Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. حَرُهَا وَبَرْدُ زَمْهَرِيرِهَا
اس کی گرمی اور اس کے زمہریر کی ٹھنڈک کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13205
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”اشْتَكَتِ النَّارُ إِلَى رَبِّهَا فَقَالَتْ رَبِّ أَكَلَ بَعْضِي بَعْضًا فَنَفِّسْنِي فَأَذِنَ لَهَا فِي كُلِّ عَامٍ بِنَفَسَيْنِ وَفِي رِوَايَةٍ نَفَسٍ فِي الشِّتَاءِ وَنَفَسٍ فِي الصَّيْفِ فَأَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الْبَرْدِ مِنْ زَمْهَرِيرِ جَهَنَّمَ وَأَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الْحَرِّ مِنْ حَرِّ جَهَنَّمَ وَفِي رِوَايَةٍ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جہنم نے اپنے ربّ سے شکایت کرتے ہوئے کہا: اے میرے رب! میرا بعض حصہ بعض حصے کو کھا رہا ہے، لہذا مجھے سانس لینے کی اجازت دو، اللہ تعالیٰ نے اس کو ہر ایک سال میں دو مرتبہ سانس لینے کی اجازت دی، ایک سانس سردیوں میں اور ایک سانس گرمیوں میں، یہ جو تم شدید ٹھنڈک محسوس کرتے ہو، وہ جہنم کی سخت سردی کا اثر ہوتا ہے اور جو تم شدید گرمی محسوس کرتے ہو، وہ جہنم کی گرمی کا یا بھاپ کا اثر ہوتاہے۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13205]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3260، ومسلم: 617، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7722 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7708»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث کے ظاہری الفاظ سے جو بات سمجھ آ رہی ہے، اسی کو برحق سمجھا جائے کہ گرمی اور سردی کی اصل وجہ جہنم ہے اور اس کی حقیقت کو اُس ذات کے سپرد کر دیا جائے، جو اپنی مخلوق کے حقائق کو جانتی ہے۔
حیران کن بات یہ ہے کہ دنیا میں پائی جانے والی آگ، جہنم کی آگ کی حرارت کا سترہواں حصہ ہے، لیکن اس میں جب کوئی انسان گر جاتا ہے تو وہ دو تین منٹ کے اندر اندر جل کر ختم ہو جاتا ہے، لیکن جہنم کی آگ میں بندہ ختم نہیں ہو گا، اللہ تعالیٰ اپنی پناہ میں رکھے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. عُمُقهَا وَأَوْدِيَتهَا وَآلَاتُ الْعَذَابِ فِيهَا نَعُوذُ بِاللهِ مِنْهَا
جہنم کی گہرائی، اس کی وادیوں اور عذاب کے ذرائع کا بیان، اللہ تعالیٰ پناہ میں رکھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13206
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَوْ أَنَّ رَصَّاصَةً مِثْلَ هَذِهِ وَأَشَارَ إِلَى مِثْلِ جُمْجُمَةٍ أُرْسِلَتْ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ وَهِيَ مَسِيرَةُ خَمْسِمِائَةِ سَنَةٍ لَبَلَغَتِ الْأَرْضَ قَبْلَ اللَّيْلِ وَلَوْ أَنَّهَا أُرْسِلَتْ مِنْ رَأْسِ السِّلْسِلَةِ لَسَارَتْ أَرْبَعِينَ خَرِيفًا اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ قَبْلَ أَنْ تَبْلُغَ أَصْلَهَا أَوْ قَعْرَهَا“
سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: زمین و آسمان کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت ہے، اس کے باوجود اگر ایک بڑے پیالے یا کھوپڑی کے برابر پتھر آسمان سے زمین کی طرف گرایا جائے تو وہ رات ہونے سے پہلے پہلے زمین پر پہنچ جائے گا،لیکن اگر اسے زنجیر کے ایک سرے سے نیچے کی طرف گرایا جائے تو وہ اس کی اصل یا تہہ تک پہنچنے سے پہلے چالیس برسوں تک چلتا رہے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13206]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه الترمذي: 2588، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6856 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6856»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13207
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَسَمِعْنَا وَجْبَةً فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَتَدْرُونَ مَا هَذَا“ قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ ”هَذَا حَجَرٌ أُرْسِلَ فِي جَهَنَّمَ مُنْذُ سَبْعِينَ خَرِيفًا فَالْآنَ انْتَهَى إِلَى قَعْرِهَا“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ہم نے کسی چیز کے گرنے کی دھمک سنی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا: کیا تم جانتے ہویہ کس چیز کی آواز ہے؟ ہم نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا: یہ ایک پتھر کی آواز ہے، جسے آج سے ستر سال پہلے جہنم کے اندر ڈالا گیا تھا، وہ اب اس کی تہہ تک پہنچا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13207]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2844، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8839 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8826»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13208
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ ”وَيْلٌ وَادٍ فِي جَهَنَّمَ يَهْوِي فِيهِ الْكَافِرُ أَرْبَعِينَ خَرِيفًا قَبْلَ أَنْ يَبْلُغَ قَعْرَهُ وَالصَّعُودُ جَبَلٌ مِنْ نَارٍ يَصْعَدُ فِيهِ سَبْعِينَ خَرِيفًا يَهْوِي بِهِ كَذَلِكَ فِيهِ أَبَدًا“
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جہنم کی ایک وادی کا نام ویل ہے، اس کی تہہ تک پہنچنے سے پہلے کافر اس میں چالیس برس گرتا رہے گا، اسی طرح جہنم میں آگے کے ایک پہاڑ کا نام صَعُوْد ہے۔ اس پر چڑھنے والا ستر سال میں اس پر چڑھتا ہے،پھر وہ اتنے ہی عرصے میں اس سے نیچے گرتا رہتا ہے، اور اس کے ساتھ ہمیشہ ہمیشہ یہی ہوتا رہے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13208]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، لضعف ابن لھيعة، ولضعف دراج بن سمعان، أخرجه ابويعلي: 1379، وابن حبان: 309، والطبران في الاوسط: 5177، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11712 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11735»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13209
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”لَوْ أَنَّ مِقْمَعًا مِنْ حَدِيدٍ وُضِعَ فِي الْأَرْضِ فَاجْتَمَعَ لَهُ الثَّقَلَانِ مَا أَقَلُّوهُ مِنَ الْأَرْضِ“
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر لوہے کا ایک گرز زمین پر رکھ دیا جائے اورتمام جن و انس اسے اٹھانے کے لیے جمع ہو جائیں، تو پھر بھی وہ اس کو نہیں اٹھا سکیں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13209]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، لضعف دراج بن سمعان في روايته عن ابي الھيثم، أخرجه الحاكم: 4/ 598، وابويعلي: 11232، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11233 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11253»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13210
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَوْ ضُرِبَ الْجَبَلُ بِقَمْعٍ مِنْ حَدِيدٍ لَتَفَتَّتَ ثُمَّ عَادَ كَمَا كَانَ وَلَوْ أَنَّ دَلْوًا مِنْ غَسَقٍ يُهْرَاقُ فِي الدُّنْيَا لَأَنْتَنَ أَهْلَ الدُّنْيَا“
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر لوہے کے گرز کو کسی پہاڑ پر مارا جائے تو وہ بھی ریزہ ریزہ ہوجائے، وہ دوبارہ اپنی اصل حالت میں لوٹ آئے گا اور اگر جہنمیوں کی پیپ اور خون سے بھرا ہوا ایک ڈول دنیا میں بہا دیا جائے تو ساری دنیا والے بد بو کی اذیت سے بے چین ہوجائیں۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13210]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، علته دراج بن سمعان، فانه ضعيف في روايته عن ابي الھيثم، لكن قوله ولو ان دلوا من غساق حسن لغيره، أخرجه ابويعلي: 1377، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11786 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11808»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13211
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُزْءٍ الزُّبَيْدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ فِي النَّارِ حَيَّاتٍ كَأَمْثَالِ أَعْنَاقِ الْبُخْتِ تَلْسَعُ إِحْدَاهُنَّ اللَّسْعَةَ فَيَجِدُ حَمْوَتَهَا أَرْبَعِينَ خَرِيفًا وَإِنَّ فِي النَّارِ عَقَارِبَ كَأَمْثَالِ الْبِغَالِ الْمُوكَفَةِ تَلْسَعُ إِحْدَاهُنَّ اللَّسْعَةَ فَيَجِدُ حَمْوَتَهَا أَرْبَعِينَ سَنَةً“
سیدنا عبد اللہ بن جزء زبیدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جہنم میں بختی اونٹوں کی گردنوں جیسے بڑے بڑے سانپ ہیں، جب ان میں سے ایک سانپ ایک دفعہ ڈسے گا تو آدمی چالیس سال تک اس کی زہر کی شدت محسوس کرے گا اور جہنم میں پالان والے خچروں کی جسامت کے بچھو ہوں گے، جب ان میں سے کوئی بچھو ڈسے گا تو آدمی چالیس سال تک اس کی تکلیف محسوس کرے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13211]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، دراج بن سمعان ضعّفه غير واحد من الائمة، أخرجه ابن حبان: 7471، والحاكم: 4/ 593، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17712 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17864»
وضاحت: فوائد: … مسلمان کو اتنا غافل نہیں ہو جانا چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے کثرت کے ساتھ جنت کا سوال نہ کرے اور جہنم سے پناہ نہ مانگے۔ نَسْأَلُ اللّٰہَ الْعَافِیَۃَ آمِیْن۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. سِعَتُهَا وَجُدْرَانَهَا
جہنم کی وسعت اور اس کی دیواروں کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13212
عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَتَدْرِي مَا سِعَةُ جَهَنَّمَ قُلْتُ لَا قَالَ أَجَلْ وَاللَّهِ مَا نَدْرِي إِنَّ بَيْنَ شَحْمَةِ أُذُنِ أَحَدِهِمْ وَبَيْنَ عَاتِقِهِ مَسِيرَةَ سَبْعِينَ خَرِيفًا تَجْرِي فِيهَا أَوْدِيَةُ الْقَيْحِ وَالدَّمِ قُلْتُ أَنْهَارًا قَالَ لَا بَلْ أَوْدِيَةً ثُمَّ قَالَ أَتَرَوْنَ مَا سِعَةُ جَهَنَّمَ قُلْتُ لَا قَالَ أَجَلْ وَاللَّهِ مَا نَدْرِي حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَوْلِهِ {وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ} فَأَيْنَ النَّاسُ يَوْمَئِذٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”هُمْ عَلَى جَسْرِ جَهَنَّمَ“
مجاہد سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے مجھ سے پوچھا: آیا تم جانتے ہو کہ جہنم کی وسعت کتنی ہے؟ میں نے کہا: جی نہیں، انھوں نے کہا: واقعی ہم یہ نہیں جانتے، بہرحال (وہ اس قدر وسیع ضرور ہے کہ) ایک جہنمی کے کان کی لو اورکندھے کے درمیان ستر برس کی مسافت ہوگی، اس میں پیپ اور خون کی وادیاں بہتی ہوں گی۔ میں نے کہا: پیپ اور خون کی نہریں؟ انھوں نے کہا: نہریں نہیں، وادیاں وادیاں،پھر انھوں نے کہا: کیا جانتے ہو جہنم کس قدر فراخ ہوگی؟ میں نے کہا: جی نہیں، انھوں نے کہا: واقعی ہم نہیں جانتے کہ وہ کس قدر فراخ ہے؟ البتہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے مجھے بیان کیا تھا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے بارے میں پوچھا تھا: {وَالْاَرْضُ جَمِیْعًا قَبْضَتُہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَالسَّمٰوَاتُ مَطْوِیَّاتٌ بِیَمِیْنِہٖ} (اور قیامت کے دن ساری زمین اس کی مٹھی میں ہوگی اور سارے آسمان بھی اس کے دائیں ہاتھ میں لپیٹے ہوئے ہوں گے) (سورۂ زمر: ۶۷) اے اللہ کے رسول! اس تبدیلی کے وقت لوگ کہاں ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ جہنم کے پل صراط پر ہوں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13212]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح أخرجه بتمامه ومختصرا الترمذي: 3241، والنسائي في الكبري: 11453، والحاكم: 2/ 436، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24856 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25368»
وضاحت: فوائد: … سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا یہ کہنا چاہتی ہیں کہ اگر جہنم کے پل صراط پر ساری مخلوق ٹھہر سکتی ہے تو اس سے جہنم کی وسعت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13213
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ ”لَسُرَادِقُ النَّارِ أَرْبَعُ جُدُرٍ كَثَافَةُ كُلِّ جِدَارٍ مِثْلُ مَسِيرَةِ أَرْبَعِينَ سَنَةً“
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جہنم کو چاروں طرف سے گھیرنے والی دیواریں چار ہیں، ہر دیوار کی موٹائی چالیس برس کی مسافت کے برابر ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13213]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف دراج بن سمعان في روايته عن ابي الھيثم، أخرجه الترمذي: 2584، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11234 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11254»
وضاحت: فوائد: … ہم اللہ تعالیٰ کی رحمت کا سہارا لیتے ہوئے اس جہنم سے پناہ مانگتے ہیں۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. خُرُوجُ عُنُقِ مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَقَوْلُ جَهَنَّمَ هَلْ مِنْ مَّزِيْدٍ
قیامت کے دن جہنم سے ایک گردن کا ظہور اور جہنم کا کہنا کہ کیا مزید افراد ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13214
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَخْرُجُ عُنُقٌ مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَهُ عَيْنَانِ يَبْصُرُ بِهِمَا وَآذَانٌ يَسْمَعُ بِهِمَا وَلِسَانٌ يَنْطِقُ بِهِ فَيَقُولُ إِنِّي وُكِّلْتُ بِثَلَاثَةٍ بِكُلِّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ وَبِكُلِّ مَنِ ادَّعَى مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَالْمُصَوِّرِينَ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن جہنم سے ایک گردن نکلے گی، اس کی دو آنکھیں ہوں گی، جن سے وہ دیکھتی ہوگی، اس کے کان ہوں گے جن سے وہ سنتی ہو گی اور اس کی ایک زبان بھی ہوگی، جس سے وہ بولتی ہو گی، وہ کہے گی: مجھے تین قسم کے لوگوں پر مسلط کیا گیا ہے: ایک وہ جو ظالم اور سرکش ہو، دوسرا وہ جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کے معبود ہونے کا دعویٰ کرے اور تیسرا تصاویر بنانے والا۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13214]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه الترمذي: 2574، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8430 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8411»
وضاحت: فوائد: … حدیث میں لفظ عُنُقٌ آیا ہے، اس کا معنی اگرچہ لپٹ بھی ہے لیکن معروف معنی گردن ہے۔ پھر اس کے ساتھ آنکھوں، کانوں اور زبان کا ذکر بھی ہے، جو گردن کے معنی کی تائید کرتا ہے۔ باقی اس گردن کی کیفیت اور جسمانی ساخت کی اصل حقیقت اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے، اللہ تعالیٰ اپنی پناہ میں رکھے۔ (عبداللہ رفیق)

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں