🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
80. باب نواقض الوضوء - ذكر البيان بأن حكم الرجال والنساء فيما ذكرنا سواء
وضو کو توڑنے والی چیزوں کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ ہمارے ذکر کردہ میں مردوں اور عورتوں کا حکم برابر ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1117
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ ذَكْوَانَ الدِّمَشْقِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ نَمِرٍ الْيَحْصَبِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ بُسْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا مَسَّ أَحَدُكُمْ فَرْجَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ، وَالْمَرْأَةُ مِثْلُ ذَلِكَ" .
سیدہ بسرہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: جب کوئی شخص اپنی شرم گاہ کو چھو لے، تو اسے وضو کرنا چاہیے اور عورت بھی اسی طرح کرے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1117]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مالك فى (الموطأ) برقم: 127، وابن الجارود فى "المنتقى"، 16، 17، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 33، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1112، 1113، 1114، 1115، 1116، 1117، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 472،والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 163، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 159، وأبو داود فى (سننه) برقم: 181، والترمذي فى (جامعه) برقم: 82، 83، 84، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 479، والدارقطني فى (سننه) برقم: 527، 528، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22100،والحميدي فى (مسنده) برقم: 355» «رقم طبعة با وزير 1114»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح إلا قوله: «والمرأة مثل ذلك»؛ فإنها مدرجة - «صحيح أبي داود» -أيضا-.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
رجاله ثقات.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
81. باب نواقض الوضوء - ذكر البيان بأن الأخبار التي ذكرناها مجملة بأن الوضوء إنما يجب من مس الذكر
وضو کو توڑنے والی چیزوں کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ ہمارے ذکر کردہ اخبار مجمل ہیں کہ وضو صرف ذکر کو چھونے سے واجب ہوتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1118
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْمُعَدَّلُ ، بِالْفُسْطَاطِ، وَعِمْرَانُ بْنُ فَضَالَةَ الشَّعِيرِيُّ بِالْمَوْصِلِ، قَالا: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ ، وَنَافِعِ بْنِ أَبِي نُعَيْمٍ القارئ ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَفْضَى أَحَدُكُمْ بِيَدِهِ إِلَى فَرْجِهِ، وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا سِتْرٌ وَلا حِجَابٌ، فَلْيَتَوَضَّأْ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: احْتِجَاجُنَا فِي هَذَا الْخَبَرِ بِنَافِعِ بْنِ أَبِي نُعَيْمٍ دُونَ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ النَّوْفَلِيِّ لأَنَّ يَزِيدَ بْنَ عَبْدِ الْمَلِكِ تَبَرَّأْنَا مِنْ عُهْدَتِهِ فِي كِتَابِ الضُّعَفَاءِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب کوئی شخص اپنا ہاتھ اپنی شرمگاہ کی طرف بڑھائے اور ان دونوں کے درمیان کوئی پردہ یا رکاوٹ نہ ہو، تو اس شخص کو وضو کرنا چاہیے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں ہمارا استدلال نافع بن ابونعیم کی نقل کردہ روایت سے ہے، یزید بن عبدالملک کی نقل کردہ روایت سے نہیں ہے، کیونکہ یزید بن عبدالملک کے مستند ہونے سے ہم بری الذمہ ہیں، جیسا کہ یہ بات کتاب الضعفاء میں بیان کی گئی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1118]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1118، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 480، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 636، والدارقطني فى (سننه) برقم: 532، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8520، والطبراني فى (الصغير) برقم: 110» «رقم طبعة با وزير 1115»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الموارد» (210)، «الصحيحة» (1235).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
سنده حسن، يزيد بن عبد الملك النوفلي، ضعيف، لم يحتج به المؤلف، وذكره في كتابه «الضعفاء»، كما قال هنا، وذكره ابن عدي في «الكامل في الضعفاء» 7/ 2715، وساق له هذا الحديث، لكن أخرج المؤلف حديثه لأنه تابعه عليه نافع بن أبي نعيم القارئ، وهو صدوق، وبه احتج المؤلف كما قال.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
82. باب نواقض الوضوء - ذكر خبر أوهم عالما من الناس أنه مضاد لخبر بسرة أو معارض له
وضو کو توڑنے والی چیزوں کا بیان - اس خبر کا ذکر جو بعض عالموں کو یہ وہم دلاتی ہے کہ یہ بسرہ کی خبر کے مخالف یا اس کے معارض ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1119
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ نَصْرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُلازِمُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَدْرٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: خَرَجْنَا وَفْدًا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، مَا تَقُولُ فِي مَسِّ الرَّجُلِ ذَكَرَهُ بَعْدَمَا يَتَوَضَّأُ؟ فَقَالَ:" هَلْ هُوَ إِلا مُضْغَةٌ أَوْ بَضْعَةٌ مِنْهُ" .
قیس بن طلق اپنے والد (سیدنا طلق بن علی رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ہم لوگ وفد کی شکل میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ایک شخص آیا اس نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! اس بارے میں آپ کیا کہتے ہیں جو شخص وضو کرنے کے بعد اپنی شرمگاہ کو چھو لیتا ہے؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ (شرمگاہ) اس کے جسم کا گوشت کا ایک لوتھڑا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) ایک ٹکڑا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1119]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 20، 21، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1119، 1120، 1121، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 165، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 160، وأبو داود فى (سننه) برقم: 182، والترمذي فى (جامعه) برقم: 85، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 483، والدارقطني فى (سننه) برقم: 541، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16543» «رقم طبعة با وزير 1116»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (176).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
83. باب نواقض الوضوء - ذكر البيان بأن حكم المتعمد والناسي في هذا سواء
وضو کو توڑنے والی چیزوں کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ اس میں عمداً اور بھول کر چھونے کا حکم برابر ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1120
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ بِعَسْقَلانَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، أَخْبَرَنَا مُلازِمُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ طَلْقٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَاهُ أَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَحَدَنَا يَكُونُ فِي الصَّلاةِ فَيَحْتَكُّ فَتُصِيبُ يَدُهُ ذَكَرَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَهَلْ هُوَ إِلا بَضْعَةٌ مِنْكَ أَوْ مُضْغَةٌ مِنْكَ" .
قیس بن طلق بیان کرتے ہیں، میرے والد (طلق بن علی رضی اللہ عنہ) نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے، ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہم میں سے کوئی ایک شخص نماز کی حالت میں ہوتا ہے، اسے خارش ہوتی ہے اور اس کا ہاتھ اس کی شرمگاہ تک پہنچ جاتا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ (شرمگاہ) «بَضْعَةٌ مِنْكَ» تمہارے جسم کا ایک ٹکڑا ہے، راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں: «بَضْعَةٌ مِنْ لَحْمِكَ» تمہارے جسم کے گوشت کا ایک لوتھڑا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1120]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 20، 21، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1119، 1120، 1121، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 165، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 160، وأبو داود فى (سننه) برقم: 182، والترمذي فى (جامعه) برقم: 85، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 483، والدارقطني فى (سننه) برقم: 541، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16543» «رقم طبعة با وزير 1117»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (177).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
ابن أبي السري هو: محمد بن المتوكل بن عبد الرحمن الهاشمي، قال الحافظ في «التقريب»: صدوق عارف، له أوهام كثيرة، إلا أنه لم ينفرد به، فقد تابعه عليه غير واحد، كما مر في تخريج الحديث الذي قبله، وباقي رجاله ثقات.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
84. باب نواقض الوضوء - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن هذا ما رواه ثقة عن قيس بن طلق خلا ملازم بن عمرو
وضو کو توڑنے والی چیزوں کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ یہ خبر قیس بن طلق سے صرف ملازم بن عمرو کے علاوہ کسی ثقہ نے روایت نہیں کی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1121
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُنْذِرِ النَّيْسَابُورِيُّ ، بِمَكَّةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْفَرَّاءُ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ الرَّجُلِ يَمَسُّ ذَكَرَهُ وَهُوَ فِي الصَّلاةِ، قَالَ:" لا بَأْسَ بِهِ، إِنَّهُ لَبَعْضُ جَسَدِكَ" .
قیس بن طلق اپنے والد (رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا جو نماز میں اپنی شرم گاہ کو چھو لیتا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس میں کوئی حرج نہیں، وہ تمہارے جسم کا ایک حصہ ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1121]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 20، 21، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1119، 1120، 1121، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 165، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 160، وأبو داود فى (سننه) برقم: 182، والترمذي فى (جامعه) برقم: 85، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 483، والدارقطني فى (سننه) برقم: 541، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16543» «رقم طبعة با وزير 1118»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» - أيضا -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي. وانظر (1119).
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
85. باب نواقض الوضوء - ذكر الوقت الذي وفد طلق بن علي على رسول الله صلى الله عليه وسلم
وضو کو توڑنے والی چیزوں کا بیان - اس وقت کا ذکر جب طلق بن علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1122
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُلازِمُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَدِّي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: بَنَيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسْجِدَ الْمَدِينَةِ فَكَانَ يَقُولُ: " قَدِّمُوا الْيَمَامِي مِنَ الطِّينِ، فَإِنَّهُ مِنْ أَحْسَنِكُمْ لَهُ مَسًّا" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: خَبَرُ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ الَّذِي ذَكَرْنَاهُ خَبَرٌ مَنْسُوخٌ، لأَنَّ طَلْقَ بْنَ عَلِيٍّ كَانَ قُدُومُهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوَّلَ سَنَةٍ مِنْ سِنِيِّ الْهِجْرَةِ، حَيْثُ كَانَ الْمُسْلِمُونَ يَبْنُونَ مَسْجِدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ. وَقَدْ رَوَى أَبُو هُرَيْرَةَ إِيجَابَ الْوُضُوءِ مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ، عَلَى حَسَبِ مَا ذَكَرْنَاهُ قَبْلُ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ أَسْلَمَ سَنَةَ سَبْعٍ مِنَ الْهِجْرَةِ، فَدَلَّ ذَلِكَ عَلَى أَنَّ خَبَرَ أَبِي هُرَيْرَةَ كَانَ بَعْدَ خَبَرِ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ بِسَبْعِ سِنِينَ.
قیس بن طلق اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مسجد نبوی کی تعمیر میں حصہ لیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرمایا کرتے تھے: «قَدِّمُوا الْيَمَامِيَّ مِنَ الطِّينِ، فَإِنَّهُ أَطْوَعُكُمْ لَهُ، وَأَحْسَنُكُمْ لَهُ مَسًّا» مٹی میں سے یمامی کو آگے کرو، کیونکہ وہ کام کرنے کے اعتبار سے تم سب سے زیادہ عمدہ ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا طلق بن علی رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ روایت جو ہم نے ذکر کی ہے، یہ منسوخ حدیث ہے، سیدنا طلق بن علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہجرت کے پہلے سال آئے تھے جب مسلمان مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کی تعمیر کر رہے تھے، جبکہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے شرمگاہ کو چھونے پر وضو لازم ہونے کی حدیث نقل کی ہے، جیسا کہ ہم پہلے یہ بات ذکر کر چکے ہیں، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے سن 7 ہجری میں اسلام قبول کیا تھا، یہ بات اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ روایت، سیدنا طلق بن علی رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ روایت سے سات سال بعد کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1122]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1122، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 186، 187، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24452، 24459، والطبراني فى(الكبير) برقم: 8242، 8254» «رقم طبعة با وزير 1119»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر التعليق. * [أَحْسَنِكُمْ] قال الشيخ: في الأصل: (أحكم) والتصحيح من «الموارد» (303). * قال الشيخ: إسناده صحيح، وهو إسناد حديث البضعة الذي قبله، والحديث الَّذي بعده. وأخرجه البيهقي (1/ 135)، والطبراني في «المعجم الكبير» (8/ 399 / 8242) - من طريق ملازم ... به -، والدارقطني (1/ 148 - 149) - من طريق محمد بن جابر -، عن قيس بن طلق ... به نحوه. وعزاه الحافظ للمؤلف بلفظ الدارقطني! فَوَهِمَ.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
86. باب نواقض الوضوء - ذكر الخبر المصرح برجوع طلق بن علي إلى بلده بعد قدمته تلك
وضو کو توڑنے والی چیزوں کا بیان - اس خبر کا ذکر جو واضح کرتی ہے کہ طلق بن علی اپنی اس آمد کے بعد اپنے وطن واپس لوٹ گئے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1123
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُلازِمُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ الْحَنَفِيُّ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: خَرَجْنَا سِتَّةً وَفْدًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، خَمْسَةٌ مِنْ بَنِي حَنِيفَةَ وَرَجُلٌ مِنْ بَنِي ضُبَيْعَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، حَتَّى قَدِمْنَا عَلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَايَعْنَاهُ وَصَلَّيْنَا مَعَهُ، وَأَخْبَرْنَاهُ أَنَّ بِأَرْضِنَا بَيْعَةً لَنَا، وَاسْتَوْهَبْنَاهُ مِنْ فَضْلِ طُهُورِهِ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ مِنْهُ وَتَمَضْمَضَ، وَصَبَّ لَنَا فِي إِدَاوَةٍ، ثُمَّ قَالَ:" اذْهَبُوا بِهَذَا الْمَاءِ، فَإِذَا قَدِمْتُمْ بَلَدَكُمْ، فَاكْسِرُوا بِيعَتَكُمْ، ثُمَّ انْضَحُوا مَكَانَهَا مِنْ هَذَا الْمَاءِ، وَاتَّخِذُوا مَكَانَهَا مَسْجِدًا". فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْبَلَدُ بَعِيدٌ، وَالْمَاءُ يَنْشَفُ، قَالَ:" فَأَمِدُّوهُ مِنَ الْمَاءِ، فَإِنَّهُ لا يَزِيدُهُ إِلا طِيبًا". فَخَرَجْنَا فَتَشَاحَحْنَا عَلَى حَمْلِ الإِدَاوَةِ أَيُّنَا يَحْمِلُهَا، فَجَعَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَوْبًا لِكُلِّ رَجُلٍ مِنَّا يَوْمًا وَلَيْلَةً، فَخَرَجْنَا بِهَا حَتَّى قَدِمْنَا بَلَدَنَا فَعَمِلْنَا الَّذِي أَمَرَنَا، وَرَاهِبُ ذَلِكَ الْقَوْمِ رَجُلٌ مِنْ طَيِّئٍ، فَنَادَيْنَا بِالصَّلاةِ، فَقَالَ الرَّاهِبُ: دَعْوَةُ حَقٍّ، ثُمَّ هَرَبَ فَلَمْ يُرَ بَعْدُ . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فِي هَذَا الْخَبَرِ بَيَانٌ وَاضِحٌ أَنَّ طَلْقَ بْنَ عَلِيٍّ رَجَعَ إِلَى بَلَدِهِ بَعْدَ الْقِدْمَةِ الَّتِي ذَكَرْنَا وَقْتَهَا، ثُمَّ لا يُعْلَمُ لَهُ رُجُوعٌ إِلَى الْمَدِينَةِ بَعْدَ ذَلِكَ. فَمَنِ ادَّعَى رُجُوعَهُ بَعْدَ ذَلِكَ، فَعَلَيْهِ أَنْ يَأْتِيَ بِسُنَّةٍ مُصَرِّحَةٍ، وَلا سَبِيلَ لَهُ إِلَى ذَلِكَ.
قیس بن طلق اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ ہم چھ افراد وفد کی شکل میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، پانچ افراد کا تعلق بنو حنیفہ سے تھا اور ایک شخص کا تعلق بنو ضبیعہ بن ربیعہ سے تھا۔ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ہم نے آپ کے دستِ مبارک پر اسلام قبول کیا اور آپ کی اقتدا میں نماز ادا کی۔ ہم نے آپ کو بتایا کہ ہمارے علاقے میں ایک گرجا گھر ہے، ہم نے آپ سے یہ درخواست کی کہ آپ اپنے وضو کا بچا ہوا پانی ہمیں عنایت کریں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا، آپ نے اس کے ذریعے وضو کیا، کلی کی، پھر آپ نے ہمارے لیے ایک برتن میں پانی انڈیل دیا، پھر آپ نے ارشاد فرمایا: اس پانی کو لے جاؤ، جب تم اپنے علاقے میں جاؤ تو گرجا گھر کو توڑ دینا اور اس جگہ پر اس پانی کو چھڑک دینا اور اس جگہ پر مسجد بنا دینا۔ ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہمارا علاقہ بہت دور ہے، پانی خشک ہو جائے گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم لوگ اس میں پانی ملاتے رہنا، اس کے نتیجے میں اس کی پاکیزگی میں اضافہ ہی ہو گا۔ راوی بیان کرتے ہیں: ہم لوگ وہاں سے روانہ ہوئے، تو ہمارے درمیان اس بارے میں اختلاف ہو گیا کہ پانی کے اس برتن کو کون اٹھائے گا؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم میں سے ہر ایک شخص کے لیے ایک دن اور ایک رات کی باری مقرر کر دی۔ ہم لوگ اسے لے کر روانہ ہوئے، یہاں تک کہ اپنے علاقے میں آئے۔ ہم نے وہی کام کیا جس کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ہدایت کی تھی۔ اس قوم کا راہب طے قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص تھا، جب ہم نے نماز کے لیے اذان دی تو راہب نے کہا: یہ حق کی دعوت ہے، پھر وہ بھاگ گیا، اس کے بعد وہ نظر نہیں آیا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں اس بات کا واضح بیان موجود ہے، سیدنا طلق بن علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری کے بعد اپنے علاقے واپس چلے گئے تھے۔ یہ اس وقت کی بات ہے، جس کا ہم نے ذکر کیا ہے۔ اس کے بعد ان کے دوبارہ مدینہ منورہ میں آنے کے بارے میں پتا نہیں چل سکا۔ جو شخص ان کے دوبارہ مدینہ منورہ میں آنے کا دعویٰ کرتا ہے اس پر یہ بات لازم ہے کہ وہ کوئی ایسی حدیث بیان کرے جس میں اس بات کی صراحت موجود ہو اور یہ حدیث اسے مل نہیں سکتی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1123]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1123، 1602، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 700، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 782، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16551، 24451، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 4905، والطبراني فى(الكبير) برقم: 8241» «رقم طبعة با وزير 1120»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (2582)، وانظر التعليق المتقدم.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، وتقدم مختصراً برقم (1119).
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
87. باب نواقض الوضوء - ذكر الأمر بالوضوء من أكل لحم الجزور ضد قول من نفى عنه ذلك
وضو کو توڑنے والی چیزوں کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ اونٹ کے گوشت کے کھانے سے وضو کیا جائے، اس کے برخلاف جو اس کا انکار کرتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1124
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، أَنَّ رَجُلا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الْغَنَمِ؟ قَالَ:" إِنْ شِئْتَ فَتَوَضَّأْ، وَإِنْ شِئْتَ فَلا تَتَوَضَّأْ". قَالَ: أَنَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الإِبِلِ؟ قَالَ:" نَعَمْ". قَالَ: أُصَلِّي فِي مَبَارِكِ الإِبِلِ؟ قَالَ:" لا" .
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: یا رسول اللہ! کیا ہم بکری کا گوشت کھا کر وضو کر لیا کریں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم چاہو، تو وضو کر لو اور اگر تم چاہو، تو وضو نہ کرو۔ اس شخص نے عرض کی: کیا ہم اونٹوں کا گوشت کھا کر وضو کر لیا کریں؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جی ہاں۔ اس نے دریافت کیا: کیا میں اونٹوں کے باڑے میں نماز ادا کر لیا کروں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1124]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 360، 360، وابن الجارود فى "المنتقى"، 27، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 31، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1124، 1125، 1126، 1127، 1154، 1156، 1157، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 495،وأحمد فى (مسنده) برقم: 21143» «رقم طبعة با وزير 1121»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (118): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، رجاله رجال الصحيح خلا بشر بن معاذ العقدي وهو صدوق، أبو عوانة: هو الوضاح بن عبد الله اليشكري، وهو في صحيح ابن خزيمة برقم (31).
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1125
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ:" أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَتَوَضَّأَ مِنْ لُحُومِ الإِبِلِ، وَلا نَتَوَضَّأَ مِنْ لُحُومِ الْغَنَمِ" .
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ہدایت کی تھی: اونٹوں کا گوشت کھا کر وضو کیا کریں اور ہم بکری کا گوشت کھا کر وضو نہ کریں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1125]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 360، 360، وابن الجارود فى "المنتقى"، 27، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 31، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1124، 1125، 1126، 1127، 1154، 1156، 1157، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 495،وأحمد فى (مسنده) برقم: 21143» «رقم طبعة با وزير 1122»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح كسابقه.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
88. باب نواقض الوضوء - ذكر خبر أوهم غير المتبحر في صناعة الحديث أن هذا الخبر معلول
وضو کو توڑنے والی چیزوں کا بیان - اس خبر کا ذکر جو حدیث کی صنعت میں مہارت نہ رکھنے والے کو یہ وہم دلاتی ہے کہ یہ خبر معیوب ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1126
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ثَوْرِ بْنَ عِكْرِمَةَ بْنِ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الصَّلاةِ فِي مَبَاتِ الْغَنَمِ، فَرَخَّصَ فِيهَا، وَسُئِلَ عَنِ الصَّلاةِ فِي مَبَاتِ الإِبِلِ فَنَهَى عَنْهَا، وَسُئِلَ عَنِ الْوُضُوءِ مِنْ لُحُومِ الْغَنَمِ، فَقَالَ:" إِنْ شِئْتَ فَتَوَضَّأْ، وَإِنْ شِئْتَ فَلا تَتَوَضَّأْ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَبُو ثَوْرِ بْنُ عِكْرِمَةَ بْنِ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ اسْمُهُ: جَعْفَرٌ، وَكُنْيَةُ أَبِيهِ: أَبُو ثَوْرٍ، فَجَعْفَرُ بْنُ أَبِي ثَوْرٍ هُوَ: أَبُو ثَوْرِ بْنُ عِكْرِمَةَ بْنِ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، رَوَى عَنْهُ عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، وَأَشْعَثُ بْنُ أَبِي الشَّعْثَاءِ، وَسِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ. فَمَنْ لَمْ يُحْكِمْ صِنَاعَةَ الْحَدِيثِ تَوَهَّمَ أَنَّهُمَا رَجُلانِ مَجْهُولانِ، فَتَفَهَّمُوا رَحِمَكُمُ اللَّهُ كَيْلا تُغَالِطُوا فِيهِ.
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بکریوں کے باڑے میں نماز ادا کرنے کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کی اجازت دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اونٹوں کے باڑے کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بکری کا گوشت کھا کر وضو کرنے کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر تم چاہو، تو وضو کر لو اگر تم چاہو، تو وضو نہ کرو۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابوثور بن عکرمہ بن جابر بن سمرہ، ان کا نام جعفر ہے۔ ان کے والد کی کنیت ابوثور ہے۔ جعفر بن ابوثور جو ہیں، وہ ابوثور بن عکرمہ بن جابر بن سمرہ ہیں۔ ان کے حوالے سے عثمان بن عبداللہ بن موہب، اشعث بن ابوشعثاء، سماک بن حرب نے احادیث نقل کی ہیں۔ جو شخص علم حدیث میں مہارت نہیں رکھتا، وہ اس غلط فہمی کا شکار ہوا کہ یہ دو مجہول آدمی ہیں۔ اس لیے آپ اس بات کا فہم حاصل کر لیں، اللہ آپ پر رحم کرے، تاکہ آپ اس بارے میں کسی غلط فہمی کا شکار نہ ہوں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1126]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 360، 360، وابن الجارود فى "المنتقى"، 27، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 31، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1124، 1125، 1126، 1127، 1154، 1156، 1157، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 495،وأحمد فى (مسنده) برقم: 21143» «رقم طبعة با وزير 1123»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں