صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
- باب
حدیث نمبر: 5080
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، وَعَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ طَلَبَ حَقًّا فَلْيَطْلُبْهُ فِي عَفَافٍ، وَافٍ أَوْ غَيْرَ وَافٍ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَفَافٍ، شَرْطٌ أُرِيدَ بِهِ الزَّجْرُ عَنْ ضِدِّ الْعَفَافِ مِمَّا لا يَحِلُّ اسْتِعْمَالُهُ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص حق کا مطالبہ کرے اسے نرمی کے ساتھ اس کا مطالبہ کرنا چاہیے خواہ وہ پورا ملے یا پورا نہ ملے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”نرمی کے ہمراہ کرنا چاہیے“ یہ ایک ایسی شرط ہے جس کے ذریعے ممانعت مراد لی گئی ہے جو اس چیز سے ممانعت ہے جو نرمی کی متضاد ہوتی ہے، جس پر عمل کرنا جائز نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الدعوى/حدیث: 5080]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5080، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2251، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2421، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11092، والبزار فى (مسنده) برقم: 5994، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 124» «رقم طبعة با وزير 5057»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - «المشكاة» (2919)، «الإرواء» (1434)، «البيوع».
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي
2. ذكر العلة التي من أجلها أمر بهذا الأمر-
- اس علت (حکمت) کا بیان جس کی بنا پر اس حکم کا دیا جانا واقع ہوا۔
حدیث نمبر: 5081
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ مِنْ كِتَابِهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ الْكَوْسَجُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو مَعْبَدٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: لَمَّا بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ، فَقَالَ: " إِنَّكَ سَتَأْتِي قَوْمًا أَهْلَ كِتَابٍ، فَإِذَا جِئْتَهُمْ فَادْعُهُمْ إِلَى أَنْ يَشْهَدُوا أَنَّ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، فَإِذَا أَطَاعُوا لَكَ بِذَلِكَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ فَرَضَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٍ خَمْسًا فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لَكَ بِذَلِكَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا فَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ فَتُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ، فَإِنْ أَطَاعُوا لَكَ بِذَلِكَ فَإِيَّاكَ وَكَرَائِمَ أَمْوَالِهِمْ، وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ، فَإِنَّهُ لَيْسَ بَيْنَ اللَّهِ وَبَيْنَهُ حِجَابٌ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اہل کتاب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے پاس جا رہے ہو، تم ان کے پاس جاؤ تو اس بات کی دعوت دو کہ وہ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، اور اگر وہ اس بارے میں تمہاری بات مان لیں تو انہیں بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر روزانہ پانچ نمازیں فرض کی ہیں، اس بارے میں بھی اگر تمہاری بات مان لیں تو انہیں بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر زکاۃ فرض کی ہے جو ان کے خوشحال لوگوں سے وصول کی جائے گی اور ان کے غریب لوگوں کی طرف لوٹا دی جائے گی۔ اگر وہ اس بارے میں بھی تمہاری بات مان لیں تو تم لوگوں کے عمدہ مال حاصل کرنے سے بچنا اور مظلوم کی بددعا سے بچنا کیونکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے درمیان کوئی حجاب نہیں ہوتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الدعوى/حدیث: 5081]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1395، 1458، 1496، 2448، 4347، 7371، 7372، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 19، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2275، 2346، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 156، 2419، 5081، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2434، 2521، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 2226، 2313، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1584، والترمذي فى (جامعه) برقم: 625، 2014، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1783،والدارقطني فى (سننه) برقم: 2058، 2059، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2100، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 9924» «رقم طبعة با وزير 5058»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1412): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
3. ذكر ما يجب للمدعي عندما يدعي من الحقوق على غيره-
- اس بات کا بیان کہ مدعی کے لیے اپنے دعوے میں کیا حقوق ثابت ہوتے ہیں جب وہ کسی دوسرے پر کوئی حق جتائے۔
حدیث نمبر: 5082
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنِ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أَنَّ امْرَأَتَيْنِ كَانَتَا تَخْرُزَانِ لَيْسَ مَعَهُمَا فِي الْبَيْتِ غَيْرَهُمَا، فَخَرَجَتْ إِحْدَاهُمَا، قَدْ طُعِنَ فِي بَطْنِ كَفِّهَا بِإِشْفَى خَرَجَ مِنْ ظَهْرِ كَفِّهَا، تَقُولُ: طَعَنَتْهَا صَاحِبَتُهَا، وَتُنْكِرُ الأُخْرَى، فَأَرْسَلَتْ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فِيهِمَا، فَأَخْبَرَتْهُ الْخَبَرَ، فَقَالَ: لا تُعْطِي شَيْئًا إِلا بِالْبَيِّنَةِ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَوْ يُعْطَى النَّاسُ بِدَعْوَاهُمْ، لادَّعَى رِجَالٌ أَمْوَالَ رِجَالٍ وَدِمَاءَهُمْ، وَلَكِنَّ الْيَمِينَ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ"، فَادْعُهَا، فَاقْرَأْ عَلَيْهَا الْقُرْآنَ، وَاقْرَأْ: إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا سورة آل عمران آية 77، فَفَعَلْتُ، فَاعْتَرَفَتْ .
ابن ابی ملیکہ بیان کرتے ہیں: دو خواتین گھر میں اکیلی تھیں، گھر میں ان دونوں کے علاوہ اور کوئی نہیں تھا، ان دونوں میں سے ایک گھر سے باہر نکلی تو اس کے پیٹ میں نیزہ مارا جا چکا تھا جو اس کی کمر کی طرف سے باہر نکل آیا تھا۔ اس عورت نے یہ بتایا کہ دوسری عورت نے اسے یہ نیزہ مارا ہے جبکہ دوسری عورت نے اس کا انکار کیا، میں نے یہ مقدمہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بھیج دیا، اس عورت نے انہیں اس بارے میں بتایا تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تم صرف ثبوت پیش کرو کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”اگر لوگوں کو ان کے دعویٰ جات کی بنیاد پر دینا شروع کر دیا جائے تو کچھ لوگ دوسرے لوگوں کے مال اور جانوں کے بارے میں دعویٰ کرنا شروع کر دیں گے، جس شخص کے خلاف دعویٰ کیا گیا ہے اس پر قسم اٹھانا لازم ہے۔“ تم اس عورت کو بلاؤ، اس کے سامنے قرآن کی تلاوت کرو اور یہ آیت پڑھو: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا﴾ [سورة آل عمران: 77] ”بے شک وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے عہد اور اپنی قسموں کے عوض تھوڑی قیمت حاصل کر لیتے ہیں۔“ پھر میں نے ایسا ہی کیا تو (اس عورت نے) اپنے جرم کا اعتراف کر لیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الدعوى/حدیث: 5082]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2514، 2668، 4552، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1711، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5082، 5083، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5440، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3619، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1342، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2321، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10912، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4312، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3249» «رقم طبعة با وزير 5059»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (8/ 264 / 2641)، «البيوع»: خ.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
4. ذكر ما يجب على المدعى عليه عند عدم بينة المدعي بما يدعي-
- اس بات کا بیان کہ مدعى علیہ پر کیا لازم ہے جب مدعی کے پاس اپنے دعوے پر کوئی گواہی موجود نہ ہو۔
حدیث نمبر: 5083
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَوْ يُعْطَى النَّاسُ بِدَعْوَاهُمْ لادَّعَى النَّاسُ دِمَاءَ رِجَالٍ وَأَمْوَالَهُمْ، وَلَكِنَّ الْيَمِينَ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اگر لوگوں کو ان کے دعویٰ کی بنیاد پر دینا شروع کر دیا جائے تو لوگ دوسرے لوگوں کی جانوں اور مالوں کے بارے میں دعویٰ کرنے لگ جائیں گے، اس لیے جس شخص کے خلاف دعویٰ کیا گیا ہے، اس پر قسم اٹھانا لازم ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الدعوى/حدیث: 5083]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2514، 2668، 4552، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1711، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5082، 5083، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5440، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3619، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1342، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2321، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10912، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4312، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3249» «رقم طبعة با وزير 5060»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - المصدر نفسه: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
5. ذكر الإخبار عن إيجاب غضب الله جل وعلا لمن أخذ مال أخيه المسلم باليمين الفاجرة-
- اس خبر کا بیان کہ جو شخص جھوٹی قسم کھا کر اپنے مسلمان بھائی کا مال لے، اس پر اللہ جل وعلا کا غضب واجب ہو جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 5084
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ هُوَ فِيهَا فَاجِرٌ لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالا، لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ غَضْبَانُ، وَنَزَلَ تَصْدِيقُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ: إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ سورة آل عمران آية 77" الآيَةَ ، فَمَرَّ الأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ وَهُمْ يَتَحَدَّثُونَ بِهَذَا الْحَدِيثِ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: مَا يَقُولُ ابْنُ أُمِّ عَبْدٍ؟ فَأَخْبَرُوهُ، فَقَالَ: صَدَقَ، إِنَّمَا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ فِيَّ وَفِي صَاحِبِي فِي بِئْرٍ ادَّعَيْتُهَا، وَلَمْ يَكُنْ لأَحَدٍ مِنَّا بَيِّنَةٌ فَحَلَفَ عَلَيْهَا، فَذَكَرَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا، عِنْدَ ذَلِكَ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص کوئی قسم اٹھائے اور وہ اس میں جھوٹا ہو اور اس کا مقصد یہ ہو کہ اس کے ذریعے وہ مال ہتھیا لے تو جب وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا تو اللہ تعالیٰ اس پر غضب ناک ہو گا۔“ تو اس کی تصدیق میں اللہ تعالیٰ کی کتاب میں یہ آیت نازل ہوئی: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا﴾ [سورة آل عمران: 77] ”بے شک وہ لوگ جو اللہ کے نام کے عہد کے عوض میں خریدتے ہیں۔“ اسی دوران سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ وہاں سے گزرے، وہ لوگ مسجد میں اس حدیث کے بارے میں بات چیت کر رہے تھے۔ انہوں نے دریافت کیا: ابنِ امِ عبد کیا بیان کر رہے ہیں؟ لوگوں نے انہیں اس بارے میں بتایا تو انہوں نے فرمایا: انہوں نے سچ کہا ہے، یہ آیت میرے اور میرے ایک مقابل فریق کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ ہمارا ایک کنوئیں کے بارے میں اختلاف تھا جس کا میں دعویدار تھا، ہم میں سے کسی کے پاس کوئی ثبوت نہیں تھا، تو اس شخص نے اس بارے میں قسم اٹھا لی تھی، تو اس موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ذکر کیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الدعوى/حدیث: 5084]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2356، 2416، 2515، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 138، 2184، وابن الجارود فى "المنتقى"، 997، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 583، 4160، 4161، 5084، 5085، 5086، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2150، 3243، 4851، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1269، 2792، 2825، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2323، 3775، وسعيد بن منصور فى (سننه) ترقيم الدرالسلفية برقم:، 503، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3630» «رقم طبعة با وزير 5061»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (2638)، «البيوع»: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي
6. باب الاستحلاف - ذكر إيجاب غضب الله جل وعلا للمقتطع شيئا من مال أخيه المسلم باليمين الفاجرة-
قسم دلوانے کا بیان - اس بات کا بیان کہ جھوٹی قسم کے ذریعے مسلمان بھائی کا مال لینے والے پر اللہ جل وعلا کا غضب واجب ہے۔
حدیث نمبر: 5085
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْعُمَرِيُّ بِالْمَوْصِلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينِ صَبْرٍ كَاذِبًا لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ أَخِيهِ، لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ، وَذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ، يَقُولُ: إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا سورة آل عمران آية 77" إِلَى آخِرِ الآيَةِ .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص کوئی جھوٹی قسم اٹھاتا ہے تاکہ اس کے ذریعے اپنے بھائی کا مال ہڑپ کر لے، جب وہ اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا تو اللہ تعالیٰ اس پر غضب ناک ہو گا۔“ (سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) اس کی تائید اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے ہوتی ہے: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا﴾ [سورة آل عمران: 77] ”بے شک وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے نام کے عہد اور اس کے نام کی قسم کے عوض میں تھوڑی قیمت حاصل کر لیتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الدعوى/حدیث: 5085]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2356، 2416، 2515، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 138، 2184، وابن الجارود فى "المنتقى"، 997، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 583، 4160، 4161، 5084، 5085، 5086، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2150، 3243، 4851، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1269، 2792، 2825، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2323، 3775، وسعيد بن منصور فى (سننه) ترقيم الدرالسلفية برقم:، 503، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3630» «رقم طبعة با وزير 5062»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الروض النضير» (240 و 640)، «الإرواء» (2638)، «البيوع»: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن
7. باب الاستحلاف - ذكر السبب الذي من أجله أنزل الله جل وعلا هذه الآية-
قسم دلوانے کا بیان - اس سبب کا بیان جس کی وجہ سے اللہ جل وعلا نے یہ آیت نازل فرمائی۔
حدیث نمبر: 5086
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ وَهُوَ فِيهَا فَاجِرٌ، لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ" ، فَقَالَ الأَشْعَثُ: فِيَّ وَاللَّهِ كَانَ ذَلِكَ، كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ أَرْضٌ فَجَحَدَنِي، فَقَدَّمْتُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَكَ بَيِّنَةٌ؟" قُلْتُ: لا، قَالَ لِلْيَهُودِيِّ:" احْلِفْ"، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِذًا يَحْلِفُ، فَيَذْهَبُ بِمَالِي، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا سورة آل عمران آية 77 إِلَى آخِرِ الآيَةِ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص جھوٹی قسم کھا کر کسی حق کو دبائے یا حاصل کرے، وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس پر غضبناک ہوگا۔“ یہ سن کر سیدنا اشعث رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! یہ واقعہ تو میرے ہی ساتھ پیش آیا تھا۔ میرے اور ایک یہودی کے درمیان ایک زمین کا جھگڑا تھا۔ اس نے اس زمین کا انکار کر دیا، تو میں اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس کوئی گواہ ہے؟“ میں نے عرض کیا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس یہودی سے فرمایا: ”تو قسم کھا لے۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر یہ قسم کھا لے گا تو میری زمین تو یہ یوں ہی لے جائے گا! پس اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا﴾ [سورة آل عمران: 77] ”بے شک وہ لوگ جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے بدلے تھوڑی قیمت خرید لیتے ہیں…“ (آیت کے آخر تک) [صحیح ابن حبان/كتاب الدعوى/حدیث: 5086]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2356، 2416، 2515، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 138، 2184، وابن الجارود فى "المنتقى"، 997، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 583، 4160، 4161، 5084، 5085، 5086، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2150، 3243، 4851، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1269، 2792، 2825، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2323، 3775، وسعيد بن منصور فى (سننه) ترقيم الدرالسلفية برقم:، 503، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3630» «رقم طبعة با وزير 5063»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما
8. باب الاستحلاف - ذكر تحريم الله جل وعلا الجنة مع إيجاب النار للفاعل الفعل الذي ذكرناه وإن كان القصد فيه الشيء اليسير من الأموال-
قسم دلوانے کا بیان - اس بات کا بیان کہ اللہ جل وعلا نے اس فعل کے مرتکب پر جنت حرام اور جہنم واجب قرار دی، چاہے مال قلیل ہی کیوں نہ ہو۔
حدیث نمبر: 5087
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَكِيمُ بْنُ سَيْفٍ الرَّقِّيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبٍ ، عَنْ أَخِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَاجِرَةٍ يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِغَيْرِ حَقٍّ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ، وَأَوْجَبَ لَهُ النَّارَ، قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ: وَإِنْ كَانَ شَيْئًا يَسِيرًا؟ قَالَ: وَإِنْ كَانَ قَضِيبًا، مِنْ أَرَاكٍ" .
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص جھوٹی قسم کھا کر کسی مسلمان کا مال ناحق طور پر ہتھیانا چاہے، اللہ تعالیٰ اس پر جنت کو حرام کر دیتا ہے اور اس کے لیے جہنم لازم کر دیتا ہے۔“ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! اگر وہ مال بہت تھوڑا ہو تب بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! چاہے وہ اراک کی لکڑی (مسواک کی ایک معمولی چھڑی) ہی کیوں نہ ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الدعوى/حدیث: 5087]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 137، ومالك فى (الموطأ) برقم: 2693، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5087، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5434، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2324، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 20768، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22669» «رقم طبعة با وزير 5064»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الروض النضير» (240): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده جيد
9. باب الاستحلاف - ذكر البيان بأن من فعل هذا الفعل ليذهب به مال أخيه يلقى ربه يوم القيامة وهو أجذم-
قسم دلوانے کا بیان - اس وضاحت کا بیان کہ جو شخص یہ فعل اپنے بھائی کا مال ہتھیانے کے لیے کرے، وہ قیامت کے دن اپنے رب سے اس حال میں ملے گا کہ اس کا ہاتھ کٹا ہوا ہوگا۔
حدیث نمبر: 5088
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ كُرْدُوسٍ التَّغْلِبِيِّ عَنِ الأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينِ صَبْرٍ لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ وَهُوَ فِيهَا فَاجِرٌ لَقِيَ اللَّهَ أَجْذَمَ" .
سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص جھوٹی قسم اٹھا کر اس کے ذریعے مسلمان کا مال ہڑپ کرنا چاہتا ہے اور وہ شخص اس قسم میں جھوٹا ہو، تو جب وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوگا تو وہ «أَجْذَمُ» ”جذام کا شکار“ ہوگا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الدعوى/حدیث: 5088]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2416، 2515، 2676،ومسلم فى (صحيحه) برقم: 138، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1080، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5088، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7900، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3244، 3621، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2996، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2322، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 20764، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3667» «رقم طبعة با وزير 5065»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف بلفظ: «أجذم»، وصح بلفظ: «وهو عليه غضبان» - «الإرواء» (8/ 262 - 263).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن
10. باب عقوبة الماطل - ذكر استحقاق الماطل إذا كان غنيا للعقوبة في النفس والعرض لمطله-
ٹال مٹول کرنے والے کی سزا کا بیان - اس بات کا بیان کہ مالدار شخص اگر ادائیگی میں ٹال مٹول کرے تو وہ جانی اور عزتی سزا کا مستحق ہے۔
حدیث نمبر: 5089
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَبْرُ بْنُ أَبِي دُلَيْلَةَ الطَّائِفِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونِ بْنِ مُسَيْكَةَ ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ خَيْرًا، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِي: " الْوَاجِدُ يُحِلُّ عِرْضُهُ وَعُقُوبَتُهُ" .
عمرو بن شريد اپنے والد رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”(قرض کی واپسی کے لیے اپنے پاس گنجائش) پانے والا شخص (ٹال مٹول کر کے) اپنی عزت اور سزا کو حلال کر دیتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الدعوى/حدیث: 5089]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5089، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7157، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4703، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3628، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2427، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11396، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18229» «رقم طبعة با وزير 5066»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - «الإرواء» (1434).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن