صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1. ذكر إثبات الإيمان للمحافظ على الوضوء
-
حدیث نمبر: 1037
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، وَأَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْبَانَ ، حَدَّثَنِي حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ ، أَنَّ أَبَا كَبْشَةَ السَّلُولِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ ثَوْبَانَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سَدِّدُوا وَقَارِبُوا، وَاعْلَمُوا أَنَّ خَيْرَ أَعْمَالِكُمُ الصَّلاةُ، وَلا يُحَافِظُ عَلَى الْوُضُوءِ إِلا مُؤْمِنٌ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: هَذِهِ اللَّفْظَةُ مِمَّا ذَكَرْنَا فِي كُتُبِنَا، أَنَّ الْعَرَبَ تُطْلِقُ الاسْمَ بِالْكُلِّيَّةِ عَلَى جُزْءٍ مِنْ أَجْزَاءِ شَيْءٍ يُطْلَقُ اسْمُ ذَلِكَ الشَّيْءِ عَلَى جُزْءٍ مِنْ أَجْزَائِهِ. فَقَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا يُحَافِظُ عَلَى الْوُضُوءِ إِلا مُؤْمِنٌ" أَطْلَقَ اسْمَ الإِيمَانِ عَلَى الْمُحَافِظِ عَلَى الْوُضُوءِ، وَالْوُضُوءُ مِنْ أَجْزَاءِ الإِيمَانِ، كَذَلِكَ اسْمُ الإِيمَانِ عَلَى الْمُفْرِدِ الْعَمَلَ بِهِ، لأَنَّهُ جُزْءٌ مِنْ أَجْزَاءِ الإِيمَانِ عَلَى حَسَبِ مَا ذَكَرْنَاهُ. وَخَبَرُ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ ثَوْبَانَ خَبَرٌ مُنْقَطِعٌ، فَلِذَلِكَ تَنَكَّبْنَاهُ.
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تم سنت کی پیروی کرو اور میانہ روی اختیار کرو، اور یہ بات جان لو کہ تمہارے اعمال میں سب سے بہتر نماز ہے، اور وضو کی حفاظت صرف مومن کرتا ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ وہ الفاظ ہیں جن کا ہم اپنی کتابوں میں کئی بار ذکر کر چکے ہیں، عرب اپنے محاورے میں کسی چیز کے مختلف اجزا میں سے کسی ایک جز پر مکمل چیز کا نام استعمال کرتے ہیں، وہ اس چیز کے نام کو اس ایک جز کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”وضو کی حفاظت صرف مومن کرے گا۔“ یہاں لفظِ ایمان کا اطلاق وضو کی حفاظت کرنے والے پر کیا گیا ہے، حالانکہ وضو ایمان کے اجزا میں سے ایک جز ہے، اس طرح لفظِ ایمان کا اطلاق ایک ایسی مفرد چیز پر کیا گیا ہے جس پر عمل کیا جاتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ایمان کے اجزا میں سے ایک جز ہے، جیسا کہ ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں۔ سالم بن ابوالجعد نے سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ کے حوالے سے جو روایت نقل کی ہے وہ منقطع ہے، اس لیے ہم نے اس سے پہلو تہی کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1037]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1037، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 446، 447، 448، والدارمي فى (مسنده) برقم: 681، 682، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 277، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 384، 2184، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22812» «رقم طبعة با وزير 1034»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - «الصحيحة» (115)، «الروض» (177).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح، إسناده حسن، رجاله رجال البخاري عدا ابن ثوبان- واسمه عبد الرحمن- وهو حسن الحديث.
2. باب فضل الوضوء - ذكر حط الخطايا ورفع الدرجات بإسباغ الوضوء على المكاره
وضو کی فضیلت کا بیان - اس بات کا ذکر کہ وضو کو تکلیف پر پورا کرنے سے گناہ معاف ہوتے ہیں اور درجات بلند ہوتے ہیں
حدیث نمبر: 1038
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، بِالْبَصْرَةِ، حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَلا أُخْبِرُكُمْ بِمَا يَمْحُو اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا وَيَرْفَعُ بِهِ الدَّرَجَاتِ؟ إِسْبَاغُ الْوُضُوءُ عَلَى الْمَكَارِهِ، وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ، وَانْتِظَارُ الصَّلاةِ بَعْدَ الصَّلاةِ، فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ، فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ، فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: مَعْنَاهُ الرِّبَاطُ مِنَ الذُّنُوبِ، لأَنَّ الْوُضُوءَ يُكَفِّرُ الذُّنُوبَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کیا میں تمہیں اس چیز کے بارے میں نہ بتاؤں جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ خطاؤں کو مٹا دیتا ہے اور اس کے ذریعے درجات کو بلند کر دیتا ہے؟ جب طبیعت آمادہ نہ ہو، تو اچھی طرح وضو کرنا، زیادہ قدموں کے ساتھ چل کر مسجد تک جانا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا؛ یہی تیاری ہے، یہی تیاری ہے، یہی تیاری ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس کا مطلب گناہوں سے (بچنے کے لیے) پہرہ ہے، کیونکہ وضو گناہوں کو ختم کر دیتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1038]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 251، 251، ومالك فى (الموطأ) برقم: 557، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 5، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1038، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 143، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 138، والترمذي فى (جامعه) برقم: 51، 52، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 428، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7329» «رقم طبعة با وزير 1035»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «التعليق الرغيب» (1/ 97): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، على شرط مسلم.
3. باب فضل الوضوء - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن هذا الخبر تفرد به عبد الرحمن بن يعقوب عن أبي هريرة
وضو کی فضیلت کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ یہ خبر عبد الرحمن بن یعقوب نے ابو ہریرہ سے تنہا بیان کی
حدیث نمبر: 1039
أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، بِحَرَّانَ، حَدَّثَنَا هَوْبَرُ بْنُ مُعَاذٍ الْكَلْبِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ شُرَحْبِيلِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يَمْحُو اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا، وَيُكَفَّرُ بِهِ الذُّنُوبَ؟" قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكْرُوهَاتِ، وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ، وَانْتِظَارُ الصَّلاةِ بَعْدَ الصَّلاةِ، فَذَلِكَ الرِّبَاطُ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”کیا میں تمہاری رہنمائی اس چیز کی طرف نہ کروں جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ خطاؤں کو مٹا دیتا ہے اور اس کے ذریعے گناہوں کو ختم کر دیتا ہے؟“ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں، یا رسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب طبیعت آمادہ نہ ہو، تو اچھی طرح وضو کرنا، زیادہ قدموں کے ساتھ (چل کر) مسجد کی طرف جانا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا، یہی تیاری ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1039]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: انفرد به المصنف من هذا الطريق «رقم طبعة با وزير 1036»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «التعليق الرغيب» (1/ 161).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
شرحبيل بن سعد: هو الخطمي المدني مولى الأنصار، ضعفه غير واحد، وقال الحافظ في «التقريب» ": صدوق اختلط بأخرة، وصحح حديثه ابن خزيمة والمؤلف، فمثله يصلح للشواهد، وهذا الحديث منها، وباقي رجاله ثقات.
4. باب فضل الوضوء - ذكر حط الخطايا بالوضوء وخروج المتوضئ نقيا من ذنوبه بعد فراغه من وضوئه
وضو کی فضیلت کا بیان - اس بات کا ذکر کہ وضو سے گناہ معاف ہوتے ہیں اور وضو کرنے والا اپنے وضو کے بعد اپنے گناہوں سے پاک ہو جاتا ہے
حدیث نمبر: 1040
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ ، بِمَنْبَجٍ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا تَوَضَّأَ الْعَبْدُ الْمُسْلِمُ أَوِ الْمُؤْمِنُ فَغَسَلَ وَجْهَهُ، خَرَجَتْ مِنْ وَجْهِهِ كُلُّ خَطِيئَةٍ نَظَرَ إِلَيْهَا بِعَيْنَيْهِ مَعَ الْمَاءِ، وَمَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ، أَوْ نَحْوَ هَذَا، فَإِذَا غَسَلَ يَدَيْهِ خَرَجَتْ مِنْ يَدَيْهِ كُلُّ خَطِيئَةٍ بَطَشَتْهَا يَدَاهُ مَعَ الْمَاءِ، أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ، حَتَّى يَخْرُجَ نَقِيًّا مِنَ الذُّنُوبِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب مسلمان بندہ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) مومن بندہ وضو کرتے ہوئے اپنے چہرے کو دھوتا ہے، تو پانی کے ساتھ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) پانی کے آخری قطرے کے ساتھ، یا اس کی مانند کوئی اور الفاظ ہیں، اس کے چہرے سے ہر وہ گناہ نکل جاتا ہے جس کی طرف اس نے اپنی دونوں آنکھوں سے دیکھا تھا، جب وہ اپنے دونوں بازو دھوتا ہے تو اس سے ہر وہ گناہ نکل جاتا ہے جس کو اس نے اپنے ہاتھوں کے ذریعے پکڑا تھا، پانی کے ساتھ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) پانی کے آخری قطرے کے ساتھ، یہاں تک کہ وہ شخص گناہوں سے پاک ہو جاتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1040]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 244، ومالك فى (الموطأ) برقم: 85، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 4، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1040، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2، والدارمي فى (مسنده) برقم: 745، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 381، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8135، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 155، والطحاوي فى (شرح معاني الآثار) برقم: 180، 181» «رقم طبعة با وزير 1037»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «التعليق الرغيب» (1/ 94): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم.
5. باب فضل الوضوء - ذكر مغفرة الله جل وعلا ما بين الصلاتين للمتوضئ بوضوئه وصلاته
وضو کی فضیلت کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اللہ جل وعلا وضو اور نماز کے ساتھ دو نمازوں کے درمیان کے گناہ معاف کرتا ہے
حدیث نمبر: 1041
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ حُمْرَانَ ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ جَلَسَ عَلَى الْمَقَاعِدِ، فَجَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ فَآذَنَهُ بِصَلاةِ الْعَصْرِ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ، ثُمّ قَالَ: لأُحَدِّثَنَّكُمْ حَدِيثًا لَوْلا آيَةٌ فِي كِتَابِ اللَّهِ لَمَّا حَدَّثْتُكُمُوهُ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَا مِنِ امْرِئٍ يَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ الْوُضُوءَ، ثُمَّ يُصَلِّي الصَّلاةَ، إِلا غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الصَّلاةِ الأُخْرَى حَتَّى يُصَلِّيَهَا" . قَالَ مَالِكٌ: أُرَاهُ يُرِيدُ هَذِهِ الآيَةَ أَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ سورة هود آية 114.
حمران بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ صحن میں بیٹھے تھے، مؤذن ان کے پاس اطلاع دینے کے لیے آیا۔ انہوں نے پانی منگوایا، وضو کیا، پھر یہ بات ارشاد فرمائی: میں تم لوگوں کو ایک حدیث بیان کرنے لگا ہوں، اگر اللہ تعالیٰ کی کتاب میں ایک آیت موجود نہ ہوتی، تو میں وہ حدیث بیان نہ کرتا۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے سنا ہے: ”جو بھی شخص اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر نماز ادا کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس شخص کے اس نماز اور اس کے بعد والی نماز کے درمیانی گناہوں کی مغفرت کر دیتا ہے، جب تک وہ (اگلی) نماز ادا نہیں کرتا۔“ امام مالک رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میرا خیال ہے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی مراد یہ آیت تھی: ﴿وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ ۚ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ۚ ذَٰلِكَ ذِكْرَىٰ لِلذَّاكِرِينَ﴾ [سورة هود: 114] ”تم دن کے دونوں کناروں اور رات کے کچھ حصہ میں نماز قائم کرو۔ بے شک نیکیاں گناہوں کو ختم کر دیتی ہیں۔ یہ نصیحت حاصل کرنے والوں کے لیے نصیحت ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1041]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 159، 160، 164، 1934، 6433، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 226، ومالك فى (الموطأ) برقم: 83، وابن الجارود فى "المنتقى"، 74، 79، 80، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2، 3، 151، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 360، 1041، 1043، 1058، 1060، 1081، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 529، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 84، وأبو داود فى (سننه) برقم: 106، والترمذي فى (جامعه) برقم: 31، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 285، 285 م، 413، والدارقطني فى (سننه) برقم: 271، 283، وأحمد فى (مسنده) برقم: 407» «رقم طبعة با وزير 1038»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين.
6. باب فضل الوضوء - ذكر البيان بأن الله جل وعلا إنما يغفر ذنوب المتوضئ بعد فراغه منه إذا توضأ كما أمر وصلى كما أمر
وضو کی فضیلت کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ اللہ جل وعلا اس شخص کے گناہ معاف کرتا ہے جو وضو مکمل کرنے کے بعد اس طرح وضو کرے اور نماز پڑھے جیسا کہ حکم دیا گیا
حدیث نمبر: 1042
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُفْيَانَ الثَّقَفِيِّ ، أَنَّهُمْ غَزَوْا غَزْوَةَ السَّلاسِلِ، فَفَاتَهُمُ الْعَدُوُّ، فَرَابَطُوا، ثُمَّ رَجَعُوا إِلَى مُعَاوِيَةَ وَعِنْدَهُ أَبُو أَيُّوبَ ، وَعُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ، فَقَالَ عَاصِمٌ: يَا أَبَا أَيُّوبَ، فَاتَنَا الْعَدُوُّ الْعَامَ، وَقَدْ أُخْبِرْنَا أَنَّهُ مَنْ صَلَّى فِي الْمَسَاجِدِ الأَرْبَعَةِ غُفِرَ لَهُ ذَنْبُهُ. قَالَ: يَا ابْنَ أَخِي، أَدُلُّكَ عَلَى مَا هُوَ أَيْسَرُ مِنْ ذَلِكَ؟ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ تَوَضَّأَ كَمَا أُمِرَ، وَصَلَّى كَمَا أُمِرَ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ" أَكَذَلِكَ يَا عُقْبَةُ ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: الْمَسَاجِدُ الأَرْبَعَةُ: مَسْجِدُ الْحَرَامِ، وَمَسْجِدُ الْمَدِينَةِ، وَمَسْجِدُ الأَقْصَى، وَمَسْجِدُ قُبَاءٍ. وَغَزَاةُ السَّلاسِلِ كَانَتْ فِي أَيَّامِ مُعَاوِيَةَ، وَغَزَاةُ السَّلاسِلِ كَانَتْ فِي أَيَّامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عاصم بن سفیان ثقفی بیان کرتے ہیں: لوگوں نے غزوہ سلاسل میں شرکت کی لیکن وہ دشمن پر قابو نہ پا سکے، وہ پہرے داری کرتے رہے، پھر جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس واپس آئے، تو اس وقت ان کے پاس سیدنا ابوایوب انصاری اور سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہما بھی موجود تھے۔ عاصم بن سفیان نے کہا: اے سیدنا ابوایوب! اس سال ہم دشمن پر قابو نہیں پا سکے۔ ہمیں یہ بات بتائی گئی ہے، جو شخص چار مساجد میں نماز ادا کر لیتا ہے اس کے گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے، تو انہوں نے فرمایا: اے میرے بھتیجے! کیا میں تمہاری رہنمائی اس چیز کی طرف نہ کروں جو تمہارے لیے اس سے زیادہ آسان ہے؟ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص اسی طرح وضو کرتا ہے، جس طرح اسے حکم دیا گیا ہے، اور اسی طرح نماز ادا کرتا ہے، جس طرح اسے حکم دیا گیا ہے، تو اس شخص کے گزشتہ گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے۔“ (پھر انہوں نے سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا) اے عقبہ! کیا اسی طرح ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) وہ چار مساجد یہ ہیں: مسجد حرام، مسجد مدینہ، مسجد اقصی اور مسجد قبا؛ جنگ سلاسل سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں ہوئی تھی، اور غزوہ سلاسل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ہوا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1042]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1042، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 144، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 139، والدارمي فى (مسنده) برقم: 744، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1396، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24082، وعبد بن حميد فى "المنتخب من مسنده"، 227، والطبراني فى(الكبير) برقم: 3994، 3995» «رقم طبعة با وزير 1039»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - «التعليق الرغيب» (1/ 98 - 99).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
سفيان بن عبد الرحمن، وثقه المؤلف 6/ 401 و405، روى عن جده عاصم بن سفيان، وداود بن أبي عاصم وروى عنه ابنه عبد الله بن سفيان، وأبو الزبير، وعبد الله بن لاحق، وباقي رجاله ثقات، يزيد بن موهب: هو يزيد بن خالد بن يزيد بن عبد الله بن موهب، وأبو الزبير: اسمه محمد بن مسلم بن تدرس.
7. باب فضل الوضوء - ذكر البيان بأن قوله صلى الله عليه وسلم غفر له ما تقدم من ذنبه أراد به من الصلاة إلى الصلاة
وضو کی فضیلت کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول "اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے گئے" سے مراد ایک نماز سے دوسری نماز تک ہے
حدیث نمبر: 1043
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ حُمْرَانَ بْنَ أَبَانَ ، يُحَدِّثُ أَبَا بُرْدَةَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ أَتَمَّ الْوُضُوءَ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا، فَالصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ" .
جامع بن شداد بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حمران کو ابو بردہ کو یہ بات بتاتے ہوئے سنا کہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا ہے: ”جو شخص اس طرح مکمل وضو کرے جس طرح اللہ تعالیٰ نے اسے حکم دیا ہے، تو پانچ نمازیں، اپنے درمیان میں (ہونے) والے گناہ کا کفارہ بن جاتی ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1043]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 159، 160، 164، 1934، 6433، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 226، ومالك فى (الموطأ) برقم: 83، وابن الجارود فى "المنتقى"، 74، 79، 80، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2، 3، 151، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 360، 1041، 1043، 1058، 1060، 1081، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 529، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 84، وأبو داود فى (سننه) برقم: 106، والترمذي فى (جامعه) برقم: 31، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 285، 285 م، 413، والدارقطني فى (سننه) برقم: 271، 283، وأحمد فى (مسنده) برقم: 407» «رقم طبعة با وزير 1040»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «التعليق الرغيب» (1/ 98): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما.
8. باب فضل الوضوء - ذكر البيان بأن الله جل وعلا إنما يغفر ذنوب المتوضئ التي ذكرناها إذا كان مجتنبا للكبائر دون من لم يجتنبها
وضو کی فضیلت کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ اللہ جل وعلا اس شخص کے گناہ معاف کرتا ہے جو ہم نے ذکر کیے، بشرطیکہ وہ کبائر سے اجتناب کرے، نہ کہ وہ جو کبائر سے اجتناب نہ کرے
حدیث نمبر: 1044
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، فَدَعَا بِطَهُورٍ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَا مِنِ امْرِئٍ مُسْلِمٍ تَحْضُرُهُ الصَّلاةُ الْمَكْتُوبَةُ فَيُحْسِنُ وُضُوءَهَا وَرُكُوعَهَا وَخُشُوعَهَا، إِلا كَانَتْ كَفَّارَةً لِمَا قَبْلَهَا مِنَ الذُّنُوبِ، مَا لَمْ يَأْتِ كَبِيرَةً، وَذَلِكَ الدَّهْرَ كُلَّهُ" .
اسحاق بن سعید اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، انہوں نے وضو کے لیے پانی منگوایا، پھر یہ بات بتائی کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس بھی مسلمان کے سامنے فرض نماز کا وقت ہو جاتا ہے اور وہ اچھی طرح وضو کرے، اچھی طرح رکوع، اچھی طرح خشوع (کے ساتھ) نماز ادا کرے، تو یہ نماز اس کے پہلے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے، جب کہ اس نے گناہِ کبیرہ کا ارتکاب نہ کیا ہو اور یہ (فضیلت) ہمیشہ حاصل ہوتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1044]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 228، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1044، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3639، 20814، وعبد بن حميد فى "المنتخب من مسنده"، 57، 61، والبزار فى (مسنده) برقم: 411» «رقم طبعة با وزير 1041»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - مضى نحوه (1038). تنبيه!! رقم (1038) = (1041) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم.
9. باب فضل الوضوء - ذكر البيان بأن حلية أهل الجنة تبلغهم مبلغ وضوئهم في دار الدنيا نسأل الله الوصول إلى ذلك
وضو کی فضیلت کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ جنت کے اہل کی زینت ان کے دنیا میں وضو کے مقام تک پہنچتی ہے، ہم اللہ سے اس تک رسائی مانگتے ہیں
حدیث نمبر: 1045
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " تَبْلُغُ حِلْيَةُ أَهْلِ الْجَنَّةِ مَبْلَغَ الْوُضُوءِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اہل جنت کے زیور وہاں تک جائیں گے جہاں تک وضو کیا جاتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1045]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 250، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 7، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1045، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 149، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 142، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 257، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8962، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 6202، والبزار فى (مسنده) برقم: 9746» «رقم طبعة با وزير 1042»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (252): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح، عبد الغفار بن عبد الله الزبيري ذكره المؤلف في «الثقات» 8/ 421، وترجمه ابن أبي حاتم في «الجرح والتعديل» 6/ 54، ولم يذكر فيه جرحاً ولا تعديلاً، وروى عنه اثنان وباقي رجاله ثقات.
10. باب فضل الوضوء - ذكر البيان بأن أمة المصطفى صلى الله عليه وسلم تعرف في القيامة بالتحجيل بوضوئهم كان في الدنيا
وضو کی فضیلت کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت قیامت کے دن ان کے دنیا میں کیے گئے وضو کے آثار سے پہچانی جائے گی
حدیث نمبر: 1046
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَقْبَرَةَ، فَقَالَ: " السَّلامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لاحِقُونَ، وَدِدْتُ أَنِّي قَدْ رَأَيْتُ إِخْوَانَنَا". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَسْنَا إِخْوَانَكَ؟ قَالَ:" بَلْ أَصْحَابِي، وَإِخْوَانُنَا الَّذِينَ لَمْ يَأْتُوا بَعْدُ، وَأَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ تَعْرِفُ مَنْ يَأْتِي بَعْدَكَ مِنْ أُمَّتِكَ؟ فَقَالَ:" أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَتْ لِرَجُلٍ خَيْلٌ غُرٌّ مُحَجَّلَةٌ فِي خَيْلٍ دُهْمٍ بُهْمٍ، أَلا يَعْرِفُ خَيْلَهُ؟" قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" فَإِنَّهُمْ يَأْتُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنَ الْوُضُوءِ، وَأَنَا فَرَطُهُمْ عَلَى الْحَوْضِ، فَلَيُذَادَنَّ رِجَالٌ عَنْ حَوْضِي، كَمَا يُذَادُ الْبَعِيرُ الضَّالُّ، أُنَادِيهِمْ: أَلا هَلُمَّ، أَلا هَلُمَّ، فَيُقَالُ: إِنَّهُمْ قَدْ بَدَّلُوا بَعْدَكَ، فَأَقُولُ: فَسُحْقًا، فَسُحْقًا، فَسُحْقًا" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: الاسْتِثْنَاءُ يَسْتَحِيلُ فِي الشَّيْءِ الْمَاضِي، وَإِنَّمَا يَجُوزُ الاسْتِثْنَاءُ فِي الْمُسْتَقْبَلِ مِنَ الأَشْيَاءِ. وَحَالُ الإِنْسَانِ فِي الاسْتِثْنَاءِ عَلَى ضَرْبَيْنِ، إِذَا اسْتَثْنَى فِي إِيمَانِهِ: فَضَرْبٌ مِنْهُ يُطْلَقُ مُبَاحٌ لَهُ ذَلِكَ، وَضَرْبٌ آخَرُ إِذَا اسْتَثْنَى فِيهِ الإِنْسَانُ، كَفَرَ. وَأَمَّا الضَّرْبُ الَّذِي لا يَجُوزُ ذَلِكَ، فَهُوَ أَنْ يُقَالَ لِلرَّجُلِ: أَنْتَ مُؤْمِنٌ بِاللَّهِ، وَمَلائِكَتِهِ، وَكُتُبِهِ، وَرُسُلِهِ، وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ، وَالْبَعْثِ وَالْمِيزَانِ، وَمَا يُشْبِهُ هَذِهِ الْحَالَةَ؟ فَالْوَاجِبُ عَلَيْهِ أَنْ يَقُولَ: أَنَا مُؤْمِنٌ بِاللَّهِ حَقًّا، وَمُؤْمِنٌ بِهَذِهِ الأَشْيَاءِ حَقًّا، فَمَتَى مَا اسْتَثْنَى فِي هَذَا، كَفَرَ. وَالضَّرْبُ الثَّانِي: إِذَا سُئِلَ الرَّجُلُ: إِنَّكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ الَّذِي يُقِيمُونَ الصَّلاةَ، وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ، وَهُمْ فِيهَا خَاشِعُونَ، وَعَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ؟ فَيَقُولُ: أَرْجُو أَكُونَ مِنْهُمْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ. أَوْ يُقَالُ لَهُ: أَنْتَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ؟ فَيَسْتَثْنِي أَنْ يَكُونَ مِنْهُمْ. وَالْفَائِدَةُ فِي الْخَبَرِ حَيْثُ، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لاحِقُونَ" أَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ بَقِيعَ الْغَرْقَدِ فِي نَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فِيهِمْ مُؤْمِنُونَ وَمُنَافِقُونَ، فَقَالَ:" إِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لاحِقُونَ"، وَاسْتَثْنَى الْمُنَافِقِينَ أَنَّهُمْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ يُسْلِمُونَ، فَيَلْحَقُونَ بِكُمْ، عَلَى أَنَّ اللُّغَةَ تُسَوِّغُ إِبَاحَةَ الاسْتِثْنَاءِ فِي الشَّيْءِ الْمُسْتَقْبَلِ وَإِنْ لَمْ يَشُكَّ فِي كَوْنِهِ، لِقَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ آمِنِينَ سورة الفتح آية 27.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قبرستان تشریف لے گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا پڑھی: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ» ”تم پر سلام ہو اے اہل ایمان کی بستی کے رہنے والو! بے شک ہم بھی، اگر اللہ نے چاہا، تو تم سے آ ملیں گے۔ میری یہ خواہش ہے کہ میں نے اپنے بھائیوں کو دیکھ لیا ہوتا۔“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میرے ساتھی ہو، ہمارے بھائی وہ لوگ ہوں گے جو بعد میں آئیں گے اور میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا۔“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ اپنی امت کے بعد میں آنے والے لوگوں کو کیسے پہچانیں گے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا کیا خیال ہے، اگر کسی شخص کا کوئی ایسا سیاہ گھوڑا ہو، جس کے ماتھے اور چاروں پاؤں کے پاس سفید نشان ہوں، تو کیا وہ مکمل سیاہ گھوڑوں کے درمیان اس کو پہچان نہیں لے گا؟“ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں، یا رسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ لوگ بھی جب قیامت کے دن آئیں گے تو وضو کی وجہ سے ان کی پیشانیاں چمک رہی ہوں گی اور میں حوض پر ان کا پیش رو ہوں گا، اور میرے حوض سے کچھ لوگوں کو پرے کر دیا جائے گا، جس طرح گم شدہ اونٹ کو پرے کیا جاتا ہے۔ میں انہیں پکار کر کہوں گا: آگے آؤ! آگے آؤ! تو یہ کہا جائے گا کہ ان لوگوں نے آپ کے بعد تبدیلی کر لی تھی، تو میں کہوں گا: پرے ہو جاؤ، پرے ہو جاؤ، پرے ہو جاؤ۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ماضی کی چیز میں استثنیٰ کرنا ناممکن ہے۔ استثنیٰ صرف ان چیزوں میں ہو سکتا ہے جو مستقبل سے تعلق رکھتی ہوں۔ استثنیٰ کے بارے میں انسان کی حالت دو طرح کی ہو سکتی ہے۔ اس وقت جب وہ اپنے ایمان میں استثنیٰ کرتا ہے، ان میں سے ایک قسم وہ ہے جس کو مطلق طور پر کرنا آدمی کے لیے مباح ہے۔ دوسری قسم وہ ہے کہ اس میں انسان استثنیٰ کرے تو وہ کافر ہو جاتا ہے۔ جہاں تک اس قسم کا تعلق ہے جو جائز نہیں ہے، وہ یہ ہے کہ آدمی سے کہا جائے کہ کیا تم اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، رسولوں، جنت، جہنم، دوبارہ زندہ ہونے، میزان اور ان جیسی دوسری چیزوں پر ایمان رکھتے ہو، تو آدمی پر لازم ہے کہ وہ یہ کہے: میں اللہ تعالیٰ کے برحق ہونے پر اور ان چیزوں کے برحق ہونے پر ایمان رکھتا ہوں۔ جب آدمی ان چیزوں کے بارے میں استثنیٰ کرے گا تو وہ کافر ہو جائے گا، اور دوسری قسم یہ ہے کہ جب آدمی سے یہ سوال کیا جائے کہ کیا تم ان مومنوں میں سے ہو جو نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور وہ ان میں خشوع کرتے ہیں اور وہ لغو چیزوں سے اعراض کرتے ہیں، تو وہ شخص پھر یہ کہے: میں امید کرتا ہوں کہ اگر اللہ نے چاہا تو میں ان میں سے ہوں گا۔ یا اس سے یہ کہا جائے کہ کیا تم جنتی ہو، تو وہ جنتی ہونے میں استثنیٰ کر لے۔ یہ فائدہ روایت سے اس طرح ثابت ہوتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”بے شک اگر اللہ نے چاہا تو ہم تم سے آ ملیں گے۔“ یہ اس وقت ہوا تھا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چند صحابہ کے ہمراہ جنت البقیع میں تشریف لائے تھے، جس میں مومن اور منافق دونوں لوگ تھے؛ ”بے شک اگر اللہ نے چاہا تو ہم تم سے آ ملیں گے“ (یہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے استثنیٰ کر لیا)، جبکہ منافقین کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ استثنیٰ کیا کہ اگر اللہ نے چاہا تو وہ مسلمان ہو کر تم لوگوں سے آ ملیں گے۔ اس کی بنیاد پر یہ بات سامنے آتی ہے کہ لغت اس بات کو درست قرار دیتی ہے کہ مستقبل سے تعلق رکھنے والی کسی چیز کے بارے میں استثنیٰ کیا جا سکتا ہے، اگرچہ اس کے ہونے کے بارے میں شک نہ ہو۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: ﴿لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ آمِنِينَ﴾ [سورة الفتح: 27] ”اگر اللہ نے چاہا تو تم لوگ ضرور بہ ضرور امن کی حالت میں مسجد حرام میں داخل ہو گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1046]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2367، 6585، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 247، 2302، ومالك فى (الموطأ) برقم: 82، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 6، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1046، 1048، 3171، 7240، 7243، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 150، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3237، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4282، 4306، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 388، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8083» «رقم طبعة با وزير 1043»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «أحكام الجنائز» (190)، «الإرواء» (776): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم.