صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
41. باب سنن الوضوء - ذكر وصف المضمضة والاستنشاق للمتوضئ في وضوئه
وضو کی سنتوں کا بیان - وضو کرنے والے کے لیے کلی اور ناک میں پانی ڈالنے کی حالت کا ذکر
حدیث نمبر: 1077
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: شَهِدْتُ عَمْرَو بْنَ أَبِي حَسَنٍ،" سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ عَنْ وُضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَعَا بِتَوْرٍ مِنْ مَاءٍ، فَأَكْفَأَ عَلَى يَدِهِ، فَغَسَلَ يَدَهُ ثَلاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الإِنَاءِ فَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلاثَ مَرَّاتٍ، مِنْ ثَلاثِ حَفَنَاتٍ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الإِنَاءِ فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الإِنَاءِ فَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ مَرَّتَيْنِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الإِنَاءِ فَمَسَحَ بِرَأْسِهِ فَأَقْبَلَ وَأَدْبَرَ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الإِنَاءِ فَغَسَلَ رِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ .
عمرو بن یحییٰ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ میں اس وقت عمرو بن ابوحسن کے پاس موجود تھا، انہوں نے سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے وضو کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے وضو کے پانی کا برتن منگوایا اور اسے اپنے ہاتھوں پر انڈیلا، انہوں نے اپنے ہاتھوں کو تین مرتبہ دھویا، پھر اپنا ہاتھ برتن میں داخل کر کے کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا، انہوں نے ایسا تین مرتبہ کیا اور تین مرتبہ چلو میں پانی لے کر کیا، پھر انہوں نے اپنا ہاتھ برتن میں داخل کر کے چہرے کو تین مرتبہ دھویا، پھر اپنا ہاتھ برتن میں داخل کر کے اپنے دونوں بازوؤں کو کہنیوں تک دو مرتبہ دھویا، پھر اپنا ہاتھ برتن میں داخل کر کے اپنے سر کا مسح کیا، وہ (ہاتھوں کو) آگے سے پیچھے لے کر گئے پھر پیچھے سے آگے کی طرف لے کر آئے، پھر انہوں نے اپنا ہاتھ برتن میں داخل کیا اور اپنے دونوں پاؤں ٹخنوں تک دھو لیے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1077]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 185، 186، 191، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 235، ومالك فى (الموطأ) برقم: 45، وابن الجارود فى "المنتقى"، 77، 81، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 155، 156، 157، 172، 173، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1077، 1084، 1093، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 651، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 97، وأبو داود فى (سننه) برقم: 118، والترمذي فى (جامعه) برقم: 28، 32، 47، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 405، 434، والدارقطني فى (سننه) برقم: 266، 267، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16694» «رقم طبعة با وزير 1074»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (107): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما، العباس بن الوليد: هو ابن نصر النرسي، وعمرو ابن يحيى: هو الأنصاري المازني المدني، وعبد الله بن زيد هو ابن عاصم المازني، لا عبد الله بن زيد بن عبد ربه الذي أري النداء.
42. باب سنن الوضوء - ذكر إباحة المضمضة والاستنشاق بغرفة واحدة للمتوضئ
وضو کی سنتوں کا بیان - اس بات کا ذکر کہ وضو کرنے والے کے لیے جائز ہے کہ وہ ایک ہی چلو سے کلی اور ناک میں پانی ڈالے
حدیث نمبر: 1078
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ، فَغَرَفَ غَرْفَةً فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ، ثُمَّ غَرَفَ غَرْفَةً فَغَسَلَ وَجْهَهُ، ثُمَّ غَرَفَ غَرْفَةً فَغَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى، ثُمَّ غَرَفَ غَرْفَةً فَغَسَلَ يَدَهُ الْيُسْرَى، ثُمَّ غَرَفَ غَرْفَةً فَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَبَاطِنِ أُذُنَيْهِ وَظَاهِرِهِمَا، وَأَدْخَلَ أُصْبُعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ، ثُمَّ غَرَفَ غَرْفَةً فَغَسَلَ رِجْلَهُ الْيُمْنَى، ثُمَّ غَرَفَ غَرْفَةً فَغَسَلَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ نے ایک چلو میں پانی لیا اور کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا، پھر آپ نے ایک چلو لیا اور اپنے چہرے کو دھویا، پھر آپ نے ایک چلو لیا اور اپنے دائیں بازو کو دھویا، پھر آپ نے ایک چلو لیا اور بائیں بازو کو دھویا، پھر آپ نے چلو میں پانی لیا اور اپنے سر کا اور اپنے کان کے اندرونی اور بیرونی حصے کا مسح کیا، پھر آپ نے اپنی انگلیاں کانوں میں داخل کیں، پھر آپ نے چلو میں پانی لیا اور اپنے دائیں پاؤں کو دھویا، پھر چلو میں پانی لیا اور بائیں پاؤں کو دھویا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1078]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 140، 157، وابن الجارود فى "المنتقى"، 76، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 148، 171، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1076، 1078، 1086، 1095،والحاكم فى (مستدركه) برقم: 523، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 80، وأبو داود فى (سننه) برقم: 133، 137، 138، والترمذي فى (جامعه) برقم: 36، 42، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 403، 411، 439،وأحمد فى (مسنده) برقم: 1914» «رقم طبعة با وزير 1075»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - «صحيح أبي داود» (106).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن، ابن إدريس: هو عبد الله بن إدريس الأودي، روى له الستة، وابن عجلان: هو محمد روى له البخاري مقروناً ومسلم متابعة، وهو صدوق.
43. باب سنن الوضوء - ذكر وصف الاستنشاق للمتوضيء إذا أراد الوضوء
وضو کی سنتوں کا بیان - وضو کرنے والے کے لیے ناک میں پانی ڈالنے کی حالت کا ذکر جب وہ وضو کرنا چاہے
حدیث نمبر: 1079
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: أَخْبَرَنَا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَلْقَمَةَ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ خَيْرٍ ، قَالَ:" دَخَلَ عَلِيٌّ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ الرَّحَبَةَ بَعْدَمَا صَلَّى الْفَجْرَ، فَجَلَسَ فِي الرَّحَبَةِ، ثُمَّ قَالَ لِغُلامٍ: ائْتِنِي بِطَهُورٍ، فَأَتَاهُ الْغُلامُ بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ وَطَسْتٍ. قَالَ عَبْدُ خَيْرٍ: وَنَحْنُ جُلُوسٌ نَنْظُرُ إِلَيْهِ. قَالَ: فَأَخَذَ بِيَدِهِ الْيُمْنَى الإِنَاءَ، فَأَفْرَغَ عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى، ثُمَّ غَسَلَ كَفَّيْهِ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِهِ الْيُمْنَى الإِنَاءَ، فَأَفْرَغَ عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى كُلُّ ذَلِكَ لا يُدْخِلُ يَدَهُ فِي الإِنَاءِ حَتَّى غَسَلَهُمَا ثَلاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى، قَالَ: فَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَنَثَرَ بِيَدِهِ الْيُسْرَى فَعَلَ هَذَا ثَلاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى ثَلاثَ مَرَّاتٍ إِلَى الْمِرْفَقِ، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُسْرَى إِلَى الْمِرْفَقِ ثَلاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى فِي الإِنَاءِ حَتَّى غَمَرَهَا، ثُمَّ رَفَعَهَا بِمَا حَمَلَتْ مِنْ مَاءٍ، ثُمَّ مَسَحَهَا بِيَدِهِ الْيُسْرَى، ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ كِلْتَيْهِمَا مَرَّةً وَاحِدَةً، ثُمَّ صَبَّ بِيَدِهِ الْيُمْنَى ثَلاثَ مَرَّاتٍ عَلَى قَدَمِهِ الْيُمْنَى، ثُمَّ غَسَلَهَا بِيَدِهِ الْيُسْرَى، ثُمَّ صَبَّ بِيَدِهِ الْيُمْنَى عَلَى قَدَمِهِ الْيُسْرَى ثَلاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ غَسَلَهَا بِيَدِهِ الْيُسْرَى، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الإِنَاءِ، فَغَرَفَ بِكَفِّهِ، فَشَرِبَ مِنْهُ، ثُمَّ قَالَ: هَذَا طَهُورُ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى طَهُورِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَهَذَا طَهُورُهُ" .
عبدخیر بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد میدان میں تشریف لائے، آپ وہاں تشریف فرما ہوئے پھر آپ نے لڑکے سے کہا: میرے پاس وضو کا پانی لے کر آؤ، وہ لڑکا آپ کے پاس پانی کا برتن اور طشت لے کر آیا۔ عبدخیر بیان کرتے ہیں: ہم لوگ بیٹھے ہوئے آپ کی طرف دیکھ رہے تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دائیں ہاتھ کے ذریعے برتن پکڑا اور اس کے ذریعے اپنے بائیں ہاتھ پر پانی انڈیلا پھر انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ دھوئے، ہر مرتبہ میں انہوں نے برتن میں ہاتھ داخل نہیں کیا، یہاں تک کہ انہوں نے دونوں ہاتھ تین مرتبہ دھو لیے پھر انہوں نے اپنا دایاں ہاتھ برتن میں داخل کیا، راوی بیان کرتے ہیں: انہوں نے کلی کی، ناک میں پانی ڈالا اور دائیں ہاتھ کے ذریعے ناک صاف کیا۔ انہوں نے یہ عمل تین مرتبہ کیا پھر انہوں نے اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا پھر دائیں بازو کو کہنی تک تین مرتبہ دھویا پھر بائیں بازو کو کہنی تک تین مرتبہ دھویا پھر انہوں نے اپنا دایاں ہاتھ برتن میں داخل کیا یہاں تک کہ اسے ڈبو دیا، یہاں تک کہ انہوں نے اس میں موجود پانی سمیت نکالا اور اپنے بائیں ہاتھ پر مسح کیا۔ انہوں نے اپنے سر کا مسح دونوں ہاتھوں سے ایک مرتبہ کیا پھر انہوں نے اپنے بائیں ہاتھ کے ذریعے دائیں پاؤں پر پانی ڈالا پھر اسے بائیں ہاتھ کے ذریعے تین مرتبہ دھویا پھر انہوں نے اپنے دائیں ہاتھ کے ذریعے بائیں پاؤں پر تین مرتبہ پانی ڈالا اور اسے اپنے بائیں ہاتھ سے دھویا پھر انہوں نے اپنا ہاتھ برتن میں داخل کیا۔ اس میں سے ایک چلو لیا اور اسے پی لیا پھر یہ بات بیان کی: یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا طریقہ ہے، جو شخص اللہ کے نبی کے وضو کے طریقے کو دیکھنا چاہتا ہو، تو یہ آپ کے وضو کا طریقہ ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1079]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 5615، 5616، وابن الجارود فى "المنتقى"، 75، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 16، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1056، 1057، 1079، 1340، 1341، 5326، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 91، وأبو داود فى (سننه) برقم: 111، والترمذي فى (جامعه) برقم: 44، 48، 49، والدارمي فى (مسنده) برقم: 728، 729، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 396، 404، 436، 456، والدارقطني فى (سننه) برقم: 298، وأحمد فى (مسنده) برقم: 593، 888» «رقم طبعة با وزير 1076»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (101). * [ثُمَّ غَسَلَ كَفَّيْهِ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِهِ الْيُمْنَى الإِنَاءَ، فَأَفْرَغَ عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى] قال الشيخ: ما بين المعقوفين سقط من الأصل.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، وتقدم برقم (1056)، وسبق تخريجه هناك.
44. باب سنن الوضوء - ذكر استحباب صك الوجه بالماء للمتوضئ عند إرادته غسل وجهه
وضو کی سنتوں کا بیان - اس بات کا ذکر کہ وضو کرنے والے کے لیے مستحب ہے کہ وہ اپنا چہرہ دھونے کے ارادے پر پانی سے چھینٹے مارے
حدیث نمبر: 1080
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ الْخَوْلانِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: دَخَلَ عَلِيٌّ بَيْتِي وَقَدْ بَالَ، فَدَعَا بِوَضُوءٍ، فَجِئْنَاهُ بِقَعْبٍ يَأْخُذُ الْمُدَّ حَتَّى وُضِعَ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: " أَلا أَتَوَضَّأُ لَكَ وُضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟" فَقُلْتُ: فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي. قَالَ:" فَغَسَلَ يَدَيْهِ، ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَاسْتَنْثَرَ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَمِينِهِ الْمَاءَ فَصَكَّ بِهِ وَجْهَهُ حَتَّى فَرَغَ مِنْ وَضُوئِهِ" .
عبیداللہ خولانی سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ میرے ہاں تشریف لائے، وہ پیشاب کر چکے تھے۔ انہوں نے وضو کے لیے پانی منگوایا، ہم ایک بڑے برتن میں آپ کے پاس پانی لے کر آئے جس میں ایک مد پانی آ جاتا ہے۔ اسے آپ کے سامنے رکھا گیا، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: ”کیا میں تمہارے سامنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کی طرح وضو کر کے نہ دکھاؤں؟“ میں نے عرض کی: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں (ضرور ایسا کریں)۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دونوں ہاتھ دھوئے، انہوں نے کلی کی، ناک میں پانی ڈالا، ناک کو صاف کیا، پھر انہوں نے اپنے دائیں ہاتھ میں پانی لے کر اسے اپنے چہرے پر چھپکا مار کر (دھویا) یہاں تک کہ انہوں نے پورا وضو کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1080]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 153، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1080، وأبو داود فى (سننه) برقم: 117، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 245، وأحمد فى (مسنده) برقم: 635» «رقم طبعة با وزير 1077»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - «صحيح أبي داود» (106).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي، وقد صرح ابن إسحاق بالتحديث، فانتفت شبهة تدليسه، وابن علية: هو إسماعيل بن إبراهيم بن مقسم الأسدي مولاهم أبو بشر البصري، ثقة حافظ، روى له الستة، وعبيد الله الخولاني: هو عبيد الله بن الأسود، ويقال: ابن الأسد الخولاني ربيب ميمونة زوج النبي صلى اللَّه عليه وسلم ثقة أخرج له الشيخان.
45. باب سنن الوضوء - ذكر الاستحباب للمتوضئ تخليل لحيته في وضوئه
وضو کی سنتوں کا بیان - اس بات کا ذکر کہ وضو کرنے والے کے لیے مستحب ہے کہ وہ اپنی داڑھی کے بالوں میں خلال کرے
حدیث نمبر: 1081
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ عُثْمَانَ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ تَوَضَّأَ فَخَلَّلَ لِحْيَتَهُ ثَلاثًا، وَقَالَ:" هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَهُ" .
ابووائل بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، انہوں نے اپنی داڑھی کا تین مرتبہ خلال کیا، پھر یہ بات بیان کی: ”میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1081]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 159، 160، 164، 1934، 6433، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 226، ومالك فى (الموطأ) برقم: 83، وابن الجارود فى "المنتقى"، 74، 79، 80، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2، 3، 151، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 360، 1041، 1043، 1058، 1060، 1081، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 529، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 84، وأبو داود فى (سننه) برقم: 106، والترمذي فى (جامعه) برقم: 31، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 285، 285 م، 413، والدارقطني فى (سننه) برقم: 271، 283، وأحمد فى (مسنده) برقم: 407» «رقم طبعة با وزير 1078»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - «صحيح أبي داود» (98).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح لغيره، عامر بن شقيق، ضعفه ابن معين، وقال النسائي: ليس به بأس، وذكره المؤلف في «الثقات»، وقد روى عنه شعبة، وهو لا يروي إلا عن ثقة، وباقي رجاله ثقات رجال الشيخين.
46. باب سنن الوضوء - ذكر استحباب دلك الذراعين للمتوضئ في وضوئه
وضو کی سنتوں کا بیان - اس بات کا ذکر کہ وضو کرنے والے کے لیے مستحب ہے کہ وہ اپنی بازوؤں کو رگڑے
حدیث نمبر: 1082
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حَبِيبُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَتَوَضَّأُ، فَجَعَلَ يَدْلُكُ ذِرَاعَيْهِ" .
عباد بن تمیم اپنے چچا (رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں بازو مل رہے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1082]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 118، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1082، 1083، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 511، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 443، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 959، 960، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16704» «رقم طبعة با وزير 1079»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (84).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، حبيب بن زيد روى له الأربعة وهو ثقة، وباقي السند من رجال الشيخين غير مسدد، فمن رجال البخاري وعم عباد: هو عبد الله بن زيد بن عاصم المازني رضي الله عنه.
47. باب سنن الوضوء - ذكر البيان بأن دلك الذراعين الذي وصفناه في الوضوء إنما يجب ذلك إذا كان الماء الذي يتوضأ به يسيرا
وضو کی سنتوں کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ ہم نے جو بازوؤں کے رگڑنے کی بات کی وہ اس وقت لازم ہے جب وضو کا پانی کم ہو
حدیث نمبر: 1083
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِثُلُثَيْ مُدٍّ مَاءً، فَتَوَضَّأَ فَجَعَلَ يَدْلُكُ ذِرَاعَيْهِ" .
عباد بن تمیم اپنے چچا سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دو تہائی مد پانی لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور اپنے دونوں بازوؤں کو ملا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1083]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 118، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1082، 1083، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 511، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 443، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 959، 960، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16704» «رقم طبعة با وزير 1080»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - المصدر نفسه.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
48. باب سنن الوضوء - ذكر وصف مسح الرأس إذا أراد المرء الوضوء
وضو کی سنتوں کا بیان - اس بات کا ذکر کہ سر کا مسح کرنے کی حالت جب آدمی وضو کرنا چاہے
حدیث نمبر: 1084
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ وَهُوَ جَدُّ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى: هَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُرِيَنِي كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ؟ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ :" نَعَمْ، فَدَعَا بِوَضُوءٍ، فَأَفْرَغَ عَلَى يَدِهِ الْيُمْنَى ثَلاثًا، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاثًا، ثُمَّ غَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ بِيَدَيْهِ، فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ، بَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِهِ ثُمَّ ذَهَبَ بِهِمَا إِلَى قَفَاهُ، ثُمَّ رَدَّهُمَا حَتَّى رَجَعَ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي بَدَأَ مِنْهُ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ وَقَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ" .
عمرو بن یحییٰ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے (جو عمرو بن یحییٰ کے دادا ہیں) یہ کہا: کیا آپ یہ کر کے دکھا سکتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح وضو کیا کرتے تھے؟ تو سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا: جی ہاں، پھر انہوں نے وضو کا پانی منگوایا اور اپنے دائیں ہاتھ پر تین مرتبہ پانی انڈیلا، پھر انہوں نے اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا، پھر دونوں ہاتھ دو دو مرتبہ کہنیوں تک دھوئے، پھر اپنے سر کا دونوں ہاتھوں کے ذریعے مسح کیا، وہ ہاتھ آگے سے پیچھے کی طرف لے کر گئے، پھر پیچھے سے آگے کی طرف لے کر آئے، انہوں نے سر کے آگے والے حصے سے آغاز کیا تھا، پھر پیچھے گدی تک ہاتھ لے کر گئے، پھر اسے واپس اسی جگہ لے کر آئے جہاں سے آغاز کیا تھا، پھر انہوں نے اپنے دونوں پاؤں دھوئے اور یہ بات بیان کی کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1084]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 185، 186، 191، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 235، ومالك فى (الموطأ) برقم: 45، وابن الجارود فى "المنتقى"، 77، 81، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 155، 156، 157، 172، 173، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1077، 1084، 1093، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 651، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 97، وأبو داود فى (سننه) برقم: 118، والترمذي فى (جامعه) برقم: 28، 32، 47، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 405، 434، والدارقطني فى (سننه) برقم: 266، 267، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16694» «رقم طبعة با وزير 1081»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (109): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين.
49. باب سنن الوضوء - ذكر الاستحباب أن يكون مسح الرأس للمتوضئ بماء جديد غير فضل يده
وضو کی سنتوں کا بیان - اس بات کا ذکر کہ وضو کرنے والے کے لیے مستحب ہے کہ سر کا مسح نئے پانی سے ہو، نہ کہ ہاتھ کے بچے ہوئے پانی سے
حدیث نمبر: 1085
أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ حَبَّانَ بْنِ وَاسِعٍ ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ الْمَازِنِيَّ يَذْكُرُ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ فَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاثًا، وَيَدَهُ الْيُمْنَى ثَلاثًا، وَالأُخْرَى مِثْلَهَا، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ بِمَاءٍ غَيْرِ فَضْلِ يَدِهِ، وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ حَتَّى أَنْقَاهُمَا" .
حبان بن واسع اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن زید بن عاصم مازنی رضی اللہ عنہ کو یہ ذکر کرتے ہوئے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کلی کی، ناک میں پانی ڈالا پھر اپنے چہرہ مبارک کو تین مرتبہ دھویا، اپنے دائیں بازو کو تین مرتبہ دھویا اور دوسرے کو بھی اسی کی مانند (تین مرتبہ) دھویا، اپنے سر کا مسح ہاتھ پر موجود پانی کے علاوہ اضافی پانی لیے بغیر کیا اور اپنے دونوں پاؤں دھوئے یہاں تک کہ انہیں اچھی طرح صاف کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1085]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 236، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 154، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1085، وأبو داود فى (سننه) برقم: 120، والترمذي فى (جامعه) برقم: 35، والدارمي فى (مسنده) برقم: 736، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1144، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16703» «رقم طبعة با وزير 1082»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (111): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم.
50. باب سنن الوضوء - ذكر استحباب مسح المتوضئ ظاهر أذنيه في وضوئه بالإبهامين وباطنهما بالسبابتين
وضو کی سنتوں کا بیان - اس بات کا ذکر کہ وضو کرنے والے کے لیے مستحب ہے کہ وہ اپنے کانوں کی ظاہری سطح کو انگوٹھوں سے اور اندرونی سطح کو شہادت کی انگلیوں سے مسح کرے
حدیث نمبر: 1086
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ فَغَرَفَ غَرْفَةً فَغَسَلَ وَجْهَهُ، ثُمَّ غَرَفَ غَرْفَةً فَغَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى، ثُمَّ غَرَفَ غَرْفَةً فَغَسَلَ يَدَهُ الْيُسْرَى، ثُمَّ غَرَفَ غَرْفَةً فَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَأُذُنَيْهِ دَاخِلَهُمَا بِالسَّبَّابَتَيْنِ، وَخَالَفَ بِإِبْهَامَيْهِ إِلَى ظَاهِرِ أُذُنَيْهِ، فَمَسَحَ ظَاهِرَهُمَا وَبَاطِنَهُمَا، ثُمَّ غَرَفَ غَرْفَةً فَغَسَلَ رِجْلَهُ الْيُمْنَى، ثُمَّ غَرَفَ غَرْفَةً فَغَسَلَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کرتے ہوئے چلو میں پانی لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چہرے کو دھویا، پھر چلو میں پانی لیا اور اپنے دائیں بازو کو دھویا، پھر چلو میں پانی لیا اور اپنے بائیں بازو کو دھویا، پھر چلو میں پانی لیا اور اپنے سر اور دونوں کانوں کا مسح کیا، ان کے اندرونی حصے میں شہادت کی انگلیوں کے ذریعے مسح کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کے انگوٹھوں کو باہر والے حصے پر رکھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اندرونی اور بیرونی حصے کا مسح کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چلو میں پانی لیا اور اپنے دائیں پاؤں کو دھویا، پھر چلو میں پانی لیا اور بائیں پاؤں کو دھویا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1086]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 140، 157، وابن الجارود فى "المنتقى"، 76، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 148، 171، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1076، 1078، 1086، 1095،والحاكم فى (مستدركه) برقم: 523، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 80، وأبو داود فى (سننه) برقم: 133، 137، 138، والترمذي فى (جامعه) برقم: 36، 42، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 403، 411، 439،وأحمد فى (مسنده) برقم: 1914» «رقم طبعة با وزير 1083»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - مضى (1075). تنبيه!! رقم (1075) = (1078) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن، من أجل محمد بن عجلان.