سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
252. بَابُ تَفْرِيقِ السَّبْيِ بَيْنَ الْوَالِدِ وَوَلَدِهِ وَالْقَرَابَاتِ
باب: قیدیوں کو ان کے والدین اور رشتہ داروں سے الگ کرنے کا بیان
ترقیم دار السلفیہ: 2660 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3837
نا نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" لَمَّا فُتِحَتْ مَدَائِنُ قُبْرُسَ، وَقَعَ النَّاسُ يَقْتَسِمُونَ السَّبْيَ، وَيُفَرِّقُونَ بَيْنَهُمْ وَيَبْكِي بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ، فَتَنَحَّى أَبُو الدَّرْدَاءِ ، ثُمَّ احْتَبَى بِحَمَائِلِ سَيْفِهِ، فَجَعَلَ يَبْكِي، فَأَتَاهُ جُبَيْرُ بْنُ نُفَيْرٍ، فَقَالَ: مَا يُبْكِيكَ يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ؟ أَتَبْكِي فِي يَوْمٍ أَعَزَّ اللَّهُ فِيهِ الإِسْلامَ وَأَهْلَهُ؟ وَأَذَلَّ فِيهِ الْكُفْرَ وَأَهْلَهُ، فَضَرَبَ عَلَى مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ يَا جُبَيْرُ بْنَ نُفَيْرٍ، مَا أَهْوَنَ الْخَلْقَ عَلَى اللَّهِ إِذَا تَرَكُوا أَمْرَهُ، بَيْنَا هِيَ أُمَّةٌ قَاهِرَةٌ ظَاهِرَةٌ عَلَى النَّاسِ، لَهُمُ الْمُلْكُ حَتَّى تَرَكُوا أَمْرَ اللَّهِ، فَصَارُوا إِلَى مَا تَرَى، وَإِنَّهُ إِذَا سُلِّطَ السِّبَاءُ عَلَى قَوْمٍ فَقَدْ خَرَجُوا مِنْ عَيْنِ اللَّهِ , لَيْسَ لِلَّهِ بِهِمْ حَاجَةٌ" .
جب مدائن قبرس فتح ہوا اور لوگ قیدیوں کو بانٹنے لگے اور روتے، تو سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ الگ ہو کر رونے لگے اور کہا: ”جب اللہ کے حکم کو چھوڑ دیا جاتا ہے تو قوم ذلیل ہو جاتی ہے، اور قیدی بن جاتی ہے۔“ [سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 3837]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح مقطوع، و «انفرد به المصنف من هذا الطريق» »
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح مقطوع
ترقیم دار السلفیہ: 2661 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3838
نا أَبُو شِهَابٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أُمِّهِ فَاطِمَةَ بِنْتِ حُسَيْنٍ ، قَالَتْ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ إِلَى مَدِينَةِ مَقْنَا، قَالَ سَعِيدٌ: مَقْنَا هِيَ مَدْيَنُ، فَأَصَابَ مِنْهُمْ سَبَايَا مِنْهُمْ ضَيْمَرٌ مَوْلَى عَلِيٍّ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَيْعِهِمْ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ، وَهُمْ يَبْكُونَ، فَقَالَ لَهُمْ:" مِمَّ يَبْكُونَ؟" قَالُوا: فَرَّقْنَا بَيْنَهُمْ وَهُمْ إِخْوَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا تُفَرِّقُوا بَيْنَهُمْ , بِيعُوهُمْ جَمِيعًا" .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو مدینہ مقنا (مدین) کی طرف بھیجا، وہاں سے کچھ قیدی لائے گئے، ان میں سے ضیمر بھی تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان قیدیوں کو بیچنے کا حکم دیا، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ قیدی رو رہے ہیں کیونکہ ان کو آپس میں جدا کر دیا گیا تھا، تو آپ نے فرمایا: ”ان کو الگ نہ کرو، بلکہ انہیں اکٹھے بیچو۔“ [سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 3838]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف مرسل، و «انفرد به المصنف من هذا الطريق» »
محمد بن إسحاق (مشہور سیرت نگار) جب "عن" کے ساتھ روایت کرتے ہیں، تو تدلیس کا خدشہ رہتا ہے۔ اس روایت میں بھی "عن عبد الله بن الحسن" کہا ہے، یعنی بلا تصریح سماع۔ اسی وجہ سے سند میں "احتمال ضعف" ہے۔
فاطمة بنت الحسين: تابعیہ، ثقہ، جلیلہ۔ فاطمة بنت الحسين رحمہا اللہ تابعیہ ہیں، یعنی انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں پایا، نہ ان سے ملاقات ثابت ہے۔
محمد بن إسحاق (مشہور سیرت نگار) جب "عن" کے ساتھ روایت کرتے ہیں، تو تدلیس کا خدشہ رہتا ہے۔ اس روایت میں بھی "عن عبد الله بن الحسن" کہا ہے، یعنی بلا تصریح سماع۔ اسی وجہ سے سند میں "احتمال ضعف" ہے۔
فاطمة بنت الحسين: تابعیہ، ثقہ، جلیلہ۔ فاطمة بنت الحسين رحمہا اللہ تابعیہ ہیں، یعنی انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں پایا، نہ ان سے ملاقات ثابت ہے۔
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف مرسل
253. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْأَسِيرِ يُدْعَى إِلَى الْإِسْلَامِ وَغَيْرِ ذَلِكَ
باب: قیدی کو اسلام کی دعوت دینے اور دیگر امور کا بیان
ترقیم دار السلفیہ: 2662 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3839
نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ حَبِيبٍ ، أَنَّ رَجُلا كَانَ بَسَقَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَاعَدُهُ لَئِنْ أَظْفَرَنِي اللَّهُ بِهِ لأَقْتُلَنَّهُ، فَبَيْنَا هُوَ بَعَثَ يَوْمًا سَرِيَّةً، إِذْ جَاءَ بَشِيرٌ فَأَخْبَرَهُ أَنَّ اللَّهَ قَدْ أَحْسَنَ بَلاءَهُمْ، وَأَعَزَّ نَصْرَهُمْ، وَأُخْبِرُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَّ اللَّهَ قَدْ أَمْكَنَ مِنْ فُلانٍ، فَسُرَّ بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَقْبَلُوا بِهِ مَغْلُولا، فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا بِسَيْفٍ، فَسَلَّهُ، ثُمَّ وَضَعَ رِدَاءَهُ عَنْ مَنْكِبِهِ، ثُمَّ قَامَ إِلَيْهِ شَاطِرًا بِالسَّيْفِ، فَقَالَ:" أَدْنُوهُ مِنِّي"، فَأَدْنَوْهُ، فَقَالَ:" كَيْفَ رَأَيْتَ يَا عَدُوَّ اللَّهِ، أَمْكَنَ اللَّهُ مِنْكَ؟!" قَالَ: نَعَمْ، فَلا تَقْتُلْنِي، فَإِنِّي أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ، فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيعًا رَاجِعًا حَتَّى جَلَسَ مَجْلِسَهُ، وَوَضَعَ عَلَيْهِ رِدَاءَهُ، وَتَغَمَّدَ السَّيْفَ، ثُمَّ قَالَ:" خَلُّوا سَبِيلَهُ إِنَّ رَبِّي نَهَانِي أَنْ أَقْتُلَ الْمُصَلِّينَ" .
ایک مشرک نے مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر تھوکا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا کہ اگر اللہ نے مجھے اس پر قابو دیا تو میں اسے قتل کر دوں گا، جب وہ قیدی بنا کر لایا گیا اور اس نے اسلام قبول کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے مجھے نمازیوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا ہے، اسے چھوڑ دو۔“ [سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 3839]
تخریج الحدیث: «مرسل، «انفرد به المصنف من هذا الطريق» »
الحكم على الحديث:
مرسل
ترقیم دار السلفیہ: 2663 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3840
نا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَهْطًا إِلَى خَثْعَمٍ، فَلَمَّا رَأَوْا أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ غَشَوْهُمُ اعْتَصَمُوا بِالسُّجُودِ، فَقُتِلَ بَعْضُهُمْ عَلَى ذَلِكَ، فَأَمَرَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُمْ بِنِصْفِ الْعَقْلِ لِصَلاتِهِمْ، وَقَالَ: " إِنِّي بَرِيءٌ مِنْ كُلِّ مُسْلِمٍ مَعَ مُشْرِكٍ" قِيلَ: لِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" لا تَرَايَا نَارَاهُمَا" .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو قبیلہ خثعم کی طرف بھیجا، جب مسلمانوں نے ان پر حملہ کیا تو وہ سجدہ میں گر پڑے، مگر پھر بھی کچھ مارے گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے آدھا خون بہا مقرر فرمایا اور فرمایا: ”میں ہر اس مسلمان سے بری ہوں جو مشرک کے ساتھ ہو، کیونکہ ان دونوں کی آگ ایک ساتھ نہ ہو۔“ [سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 3840]
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه النسائي فى «المجتبیٰ» برقم:، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 6956، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2645، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1604، 1605، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2663، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 16566، 16567، 16568، 18487، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 33668، 37785، والطحاوي فى «شرح مشكل الآثار» برقم: 3233، والطبراني فى «الكبير» برقم: 2264، 2265، 3836»
قال ابن حجر: وصحح البخاري وأبو حاتم وأبو داود والترمذي والدارقطني إرساله إلى قيس بن أبي حازم، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (4 / 218)
قال ابن حجر: وصحح البخاري وأبو حاتم وأبو داود والترمذي والدارقطني إرساله إلى قيس بن أبي حازم، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (4 / 218)
الحكم على الحديث:
مرسل
ترقیم دار السلفیہ: 2664 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3841
نا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ رَجُلٌ لا يَخَافُ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لائِمٍ؟" فَقَامَ الضَّحَّاكُ، فَقَالَ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، ثُمَّ عَادَ نَبِيُّ اللَّهِ، فَقَالَ:" مَنْ رَجُلٌ لا يَخَافُ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لائِمٍ؟" فَقَامَ الضَّحَّاكُ فَأَمَّرَهُ بِأَمْرِهِ، وَأَمَرَهُ بِقَتْلِ الْمُقَاتِلَةِ، وَكَانَ رَجُلٌ إِمَّا يَحْصِبِيٌّ، وَإِمَّا مُحَارِبِيٌّ يُوَارِدُهُمُ الْمَاءَ، وَكَانَ فَاضِلا فَأَصَابَ الْجَيْشُ لَهُ ابْنَيْنِ، وَأَصَابُوا لَهُ إِبِلا، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي رَجُلٌ مُسْلِمٌ، فَقَالَ:" لا وَاللَّهِ حَتَّى لا تُوَارِدَهُمُ الْمَاءَ , وَلا تُرَايَا نَارَهُمَا وَاللَّهِ لا تَأْخُذْهُمَا حَتَّى تَجِيءَ بِكَذَا وَكَذَا" .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون ہے جو اللہ کے معاملے میں ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈرے؟“ الضحاک رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ مشرکین سے قتال کریں اور فرمایا کہ مسلمانوں اور مشرکین کی آگیں جدا رہیں۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 3841]
تخریج الحدیث: «مرسل، «انفرد به المصنف من هذا الطريق» »
یہ روایت مرسل ہے، کیونکہ ابو عثمان نہدی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مسلمان نہیں ہوئے تھے اور ان کی روایات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل ہوتی ہیں۔
یہ روایت مرسل ہے، کیونکہ ابو عثمان نہدی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مسلمان نہیں ہوئے تھے اور ان کی روایات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل ہوتی ہیں۔
الحكم على الحديث:
مرسل
254. بَابُ قَتْلِ الْأُسَارَى وَالنَّهْيِ عَنِ الْمُثْلَةِ
باب: قیدیوں کو قتل کرنے اور مثلہ کرنے کی ممانعت کا بیان
ترقیم دار السلفیہ: 2665 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3842
نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أَنَّهُ أُتِيَ بِأَسِيرٍ مِنْ أَرْضِ فَارِسَ مَجُوسِيٍّ، فَبَيْنَا عُمَرُ يُحَاوِرُهُ، قَالَ: أَمَا وَاللَّهِ لَرُبَّ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ قَدْ قَتَلْتُهُ، فَأَمَرَ بِهِ عُمَرُ، فَضُرِبَتْ عُنُقُهُ، وَقَالَ:" لا أَسْتَبْقِيهِ عَلَى مَا قَالَ" .
عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے پاس فارس سے ایک مجوسی قیدی لایا گیا، جب وہ گفتگو کے دوران کہنے لگا کہ میں مسلمانوں کو قتل کر چکا ہوں تو عمر بن عبدالعزیز نے اسے قتل کرنے کا حکم دے دیا۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 3842]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
ترقیم دار السلفیہ: 2666 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3843
نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ يَزِيدَ الْقُرَشِيِّ، أَنَّ رَجُلا مِنَ الْمُسْلِمِينَ جَاءَ بِأَسِيرٍ مَغْلُولَةٍ يَدُهُ إِلَى عُنُقِهِ إِلَى حَبِيبِ بْنِ مَسْلَمَةَ، وَهُوَ عَلَى غَدَائِهِ، فَقَالَ لَهُ حَبِيبٌ: " اجْلِسْ فَأَصِبْ مِنْ هَذَا الْغَدَاءِ"، فَجَلَسَ فَتَنَاوَلَ عَرَقًا مِنْ لَحْمٍ، فَنَاوَلَهُ الأَسِيرَ فَرَآهُ حَبِيبٌ، فَقَالَ:" مَا لَكَ؟ قَاتَلَكَ اللَّهُ لَقَدْ أَرَدْتَ أَنْ تُحَرِّمَ عَلَيْنَا دَمَهُ" .
ایک مسلمان نے ایک قیدی کو حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کے پاس کھانے کے وقت لایا، حبیب نے اسے کھانے میں شریک کیا، جب اس نے قیدی کو کھانے کے لیے کچھ دیا تو حبیب نے فرمایا: ”تو نے اس کا خون ہمارے اوپر حرام کر دیا۔“ [سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 3843]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
ترقیم دار السلفیہ: 2667 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3844
نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنِ ابْنِ يَعْلَى ، أَنَّهُ قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، فَأُتِيَ بِأَرْبَعَةِ أَعْلاجٍ مِنَ الْعَدُوِّ، فَأَمَرَ بِهِمْ، فَقُتِلُوا صَبْرًا بِالنَّبْلِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ أَبَا أَيُّوبَ الأَنْصَارِيَّ ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَنْهَى عَنْ قَتْلِ الصَّبْرِ" ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ كَانَتْ دَجَاجَةٌ مَا صَبَرْتُهَا، فَبَلَغَ ذَلِكَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، فَأَعْتَقَ أَرْبَعَ رِقَابٍ.
عبدالرحمن بن خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے لشکر نے چار دشمنوں کو قید کیا اور ان کو تیر مار مار کر قتل کر دیا، جب یہ خبر سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو انہوں نے کہا: ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قتلِ صبر (یعنی قیدی کو انتظار کے ساتھ قتل کرنا) سے منع کرتے سنا ہے۔“ چنانچہ عبدالرحمن نے چار غلام آزاد کر دیے۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 3844]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5609، 5610، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2687، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2017، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2667، وأحمد فى «مسنده» برقم: 24076، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 20224، 28512»
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
ترقیم دار السلفیہ: 2668 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3845
نا هُشَيْمٌ ، قَالَ: أنا مُجَالِدٌ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ: كَانَتِ الأُسَارَى يَوْمَ بَدْرٍ أَحَدًا وَسَبْعِينَ، وَالْقَتْلَى تِسْعَةً وَسِتِّينَ،" فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بعُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ فَضُرِبَتْ عُنُقُهُ، فَكَانَ الْقَتْلَى سَبْعِينَ وَالأُسَارَى سَبْعِينَ" .
غزوہ بدر کے دن ستر قیدی اور انہتر مقتول ہوئے تھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عقبہ بن ابی معیط کی گردن مروائی، تو کل ستر مقتول اور ستر قیدی تھے۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 3845]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2668، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 4257»
مجالد بن سعید: ضعيف
مجالد بن سعید: ضعيف
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
ترقیم دار السلفیہ: 2669 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3846
نا نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ " أُتِيَ بِأُسَارَى فَقَسَمَهُمْ وَلَمْ يَقْتُلْ مِنْهُمْ أَحَدًا" .
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس کچھ قیدی لائے گئے، تو انہوں نے ان کو تقسیم کیا مگر کسی کو قتل نہیں کیا۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 3846]
تخریج الحدیث: «مرسل، و «انفرد به المصنف من هذا الطريق» »
الحكم على الحديث:
مرسل