الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابٌ فِي مُلاطَفَةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَائِشَةَ وَإِدْخَـالِـهِ السُّرُور عَلَيْهَا
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ دل لگی اور ان کو خوش کرنے کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11417
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ وَالْحَبَشَةُ يَلْعَبُونَ فَزَجَرَهُمْ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”دَعْهُمْ يَا عُمَرُ فَإِنَّهُمْ بَنُو أَرْفِدَةَ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیا ن ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں تشریف لے گئے، وہاں حبشی لوگ نیزوں سے کھیل رہے تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو ڈانٹ دیا۔لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عمر! ان کو رہنے دو، یہ بنو ارفدہ ہیں، (یعنی ایسا کرنا ان کے معمولات میں سے ہے۔) [الفتح الربانی/حدیث: 11417]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2901، ومسلم: 893، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10967 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10980»
وضاحت: فوائد: … سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی (صحیح بخاری: ۹۵۰)کی روایت کے مطابق یہ عید کا دن تھا اور عید کے دن کھیلنا ویسے بھی جائز ہے، جب تک کھیل کسی حرام کام پر مشتمل نہ ہو۔ رہا مسئلہ حبشی لوگوں کا تو ان کا کھیلنا محض کھیل نہیں تھا، بلکہ وہ جنگی آلات کے ذریعے جنگی مہارت کا اظہار کر رہے تھے، جو کہ مطلوب ِ شریعت ہے۔
بنوارفدہ، حبشی لوگوں کا لقب تھا، یہ لوگ عید کے روز دوسرے صحابہ کی بہ نسبت کھیل کود کا زیادہ شوق رکھتے تھے۔
مسجد کے تقدس کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انھیں زجرو توبیخ کی، لیکن بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضاحت کر دی کہ مسجد میں اس قسم کے امور جائز ہیں۔
حافظ ابن حجر رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: مہلب کہتے ہیں: مسلمانوں کی جماعت کے معاملات مسجد کے ساتھ معلق ہیں، اس لیے جن امور کا تعلق دین اور اہل دین کی منفعت سے ہو، نہ کہ فردِ واحد کی ذات سے، ان کا مسجد میں سرانجام دینا جائز ہے۔
(فتح الباری: ا/ ۷۲۱)
بنوارفدہ، حبشی لوگوں کا لقب تھا، یہ لوگ عید کے روز دوسرے صحابہ کی بہ نسبت کھیل کود کا زیادہ شوق رکھتے تھے۔
مسجد کے تقدس کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انھیں زجرو توبیخ کی، لیکن بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضاحت کر دی کہ مسجد میں اس قسم کے امور جائز ہیں۔
حافظ ابن حجر رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: مہلب کہتے ہیں: مسلمانوں کی جماعت کے معاملات مسجد کے ساتھ معلق ہیں، اس لیے جن امور کا تعلق دین اور اہل دین کی منفعت سے ہو، نہ کہ فردِ واحد کی ذات سے، ان کا مسجد میں سرانجام دینا جائز ہے۔
(فتح الباری: ا/ ۷۲۱)
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11418
أَنَا ابْنُ أَبِي الزَّنَّادِ عَنْ أَبِي الزَّنَّادِ قَالَ قَالَ لِي عُرْوَةُ إِنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ لِتَعْلَمَ يَهُودُ أَنَّ فِي دِينِنَا فُسْحَةً ”إِنِّي أُرْسِلْتُ بِحَنِيفِيَّةٍ سَمْحَةٍ“
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ اس روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (عمر! ان کو کھیلنے دو) تاکہ یہودیوں کو پتہ چل جائے کہ ہمارے دین میں کافی وسعت ہے، بے شک مجھے آسان دین و شریعت دے کر مبعوث کیا گیا ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11418]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25962 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26489»
الحكم على الحديث: صحیح
3. بَابُ مَا جَاءَ فِي حِظُوَتِهَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَحُبِّهِ إِيَّاهَا وَإِجَابَةِ طَلَبِهَا فِي غَيْرِ مَحْظُورٍ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں مقبولیت، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ان سے محبت اور مباح کاموں میںآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنی اہلیہ کی خواہش کو پورا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 11419
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَيُّ النَّاسِ كَانَ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ عَائِشَةُ قُلْتُ فَمِنَ الرِّجَالِ قَالَتْ أَبُوهَا
عبداللہ بن شقیق سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سب سے زیادہ محبت کس سے تھی؟ انھوں نے کہا: عائشہ سے، میں نے کہا: مردوں میں سے؟ انھوں نے کہا: اس کے باپ سے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11419]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25046 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26574»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11420
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّهُ لَيُهَوِّنُ عَلَيَّ أَنِّي رَأَيْتُ بَيَاضَ كَفِّ عَائِشَةَ فِي الْجَنَّةِ
ام المؤمنین سید عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میرے لیےیہ بات اطمینان بخش ہے کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کی ہتھیلی کی چمک جنت میں دیکھی۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11420]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة مصعب بن اسحاق، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25076 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25590»
وضاحت: فوائد: … اس روایت کو شیخ البانی نے درج ذیل الفاظ کے ساتھ صحیحہ میں ذکر کیا ہے: اس میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی عظیم منقبت بیان کی گئی ہے کہ وہ جنت میں نہ صرف آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیوی ہوں گی، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس چیز پر اتنے خوش ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو موت کے سکرات اور سختیاں ہلکی محسوس ہو رہی ہیں۔
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 11421
عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أُمِّ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُهْدِيَتْ لَهُ هَدِيَّةٌ فِيهَا قِلَادَةٌ مِنْ جَزْعٍ فَقَالَ ”لَأَدْفَعَنَّهَا إِلَى أَحَبِّ أَهْلِي إِلَيَّ“ فَقَالَتِ النِّسَاءُ ذَهَبَتْ بِهَا ابْنَةُ أَبِي قُحَافَةَ فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُمَامَةَ بِنْتَ زَيْنَبَ فَعَلَّقَهَا فِي عُنُقِهَا
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک ہدیہ پیش کیا گیا، اس میں یمنی موتیوں کا ایک ہار بھی تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں یہ ہار اپنے اہل میں سے اس کو دوں گا، جو مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے۔ عورتوں نے سمجھا کہ اس ہار کو ابو قحافہ کی بیٹی یعنی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا لے جائیں گی، مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی نواسی سیدہ امامہ بنت زینب رضی اللہ عنہا کو بلوا کر وہ ہار ان کی گردن میں ڈال دیا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11421]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان، وجھالة ام محمد، اخرجه ابويعلي: 4471، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24704 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25211»
وضاحت: فوائد: … اس روایت کا درج ذیل سیاق صحیح ہے:
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: قَدِمَتْ عَلَی النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حِلْیَۃٌ مِنْ عِنْدِ النَّجَاشِیِّ أَہْدَاہَا لَہُ فِیہَا خَاتَمٌ مِنْ ذَہَبٍ فِیہِ فَصٌّ حَبَشِیٌّ، فَأَخَذَہُ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بِعُودٍ بِبَعْضِ أَصَابِعِہِ مُعْرِضًا عَنْہُ ثُمَّ دَعَا أُمَامَۃَ بِنْتَ أَبِی الْعَاصِ ابْنَۃَ ابْنَتِہِ فَقَالَ: ((تَحَلَّیْ بِہٰذَا یَا بُنَیَّۃُ۔)) … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس نجاشی کی جانب سے تحفہ میں زیورات آئے، جن میں ایک سونے کی انگوٹھی تھی، اس کا نگینہ حبشی تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بعض انگلیوں کی مدد سے ایک لکڑی کے ذریعے اس سے اعراض کرتے ہوئے اس کو پکڑا اور پھر اپنی نواسی سیدہ امامہ رضی اللہ عنہا کو بلایا اور کہا: پیاری بیٹی! اسے بطور زیور پہن لو۔ (ابوداود: ۴۲۳۵، مسند احمد۲۴۸۸۰)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: قَدِمَتْ عَلَی النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حِلْیَۃٌ مِنْ عِنْدِ النَّجَاشِیِّ أَہْدَاہَا لَہُ فِیہَا خَاتَمٌ مِنْ ذَہَبٍ فِیہِ فَصٌّ حَبَشِیٌّ، فَأَخَذَہُ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بِعُودٍ بِبَعْضِ أَصَابِعِہِ مُعْرِضًا عَنْہُ ثُمَّ دَعَا أُمَامَۃَ بِنْتَ أَبِی الْعَاصِ ابْنَۃَ ابْنَتِہِ فَقَالَ: ((تَحَلَّیْ بِہٰذَا یَا بُنَیَّۃُ۔)) … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس نجاشی کی جانب سے تحفہ میں زیورات آئے، جن میں ایک سونے کی انگوٹھی تھی، اس کا نگینہ حبشی تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بعض انگلیوں کی مدد سے ایک لکڑی کے ذریعے اس سے اعراض کرتے ہوئے اس کو پکڑا اور پھر اپنی نواسی سیدہ امامہ رضی اللہ عنہا کو بلایا اور کہا: پیاری بیٹی! اسے بطور زیور پہن لو۔ (ابوداود: ۴۲۳۵، مسند احمد۲۴۸۸۰)
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 11422
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ بَيْنَ نِسَائِهِ فَيَعْدِلُ وَيَقُولُ ”هَذِهِ قِسْمَتِي“ ثُمَّ يَقُولُ ”اللَّهُمَّ هَذَا فِعْلِي فِيمَا أَمْلِكُ فَلَا تَلُمْنِي فِيمَا تَمْلِكُ وَلَا أَمْلِكُ“
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی بیویوں کے درمیان عادلانہ تقسیم کرتے اور پھر فرماتے: یہ میری تقسیم ہے، اے اللہ! یہ میری تقسیم ہے اور یہ میرے بس میں ہے، لہذا مجھے اس تقسیم میں ملامت نہ کرنا، جس کا تو مالک ہے اور میں مالک نہیں ہوں۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11422]
تخریج الحدیث: «ضعيف، لكن قوله كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صلي الله عليه وآله وسلم يَقْسِمُ بَيْنَ نِسَائِةِ فَيَعْدِلُ صحيح لغيره، أخرجه ابوداود: 2143، والترمذي: 1140،و ابن ماجه: 1971، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25111 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25624»
وضاحت: فوائد: … کسی ایک بیوی کی طرف دلی میلان تو زیادہ ہو سکتا ہے، لیکن بظاہر ہر ایک کے ساتھ برابری کرنی چاہیے۔
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 11423
عَنْ سُمَيَّةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ عَلَى صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فِي شَيْءٍ فَقَالَتْ صَفِيَّةُ يَا عَائِشَةُ أَرْضِي عَنِّي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَكِ يَوْمِي فَقَالَتْ نَعَمْ فَأَخَذَتْ خِمَارًا لَهَا مَصْبُوغًا بِزَعْفَرَانٍ فَرَشَّتْهُ بِالْمَاءِ لِيَفُوحَ رِيحُهُ فَقَعَدَتْ إِلَى جَنْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِلَيْكِ يَا عَائِشَةُ إِنَّهُ لَيْسَ يَوْمَكِ“ قَالَتْ {ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ} [سورة الجمعة: 4] وَأَخْبَرَتْهُ بِالْأَمْرِ فَرَضِيَ عَنْهَا
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا سے نا راض ہوگئے، انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آ کر ان سے کہا کہ آپ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مجھ سے راضی کرا دیں تو میں اپنی ایک باری آپ کو دوں گی۔ انہوں نے کہا: ٹھیک ہے، پس انہوں نے زعفران سے رنگا ہوا اپنا دوپٹہ لیا اور اس پر پانی چھڑکا، تاکہ اس کی خوشبو مہک اٹھے، اور پھر جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو میں بیٹھ گئیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! پرے ہٹ جاؤ، آج تمہاری باری نہیں ہے۔ لیکن سیدہ نے جواباً یہ آیت پڑھی: {ذَلِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُؤْتِیہِ مَنْیَشَائُ} … یہ تو اللہ کا فضل ہے، وہ جسے چاہے عطا کر دیتا ہے۔ پھر انہوں نے ساری بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلائی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سے راضی ہوگئے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11423]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة سمية بصرية، اخرجه ابن ماجه: 1973، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24640 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25147»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 11424
عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كُلُّ نِسَائِكَ لَهَا كُنْيَةٌ غَيْرِي فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”اكْتَنِي أَنْتِ أُمَّ عَبْدِ اللَّهِ“ فَكَانَ يُقَالُ لَهَا أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ حَتَّى مَاتَتْ وَلَمْ تَلِدْ قَطُّ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے سوا آپ کی تمام ازواج نے کنیت رکھی ہوئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم ام عبداللہ کنیت رکھ لو۔ پس ان کو ام عبد اللہ کہا جاتا رہا، یہاں تک کہ کوئی بچہ جنم دیئے بغیر سیدہ وفات پا گئیں۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11424]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، اخرجه الطبراني في الكبير: 23/35، عبد الرزاق: 19858، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25181 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25696»
وضاحت: فوائد: … سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی بہن سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کے بیٹے کا نام عبد اللہ تھا، سیدہ عائشہ کی کنیت ام عبد اللہ اسی ان کے بھانجے کی وجہ سے رکھی گئی تھی۔
الحكم على الحديث: صحیح
4. بَابُ مَا جَاءَ فِي غَيْرَةِ ضَرَائِرِهَا مِنْ مَحْبَةِ رَسُولِ اللَّهِ إِيَّاهَا وَإِنْتِصَارِهَا عَلَيْهِنَّ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے محبت پر دیگر ازواج کی غیرت نیز سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے دیگر ازواج پر غلبہ کا بیان
حدیث نمبر: 11425
سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أُمِّ مُحَمَّدٍ امْرَأَةِ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَتْ عِنْدَنَا أُمُّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ جُنْحِ اللَّيْلِ قَالَتْ فَذَكَرْتُ شَيْئًا صَنَعَهُ بِيَدِهِ قَالَتْ وَجَعَلَ لَا يَفْطَنُ لِأُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ وَجَعَلْتُ أُومِئُ إِلَيْهِ حَتَّى فَطِنَ قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةُ أَهَكَذَا الْآنَ أَمَا كَانَتْ وَاحِدَةٌ مِنَّا عِنْدَكَ إِلَّا فِي خِلَابَةٍ كَمَا أَرَى وَسَبَّتْ عَائِشَةَ وَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَنْهَاهَا فَتَأْبَى فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”سُبِّيهَا“ فَسَبَّتْهَا حَتَّى غَلَبَتْهَا فَانْطَلَقَتْ أُمُّ سَلَمَةَ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَفَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَالَتْ إِنَّ عَائِشَةَ سَبَّتْهَا وَقَالَتْ لَكُمْ وَقَالَتْ لَكُمْ فَقَالَ عَلِيٌّ لِفَاطِمَةَ اذْهَبِي إِلَيْهِ فَقُولِي إِنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ لَنَا وَقَالَتْ لَنَا فَأَتَتْهُ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّهَا حِبَّةُ أَبِيكِ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ“ فَرَجَعَتْ إِلَى عَلِيٍّ فَذَكَرَتْ لَهُ الَّذِي قَالَ لَهَا فَقَالَ أَمَا كَفَاكِ إِلَّا أَنْ قَالَتْ لَنَا عَائِشَةُ وَقَالَتْ لَنَا حَتَّى أَتَتْكَ فَاطِمَةُ فَقُلْتَ لَهَا ”إِنَّهَا حِبَّةُ أَبِيكِ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ“
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا ہمارے ہاں تشریف فرما تھیں، رات کے کسی حصے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک کام کا ذکر کیا، جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے کیا (جیسے میاں بیوی آپس میں کرتے ہیں)۔آپ کو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی موجود گی کا علم نہ تھا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں:میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اشارے سے سمجھانے لگی یہاں تک کہ آپ کو بات سمجھ آگئی۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کیا اب یہ کچھ ہونے لگا ہے؟ کیا ہم میں سے کوئی زوجہ آپ کی نظروں میں دھوکے میں ہے، جیسا کہ میں دیکھ رہی ہوں اور انہوں نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو بھی برا بھلا کہا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو روکتے رہے، مگر وہ نہ رکیں۔ بالآخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: اب تم بولو۔ جب وہ بولیں تو ان پر غالب آگئیں، پھر ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گئیں اور ان سے کہا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے برا بھلا کہا ہے اور انہوں نے آپ لوگوں کے متعلق بھی اس قسم کی باتیں کی ہیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سید فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جا کر کہو کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ہمارے متعلق اس قسم کی باتیں کی ہیں۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں جا کر سای بات بتلائی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: رب کعبہ کی قسم! وہ تمہارے باپ کی محبوبہ ہے۔ یہ سن کر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس واپس گئیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات کا ان سے ذکر کیا۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شکوہ کے طور پر کہا کیا آپ کی طرف سے اتنا ہی کافی نہیں کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ہمارے متعلق اس قسم کی باتیں کیں اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے آپ سے ان کا ذکر بھی کیا (اور آپ نے پھر ان باتوں کا کوئی نوٹس نہیں لیا)، صرف اتنا کہا کہ رب کعبہ کی قسم! وہ تو تمہارے باپ کی محبوبہ ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11425]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف علي نكارة في متنه، علي بن زيد بن جدعان ضعيف، وام محمد امرأة والد علي بن زيد مجھولة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24986 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25500»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 11426
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَزْهَرُ قَالَ أَنَا ابْنُ عَوْنٍ قَالَ أَنْبَأَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أُمِّ مُحَمَّدٍ امْرَأَةِ أَبِيهِ قَالَتْ وَكَانَتْ تَغْشَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَتْ عِنْدَنَا زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَذَكَرَتْ نَحْوَ حَدِيثِ سُلَيْمِ بْنِ أَخْضَرِ إِلَّا أَنَّ سُلَيْمًا قَالَ أُمُّ سَلَمَةَ
۔(دوسری سند)ام محمد سے مروی ہے، جبکہ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا جایا کرتی تھیں، انھوں نے کہا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتلایا کہ سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا ہمارے ہاں تشریف فرما تھیں۔ اس سے آگے انہوں نے اسی طرح حدیث بیان کی جیسے سلیم بن اخضر نے بیان کی ہے۔ صرف اتنا فرق ہے کہ سلیم کی روایت میں سیدہ زینب بنت جحش کی بجائے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا ذکر ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11426]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25501»
الحكم على الحديث: ضعیف