Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. بَابُ مَا جَاءَ فِي شِدَّةِ ذَكَائِهَا وَفَهْمِهَا وَعِلْمِهَا بِالشَّعْرِ وَالتَّارِيخ وَالطَّبُ وَالْفِقْهِ الَّذِي عَمَّ جَمِيعَ الآفاق
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی ذہانت و فہم کی شدت و کثرت اور اشعار، تاریخ، طب اور شہرۂ آفاق فقہ سے واقفیت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11437
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ قَالَ كَانَ عُرْوَةُ يَقُولُ لِعَائِشَةَ يَا أُمَّتَاهُ لَا أَعْجَبُ مِنْ فَهْمِكِ أَقُولُ زَوْجَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَبِنْتُ أَبِي بَكْرٍ وَلَا أَعْجَبُ مِنْ عِلْمِكِ بِالشِّعْرِ وَأَيَّامِ النَّاسِ أَقُولُ ابْنَةُ أَبِي بَكْرٍ وَكَانَ أَعْلَمَ النَّاسِ أَوْ مِنْ أَعْلَمِ النَّاسِ وَلَكِنْ أَعْجَبُ مِنْ عِلْمِكِ بِالطِّبِّ كَيْفَ هُوَ وَمِنْ أَيْنَ هُوَ قَالَ فَضَرَبَتْ عَلَى مَنْكِبِهِ وَقَالَتْ أَيْ عُرَيَّةُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْقَمُ عِنْدَ آخِرِ عُمْرِهِ أَوْ فِي آخِرِ عُمْرِهِ فَكَانَتْ تَقْدَمُ عَلَيْهِ وُفُودُ الْعَرَبِ مِنْ كُلِّ وَجْهٍ فَتَنْعَتُ لَهُ الْأَنْعَاتَ وَكُنْتُ أُعَالِجُهَا لَهُ فَمِنْ ثَمَّ
عروہ سے مروی ہے کہ وہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے کہا کرتے تھے: اماں جان! میں آپ کی ذہانت اور سمجھ داری پر تعجب نہیں کرتا، کیونکہ میں کہہ سکتا ہوں کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ اور ابو بکر رضی اللہ عنہ کی دختر ہیں۔ (اس لیے سمجھ دار ہونا تعجب انگیز نہیں)، مجھے آپ کے علم اشعار اور تاریخی معلومات پر بھی تعجب نہیں، میں کہہ سکتا ہوں کہ آپ ابو بکر رضی اللہ عنہ کی دختر ہیں، جو کہ اشعار اور تاریخ کے متعلق سب سے زیادہ علم رکھتے تھے۔ مجھے تو آپ کی طبی معلومات پر تعجب ہے کہ یہ آپ کو کیسے حاصل ہوئیں؟ تو انہوں نے میری بات سن کر میرے کاندھے پر اپنا ہاتھ مار کر کہا: اے عُرَیَّۃُ! آخری عمر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیمار رہتے تھے تو آپ کی خدمت میں اطراف و اکناف سے عرب و فود آیا کرتے تھے اوروہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے مختلف دوائیں اور نسخے بیان کرتے اور میں آپ کا علاج معالجہ کیا کرتی تھی۔ مجھے یہ معلومات اس طرح حاصل ہوئیں۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11437]
تخریج الحدیث: «خبر صحيح، اخرجه الطبراني في الكبير: 3/ 295،والبزار: 2662، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24380 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24884»
وضاحت: فوائد: … عروہ کی تصغیر عُرَیَّۃُ، پیار کی وجہ سے ایسے کہا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11438
عَنْ يَزِيدَ بْنِ مُرَّةَ عَنْ لَمِيسَ أَنَّهَا قَالَتْ سَأَلْتُ عَائِشَةَ قَالَتْ قُلْتُ لَهَا الْمَرْأَةُ تَصْنَعُ الدُّهْنَ تَتَحَبَّبُ إِلَى زَوْجِهَا فَقَالَتْ أَمِيطِي عَنْكِ تِلْكَ الَّتِي لَا يَنْظُرُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهَا قَالَتْ وَقَالَتْ امْرَأَةٌ لِعَائِشَةَ يَا أُمَّهْ فَقَالَتْ عَائِشَةُ إِنِّي لَسْتُ بِأُمِّكُنَّ وَلَكِنِّي أُخْتُكُنَّ قَالَتْ عَائِشَةُ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْلِطُ الْعِشْرِينَ بِصَلَاةٍ وَنَوْمٍ فَإِذَا كَانَ الْعَشْرُ شَمَّرَ وَشَدَّ الْمِئْزَرَ وَشَمَّرَ
لمیس سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں:میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ ایک عورت خاوند کے ہاں محبت حاصل کرنے کے لئے تیل لگاتی ہے کہ چہرہ زیادہ صاف ہوجائے تو کیایہ لگا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا: اسے خود سے دور رکھو، اللہ تعالیٰ اس خاتون کی طرف نہیں دیکھتے، جو یہ لگاتی ہے۔ ایک اور عورت نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: اے اماں! سیدہ نے کہا: میں تمہاری ماں نہیں ہوں، تمہاری بہن ہوں، پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (رمضان کے پہلے) بیس دنوں میں نماز بھی ادا کرتے اور سوتے بھی تھے، لیکن جب آخری عشرہ شروع ہوتا تو تہبند مضبوط کرلیتے اور عبادت کے لیے کمر بستہ ہوجاتے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11438]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف جابر بن يزيد الجعفي ويزيدَ بنِ مرة، ولجھالة لميس، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25136 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25649»
وضاحت: فوائد: … وقار، احترام، اکرام اور نکاح کے حرام ہونے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویاں ماؤں کی طرح ہیں، چونکہ نکاح کا حکم تو مردوں کے لیے ہے، اس لیے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے آپ کو خواتین کی بہن ظاہر کر رہی ہیں،یہ روایت ضعیف ہے، بہرحال امہات المؤمنین کا یہ حکم نسب کی وجہ سے نہیں ہے۔
عورت کا چہرے پر تیل، کریم اور پاؤڈر وغیرہ لگانا درست ہے، جس سے زینت میں اضافہ ہو، ہاں اگر ان میں کوئی ایسے کیمیکل ہوں، جن سے چہرے کے بال بھی صاف ہو جائیں تو وہ ناجائز ہو گا، باقی اس قسم کے مسائل پہلے گزر چکے ہیں۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا انتہائی ذہین، سمجھ دار، اشعار اور علم تاریخ کی عالمہ ہونے کے ساتھ ساتھ علم طب کی معلومات سے بھی بہر ہ ور تھیں، جب مختلف وفود آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے مختلف دوائوں اور نسخوں کا ذکر کرتے، تو آپ کے علاج معالجہ کی خدمات سیدہ رضی اللہ عنہا ادا کیا کرتی تھیں۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. بَابُ مَا جَاءَ فِي رُؤْيَتِهَا لِجِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَسَلامُهُ عَلَيْهَا وَمَا وَرَدَ فِي فَضْلِهَا
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے جبریل علیہ السلام کو دیکھنے، اُن کا اِن کوسلام کہنے اور ان کے دیگر فضائل کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11439
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَاضِعًا يَدَيْهِ عَلَى مَعْرَفَةِ فَرَسٍ وَهُوَ يُكَلِّمُ رَجُلًا قُلْتُ رَأَيْتُكَ وَاضِعًا يَدَيْكَ عَلَى مَعْرَفَةِ فَرَسِ دِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ وَأَنْتَ تُكَلِّمُهُ قَالَ ”وَرَأَيْتِ“ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ ”ذَاكَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَهُوَ يُقْرِئُكِ السَّلَامَ“ قَالَتْ وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ جَزَاهُ اللَّهُ خَيْرًا مِنْ صَاحِبٍ وَدَخِيلٍ فَنِعْمَ الصَّاحِبُ وَنِعْمَ الدَّخِيلُ قَالَ سُفْيَانُ الدَّخِيلُ الضَّيْفُ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک گھوڑے کی گردن پر ہاتھ رکھے ہوئے ایک آدمی سے باتیں کرتے دیکھا،میں نے عرض کیا کہ میں نے آپ کو دحیہ کلبی کے گھوڑے کی گردن پر ہاتھ رکھے ہوئے ان سے باتیں کرتے دیکھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے دیکھا ہے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو وہ جبریل علیہ السلام تھے اور وہ تمہیں سلام کہہ رہے تھے۔ میں نے جواباً کہا:وَعَلَیْہِ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہُ،اللہ تعالیٰ اس ساتھی اور مہمان کو جزائے خیر دے، وہ بہترین ساتھی او ربہترین مہمان ہے۔ امام احمد کے شیخ امام سفیان بن عینیہ نے الدخیل کا معنی مہمان بیان کیا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11439]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف مجالد الھمداني، أخرجه الطبراني في الكبير: 23/ 95، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24462 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24966»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11440
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَا عَائِشَةُ هَذَا جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَهُوَ يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلَامَ“ فَقُلْتُ عَلَيْكَ وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ تَرَى مَا لَا نَرَى يَا رَسُولَ اللَّهِ
۔(دوسری سند) ام المؤمنین سیدۂ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! یہ جبریل علیہ السلام ہیں اور وہ تمہیں سلام کہہ رہے ہیں۔ میں نے کہا:عَلَیْکَ وَعَلَیْہِ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہُ،اے اللہ کے رسول! آپ وہ دیکھتے ہیں جو ہم نہیں دیکھ سکتے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11440]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 3768، ومسلم: 2447، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24857 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25369»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11441
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ فَضْلَ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ“
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ کی باقی تمام عورتوں پر فضیلت ایسے ہے، جیسے سارے کھانوں پر ثریدکی فضیلت ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11441]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2446، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13785 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13821»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11442
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ“
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ کو باقی تمام عورتوں پر اسی طرح فضیلت حاصل ہے، جیسے ثرید کو باقی سارے کھانوں پر۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11442]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه النسائي: 7/ 68، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25260 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25774»
وضاحت: فوائد: … ثرید ایک قسم کا زود ہضم اور بابرکت کھانا ہوتا ہے جسے دوسرے کھانوں پر ترجیح دی جاتی ہے۔ یہی معاملہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا ہے کہ وہ مسلم خواتین میں اعلی مقام رکھتی ہیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11443
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”كَمُلَ مِنَ الرِّجَالِ كَثِيرٌ وَلَمْ يَكْمُلْ مِنَ النِّسَاءِ غَيْرُ مَرْيَمَ بِنْتِ عِمْرَانَ وَآسِيَةَ امْرَأَةِ فِرْعَوْنَ وَإِنَّ فَضْلَ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ“
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مردوں میں سے بہت سے لوگوں کو درجۂ کمال حاصل ہوا ہے، البتہ عورتوں میں سے صرف مریم بنت عمران اور آسیہ زوجۂ فرعون ہی درجۂ کمال تک پہنچی ہیں اور عائشہ رضی اللہ عنہا کو باقی تمام عورتوںپر اسی طرح فضیلت ہے جیسے ثریدکو باقی سارے کھانوں پر۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11443]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5418، ومسلم: 2431، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19668 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19904»
وضاحت: فوائد: … مردوں میں بڑے بڑے باکمال اور کثیر تعداد میں افراد گزرے ہیں، جیسے انبیاء و رسل، صالحین، شہید، پرہیزگار، مجاہدین اور ذاکرین وغیرہ، لیکن خواتین میںایسا کمال کم عورتوںکے نصیبے میں آیا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. بَاب مَا جَاءَ فِي مَرَضِ مَوْتِهَا وَتَزْكِيَة ابْنِ عَبَّاسٍ إِيَّاهَا
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے مرض الموت کا اور ابن عباس رضی اللہ عنہ کی طرف سے ان کی تعریف و توصیف کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11444
عَنْ ذَكْوَانَ مَوْلَى عَائِشَةَ أَنَّهُ اسْتَأْذَنَ لِابْنِ عَبَّاسٍ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَهِيَ تَمُوتُ وَعِنْدَهَا ابْنُ أَخِيهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَقَالَ هَذَا ابْنُ عَبَّاسٍ يَسْتَأْذِنُ عَلَيْكِ وَهُوَ مِنْ خَيْرِ بَنِيكِ فَقَالَتْ دَعْنِي مِنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَمِنْ تَزْكِيَتِهِ وَفِي لَفْظٍ إِنِّي أَخَافُ أَنْ يُزَكِّيَنِي فَقَالَ لَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّهُ قَارِئٌ لِكِتَابِ اللَّهِ فَقِيهٌ فِي دِينِ اللَّهِ فَأْذَنِي لَهُ فَلْيُسَلِّمْ عَلَيْكِ وَلْيُوَدِّعْكِ قَالَتْ فَأْذَنْ لَهُ إِنْ شِئْتَ قَالَ فَأَذِنَ لَهُ فَدَخَلَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ثُمَّ سَلَّمَ وَجَلَسَ وَقَالَ أَبْشِرِي يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ فَوَاللَّهِ مَا بَيْنَكِ وَبَيْنَ أَنْ يَذْهَبَ عَنْكِ كُلُّ أَذًى وَنَصَبٍ أَوْ قَالَ وَصَبٍ وَتَلْقَيْ الْأَحِبَّةَ مُحَمَّدًا وَحِزْبَهُ أَوْ قَالَ أَصْحَابَهُ إِلَّا أَنْ تُفَارِقَ رُوحُكِ جَسَدَكِ فَقَالَتْ وَأَيْضًا فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ كُنْتِ أَحَبَّ أَزْوَاجِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ وَلَمْ يَكُنْ يُحِبُّ إِلَّا طَيِّبًا وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بَرَاءَتَكِ مِنْ فَوْقِ سَبْعِ سَمَاوَاتٍ فَلَيْسَ فِي الْأَرْضِ مَسْجِدٌ إِلَّا وَهُوَ يُتْلَى فِيهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ وَسَقَطَتْ قِلَادَتُكِ بِالْأَبْوَاءِ فَاحْتَبَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَنْزِلِ وَالنَّاسُ مَعَهُ فِي ابْتِغَائِهَا أَوْ قَالَ فِي طَلَبِهَا حَتَّى أَصْبَحَ الْقَوْمُ عَلَى غَيْرِ مَاءٍ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا} الْآيَةَ فَكَانَ فِي ذَلِكَ رُخْصَةٌ لِلنَّاسِ عَامَّةً فِي سَبَبِكِ فَوَاللَّهِ إِنَّكِ لَمُبَارَكَةٌ فَقَالَتْ دَعْنِي يَا ابْنَ عَبَّاسٍ مِنْ هَذَا فَوَاللَّهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ نَسْيًا مَنْسِيًّا
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے غلام ذکوا ن سے روایت ہے کہ ا م المؤمنین رضی اللہ عنہا فوت ہونے کے قریب تھیں، ان کے پاس ان کا برادر زادہ عبداللہ بن عبدالرحمن بیٹھا ہوا تھا کہ ذکوان نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے اندر آنے کی اجازت طلب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے بہترین بیٹے ابن عباس آنے کی اجازت چاہتے ہیں۔ ام المؤمنین رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے ابن عباس اور ان کی تعریف و توصیف سے محفوظ ہیرکھو۔دوسری روایت کے لفظ یوں ہیں: مجھے اندیشہ ہے کہ وہ آکر میری مدح و توصیف کرنے لگیں گے۔ لیکن عبداللہ بن عبدالرحمن نے ان سے کہا: وہ اللہ کی کتاب کے قاری ہیں، اللہ کے دین کے بہت بڑے فقیہیعنی عالم ہیں، آپ انہیں اندر آنے کی اجازت دے دیں تاکہ وہ آپ کو سلام کہہ لیں اور آپ کو دنیا سے جاتے ہوئے الوداع کر لیں۔ سو ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے کہا: اگر تم چاہتے ہو تو اجازت دے دو۔عبداللہ نے ان کو آنے کی اجازت دے دی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے آکر سلام کہا اور بیٹھ گئے اور پھر کہا: ام المؤمنین! آپ کو مبارک ہو، اللہ کی قسم! اب آپ کے اور ہر قسم کی تکلیف و مصیبت کے درمیان اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کی جماعت کے ساتھ ملاقات کے درمیان صرف آپ کی روح آپ کے جسد سے نکلنے کی دیر ہے۔ سیدہ نے کہا: جی ہاں ٹھیک ہے ا ور کیا؟ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی تمام ازواج میں سے سب سے زیادہ محبت آپ سے تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اچھی چیز کو ہی پسند کیا کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ نے سات آسمانوں کے اوپر سے آپ کی برأت کا حکم نازل کیا۔ دوسری روایت میں یہ اضافہ ہے کہ اس حکم کو جبریل علیہ السلام لے کر آئے تھے۔ روئے زمین کی ہر مسجد میں دن رات ان آیات برأت کی تلاوت کی جاتی ہے اور ابواء کے مقام پر آپ کا ہار گر گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابۂ کرام اس کی تلاش میں وہاں رکے رہے، یہاں تک کہ صبح ہوگئی اور لوگوں کے پاس وضوء کے لیے پانی موجود نہ تھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے: {فَتَیَمَّمُوا صَعِیدًا طَیِّبًا … } (سورۂ مائدہ: ۶) کا حکم نازل کر دیا کہ اگر تمہیں پانی دستیاب نہ ہو تو پاک مٹی سے تیمم کر لیا کرو، یہ آپ کے اس واقعہ کی وجہ سے سب لوگوں کو رخصت مل گئی۔ اللہ کی قسم، آپ انتہائی بابرکت ہیں۔ یہ باتیں سن کر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ابن عباس! چھوڑو ان باتوں کو، میں تو یہ پسند کرتی ہوں کہ میں بالکل بھولی بسری ہو جاؤں۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11444]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3771، 4753، 4754، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3262 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3262»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11445
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ لَيْثٍ عَنْ رَجُلٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ لَهَا إِنَّمَا سُمِّيتِ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ لِتَسْعَدِي وَإِنَّهُ لِاسْمُكِ قَبْلَ أَنْ تُولَدِي
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: محض آپ کی فضیلت کے اظہار کے لیے آپ کو ام المؤمنین کہا گیا ہے، ورنہ آپ کی ولادت سے قبل ہی (اللہ تعالیٰ کے ہاں) آپ کے لیےیہ اعزاز مقدر تھا۔ عروہ بن زبیر کا بیان ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا انتقال رات کو ہوا تھا اور سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے رات کو ہی ان کی تدفین کر دی تھی۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11445]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ليث بن ابي سليم ضعيف وشيخه مجھول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1906 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1906»
وضاحت: فوائد: … عبد اللہ بن زبیر، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھانجے تھے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی ولادت نبوت کے چوتھے سال کوہوئی اور وفات (۱۸) رمضان (۵۷یا۵۸) سن ہجری کو ہوئی، بوقت وفات آپ کی عمر ۶۶ برس تھی، آپ کی نماز جنازہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے پڑھائی۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. بَابُ الرَّابِعَةِ مِنْ أَزْوَاجِهِ ﷺ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ حَفْصَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَاْ بِنْتِ عُمر رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چوتھی زوجہ محترمہ ام المؤمنین سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11446
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ مَاتَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَدَفَنَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ لَيْلًا
عروہ بن زبیر کا بیان ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا انتقال رات کو ہوا تھا اور سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے رات کو ہی ان کی تدفین کر دی تھی۔ [الفتح الربانی/حدیث: 11446]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 941، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25005 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25519»
وضاحت: فوائد: … عبد اللہ بن زبیر، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھانجے تھے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی ولادت نبوت کے چوتھے سال کوہوئی اور وفات (۱۸) رمضان (۵۷یا۵۸) سن ہجری کو ہوئی، بوقت وفات آپ کی عمر ۶۶ برس تھی، آپ کی نماز جنازہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے پڑھائی۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں