Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. خُرُوجُ عُنُقِ مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَقَوْلُ جَهَنَّمَ هَلْ مِنْ مَّزِيْدٍ
قیامت کے دن جہنم سے ایک گردن کا ظہور اور جہنم کا کہنا کہ کیا مزید افراد ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13215
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَا تَزَالُ جَهَنَّمُ تَقُولُ هَلْ مِنْ مَزِيدٍ قَالَ فَيُدْلِي فِيهَا رَبُّ الْعَالَمِينَ قَدَمَهُ قَالَ فَيَنْزَوِي بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ وَتَقُولُ قَطْ قَطْ بِعِزَّتِكَ وَلَا يَزَالُ فِي الْجَنَّةِ فَضْلٌ حَتَّى يُنْشِئَ اللَّهُ لَهَا خَلْقًا آخَرَ فَيُسْكِنَهُ فِي فُضُولِ الْجَنَّةِ“
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جہنم مزید افراد کامطالبہ کرتی رہے گی، بالآخر اللہ تعالیٰ اس میں اپنا قدم ڈالے گا، اس طرح اس کے کنارے آپس میں مل جائیں گے اور وہ کہے گی: تیری عزت کی قسم! بس بس، لیکن جنت میں تمام اہل جنت کے بعد جگہ خالی رہ جائے گی، اسے بھرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نئی مخلوق پیدا کرکے اسے جنت کے خالی حصوں میں ٹھہرائے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13215]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6661، ومسلم: 2848، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12380 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12407»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13216
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يُلْقَى فِي النَّارِ وَتَقُولُ هَلْ مِنْ مَزِيدٍ حَتَّى يَضَعَ قَدَمَهُ أَوْ رِجْلَهُ عَلَيْهَا وَتَقُولُ قَطْ قَطْ“
۔(دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمام جہنمیوں کو جہنم میں ڈال دیا جائے گا، لیکن جہنم کہے گی: کیا مزید افراد ہیں، بالآخرجب اللہ تعالیٰ اپنا قدم یا ٹانگ اس میں رکھے گا تو وہ کہے گی: بس بس۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13216]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14013»
وضاحت: فوائد: … قدم، اللہ تعالیٰ کی صفت ہے، جیسے اس کی شان کو لائق ہے۔ اس حدیث میں جو چیز بیان کی گئی ہے، اس کو حقیقت پر ہی محمول کیا جائے گا، خالق اور مخلوق کا تعلق اور ہے اور مخلوق کا مخلوق کے ساتھ تعلق اور ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. التَّحْذِيرُ مِنَ النَّارِ
جہنم سے ڈرانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13217
عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ الطَّائِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”اتَّقُوا النَّارَ“ قَالَ شَاحَ بِوَجْهِهِ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا ثُمَّ قَالَ ”اتَّقُوا النَّارَ“ وَأَشَاحَ بِوَجْهِهِ قَالَ قَالَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ”اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشَقِّ تَمْرَةٍ فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فَبِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ“
سیدنا عدی بن حاتم طائی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جہنم سے بچو اس کے ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے چہرے سے ناگواری کا اظہار کیا، ہمیں یوں محسوس ہوا کہ گویا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے دیکھ رہے ہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جہنم سے بچنے کے اسباب پیدا کرو۔ ساتھ ہی آپ نے اپنے چہرے سے ناگواری کا اظہار فرمایا، دو تین مرتبہ ایسے ہوا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جہنم سے بچو، خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعے ہی ہو اور اگر کسی کو وہ بھی نہ ملے تو اچھی بات کے ذریعے ہی سہی۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13217]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6023، ومسلم: 1016، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19387 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19606»
وضاحت: فوائد: … یعنی مسلمان کو چاہیے کہ وہ حسب ِ استطاعت صدقہ کرتا رہے اور اگر کسی میں اتنی طاقت بھی نہ ہو تو لوگوں سے اچھے انداز میں پیش تو آیا کرے، جو کہ سب سے آسان عمل ہے۔ یہ بات علیحدہ ہے کہ لوگوں کے مزاج بگڑ گئے ہیں اور انھوں نے اپنے اچھے موڈ کے لیے چند بندوں کو خاص کر لیا ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13218
وَعَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَخْطُبُ وَعَلَيْهِ خَمِيصَةٌ لَهُ فَقَالَ لَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ وَهُوَ يَقُولُ ”أَنْذَرْتُكُمُ النَّارَ“ فَلَوْ أَنَّ رَجُلًا مَوْضِعَ كَذَا وَكَذَا سَمِعَ صَوْتَهُ
سماک بن حرب کہتے ہیں: میں نے سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کو سنا کہ وہ خطبہ دے رہے تھے اور انھوں نے اپنے اوپر ایک چادر اوڑھی ہوئی تھی، انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خطبہ کے دوران یہ فرماتے ہوئے سنا: میں تمہیں جہنم سے خبردار کر چکا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات اس قدر بلند آواز سے فرمائی کہ اگر کوئی آدمی فلاں جگہ پر بھی ہوتا تو وہ بھی سن لیتا۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13218]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه الحاكم: 1/ 287، والطيالسي: 792، والدارمي: 2812، وابن حبان: 644، 667، والبيھقي: 3/ 207، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18360 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18550»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13219
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ بَعْدَ قَوْلِهِ ”أَنْذَرْتُكُمُ النَّارَ“ قَالَ حَتَّى لَوْ أَنَّ رَجُلًا كَانَ بِالسُّوقِ لَسَمِعَهُ مِنْ مَقَامِي هَذَا قَالَ حَتَّى وَقَعَتْ خَمِيصَةٌ كَانَتْ عَلَى عَاتِقِهِ عِنْدَ رِجْلَيْهِ
۔ (دوسری سند) اس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان میں تمہیں جہنم سے خبردار کر چکا ہوں کے بعد انھوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ بات اس قدر بلند آواز سے تھی کہ اگر کوئی آدمی بازار میں ہوتا تو وہ میری اس جگہ سے وہ آواز سن لیتا۔ سماک کہتے ہیں: سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ نے بھی یہ بات اس قدر بلند آواز سے کہی کہ ان کی چادر کندھوں سے گر کر ان کے پاؤں میں جاگری۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13219]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18588»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13220
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ حَتَّى لَوْ كَانَ رَجُلٌ كَانَ فِي أَقْصَى السُّوقِ سَمِعَهُ وَسَمِعَ أَهْلُ السُّوقِ صَوْتَهُ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ
۔ (تیسری سند) اس میں یوں ہے: اگر کوئی آدمی بازار کے پرلے کنارے میں بھی ہوتا تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز کو سن لیتا،بلکہ بازار والے سارے لوگ وہ آواز سن لیتے، جبکہ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13220]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18589»
وضاحت: فوائد: … لوگوں میں فکر اور سنجیدگی پیدا کرنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی آواز کو بلند کر کے جہنم کا ذکر کیا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. أَهْلُ النَّارِ وَصِفَاتُهُمْ
جہنم والوں اور ان کی صفات کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13221
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا عَفَّانُ ثَنَا هَمَّامٌ ثَنَا قَتَادَةُ ثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ زِيَادٍ الْعَدَوِيُّ حَدَّثَنِي يَزِيدُ أَخُو مُطَرِّفٍ قَالَ: وَحَدَّثَنِي عُقْبَةُ كُلُّ هَؤُلَاءِ يَقُولُ: حَدَّثَنِي مُطَرِّفٌ أَنَّ عِيَاضَ بْنَ حِمَارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ: ”إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَمَرَنِي أَنْ أُعَلِّمَكُمْ مَا جَهِلْتُمْ“ فَذَكَرَ أَهْلَ النَّارِ وَعَدَّ مِنْهُمُ الضَّعِيفَ الَّذِي لَا زَبْرَ لَهُ الَّذِينَ هُمْ فِيكُمْ تَبَعٌ لَا يَبْتَغُونَ أَهْلاً وَلَا مَالًا قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِمُطَرِّفٍ: يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ أَمِنَ الْمَوَالِي هُوَ أَمْ مِنَ الْعَرَبِ؟ قَالَ: هُوَ التَّابِعَةُ تَكُونُ لِلرَّجُلِ يُصِيبُ مِنْ خَدَمِهِ سَفَاحًا غَيْرَ نِكَاحٍ
سیدنا عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دوران ِ خطبہ یہ فرماتے ہوئے سنا: اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں ان امور کی تعلیم دوں جو تم نہیں جانتے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل ِ جہنم کا تذکرہ کیا اور ان میں ایسے لوگوں کا بھی ذکر کیا جو کمزور ہوتے ہیں اور عقل سے عاری ہیں (یعنی جو آدمی ان کو پناہ دیتا ہے، اس سے خیانت کرتے ہیں اور اس کی حرمت تک کا خیال نہیں رکھتے)، یہ وہ لوگ ہیں جو تمہارے پیرو ہو کر رہتے ہیں اور وہ اہل و مال کے متلاشی نہیں ہوتے۔ عقبہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے مطرف (حدیث کے راوی) سے کہا اے ابو عبداللہ! یہ لوگ غلاموں میں سے ہیں یا عربوں میں سے؟ انھوں نے کہا: وہ آدمی کے تابع ہوتے ہیں، لیکن اس کی لونڈیوں سے زنا کرتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13221]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2865، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18340 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18530»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13222
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ”يَخْرُجُ عُنُقٌ مِنَ النَّارِ يَتَكَلَّمُ يَقُولُ: وُكِّلْتُ الْيَوْمَ بِثَلَاثَةٍ بِكُلِّ جَبَّارٍ وَبِمَنْ جَعَلَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَبِمَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ فَيَنْطَوِي عَلَيْهِمْ فَيَقْذِفُهُمْ فِي غَمَرَاتِ جَهَنَّمَ“
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جہنم سے ایک گردن نکلے گی اور وہ کہے گی: آج تین قسم کے لوگوں کو میرے سپرد کر دیا گیا ہے، ایک وہ جو ظالم و سرکش ہو، دوسرا وہ جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے اورتیسرا وہ جس نے کسی جان کو ناحق قتل کیا، پھر وہ اس قسم کے لوگوں کو لپیٹ کر جہنم کی گہرائیوں میں پھینک دے گی۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13222]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، أخرجه البزار: 3500، وابويعلي: 1146، والطبراني في الاوسط: 320، وابن ابي شيبة: 13/ 160، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11354 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11374»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13223
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ عِنْدَ ذِكْرِ أَهْلِ النَّارِ: ”كُلُّ جَعْظَرِيٍّ جَوَّاظٍ مُسْتَكْبِرٍ جَمَّاعٍ مَنَّاعٍ“
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل ِ جہنم کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ہر بدمزاج (و بدخلق)،اکڑ کر چلنے والا، متکبر، بہت زیادہ مال جمع کرنے والا اور بہت زیادہ بخل کرنے والا یہ سب جہنمی لوگ ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13223]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه الحاكم مطولا: 2/ 499، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6580 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6580»
وضاحت: فوائد: … سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اَلَا اُنَبِّئُکُمْ بِاَھْلِ الْجَنَّۃِ؟ اَلضُّعَفَائُ الْمَظْلُوْمُوْنَ، اَلَا اُنَبِّئُکُمْ بِاَھْلِ النَّارِ؟کُلُّ شَدِیْدٍ جَعْظَرِيٍّ)) … کیا میں تمہارے لیے جنت والوں کی نشاندہی نہ کر دوں؟ وہ تو کمزور اور مظلوم لوگ ہیں۔ کیا میں تمھیں جہنم والوں کے بارے میں نہ بتلاؤں؟ وہ سخت اور مغرور لوگ ہیں۔ (احمد: ۲/ ۵۰۸، صحیحہ:۹۳۲)
ان احادیث میں بد خلقی و بدمزاجی، غرور وگھمنڈ، بڑائی و تکبر، شہرت و ناموری، مال و دولت اور کنجوسی و بخیلی کی مذمت کی گئی ہے اور ان صفات کے حاملین کو دوزخی کہا گیا ہے، جبکہ کمزور، غریب اور گوشۂ خمول میں رہنے والے لوگوں کی فضیلت بیان کی گئی ہے، جن کو معاشرے میں کوئی امتیازی مقام حاصل نہیں ہوتا، وہ مغلوب اور بے بس ہوتے ہیں اور کوئی بھی ان کو وقعت نہیں دیتا،لیکن وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معزز و مکرم ہوتے ہیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13224
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ أَبِي لَيْلَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ بِصَلَاةٍ لَيْسَتْ بِفَرِيضَةٍ فَمَرَّ بِذِكْرِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ فَقَالَ: ”أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ وَيْحٌ أَوْ وَيْلٌ لِأَهْلِ النَّارِ“
سیدنا ابو لیلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک نماز میں قراء ت کر رہے تھے، جبکہ وہ نماز فرض نہیں تھی، جب آپ جنت اور جہنم کے ذکرکے پاس سے گزرے تو آپ نے یہ دعا کی: اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ النَّارِ وَیْحٌ اَوْوَیْلٌ لِاَھْلِ النَّارِ۔ (میں جہنم سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتا ہوں، اہل جہنم کے لیے ہلاکت ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب النار والجنة/حدیث: 13224]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ابن ابي ليلي، وقد اختلف عليه، أخرجه ابوداود: 881، وابن ماجه: 1352، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19055 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19265»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں