاس یعنی عبداللہ بن ابی کے سامنے یہ باتیں کی جاتیں وہ ان کی تصدیق کرتا، غور سے سنتا اور چغلی کھاتا یعنی دوسروں سے جاجاکر بھی کہتا۔ عروہ نے یہ بھی کہا ہے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگانے والوں میں حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ مسطح بن اثاثہ اور حمنہ بنت جحش اور کچھ دوسرے لوگوں کے نام ہیں جن کے ناموں سے میں واقف نہیں۔ صرف اتنا جانتا ہوں کہ وہ ایک جماعت تھی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو عصبہ یعنی ایک جماعت کہاہے۔ اس بات میں سب سے زیادہ دلچسپی عبداللہ بن ابی ابن سلول نے لی اور اس بات کو خوب ہوا دی۔ عروہ نے یہ بھی بیان کیا کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اس بات کو پسند نہ کرتی تھیں کہ ان کے پاس حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے متعلق کوئی بات کی جائے۔ وہ فرمایا کرتی تھیں کہ حسان رضی اللہ عنہ نے ہی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عقیدت و محبت کا اظہار کرتے ہوئے یہ کہا ہے: فَإِنَّ أَبِی وَوَالِدَہُ وَعِرْضِی لِعِرْضِ مُحَمَّدٍ مِنْکُمْ وِقَائُ (تمہارے تیروں اور نشتر سے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جان اور عزت کو بچانے کے لیے میرا باپ اور اس کا باپ اور میری عزت سب کچھ ان پر فدا ہے۔) نیز سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا ہے کہ ان دنوں قضائے حاجت کے بارے میں ہماری معاشرت اور یعنی عرب کی سی تھی۔ اسی طرح زہری نے اس سند میں لھا ضرائر کہا(جبکہ پچھلی روایت میں ولھا ضرائر تھا)۔ اسی طرح اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے الفاظ یوں بیان کیے ہیں: اس ذات کی قسم جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل کی براء ت کو جانتی ہے،بریرہ رضی اللہ عنہ کے الفاط یوں ہیں کہ بکری آکر آٹا کھا جاتی ہے، گزشتہ طریق میں بھی یہ الفاظ اسی طرح ہیں۔ اس طریق میں سعد بن معاذ انصاری رضی اللہ عنہ کے الفاظ یوں ہیں: اگرچہ وہ ہمارے بھائیوں خزرج میں سے ہے۔ جبکہ گزشتہ طریق میں من الخزرج ہے۔مفہوم ایک ہی ہے۔ اس طریق میں فقام رجل من الخزرج ہے۔ جبکہ گزشتہ طریق میں فقام سعد بن عبادۃ ہے۔دونوں سے مراد ایک ہی ہے۔اس طریق میں حسان کی والدہ کے متعلق یہ بیان ہے کہ وکانت ام حسان بنت عمہ من فخذہ کہ حسان رضی اللہ عنہ کی والدہ اس کی چچازاد اور اسی کے خاندان میں سے تھی۔ یہ جملہ گزشتہ طریق میں نہیں ہے، اس طریق میں ہے: {وھو سعد بن عبادۃ وھو سید الخزرج قالت وکان قبل ذلک رجلا صالحًا ولکن احتملۃ الحمیۃ} جبکہ گزشتہ طریق کے الفاظ یوں ہیں: {فقام سعد بن عبادۃ وکان رجلاً صالحًا ولکن اجتھلتہ الحمیتہ} نیز اس طریق میں زہری نے: {قلص دمعی} کہا ہے جبکہ گزشتہ طریق میں بھی اسی طرح ہے۔زہری نے اس طریق میں کہا ہے: {وطفقت اختھا حمنۃ تجارب لھا} گزشتہ طریق میں ہے: {وطفقت اختھا حمنۃ بنت جحش تجارب لھا}ہے عروہ نے بیان کیا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اللہ کی قسم! وہ آدمی جس کے متعلق کہا گیا جو کچھ بھی کہا گیا، اس نے کہا اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں نے کبھی بھی کسی عورت کے پہلو سے کپڑا نہیں اٹھایا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ وہ یعنی صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ اس واقعہ کے بعد اللہ کی راہ میں شہادت سے سرفزار ہوئے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11433]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26142»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11434
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لَمَّا نَزَلَ عُذْرِي قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَذَكَرَ ذَلِكَ وَتَلَا الْقُرْآنَ فَلَمَّا نَزَلَ أَمَرَ بِرَجُلَيْنِ وَامْرَأَةٍ فَضُرِبُوا حَدَّهُمْ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے میری براء ت کا اعلان نازل ہوا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا تذکرہ کیا اور قرآن کی نازل شدہ آیت کی تلاوت فرمائی اور منبر سے نیچے اتر کر آپ نے دو مردوں اور ایک عورت پر تہمت کی حد جاری کرنے کا حکم صادر فرمایا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11434]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، اخرجه ابوداود: 4474، والترمذي: 3181، وابن ماجه: 2567، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24066 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24567»
الحكم على الحديث: صحیح
7. بَابُ وَمِنْ بَرَكَتِهَا نُزُولُ رُحْصَةِ التَّیَمُمِ بِسَبَبِهَا
امت کے لیے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی برکتوںمیں سے ایک برکت یہ بھی ہے کہ ان کی وجہ سے تیمم کی رخصت کا حکم نازل ہوا
حدیث نمبر: 11435
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا اسْتَعَارَتْ مِنْ أَسْمَاءَ قِلَادَةً فَهَلَكَتْ فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رِجَالًا فِي طَلَبِهَا فَوَجَدُوهَا فَأَدْرَكَتْهُمُ الصَّلَاةُ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ فَصَلَّوْا بِغَيْرِ وُضُوءٍ فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ التَّيَمُّمَ فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ لِعَائِشَةَ جَزَاكِ اللَّهُ خَيْرًا فَوَاللَّهِ مَا نَزَلَ بِكِ أَمْرٌ تَكْرَهِينَهُ إِلَّا جَعَلَ اللَّهُ لَكِ وَلِلْمُسْلِمِينَ فِيهِ خَيْرًا
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انھوں نے سیدہ اسمائ رضی اللہ عنہا سے ایک ہار بطورِ استعارہ لیا تھا، لیکن وہ گم ہو گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کچھ افراد کو اس کو تلاش کرنے کے لیے بھیجا، ان کو وہ مل گیا، لیکن نماز نے ان کو اس حال میں پا لیا کہ ان کے پاس پانی نہیں تھا، پس انھوں نے بغیر وضو کے نماز پڑھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف یہ شکایت کی، پس اللہ تعالیٰ نے تیمم کی رخصت نازل کر دی، سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: اللہ تعالیٰ تم کو جزائے خیر دے، جب بھی تمہارا کوئی ایسا معاملہ بنتا ہے، جس کو تم ناپسند کرتی ہو، اللہ تعالیٰ اس میں تمہارے لیے اور مسلمانوں کے لیے خیر و بھلائی بنا دیتا ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11435]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3773، 4583، ومسلم: 367، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24299 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24803»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11436
عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِتُرْبَانَ بَلَدٍ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْمَدِينَةِ بَرِيدٌ وَأَمْيَالٌ وَهُوَ بَلَدٌ لَا مَاءَ بِهِ وَذَلِكَ مِنَ السَّحَرِ انْسَلَّتْ قِلَادَةٌ لِي مِنْ عُنُقِي فَوَقَعَتْ فَحُبِسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِالْتِمَاسِهَا حَتَّى طَلَعَ الْفَجْرُ وَلَيْسَ مَعَ الْقَوْمِ مَاءٌ قَالَتْ فَلَقِيتُ مِنْ أَبِي مَا اللَّهُ بِهِ عَلِيمٌ مِنَ التَّعْنِيفِ وَالتَّأْفِيفِ وَقَالَ فِي كُلِّ سَفَرٍ لِلْمُسْلِمِينَ مِنْكِ عَنَاءٌ وَبَلَاءٌ قَالَتْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ الرُّخْصَةَ بِالتَّيَمُّمِ قَالَتْ فَتَيَمَّمَ الْقَوْمُ وَصَلَّوْا قَالَتْ يَقُولُ أَبِي حِينَ جَاءَ مِنَ اللَّهِ مَا جَاءَ مِنَ الرُّخْصَةِ لِلْمُسْلِمِينَ وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ يَا بُنَيَّةُ إِنَّكِ لَمُبَارَكَةٌ مَاذَا جَعَلَ اللَّهُ لِلْمُسْلِمِينَ فِي حَبْسِكِ إِيَّاهُمْ مِنَ الْبَرَكَةِ وَالْيُسْرِ
زوجۂ نبی ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ واپس آرہے تھے۔ جب ہم مدینہ منورہ سے چند میل کے فاصلے پر سحری کے وقت ایک ایسی جگہ پہنچے جہاں پانی کا نام و نشان تک نہ تھا، میری گردن سے ہار اتر کر گر گیا۔ اس کی تلاش میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو رکنا پڑا یہاں تک کہ فجر طلوع ہوگئی، کسی کے پاس پانی نہ تھا، اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس موقعہ پر مجھے اپنے والد کی طرف سے کس قدر ڈانٹ پڑی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہر سفر میں تمہاری وجہ سے مسلمانوں کو مشکل اور تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ اس موقع پر اللہ نے تیمم کی رخصت کا حکم نازل فرما دیا۔ اور لوگوں نے تیمم کرکے نماز ادا کی، جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسلمانوں کے لیے رخصت کا یہ حکم آیا تو میرے ابا جان نے کہا: بیٹی! اللہ کی قسم! میں نہیں جانتا تھا کہ تم اس قدر با برکت ہو۔ تمہارے ہار کی تلاش میں مسلمانوں کو یہاں روکے جانے کے نتیجہ میں ان کے لیے اللہ نے کیا برکت اور آسانی رکھ دی ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11436]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26341 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26872»
وضاحت: فوائد: … اگرچہ تیمم کی رخصت محض اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، لیکن جو آدمی اس رخصت کے نزول کا سبب بنا، اس کو مبارکباد دی جا رہی ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح