صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
11. ذكر خبر ثان يصرح بأن الدار المعمرة إنما هي للمعمر له دون المعمر إياه-
- دوسری خبر کا بیان جو صراحتاً واضح کرتی ہے کہ معمر شدہ مکان معمر لہ کے لیے ہوتا ہے، نہ کہ معمر کرنے والے کے لیے۔
حدیث نمبر: 5136
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِلأَنْصَارِ: " لا تُعْمِرُوا أَمْوَالَكُمْ، فَمَنْ أُعْمِرَ شَيْئًا حَيَاتَهُ فَهُوَ لَهُ وَلِوَرَثَتِهِ إِذَا مَاتَ" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے فرمایا: ”تم اپنے اموال کو عمریٰ کے طور پر نہ دو کیونکہ جو چیز کسی کو زندگی میں عمریٰ کے طور پر دی جائے وہ اس کی ملکیت ہو گی اور اس کے مرنے پر اس کے ورثاء کو ملے گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقبى والعمرى/حدیث: 5136]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2626، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1625، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1060، 1063، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5127، 5128، 5129، 5136، 5140، 5141، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3730، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3556، 3558، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1351، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2383، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12092، وأحمد فى (مسنده) برقم: 9677، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1293» «رقم طبعة با وزير 5114»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح لغيره - «الإرواء» (1609).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده على شرط مسلم
12. ذكر البيان بأن الدار التي أعمرت لا ترجع إلى الذي أعمرها وإن مات الذي أعمرت له-
- اس وضاحت کا بیان کہ «عمرٰی» میں دی گئی جائیداد واپس دینے والے کو نہیں لوٹتی، چاہے معمر لہ فوت ہی کیوں نہ ہو جائے۔
حدیث نمبر: 5137
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَيُّمَا رَجُلٍ أُعْمِرَ عُمْرَى لَهُ وَلِعَقِبِهِ، فَإِنَّهَا لِلَّذِي أُعْطِيَهَا لا تَرْجِعُ إِلَى الَّذِي أَعْطَاهَا، لأَنَّهُ أَعْطَى عَطِيَّةً وَقَعَتْ فِيهَا الْمَوَارِيثُ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جس شخص کو عمریٰ کے طور پر کوئی چیز دی گئی وہ اس کی ملکیت ہوگی اور اس کے پسماندگان کی ہوگی کیونکہ یہ اس کی ملکیت ہے جسے دی گئی تھی، جس نے دی تھی وہ اسے واپس نہیں لے سکتا کیونکہ اس نے ایک ایسا عطیہ دیا ہے جس میں وراثت کے احکام جاری ہوں گے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقبى والعمرى/حدیث: 5137]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2625، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1625، ومالك فى (الموطأ) برقم: 2797، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1061، 1062، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5130، 5135، 5137، 5138، 5139، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3743، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3550، 3551، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1350، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2380، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12080، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14347» «رقم طبعة با وزير 5115»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (1607): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
13. ذكر وصف العمرى التي زجر عن استعمالها-
- اس عمرٰی کی صفت کا بیان جس کے استعمال سے روکا گیا ہے۔
حدیث نمبر: 5138
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ أَعْمَرَ رَجُلا عُمْرَى لَهُ وَلِعَقِبِهِ، فَقَدْ قَطَعَ قَوْلُهُ حَقَّهُ مِنْهَا وَهِيَ لِمَنْ أُعْمِرَ وَلِعَقِبِهِ" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص عمریٰ کے طور پر کسی کو کوئی چیز دیتا ہے تو وہ اس دوسرے شخص کی اور اس کے پسماندگان کی ملکیت ہو گی، (دینے والے نے) اپنے قول کے ذریعے اس چیز میں سے اپنے حق کو الگ کر دیا ہے، یہ اس شخص کی ملکیت ہو گی جسے عمریٰ کے طور پر دی گئی اور اس کے ورثاء کی ملکیت ہو گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقبى والعمرى/حدیث: 5138]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2625، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1625، ومالك فى (الموطأ) برقم: 2797، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1061، 1062، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5130، 5135، 5137، 5138، 5139، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3743، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3550، 3551، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1350، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2380، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12080، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14347» «رقم طبعة با وزير 5116»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - وهو مكرر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
14. ذكر البيان بأن إعمار المرء داره في حياته من غير ذكر ورثته بعده لا تكون العمرى للمعمر له-
- اس وضاحت کا بیان کہ اگر کوئی شخص اپنی زندگی میں اپنی جائیداد کو «عمرٰی» کے طور پر دے اور اپنے ورثاء کا ذکر نہ کرے تو وہ عمرٰی معمر لہ کے لیے نہیں ہوتی۔
حدیث نمبر: 5139
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: إِنَّمَا الْعُمْرَى الَّتِي أَجَازَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ يَقُولَ: " هِيَ لَكَ وَلِعَقِبِكَ مِنْ بَعْدِكَ، فَأَمَّا إِذَا قَالَ: هِيَ لَكَ مَا عِشْتَ، فَإِنَّهَا تَرْجِعُ إِلَى صَاحِبِهَا" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: وہ عمریٰ جسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جائز قرار دیا ہے اس سے مراد یہ کہنا ہے: ”یہ تمہاری ہوئی اور تمہارے بعد تمہارے پس ماندگان کی ہوئی“۔ جہاں تک یہ کہنے کا تعلق ہے: ”جب تک تم زندہ رہو گے یہ تمہاری ہوئی“، تو پھر اس چیز کا مالک اس کو واپس لے سکتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقبى والعمرى/حدیث: 5139]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2625، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1625، ومالك فى (الموطأ) برقم: 2797، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1061، 1062، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5130، 5135، 5137، 5138، 5139، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3743، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3550، 3551، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1350، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2380، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12080، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14347» «رقم طبعة با وزير 5117»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (1612): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما
15. ذكر البيان بأن قوله صلى الله عليه وسلم ولعقبه أراد به بعد موته-
- اس وضاحت کا بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان «ولعقبه» سے مراد وفات کے بعد (ورثاء کے لیے) ہے۔
حدیث نمبر: 5140
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ أُعْمِرَ شَيْئًا فَهُوَ لَهُ حَيَاتَهُ وَبَعْدَ مَوْتِهِ" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جس شخص کو عمریٰ کے طور پر کوئی چیز دی گئی ہو وہ اس کی زندگی میں اور اس کے مرنے کے بعد اس کی ملکیت شمار ہو گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقبى والعمرى/حدیث: 5140]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2626، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1625، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1060، 1063، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5127، 5128، 5129، 5136، 5140، 5141، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3730، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3556، 3558، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1351، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2383، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12092، وأحمد فى (مسنده) برقم: 9677، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1293» «رقم طبعة با وزير 5118»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح لغيره - انظر الحديث (5114). تنبيه!! رقم (5114) = (5136) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
16. ذكر العلة التي من أجلها زجر عن استعمال العمرى-
- اس علت کا بیان جس کی وجہ سے «عمرٰی» کے استعمال سے روکا گیا۔
حدیث نمبر: 5141
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمْسِكُوا عَلَيْكُمْ أَمْوَالَكُمْ وَلا تُعْمِرُوهَا، فَإِنَّهُ مَنْ أُعْمِرَ شَيْئًا فَهُوَ لَهُ حَيَاتَهُ، وَلِوَرَثَتِهِ إِذَا مَاتَ" ، قَالَ الشَّيْخُ أَبُو حَاتِمٍ: زَجَرَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّذْرِ وَالْعُمْرَى وَالرُّقْبَى كَانَ لِعِلَّةٍ مَعْلُومَةٍ، وَهِيَ إِبْقَاؤُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ فِي أَمْوَالِهِمْ، لا أَنَّ اسْتِعْمَالَ هَذِهِ الأَشْيَاءِ جَائِزٌ إِذَا كَانَ طَاعَةً لا مَعْصِيَةً، وَذَاكَ أَنَّ الصَّحَابَةَ قَطَنُوا الْمَدِينَةَ وَلا مَالَ لَهُمْ بِهَا، فَكَرِهَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُمُ الرُّقْبَى وَالْعُمْرَى إِبْقَاءً عَلَى أَمْوَالِهِمْ لِلضَّرُورَةِ الْوَاقِعَةِ الَّتِي كَانَتْ بِهِمْ، لا أَنَّهُمَا لا يَجُوزُ اسْتِعْمَالُهُمَا".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اپنے اموال اپنے پاس رکھو انہیں عمریٰ کے طور پر نہ دو کیونکہ جس شخص کو عمریٰ کے طور پر کوئی چیز دی جائے وہ اس کی زندگی میں اس کی ملکیت ہو گی اور اس کے مرنے کے بعد اس کے ورثاء کو ملے گی۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نذر ماننے اور عمریٰ اور رقبیٰ کے طور پر کوئی چیز دینے سے منع کیا ہے جس کی ایک متعین علت ہے اور وہ یہ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کے اموال ان کے پاس رہنے دینا چاہتے تھے۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے: ان تین چیزوں پر عمل کرنا جائز نہیں ہے جب کہ وہ فرمانبرداری کے کاموں میں ہوں معصیت کے طور پر نہ ہوں، اس کی وجہ یہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے مدینہ منورہ میں رہائش اختیار کی تھی۔ وہاں ان کے پاس کوئی زمین نہیں تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے اس بات کو ناپسندیدہ قرار دیا کہ وہ رقبیٰ یا عمریٰ کے طور پر کوئی چیز دیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ چاہتے تھے کہ ان کے اموال ان کے پاس باقی رہیں کیونکہ انہیں ان کی ضرورت تھی، اس سے یہ مراد نہیں ہے: ان دونوں چیزوں پر عمل کرنا جائز ہی نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقبى والعمرى/حدیث: 5141]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2626، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1625، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1060، 1063، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5127، 5128، 5129، 5136، 5140، 5141، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3730، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3556، 3558، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1351، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2383، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12092، وأحمد فى (مسنده) برقم: 9677، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1293» «رقم طبعة با وزير 5119»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح لغيره - «الإرواء» (1607): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم