الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. ذِكْرُ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ مَا جَاءَ فِي أَهْلِهِمَا
جنت اور جہنم کا تذکرہ¤جنت اور جہنم والوں کا بیان
حدیث نمبر: 13185
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ ”أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ وَأَهْلِ الْجَنَّةِ أَمَّا أَهْلُ الْجَنَّةِ فَكُلُّ ضَعِيفٍ مُتَضَعَّفٍ أَشْعَثَ ذِي طِمْرَيْنِ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ وَأَمَّا أَهْلُ النَّارِ فَكُلُّ جَعْظَرِيٍّ جَوَّاظٍ جَمَّاعٍ مَنَّاعٍ ذِي تَبَعٍ“
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں بتلانہ دوں کہ جہنم والے کو ن ہیں اور جنت والے کون ہیں؟ ہر وہ آدمی جو دنیوی طور پر کمزور ہو، جسے لوگ کمزور سمجھتے ہوں، پراگندہ اور غبار آلودہ ہو اور دو بوسیدہ سی چادریں پہن رکھی ہوں،یہ لوگ جنتی ہیں، ان کا اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ مقام ہے کہ اگر ان میں سے کوئی اللہ تعالیٰ پر قسم اٹھادے تو وہ ان کی قسم کو ضرور پورا کر دیتا ہے اور سخت مزاج، بد اخلاق، متکبر، مال و دولت جمع کرنے والا و بخیل اور موٹا تازہ آدمی (جو از راہِ تکبر) لوگوں سے آگے آگے چلنا پسند کرتا ہو، وہ جہنمی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13185]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابويعلي: 3987، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12476 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12504»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 13186
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”أَهْلُ النَّارِ كُلُّ جَعْظَرِيٍّ جَوَّاظٍ مُسْتَكْبِرٍ جَمَّاعٍ مَنَّاعٍ وَأَهْلُ الْجَنَّةِ الضُّعَفَاءُ الْمَغْلُوبُونَ“
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر وہ آدمی جو بد مزاج،متکبر، مال و دولت جمع کرنے والا اور بخیل ہو، وہ جہنمی ہے۔اور جو لوگ دنیوی لحاظ سے کمزور اور مغلوب سمجھے جاتے ہوں، وہ جنتی ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13186]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7010 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7010»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 13187
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ هُمُ الضُّعَفَاءُ الْمَظْلُومُونَ أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ كُلُّ شَدِيدٍ جَعْظَرِيٍّ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں بتلا نہ دوں کہ کون لوگ جنتی ہیں؟ جو دنیوی لحاظ سے کمزور اور مظلوم ہوں۔ اورکیامیں تمہیں یہ بھی بتلا نہ دوں کہ جہنمی لوگ کون ہیں؟ ہر وہ آدمی جو سخت مزاج اور بد مزاج ہو، وہ جہنمی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13187]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، ٔخرجه بنحوه ابويعلي: 6127، والطبراني في الاوسط: 4275، والبيھقي في الشعب: 8176، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8821 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8807»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 13188
وَعَنْ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشَمٍ الْمُدْلِجِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ ”يَا سُرَاقَةُ أَلَا أُخْبِرُكَ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَهْلِ النَّارِ“ قَالَ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”أَمَّا أَهْلُ النَّارِ فَكُلُّ جَعْظَرِيٍّ جَوَّاظٍ مُسْتَكْبِرٍ وَأَمَّا أَهْلُ الْجَنَّةِ الضُّعَفَاءُ الْمَغْلُوبُونَ“
سیدنا سراقہ بن مالک بن جعشم مدلجی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: سراقہ! کیا میں تم کو بتلا نہ دوں کہ کون لوگ جتنی ہیں اور کون لوگ جہنمی ہیں؟ انھوں نے کہا: جی ضرور، اے اللہ کے رسول!آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر بد اخلاق، بد مزاج اور متکبر آدمی جہنمی ہے اور جو لوگ دنیوی لحاظ سے کمزور اور مغلوب ہوں، وہ جنتی ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13188]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الحاكم: 1/ 60، والطبران في الكبير: 6589، وفي الاوسط: 3181، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17585 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17728»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 13189
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنِّي لَأَعْلَمُ أَوَّلَ ثَلَاثَةٍ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ الشَّهِيدُ وَعَبْدٌ أَدَّى حَقَّ اللَّهِ وَحَقَّ مَوَالِيهِ وَفَقِيرٌ عَفِيفٌ مُتَعَفِّفٌ وَإِنِّي لَأَعْلَمُ أَوَّلَ ثَلَاثٍ يَدْخُلُونَ النَّارَ سُلْطَانٌ مُتَسَلِّطٌ وَذُو ثَرْوَةٍ مِنْ مَالٍ لَا يُؤَدِّي حَقَّهُ وَفَقِيرٌ فَخُورٌ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت میں سب سے پہلے جانے والے تین قسم کے لوگوں کو میں جانتا ہوں: شہید، وہ غلام جو اللہ کے حقوق اور اپنے مالکوں کے حقوق صحیح طو رپر ادا کرتا ہو اور وہ پاکدامن فقیر جو دست ِ سوال دراز کرنے سے بچتا ہے، اور میں جہنم میں سب سے پہلے جانے والے تین قسم کے لوگوں کو (بھی) جانتا ہوں: وہ بادشاہ جو زبردستی لوگوں پر حکمرانی کرے، مال دار جو مال کے حقوق کو پورا نہ کرے اور غریب آدمی جو متکبر ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13189]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عامر العقيلي بن عقبة، قال الذھبي: لا يعرف، وكذا ابوه لا يعرف، أخرجه الترمذي: 1642، واقتصر علي اول ثلاثة يدخلون الجنة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10205 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10208»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 13190
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَمَّا أَهْلُ النَّارِ الَّذِينَ هُمْ أَهْلُهَا لَا يَمُوتُونَ وَلَا يَحْيَوْنَ وَأَمَّا أُنَاسٌ يُرِيدُ اللَّهُ بِهِمُ الرَّحْمَةَ فَيُمِيتُهُمْ فِي النَّارِ فَيَدْخُلُ عَلَيْهِمُ الشُّفَعَاءُ فَيَأْخُذُ الرَّجُلُ أَنْصَارَهُ فَيَبُثُّهُمْ أَوْ قَالَ فَيَنْبُتُونَ عَلَى نَهْرِ الْحَيَاءِ أَوْ قَالَ الْحَيَوَانِ أَوْ قَالَ الْحَيَاةِ أَوْ قَالَ نَهْرِ الْجَنَّةِ فَيَنْبُتُونَ نَبَاتَ الْحَبَّةِ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ“ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَمَا تَرَوْنَ الشَّجَرَةَ تَكُونُ خَضْرَاءَ ثُمَّ تَكُونُ صَفْرَاءَ أَوْ قَالَ تَكُونُ صَفْرَاءَ ثُمَّ تَكُونُ خَضْرَاءَ“ قَالَ فَقَالَ بَعْضُهُمْ كَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ بِالْبَادِيَةِ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ اہل جہنم، جنہوں نے جہنم میں ہی رہنا ہو گا، وہ وہاں نہ مریں گے اور نہ جی سکیں گے، اور اللہ تعالیٰ جن جہنمیوں پر رحم کرنا چاہتا ہو گا، وہ انہیں جہنم میں موت دے دے گا، پھر سفارش کرنے والے ان کے پاس پہنچیں گے اوران کے مدد گار ان کو لے جائیں گے اور ان کو نَہْرُ الْحَیَاءِ یا نَھْرُ الْحَیَوَانِ یا نَھْرُ الْحَیَاۃِ یا نَہْرُ الْجَنَّۃِ میں ڈال دیں گے اور اس میں وہ اس طرح اگیں گے، جیسے جیسے سیلاب کی جھاگ میں دانہ اگتا ہے۔ کیا تم نے دیکھا نہیں درخت سبز ہوتے ہیں پھر زرد ہو جاتے ہیں، یا وہ زرد ہوتے ہیں اور سبز ہو جاتے ہیں۔ یہ سن کر صحابہ نے ایک دوسرے سے کہا: ایسے لگتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو دیہات میں رہتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13190]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 185، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11016 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11029»
وضاحت: فوائد: … ـ(۱) اس فصل میں اہل جنت اور اہل جہنم کی بعض صفات بیان ہوئی ہیں۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد کے مطابق جو لوگ دنیا میں کمزور ہیں، لوگ جنہیں کم زور، حقیر یا گھٹیا سمجھتے ہیں۔ اور جنہوں نے سر پر بالوں کی لٹیں رکھی ہوئی ہیں۔ جو خیال رکھنے کے باوجود بکھر جاتے ہیں۔ در حقیقت یہ لوگ دین دار ہیں۔ اور جنت میں جائیں گے۔ ان کے بالمقابل جو لوگ تند مزاج، بد اخلاق، مال کے حریص اور بخیل ہیں اور متکبرانہ مزاج ہونے کی وجہ سے لوگوں سے آگے آگے چلنا پسند کرتے ہیں ایسے لوگوں کا انجام جہنم ہے۔
(۲) نیز معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جام ِ شہادت نوش کرنے والے، اور وہ غلام جو اللہ تعالیٰ کے اور اپنے آقاؤں کے حقوق کو صحیح طو رپر بجا لانے والے اور وہ غریب جو دوسروں کے سامنے اپنی احتیاج کے اظہار اور دست سوال دراز کرنے سے اجتناب کرنے والے یہ تینوں قسم کے لوگ سب سے پہلے جنت میں جائیں گے۔
(۳) او رلوگوں پر زبردستی حاکم بننے والے اور غریب ہونے کے باوجود متکبرانہ مزاج رکھنے والے لوگ سب سے پہلے جہنم میں جائیں گے۔
(۴) اس فصل سے یہ بھی معلوم ہواکہ اہل جہنم کی حالت نہیں تو زندوں کی سی ہوگی۔اور نہیں مردوں کی سی۔ ان کی زندگی موت سے اور موت زندگی سے بد تر ہوگی۔
(۵) اور اللہ تعالیٰ جن جہنمیوں پر کرم کرنا چاہے گا انہیں موت سے دو چار کر دے گا پھر سفارش کرنے والے لوگ جا کران کوجہنم سے باہر نکال لائیں گے۔
(۶) نیز فصل کی آخری حدیث سے معلوم ہوا کہ لوگوں کو اپنی بات سمجھانے کے لیے مثالوں سے مدد لی جاسکتی ہے۔
(۲) نیز معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جام ِ شہادت نوش کرنے والے، اور وہ غلام جو اللہ تعالیٰ کے اور اپنے آقاؤں کے حقوق کو صحیح طو رپر بجا لانے والے اور وہ غریب جو دوسروں کے سامنے اپنی احتیاج کے اظہار اور دست سوال دراز کرنے سے اجتناب کرنے والے یہ تینوں قسم کے لوگ سب سے پہلے جنت میں جائیں گے۔
(۳) او رلوگوں پر زبردستی حاکم بننے والے اور غریب ہونے کے باوجود متکبرانہ مزاج رکھنے والے لوگ سب سے پہلے جہنم میں جائیں گے۔
(۴) اس فصل سے یہ بھی معلوم ہواکہ اہل جہنم کی حالت نہیں تو زندوں کی سی ہوگی۔اور نہیں مردوں کی سی۔ ان کی زندگی موت سے اور موت زندگی سے بد تر ہوگی۔
(۵) اور اللہ تعالیٰ جن جہنمیوں پر کرم کرنا چاہے گا انہیں موت سے دو چار کر دے گا پھر سفارش کرنے والے لوگ جا کران کوجہنم سے باہر نکال لائیں گے۔
(۶) نیز فصل کی آخری حدیث سے معلوم ہوا کہ لوگوں کو اپنی بات سمجھانے کے لیے مثالوں سے مدد لی جاسکتی ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
2. احْتِجَاجُ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ
جنت اور جہنم کا تکرار
حدیث نمبر: 13191
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”احْتَجَّتِ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ فَقَالَتِ الْجَنَّةُ: يَا رَبِّ مَا لِي لَا يَدْخُلُنِي إِلَّا فُقَرَاءُ النَّاسِ وَسَقَطُهُمْ وَقَالَتِ النَّارُ: مَا لِي لَا يَدْخُلُنِي إِلَّا الْجَبَّارُونَ وَالْمُتَكَبِّرُونَ فَقَالَ لِلنَّارِ: أَنْتِ عَذَابِي أُصِيبُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ وَقَالَ لِلْجَنَّةِ: أَنْتِ رَحْمَتِي أُصِيبُ بِكِ مَنْ أَشَاءُ وَلِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْكُمَا مِلْؤُهَا فَأَمَّا الْجَنَّةُ فَإِنَّ اللَّهَ يُنْشِئُ لَهَا مَا يَشَاءُ وَأَمَّا النَّارُ فَيُلْقَوْنَ فِيهَا وَتَقُولُ: هَلْ مِنْ مَزِيدٍ حَتَّى يَضَعَ قَدَمَهُ فِيهَا فَهُنَالِكَ تَمْتَلِئُ وَيُزْوَى بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ وَتَقُولُ قَطْ قَطْ قَطْ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت اور جہنم کا کچھ تکرار ہوا، جنت نے کہا: اے میرے ربّ! میرا بھی کیا حال ہے کہ میرے اندر صرف فقیر اور مفلس قسم کے لوگ آئیں گے، اور جہنم نے کہا: میرا بھی کیا حال ہے کہ میرے اندر صرف ظالم اور متکبر قسم کے لوگ داخل ہوں گے، اللہ تعالیٰ نے آگ سے فرمایا: تو میرا عذاب ہے، میں جن بندوں کے بارے چاہوں گا، تجھے ان پر مسلط کر د وں گا، اور اس نے جنت سے فرمایا: تو میری رحمت ہے، میں جس کے بارے میں چاہوں گا، تیرے ذریعے اس پر مہربانی کروں گا، میں نے تم میں سے ہر ایک کو بھرنا ہے۔ رہا مسئلہ جنت کا تو اس کے لیے تو اللہ تعالیٰ اپنی مشیت کے مطابق نئی مخلوق بھی پیدا کرے گا، لیکن جہنم کا معاملہ یہ ہو گا کہ لوگوں کو تو جہنم میں ڈال دیا جائے گا، لیکن جہنم ابھی تک یہ کہہ رہی ہو گی کہ کیا کوئی مزید افراد ہیں، بالآخر اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس میں رکھے گا اور اس طرح وہ بھر جائے گی اور اس کا بعض حصہ بعض کی طرف سکڑ جائے گا۔ اور وہ کہہ اٹھے گی کہ بس بس، کافی ہیں، کافی ہیں ـ۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13191]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4849، 7449، ومسلم: 2846، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7718 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7704»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 13192
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”افْتَخَرَتِ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ فَقَالَتِ النَّارُ: يَا رَبِّ يَدْخُلُنِي الْجَبَابِرَةُ وَالْمُتَكَبِّرُونَ وَالْمُلُوكُ وَالْأَشْرَافُ وَقَالَتِ الْجَنَّةُ: أَيْ رَبِّ يَدْخُلُنِي الضُّعَفَاءُ وَالْفُقَرَاءُ وَالْمَسَاكِينُ فَيَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لِلنَّارِ: أَنْتِ عَذَابِي أُصِيبُ بِكَ مَنْ أَشَاءُ وَقَالَ لِلْجَنَّةِ: أَنْتِ رَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ وَلِكُلِّ مِنْكُمَا مِلْؤُهَا فَيُلْقَى فِي النَّارِ أَهْلُهَا فَتَقُولُ: هَلْ مِنْ مَزِيدٍ قَالَ: وَيُلْقَى فِيهَا وَتَقُولُ هَلْ مِنْ مَزِيدٍ وَيُلْقَى فِيهَا فَتَقُولُ: هَلْ مِنْ مَزِيدٍ حَتَّى يَأْتِيَهَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَيَضَعُ قَدَمَهُ عَلَيْهَا فَتُزْوَى فَتَقُولُ: قَدِي قَدِي وَأَمَّا الْجَنَّةُ فَيَبْقَى فِيهَا أَهْلُهَا مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَبْقَى فَيُنْشِئُ اللَّهُ لَهَا خَلْقًا مَا يَشَاءُ“
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت اور جہنم نے ایک دوسرے پر برتری کا اظہار کیا، جہنم نے کہا: اے میرے ربّ!! میرے اندر ظالم، جابر، متکبر، حکمران اور سردار قسم کے لوگ داخل ہوں گے، اور جنت نے کہا: اے میرے ربّ! میرے اندر کمزور، فقیر اور مسکین قسم کے لو گ داخل ہوں گے، اللہ تعالیٰ نے جہنم سے کہا: تو میرا عذاب ہے، میں جن لوگوں کو عذاب سے دوچار کرنا چاہوں گا، تجھے ان پر مسلط کروں گا، اور اللہ تعالیٰ نے جنت سے فرمایا: تو میری رحمت ہے، جو ہر چیز سے وسیع ہے، اور تم دونوں کو بھر دیاجائے گا، اہل جہنم کو جہنم میں ڈالا جائے گا، لیکن جہنم مزید افراد کا مطالبہ کرے گی، پھر لوگوں کو اس میں ڈالا جائے گے، لیکن یہی کہے گی کیا مزید ہیں، پھر لوگوں کو اس میں ڈالا جائے گا، لیکن وہ کہے گی کہ کیا مزید ہیں (ابھی تک گنجائش باقی ہے)، یہاں تک کہ جب اللہ تعالیٰ اس میں اپنا قدم رکھے گا تو وہ سکڑ جائے گی اور اس کے کنارے ایک دوسرے سے مل جائیں گے اور وہ کہے گی: بس بس۔ رہا مسئلہ جنت کا تو اس میں مزید افراد کی گنجائش بچ جائے گی، اس لیے اللہ تعالیٰ اس کے لیے جتنی چاہے گا، نئی مخلوق پیدا کرے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13192]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4849، 7449، ومسلم: 2846، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11099 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11115»
وضاحت: فوائد: … (۱) اس فصل کی احادیث سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ جنت اور جہنم کو قوت گویائی عطا فرمائے گا اور وہ آپس میں اور اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہوں گی۔
(۲) نیز معلوم ہوا کہ دنیوی طور پر جو لوگ کمزور ہیں وہ جنت میں جائیں گے اور ظالم،جابر، متکبر قسم کے لوگ جہنم کے حق دار ہوں گے۔
(۳) نیز معلوم ہوا کہ جنت اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے جن بندوں پر رحم کرنا چاہے گا ان کو جنت میں داخل کرے گا۔
ـ(۴)اور جہنم اللہ تعالیٰ کا عذاب ہے اللہ تعالیٰ جن بندوں کو عذاب دینا چاہے گا انہیںجہنم میں داخل کرے گا۔
(۵) یہ بھی معلوم ہوا کہ جنت اور جہنم میں کوئی جگہ خالی نہیں رہنے دی جائے گی دونوں کو اچھی طرح بھرا جائے گا۔
(۶) نیز معلوم ہوا کہ جب اہل جنت جنت میں پہنچ جائیں گے تو اللہ تعالیٰ باقی جنت کو بھرنے کے لیے ایک نئی مخلوق پیدا کرے گا۔
(۷) اسی طرح جب جہنم میں اہل جہنم کو ڈالا جائے گا تو جہنم مزید آدمیوں کا مطالبہ کر ے گی۔ مزید لوگ اس میں ڈالے جائیں گے وہ مزید کا مطالبہ کرے گی۔ بالآخر اللہ تعالیٰ اپنا قدم جہنم کے اوپر رکھ دے گا تو وہ بھر جائے گی اور کہے گی کہ اب بس … بس … یہی کافی ہیں۔
(۲) نیز معلوم ہوا کہ دنیوی طور پر جو لوگ کمزور ہیں وہ جنت میں جائیں گے اور ظالم،جابر، متکبر قسم کے لوگ جہنم کے حق دار ہوں گے۔
(۳) نیز معلوم ہوا کہ جنت اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے جن بندوں پر رحم کرنا چاہے گا ان کو جنت میں داخل کرے گا۔
ـ(۴)اور جہنم اللہ تعالیٰ کا عذاب ہے اللہ تعالیٰ جن بندوں کو عذاب دینا چاہے گا انہیںجہنم میں داخل کرے گا۔
(۵) یہ بھی معلوم ہوا کہ جنت اور جہنم میں کوئی جگہ خالی نہیں رہنے دی جائے گی دونوں کو اچھی طرح بھرا جائے گا۔
(۶) نیز معلوم ہوا کہ جب اہل جنت جنت میں پہنچ جائیں گے تو اللہ تعالیٰ باقی جنت کو بھرنے کے لیے ایک نئی مخلوق پیدا کرے گا۔
(۷) اسی طرح جب جہنم میں اہل جہنم کو ڈالا جائے گا تو جہنم مزید آدمیوں کا مطالبہ کر ے گی۔ مزید لوگ اس میں ڈالے جائیں گے وہ مزید کا مطالبہ کرے گی۔ بالآخر اللہ تعالیٰ اپنا قدم جہنم کے اوپر رکھ دے گا تو وہ بھر جائے گی اور کہے گی کہ اب بس … بس … یہی کافی ہیں۔
الحكم على الحديث: صحیح
3. قَوْله ﷺ: «حُفَّتِ الْجَنَّةُ بِالْمَكَارِهِ» الخ
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان: جنت کو ناپسندیدہ امور سے گھیرا گیا ہے …
حدیث نمبر: 13193
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”حُفَّتِ الْجَنَّةُ بِالْمَكَارِهِ وَحُفَّتِ النَّارُ بِالشَّهَوَاتِ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت کو ناپسندیدہ امور کے ساتھ اور جہنم کو لذت والے امور کے ساتھ گھیرا گیا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13193]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6487، ومسلم: 2823، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7530 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7521»
وضاحت: فوائد: … کوئی شک نہیں کہ اعمالِ صالحہ میں ہی تسکین ہے، لیکن اس ذمہ داری کے لیے پابند رہنا پڑتا ہے، اور برائیوں میں بے سکونی ہے، لیکن آزادی بڑی ملتی ہے۔ بہرحال انجام کو دیکھ کر پابندی کو اپنا لینا عقلمندی ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 13194
وَعَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13194]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2822، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12559 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12587»
الحكم على الحديث: صحیح