Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. أَهْلُ النَّارِ وَصِفَاتُهُمْ
جہنم والوں اور ان کی صفات کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13225
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”يَعْظُمُ أَهْلُ النَّارِ فِي النَّارِ حَتَّى إِنَّ بَيْنَ شَحْمَةِ أُذُنِ أَحَدِهِمْ إِلَى عَاتِقِهِ مَسِيرَةَ سَبْعِمِائَةِ عَامٍ وَإِنَّ غِلَظَ جِلْدِهِ سَبْعُونَ ذِرَاعًا وَإِنَّ ضِرْسَهُ مِثْلُ أُحُدٍ“
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جہنم میں اہل ِ جہنم کے جسم اتنے بڑے ہوجائیں گے کہ ان کے کانوں اور کندھوں کے درمیان سات سو برس کی مسافت کے برابر فاصلہ ہوگا اور ان کی جلد کی موٹائی ستر ہاتھ اور ان کی ایک ایک داڑھ اُحد پہاڑ کے برابر ہوگی۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13225]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ابي يحيي الطويل، وابويحيي القتات مختلف في الاحتجاج به علي ضعف فيه، أخرجه الطبراني في الكبير: 13482، وعبد بن حميد: 808، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4800 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4800»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13226
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”ضِرْسُ الْكَافِرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِثْلُ أُحُدٍ وَعَرْضُ جِلْدِهِ سَبْعُونَ ذِرَاعًا وَفَخِذُهُ مِثْلُ وَرِقَانٍ وَمَقْعَدُهُ مِنَ النَّارِ مِثْلُ مَا بَيْنِي وَبَيْنَ الرَّبَذَةِ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ تعالیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن کافر کی داڑھ احد پہاڑ کے برابر ہوگی، اس کی جلد کی موٹائی ستر ہاتھ ہوگی، اس کی ران و رقان پہاڑ کے برابر ہو گی اوراس کے سرین یہاں سے ربذہ مقام تک مسافت جتنے بڑے ہو جائیں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13226]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه الترمذي: 2579، 2578، 2577، وأخرج قصة ضرس الكافر فقط مسلم: 2851، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8345 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8327»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13227
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ وَفِيهِ: ”وَفَخِذُهُ مِثْلُ الْبَيْضَاءِ وَمَقْعَدُهُ مِنَ النَّارِ كَمَا بَيْنَ قَدِيدٍ إِلَى مَكَّةَ وَكَثَافَةُ جِلْدِهِ اثْنَانِ وَأَرْبَعُونَ ذِرَاعًا بِذِرَاعِ الْجَبَّارِ“
۔ (دوسری سند) اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جہنمی کی ران بیضاء پہاڑ کے برابر، اس کے سرین اتنے برے ہو جائیں گے کہ جیسے قدید سے مکہ تک کی مسافت ہے اور اس کی جلد کی موٹائی کسی بڑے آدمی کے ہاتھ کے حساب سے بیالیس ہاتھ ہو جائے گی۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13227]
تخریج الحدیث: «صحيح بطرقه، وانظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10944»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13228
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”مَقْعَدُ الْكَافِرِ فِي النَّارِ مَسِيرَةُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ وَكُلُّ ضِرْسٍ مِثْلُ أُحُدٍ وَفَخِذُهُ مِثْلُ وَرِقَانٍ وَجِلْدُهُ سِوَى لَحْمِهِ وَعِظَامِهِ أَرْبَعُونَ ذِرَاعًا“
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جہنم میں کافر کے سرین تین دنوں کے سفر کے برابر ہوجائیں گے،اس کی ہر داڑھ احد پہاڑ کے برابر ہو جائے گی، اس کی ران ورقان پہاڑ کے برابر ہو جائے گی اور اس کی جلد کی موٹائی چالیس ہاتھ ہو گی، جبکہ گوشت اور ہڈیاں اس کے علاوہ ہوں گی۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13228]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابويعلي: 11232، والحاكم: 4/598، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11232 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11252»
وضاحت: فوائد: … چونکہ اہل ِ جہنم کو تعذیب دینا مقصود ہو گاِ اس لیے ان کے اجسام اور اعضاء بہت بڑے بڑے کر دئیے جائیں گے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. طَعَامُ أَهْلِ النَّارِ وَشَرَابُهُمْ وَصِفَةٌ عَذَابِهِمْ وَتَفَاوُتُهُمْ فِي ذَلِكَ
اہل جہنم کے کھانے پینے اوران کے عذاب کی کیفیت اور اس معاملے میں ان کے مابین تفاوت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13229
عَنْ مُجَاهِدٍ أَنَّ النَّاسَ كَانُوا يَطُوفُونَ بِالْبَيْتِ وَابْنُ عَبَّاسٍ جَالِسٌ مَعَهُ مِحْجَنٌ فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} لَوْ أَنَّ قَطْرَةً مِنَ الزَّقُّومِ قُطِرَتْ لَأَمَرَّتْ عَلَى أَهْلِ الْأَرْضِ عَيْشَهُمْ كَيْفَ مَنْ لَيْسَ لَهُمْ طَعَامٌ إِلَّا الزَّقُّومُ“
مجاہد سے روایت ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ خمد دار چھڑی لیے بیٹھے تھے، جبکہ لوگ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے، انھوں نے کہا: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: {یٰـــٓـــاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ حَقَّ تُقٰتِہٖ وَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ} (اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈر جاؤ جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تمہیں موت نہ آئے مگر اس حالت میں کہ تم اسلام پر قائم دائم ہو۔) (سورۂ آل عمران:۱۰۲) اور اگر جہنم کے زقوم کا ایک قطرہ زمین پر ٹپکا دیا جائے تو وہ روئے زمین پر بسنے والوں کی زندگی کو کڑوا کر دے گا، (ذرا سوچو کہ) ان لوگوں کا کیا حال ہوگا جن کی خوراک ہی زقوم ہوگا۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13229]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه الترمذي: 5285، وابن ماجه: 4325، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2735 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2735»
وضاحت: فوائد: … زقوم: ایک کڑوا اور بد بودار درخت، جس کا پھل اہل دوزخ کی غذا ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13230
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”لَوْ أَنَّ دَلْوًا مِنْ غَسَّاقٍ أُهْرِقَ فِي الدُّنْيَا لَأَنْتَنَ أَهْلَ الدُّنْيَا“
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر جہنم میں سے پیپ کا ایک ڈول دنیا میں بہا دیا جائے تو تمام دنیا والوں کو اپنی بد بو سے بے چین اور بدبودار کر دے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13230]
تخریج الحدیث: «حديث حسن لغيره، أخرجه الترمذي: 2584، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11230/2 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11249»
وضاحت: فوائد: … اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ رَبِّیْ مِنْ کُلِّ ذَنْبٍ وَّاَتُوْبُ اِلَیْہِ۔ (میں اپنے ربّ اللہ سے ہر گناہ کی بخشش طلب کرتا ہوں اور اس کی طرف رجوع کرتا ہوں)۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13231
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”إِنَّ الْحَمِيمَ لَيُصَبُّ عَلَى رُؤُوسِهِمْ فَيَنْفُذُ الْجُمْجُمَةَ حَتَّى يَخْلُصَ إِلَى جَوْفِهِ فَيَسْلُتُ مَا فِي جَوْفِهِ حَتَّى يَمْرُقَ مِنْ قَدَمَيْهِ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جہنم کا کھولتا ہوا پانی جہنمیوں کے سروں پر ڈالا جائے گا، وہ کھوپڑی کے اندر سے ہوتا ہوا ان کے پیٹ میں جا پہنچے گا، پھر ان کے پیٹ کے اندر والے اعضاء کو کاٹ اور جلا کر ان کے قدموں کے نیچے سے جا نکلے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13231]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ابي السمح دراج بن سمعان القرشي، أخرجه الترمذي: 2582، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8864 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8851»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13232
وَعَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَخْطُبُ وَهُوَ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”إِنَّ أَهْوَنَ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ رَجُلٌ يُجْعَلُ فِي أَخْمَصِ قَدَمَيْهِ نَعْلَانِ مِنْ نَارٍ يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ“
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے ایک خطبے میں کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جہنم میں سب سے کم عذاب والا آدمی وہ ہے کہ جس کے پاؤں میں آگ کے دو جوتے پہنا دیئے جائیں گے، جن کی حرارت سے اس کا دماغ کھولنے لگے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13232]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6561، ومسلم: 213، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18413 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18603»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13233
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”أَهْوَنُ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا رَجُلٌ عَلَيْهِ نَعْلَانِ يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فرمایا: جہنم میں سب سے کم اور ہلکے عذاب والا آدمی وہ ہوگا جسے آگ کے جوتے پہنائے جائیں گے اور ان کی وجہ سے اس کا دماغ کھولنے لگے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13233]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابن حبان: 7472، والدارمي: 2848، والحاكم: 4/ 580، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9576 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9573»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13234
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ: ”أَهْوَنُ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا رَجُلٌ فِي رِجْلَيْهِ نَعْلَانِ يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ وَمِنْهُمْ فِي النَّارِ إِلَى كَعْبَيْهِ مَعَ إِجْرَاءِ الْعَذَابِ وَمِنْهُمْ مَنْ فِي النَّارِ إِلَى رُكْبَتَيْهِ مَعَ إِجْرَاءِ الْعَذَابِ وَمِنْهُمْ مَنْ هُوَ فِي النَّارِ إِلَى صَدْرِهِ مَعَ إِجْرَاءِ الْعَذَابِ وَمِنْهُمْ مَنْ قَدِ اغْتُمِرَ فِي النَّارِ“ قَالَ عَفَّانٌ: أَحَدُ الرُّوَاةِ: ”مَعَ إِجْرَاءِ الْعَذَابِ قَدِ اغْتُمِرَ“
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جہنمیوں میں سب سے کم عذاب والا آدمی وہ ہوگا، جسے آگ کے جوتے پہنائے جائیں گے، ان کی وجہ سے اس کا دماغ کھولنے لگے گا، بعض جہنمی ایسے ہوں گے کہ ان کے ٹخنوں تک آگ ہوگی اور اس کے ساتھ ان کو مزید عذاب بھی دیا جائے گا، بعض کے گھٹنوں تک آگ ہو گی اور اس کے ساتھ اور عذاب بھی دیا جائے گا، بعض کے سینہ تک آگ ہوگی اور اس کے سا تھ ان کو مزید عذاب بھی دیا جائے گا اور بعض تو ایسے ہوں گے کہ مکمل طور پر آگ میں ڈوبے ہوئے ہوں گے اور اس کے ساتھ ساتھ ان کو مزید عذاب بھی دیا جائے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13234]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه البزار: 3502، والحاكم: 4/ 581، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11100 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11116»
وضاحت: فوائد: … انسان کے اندر اتنی جرأت نہیں ہے کہ وہ دنیا میں پائی جانے والی آگ کا ایک انگارہ اپنے ہاتھ پر رکھ سکے، لیکن اس آگ سے انہتر گنا زیادہ آگ کا کیا بنے گا۔ نَسْأَلُ اللّٰہَ الْعَافِیَۃَ فِیْ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں