صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
71. باب نواقض الوضوء - ذكر إيجاب الوضوء من المذي والاغتسال من المني
وضو کو توڑنے والی چیزوں کا بیان - اس بات کا ذکر کہ مذی سے وضو اور منی سے غسل واجب ہے
حدیث نمبر: 1107
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ الْحَذَّاءُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الرُّكَيْنُ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ عَمِيلَةَ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ قَبِيصَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ: كُنْتُ رَجُلا مَذَّاءً، فَجَعَلْتُ أَغْتَسِلُ فِي الشِّتَاءِ حَتَّى تَشَقَّقَ ظَهْرِي، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ ذُكِرَ لَهُ، فَقَالَ: " لا تَفْعَلْ، إِذَا رَأَيْتَ الْمَذْيَ فَاغْسِلْ ذَكَرَكَ، وَتَوَضَّأْ وُضُوءَكَ لِلصَّلاةِ، وَإِذَا نَضَحْتَ الْمَاءَ، فَاغْتَسِلْ" .
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں ایک ایسا شخص تھا جس کی مذی بکثرت خارج ہوتی تھی، میں اس کی وجہ سے سردی کے موسم میں غسل کرتا تھا جس کی وجہ سے میری پشت کو تکلیف لاحق ہوتی تھی۔ میں نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم ایسا نہ کرو، جب تم مذی دیکھو تو اپنی شرمگاہ کو دھو کر نماز کے وضو کی طرح وضو کرو اور جب تم پانی چھڑکو (یعنی منی خارج ہو) تو تم غسل کر لو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1107]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 132، 178، 269، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 303، وابن الجارود فى "المنتقى"، 6، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 18، 19، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1102، 1104، 1107، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 152، وأبو داود فى (سننه) برقم: 206، والترمذي فى (جامعه) برقم: 114، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 504، وأحمد فى (مسنده) برقم: 628، 673» «رقم طبعة با وزير 1104»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر (1099). تنبيه!! رقم (1099) = (1102) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح.
72. باب نواقض الوضوء - ذكر خبر فيه كالدليل على أن الوضوء لا يجب من لمس المرء ذوات المحارم
وضو کو توڑنے والی چیزوں کا بیان - اس خبر کا ذکر جس میں گویا دلیل ہے کہ محارم کو چھونے سے وضو واجب نہیں ہوتا
حدیث نمبر: 1108
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ،" أَنَّهَا كَانَتْ تَغْتَسِلُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الإِنَاءِ الْوَاحِدِ" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک ہی برتن میں غسل کر لیا کرتی تھیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1108]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 250، 261، 263، 272، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 319، 319، 321، ومالك فى (الموطأ) برقم: 139، وابن الجارود فى "المنتقى"، 64، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 236، 238، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1108، 1111، 1192، 1193، 1194، 1195، 1201، 1202، 1262، 1264، 5577، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 605، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 72، وأبو داود فى (سننه) برقم: 77، 98، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1755، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 376،والدارقطني فى (سننه) برقم: 135، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24648» «رقم طبعة با وزير 1105»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (70)، «الروض» (798 و 803)، «تعليقي على ابن خزيمة» (238 و 239): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما
73. باب نواقض الوضوء - ذكر الخبر الدال على أن الملامسة من ذوات المحارم لا توجب الوضوء
وضو کو توڑنے والی چیزوں کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ محارم سے ملامست وضو واجب نہیں کرتی
حدیث نمبر: 1109
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ :" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي وَهُوَ حَامِلٌ أُمَامَةَ بِنْتَ زَيْنَبَ ابْنَتِهِ، فَكَانَ إِذَا قَامَ حَمَلَهَا، وَإِذَا سَجَدَ وَضَعَهَا" .
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ لیتے تھے حالانکہ آپ نے سیدہ امامہ رضی اللہ عنہا کو اٹھایا ہوتا تھا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نواسی تھیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کھڑے ہوتے تھے، تو انہیں اٹھا لیتے تھے۔ جب سجدے میں جاتے تھے، تو انہیں ایک طرف (یعنی کھڑا کر دیتے تھے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1109]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 516، 5996، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 543، ومالك فى (الموطأ) برقم: 589، وابن الجارود فى "المنتقى"، 237، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 783، 784، 868، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1109، 1110، 2339، 2340، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 710، وأبو داود فى (سننه) برقم: 917، 918، 919، 920، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22955، والحميدي فى (مسنده) برقم: 426» «رقم طبعة با وزير 1106»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (851 - 853): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما.
74. باب نواقض الوضوء - ذكر الخبر الدال على نفي إيجاب الوضوء من الملامسة إذا كانت من ذوات المحارم
وضو کو توڑنے والی چیزوں کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ملامست سے وضو کی وجوب کا نفی ہوتا ہے اگر وہ محارم سے ہو
حدیث نمبر: 1110
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا قَتَادَةَ ، يَقُولُ: بَيْنَمَا نَحْنُ عَلَى بَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُلُوسٌ إِذْ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْمِلُ أُمَامَةَ بِنْتَ أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ، وَأُمُّهَا زَيْنَبُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهِيَ صَبِيَّةٌ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ عَلَى عَاتِقِهِ، يَضَعُهَا إِذَا رَكَعَ، وَيُعِيدُهَا عَلَى عَاتِقِهِ إِذَا قَامَ، حَتَّى قَضَى صَلاتَهُ، يَفْعَلُ ذَلِكَ بِهَا" .
عمرو بن سلیم زرقی بیان کرتے ہیں، انہوں نے سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا: ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے، اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ امامہ بنت ابوالعاص رضی اللہ عنہا کو اٹھایا ہوا تھا، اس بچی کی والدہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا تھیں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی تھیں، وہ ابھی کم سن بچی تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی، تو بچی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھے پر تھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو زمین پر ایک طرف (کھڑا) کر دیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ اسے کندھے پر بٹھا لیا، یہاں تک کہ اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1110]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 516، 5996، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 543، ومالك فى (الموطأ) برقم: 589، وابن الجارود فى "المنتقى"، 237، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 783، 784، 868، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1109، 1110، 2339، 2340، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 710، وأبو داود فى (سننه) برقم: 917، 918، 919، 920، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22955، والحميدي فى (مسنده) برقم: 426» «رقم طبعة با وزير 1107»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين.
75. باب نواقض الوضوء - ذكر خبر فيه كالدليل على أن الملامسة للرجل من امرأته لا يوجب الوضوء عليها
وضو کو توڑنے والی چیزوں کا بیان - اس خبر کا ذکر جس میں گویا دلیل ہے کہ مرد کا اپنی بیوی سے ملامست اس پر وضو واجب نہیں کرتا
حدیث نمبر: 1111
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَفْلَحُ بْنُ حُمَيْدٍ الأَنْصَارِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ:" إِنْ كُنْتُ لأَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ، تَخْتَلِفُ أَيْدِينَا فِيهِ وَتَلْتَقِي" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن سے غسل کیا کرتے تھے، ہمارے ہاتھ اس برتن میں الگ ہوتے تھے اور اس میں ملتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1111]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 250، 261، 263، 272، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 319، 319، 321، ومالك فى (الموطأ) برقم: 139، وابن الجارود فى "المنتقى"، 64، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 236، 238، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1108، 1111، 1192، 1193، 1194، 1195، 1201، 1202، 1262، 1264، 5577، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 605، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 72، وأبو داود فى (سننه) برقم: 77، 98، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1755، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 376،والدارقطني فى (سننه) برقم: 135، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24648» «رقم طبعة با وزير 1108»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (70)، «الروض» (798 و 803)، «التعليق على ابن خزيمة» (238 و 239): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم. أبو الطاهر هو أحمد بن عمرو بن عبد الله بن عمرو بن السرح المصري، ثقة من رجال مسلم.
حدیث نمبر: 1112
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، يَقُولُ: دَخَلْتُ عَلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ ، فَذَكَرْنَا مَا يَكُونُ مِنْهُ الْوُضُوءُ، فَقَالَ مَرْوَانُ: أَخْبَرَتْنِي بُسْرَةُ بِنْتُ صَفْوَانَ ، أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِذَا مَسَّ أَحَدُكُمْ ذَكَرَهُ، فَلْيَتَوَضَّأْ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: عَائِذٌ بِاللَّهِ أَنْ نَحْتَجَّ بِخَبَرٍ. رَوَاهُ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ وَذَوُوهُ فِي شَيْءٍ مِنْ كُتُبِنَا، لأَنَّا لا نَسْتَحِلُّ الاحْتِجَاجَ بِغَيْرِ الصَّحِيحِ مِنْ سَائِرِ الأَخْبَارِ، وَإِنْ وَافَقَ ذَلِكَ مَذْهَبَنَا، وَلا نَعْتَمِدُ مِنَ الْمَذَاهِبِ إِلا عَلَى الْمُنْتَزَعِ مِنَ الآثَارِ، وَإِنْ خَالَفَ ذَلِكَ قَوْلَ أَئِمَّتِنَا. وَأَمَّا خَبَرُ بُسْرَةَ الَّذِي ذَكَرْنَاهُ، فَإِنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ سَمِعَهُ مِنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ بُسْرَةَ، فَلَمْ يُقْنِعْهُ ذَلِكَ حَتَّى بَعَثَ مَرْوَانُ شُرْطِيًّا لَهُ إِلَى بُسْرَةَ فَسَأَلَهَا، ثُمَّ آتَاهُمْ فَأَخْبَرَهُمْ بِمِثْلِ مَا قَالَتْ بُسْرَةُ، فَسَمِعَهُ عُرْوَةُ ثَانِيًا عَنِ الشُّرْطِيِّ، عَنْ بُسْرَةَ، ثُمَّ لَمْ يُقْنِعْهُ ذَلِكَ حَتَّى ذَهَبَ إِلَى بُسْرَةَ فَسَمِعَ مِنْهَا، فَالْخَبَرُ عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ بُسْرَةَ مُتَّصِلٌ لَيْسَ بِمُنْقَطِعٍ، وَصَارَ مَرْوَانُ وَالشُّرْطِيُّ كَأَنَّهُمَا عَارِيَتَانِ يَسْقُطَانِ مِنَ الإِسْنَادِ.
عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں: میں مروان بن حکم کے پاس گیا، ہم نے وہاں اس بات کا ذکر شروع کیا کون سی صورتوں میں وضو کرنا لازم ہوتا ہے، تو مروان نے بتایا: سیدہ بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا نے مجھے یہ بات بتائی ہے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جب کوئی شخص اپنی شرم گاہ کو چھو لے، تو اسے وضو کرنا چاہیے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ہم اس بات سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں، ہم اپنی کتابوں میں کوئی ایسی روایت نقل کریں جسے مروان بن حکم یا اس جیسے افراد نے نقل کیا ہو۔ وجہ یہ ہے، ہم اس چیز کو جائز نہیں سمجھتے کہ روایات میں سے غیر مستند روایات سے استدلال کیا جائے۔ حتیٰ کہ وہ ہمارے موقف کے موافق ہی کیوں نہ ہو اور مذاہب میں سے ہم صرف ان ہی روایات پر عمل کریں گے جو مستند ہوں۔ اگرچہ وہ ہمارے ائمہ کے قول کے خلاف ہوں۔ جہاں تک سیدہ بسرہ رضی اللہ عنہا کی نقل کردہ روایت کا تعلق ہے پیچھے ہم نے ذکر کیا ہے، تو عروہ بن زبیر نے یہ روایت مروان بن حکم کے حوالے سے سیدہ بسرہ رضی اللہ عنہا سے سنی ہے، لیکن انہوں نے اس پر قناعت نہیں کی، یہاں تک کہ مروان نے اپنے ایک سپاہی کو سیدہ بسرہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بھیجا اور اس نے ان سے سوال کیا۔ پھر وہ ان لوگوں کے پاس گیا اور انہیں اس چیز کے بارے میں بتایا جو سیدہ بسرہ رضی اللہ عنہا نے بیان کی ہے۔ تو عروہ نے دوسری دفعہ یہ روایت سپاہی کے حوالے سے سیدہ بسرہ رضی اللہ عنہا سے سن لی، لیکن پھر انہوں نے اس پر بھی قناعت نہیں کی، یہاں تک کہ وہ خود سیدہ بسرہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور ان سے اس حدیث کو سنا تو یہ روایت عروہ کے حوالے سے سیدہ بسرہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے۔ یہ متصل ہے، یہ منقطع نہیں ہے۔ مروان اور اس کا سپاہی دو عاریت کے طور پر راوی ہوں گے جنہیں ان کی سند سے ساقط کر دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1112]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مالك فى (الموطأ) برقم: 127، وابن الجارود فى "المنتقى"، 16، 17، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 33، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1112، 1113، 1114، 1115، 1116، 1117، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 472،والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 163، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 159، وأبو داود فى (سننه) برقم: 181، والترمذي فى (جامعه) برقم: 82، 83، 84، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 479، والدارقطني فى (سننه) برقم: 527، 528، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22100،والحميدي فى (مسنده) برقم: 355» «رقم طبعة با وزير 1109»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (116)، «صحيح أبي داود» (175).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، رجاله رجال الصحيح، وقد صححه غير واحد من الأئمة.
76. باب نواقض الوضوء - ذكر الخبر الدال على أن عروة سمع هذا الخبر من بسرة نفسها
وضو کو توڑنے والی چیزوں کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ عروہ نے یہ خبر خود بسرہ سے سنی
حدیث نمبر: 1113
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مُسَرَّحٍ الْحَرَّانِيُّ أَبُو بَدْرٍ ، بِسَرْغَامَرْطَا مِنْ دِيَارِ مُضَرَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ حَدَّثَهُ، عَنْ بُسْرَةَ بِنْتِ صَفْوَانَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا مَسَّ أَحَدُكُمْ ذَكَرَهُ، فَلْيَتَوَضَّأْ" . قَالَ: فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عُرْوَةُ، فَسَأَلَ بُسْرَةَ، فَصَدَّقَتْهُ.
سیدہ بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب کوئی شخص اپنی شرمگاہ کو چھو لے، تو اسے وضو کرنا چاہئے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: عروہ نے اس بات کا انکار کیا ہے، پھر انہوں نے سیدہ بسرہ سے دریافت کیا تو اس خاتون نے اس بیان کی تصدیق کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1113]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مالك فى (الموطأ) برقم: 127، وابن الجارود فى "المنتقى"، 16، 17، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 33، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1112، 1113، 1114، 1115، 1116، 1117، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 472،والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 163، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 159، وأبو داود فى (سننه) برقم: 181، والترمذي فى (جامعه) برقم: 82، 83، 84، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 479، والدارقطني فى (سننه) برقم: 527، 528، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22100،والحميدي فى (مسنده) برقم: 355» «رقم طبعة با وزير 1110»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - المصدر نفسه.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
أحمد بن خالد أبو بدر، ترجمه الإمام الذهبي في «الميزان»، ونقل عن الدارقطني قوله: ليس بشيء. وأبوه ترجمه المؤلف في «الثقات» 8/ 226، وقال: مستقيم الحديث جداً. وباقي رجاله ثقات.
77. باب نواقض الوضوء - ذكر خبر ثان يصرح بأن عروة بن الزبير سمع هذا الخبر من بسرة كما ذكرناه قبل
وضو کو توڑنے والی چیزوں کا بیان - دوسری خبر کا ذکر جو واضح کرتی ہے کہ عروہ بن زبیر نے یہ خبر بسرہ سے سنی جیسا کہ ہم نے پہلے ذکر کیا
حدیث نمبر: 1114
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي رَبِيعَةُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَرْوَانَ ، عَنْ بُسْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ مَسَّ فَرْجَهُ، فَلْيَتَوَضَّأْ" . قَالَ عُرْوَةُ: فَسَأَلْتُ بُسْرَةَ ، فَصَدَّقَتْهُ..
سیدہ بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: ”جو شخص اپنی شرم گاہ کو چھو لے، تو اسے وضو کرنا چاہیے۔“ عروہ کہتے ہیں: میں نے سیدہ بسرہ رضی اللہ عنہا سے اس بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے اس بات کی تصدیق کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1114]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مالك فى (الموطأ) برقم: 127، وابن الجارود فى "المنتقى"، 16، 17، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 33، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1112، 1113، 1114، 1115، 1116، 1117، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 472،والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 163، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 159، وأبو داود فى (سننه) برقم: 181، والترمذي فى (جامعه) برقم: 82، 83، 84، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 479، والدارقطني فى (سننه) برقم: 527، 528، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22100،والحميدي فى (مسنده) برقم: 355» «رقم طبعة با وزير 1111»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي، رجاله رجال الصحيح، ابن أبي فديك: هو محمد بن إسماعيل بن مسلم بن أبي فديك الدِّيلي مولاهم المدني، روى له الجماعة.
78. باب نواقض الوضوء - ذكر الخبر الدال على أن الأمر بالوضوء من مس الفرج إنما هو الوضوء الذي لا تجوز الصلاة إلا به
وضو کو توڑنے والی چیزوں کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ فرج کو چھونے سے وضو کا حکم اس وضو سے ہے جس کے بغیر نماز جائز نہیں
حدیث نمبر: 1115
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ بُسْرَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ مَسَّ فَرْجَهُ، فَلْيُعِدِ الْوُضُوءَ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: لَوْ كَانَ الْمُرَادُ مِنْهُ غَسْلَ الْيَدَيْنِ قَالَ بَعْضُ النَّاسِ: لَمَّا قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَلْيُعِدِ الْوُضُوءَ إِذِ الإِعَادَةُ لا تَكُونُ إِلا لِلْوُضُوءِ الَّذِي هُوَ لِلصَّلاةِ.
سیدہ بسرہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص اپنی شرمگاہ کو چھو لے اسے چاہیے کہ وہ دوبارہ وضو کرے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اگر اس سے مراد دونوں ہاتھ دھونا ہوتا جس طرح بعض لوگوں نے یہ بات کہی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ نہ فرماتے: ”دوبارہ وضو کر لے“ کیونکہ دوبارہ صرف وہی وضو ہو سکتا ہے، جو نماز کے لیے کیا جائے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1115]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مالك فى (الموطأ) برقم: 127، وابن الجارود فى "المنتقى"، 16، 17، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 33، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1112، 1113، 1114، 1115، 1116، 1117، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 472،والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 163، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 159، وأبو داود فى (سننه) برقم: 181، والترمذي فى (جامعه) برقم: 82، 83، 84، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 479، والدارقطني فى (سننه) برقم: 527، 528، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22100،والحميدي فى (مسنده) برقم: 355» «رقم طبعة با وزير 1112»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما
79. باب نواقض الوضوء - ذكر خبر ثان يصرح بأن الوضوء من مس الفرج إنما هو وضوء الصلاة وإن كانت العرب تسمي غسل اليدين وضوءا
وضو کو توڑنے والی چیزوں کا بیان - دوسری خبر کا ذکر جو واضح کرتی ہے کہ فرج کو چھونے سے وضو وہ ہے جو نماز کے لیے ہے، حالانکہ عرب ہاتھ دھونے کو بھی وضو کہتے ہیں
حدیث نمبر: 1116
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ قُرَيْشٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْعَدَنِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَرْوَانَ ، عَنْ بُسْرَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ مَسَّ ذَكَرَهُ، فَلْيَتَوَضَّأْ وُضُوءَهُ لِلصَّلاةِ" .
سیدہ بسرہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: ”جو شخص اپنی شرم گاہ کو چھو لے اسے چاہیے کہ نماز کے وضو والا وضو کرے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1116]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مالك فى (الموطأ) برقم: 127، وابن الجارود فى "المنتقى"، 16، 17، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 33، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1112، 1113، 1114، 1115، 1116، 1117، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 472،والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 163، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 159، وأبو داود فى (سننه) برقم: 181، والترمذي فى (جامعه) برقم: 82، 83، 84، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 479، والدارقطني فى (سننه) برقم: 527، 528، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22100،والحميدي فى (مسنده) برقم: 355» «رقم طبعة با وزير 1113»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي.