صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1. ذكر الزجر عن أن يبيع المرء حائطه قبل أن يعرضه على جاره-
- یہ تنبیہ کہ انسان کو اپنا باغ بیچنے سے پہلے اپنے ہمسائے کو پیشکش کیے بغیر فروخت نہیں کرنا چاہیے۔
حدیث نمبر: 5178
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الشُّفْعَةُ فِي كُلِّ رَبْعَةٍ أو حَائِطٍ، لا يَصْلُحُ لَهُ أَنْ يَبِيعَ حَتَّى يَعْرِضَ عَلَى صَاحِبِهِ، فَإِنْ شَاءَ أَخَذَ، وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہر زمین اور باغ میں شفعہ ہو سکتا ہے، اسے اس وقت تک فروخت کرنا درست نہیں ہے جب تک آدمی اپنے ساتھی کو اس بارے میں پیشکش نہ کر دے، اگر وہ چاہے تو اسے حاصل کر لے اور اگر چاہے تو اسے ترک کر دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الشفعة/حدیث: 5178]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1608، وابن الجارود فى "المنتقى"، 698، 699، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5178، 5179، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2350، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4660، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3513، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1312، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2670، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2492، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11687، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4532، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14513» «رقم طبعة با وزير 5155»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (5/ 373)، «البيوع»: م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن
2. ذكر البيان بأن هذا الزجر إنما زجر عنه من كان له شريك في أرضه إذ الشفعة لا تكون إلا للشركاء-
- یہ وضاحت کہ یہ ممانعت اس شخص کے لیے ہے جس کا ہمسایہ اس کی زمین میں شریک ہو، کیونکہ شفعہ صرف شریک کو حاصل ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 5179
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَانَ لَهُ شَرِيكٌ فِي رَبْعَةٍ أَوْ نَخْلٍ، فَلَيْسَ لَهُ أَنْ يَبِيعَ حَتَّى يُؤْذِنَ شَرِيكَهُ، فَإِنْ رَضِيَ أَخَذَ، وَإِنْ كَرِهَ تَرَكَ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص کا کسی زمین یا کھجور کے باغ میں کوئی حصہ دار ہو تو اسے اپنے حصے کو فروخت کرنے کا اس وقت تک اختیار نہیں ہو گا جب تک وہ اپنے شراکت دار کو اطلاع نہ دے دے، اگر وہ (شراکت دار) راضی ہو تو اسے حاصل کر لے اور اگر نہ چاہے تو چھوڑ دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الشفعة/حدیث: 5179]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1608، وابن الجارود فى "المنتقى"، 698، 699، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5178، 5179، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2350، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4660، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3513، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1312، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2670، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2492، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11687، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4532، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14513» «رقم طبعة با وزير 5156»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح لغيره - «البيوع».
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
3. ذكر الأمر بأخذ الشفعة للجار في العقدة المبيعة-
- یہ حکم کہ فروخت شدہ مال میں شریک ہمسایہ کو حقِ شفعہ (خرید میں ترجیح) دیا جائے۔
حدیث نمبر: 5180
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ" .
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”پڑوسی اپنے پڑوس کے بارے میں زیادہ حق دار ہوتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الشفعة/حدیث: 5180]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2258، 6977، 6978، وابن الجارود فى "المنتقى"، 702، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5180، 5181، 5183، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4716، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3516، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2495، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11693، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4526، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19768، والحميدي فى (مسنده) برقم: 562» «رقم طبعة با وزير 5157»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (1538)، «البيوع»: خ.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
4. ذكر البيان بأن قوله صلى الله عليه وسلم الجار أحق بسقبه أراد به الجار الذي يكون شريكا دون الجار الذي لا يكون بشريك-
- یہ وضاحت کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان "الجار أحق بسقبه" سے مراد وہ ہمسایہ ہے جو شریک ہو، نہ کہ عام پڑوسی۔
حدیث نمبر: 5181
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ ، قَالَ:" كُنْتُ مَعَ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ وَالْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، فَجَاءَ أَبُو رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِسَعْدِ بْنِ مَالِكٍ: اشْتَرِ مِنِّي بَيْتَيَّ اللَّذَيْنِ فِي دَارِكَ، فَقَالَ: لا، إِلا بِأَرْبَعَةِ آلافٍ مُنَجَّمَةٍ، أَوْ قَالَ: مُقَطَّعَةٍ، فَقَالَ: أَمَا وَاللَّهِ، لَوْلا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ" مَا بِعْتُكَهَا، لَقَدْ أُعْطِيتُ بِهَا خَمْسَ مِائَةِ دِينَارٍ.
عمرو بن شرید بیان کرتے ہیں: میں سیدنا سعد بن ابی وقاص اور سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما کے ہمراہ موجود تھا۔ اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے۔ انہوں نے سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ مجھ سے میرے وہ دو گھر خرید لیں جو آپ کے محلے میں ہیں، تو سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے کہا: جی نہیں، میں اس شرط پر خریدوں گا کہ ان کی قیمت چار ہزار (درہم) ہو گی اور وہ بھی قسطوں میں ادا کی جائے گی (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے)، تو سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! اگر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا: ”پڑوسی اپنے پڑوس کا زیادہ حق دار ہوتا ہے“ تو میں وہ گھر آپ کو فروخت نہ کرتا کیونکہ مجھے اس کے پانچ سو دینار مل رہے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الشفعة/حدیث: 5181]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2258، 6977، 6978، وابن الجارود فى "المنتقى"، 702، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5180، 5181، 5183، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4716، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3516، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2495، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11693، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4526، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19768، والحميدي فى (مسنده) برقم: 562» «رقم طبعة با وزير 5158»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - المصدر نفسه: خ.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري
5. ذكر خبر أوهم من جهل صناعة الحديث أن الجار الملاصق وإن لم يكن شريكا له الشفعة-
- یہ خبر جس سے ناسمجھ لوگوں کو یہ گمان ہوا کہ محض ملحقہ (ملاصق) ہمسایہ بھی شفعہ کا حق رکھتا ہے۔
حدیث نمبر: 5182
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " جَارُ الدَّارِ أَحَقُّ بِالدَّارِ" .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”گھر کا پڑوسی گھر کا زیادہ حق دار ہوتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الشفعة/حدیث: 5182]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5182، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 11713، والبزار فى (مسنده) برقم: 7119، والطحاوي فى (شرح معاني الآثار) برقم: 5996، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 8146» «رقم طبعة با وزير 5159»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح لغيره - «الإرواء» (1539)، «البيوع».
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
6. ذكر الخبر الدال على أن عموم هذا الخطاب أراد به بعض الجار الذي يكون شريكا دون من لم يكن شريكا-
- یہ خبر جو واضح کرتی ہے کہ اس عمومی خطاب سے مراد صرف وہ ہمسایہ ہے جو شریک ہو، نہ کہ جو شریک نہ ہو۔
حدیث نمبر: 5183
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ الشَّرِيدِ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ قَالَ: وَقَفْتُ عَلَى سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، فَجَاءَ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى أَحَدِ مَنْكِبَيَّ، إِذْ جَاءَ أَبُو رَافِعٍ مَوْلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا سَعْدُ، ابْتَعْ مِنِّي بَيْتِي فِي دَارِكَ، فَقَالَ سَعْدُ: لا وَاللَّهِ لا أَبْتَاعُهُمَا، فَقَالَ الْمِسْوَرُ: وَاللَّهِ لَتَبْتَاعَنَّهُمَا، فَقَالَ سَعْدٌ: وَاللَّهِ لا أَزِيدُكَ عَلَى أَرْبَعَةِ آلافٍ مُنَجَّمَةٍ أَوْ مُقَطَّعَةٍ، فَقَالَ أَبُو رَافِعٍ : وَاللَّهِ لَقَدْ أُعْطِيتُ بِهَا خَمْسَ مِئَةِ دِينَارٍ، وَلَوْلا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " الْمَرْءُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ" ، مَا أَعْطَيْتُكَهُمَا بِأَرْبَعَةِ آلافِ دِرْهَمٍ وَأَنَا أُعْطَى بِهِمَا خَمْسَ مِائَةِ دِينَارٍ.
عمرو بن شرید بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے پاس کھڑا ہوا تھا، اسی دوران سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے اور انہوں نے اپنا ہاتھ میرے کندھے پر رکھا، اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے اور انہوں نے فرمایا: اے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ! آپ مجھ سے اپنے محلے میں موجود میرے گھر خرید لیجیے، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: جی نہیں، اللہ کی قسم! میں ان دونوں گھروں کو نہیں خریدوں گا، سیدنا مسور رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! آپ ان دونوں کو ضرور خریدیں گے، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں چار ہزار (درہم) سے زیادہ ادائیگی نہیں کروں گا اور وہ بھی قسطوں میں ہوگی، تو سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے اس کے پانچ سو دینار مل رہے ہیں، اگر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا: ” «الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ» ”آدمی اپنے پڑوس کا زیادہ حق دار ہوتا ہے“”تو میں چار ہزار درہم کے عوض میں یہ دونوں گھر آپ کو نہ دیتا جبکہ مجھے ان کے پانچ سو دینار دیے جا رہے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الشفعة/حدیث: 5183]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2258، 6977، 6978، وابن الجارود فى "المنتقى"، 702، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5180، 5181، 5183، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4716، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3516، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2495، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11693، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4526، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19768، والحميدي فى (مسنده) برقم: 562» «رقم طبعة با وزير 5160»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: خ، وهو مكرر (5158). تنبيه!! رقم (5158) = (5181) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
7. ذكر الخبر المصرح بأن الجار سواء كان متلاصقا أو مجاورا لا يكون له الشفعة حتى يكون شريكا لبائع الدار-
- یہ خبر جو صراحت کرتی ہے کہ نہ ملحقہ اور نہ مجاور ہمسایہ کو شفعہ کا حق حاصل ہے، جب تک وہ فروخت کنندہ کے ساتھ شریک نہ ہو۔
حدیث نمبر: 5184
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةَ، حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : " إِنَّمَا جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشُّفْعَةَ فِي كُلِّ مَالٍ لَمْ يُقْسَمْ، فَإِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ وَصُرِفَتِ الطُّرُقُ فَلا شُفْعَةَ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”شفعہ کا حق ہر اس زمین میں دیا ہے جو تقسیم نہ ہوئی ہو، لیکن جب حدود واقع ہو جائیں اور راستے مختلف ہو جائیں تو پھر شفعہ نہیں رہے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الشفعة/حدیث: 5184]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2213، 2214، 2257، ومالك فى (الموطأ) برقم: 2633، وابن الجارود فى "المنتقى"، 700، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5184، 5185، 5186، 5187، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4718، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3514، 3515، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1370، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2497، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11670، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4555، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14374» «رقم طبعة با وزير 5161»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (1532)، «البيوع»: خ.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
8. ذكر نفي الشفعة عن العقد إذا اشتراها غير شريك لبائعها منها-
- یہ بیان کہ اگر کوئی خریدار فروخت کنندہ کا شریک نہ ہو تو اس خرید پر شفعہ کا حق نہیں۔
حدیث نمبر: 5185
أَخْبَرَنَا الْحَرُّ بْنُ سُلَيْمَانَ بِأَطْرَابُلْسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمَاجِشُونُ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الشُّفْعَةُ فِيمَا لَمْ يُقْسَمْ، فَإِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ وَصُرِفَتِ الطُّرُقُ فَلا شُفْعَةَ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: رَفَعَ هَذَا الْخَبَرَ عَنْ مَالِكٍ أَرْبَعَةُ أَنْفَسٍ الْمَاجِشُونُ، وَأَبُو عَاصِمٍ، وَيَحْيَى بْنُ أَبِي قُتَيْلَةَ، وَأَشْهَبُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَرْسَلَهُ عَنْ مَالِكٍ سَائِرُ أَصْحَابِهِ، وَهَذِهِ كَانَتْ عَادَةً لِمَالِكٍ يَرْفَعُ فِي الأَحَايِينِ الأَخْبَارِ، وَيُوقِفُهَا مِرَارًا، وَيُرْسِلُهَا مَرَّةً، وَيُسْنِدُهَا أُخْرَى عَلَى حَسَبِ نَشَاطِهِ، فَالْحُكْمُ أَبَدًا لِمَنْ رَفَعَ عَنْهُ وَأَسْنَدَ بَعْدَ أَنْ يَكُونَ ثِقَةً حَافِظًا مُتْقِنًا عَلَى السَّبِيلِ الَّذِي وَصَفْنَاهُ فِي أَوَّلِ الْكِتَابِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”شفعہ اس چیز میں ہوتا ہے جو تقسیم نہ ہوئی ہو، جب حدود واقع ہو جائیں اور راستے مختلف ہو جائیں تو شفعہ نہیں رہے گا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) امام مالک کے حوالے سے اس روایت کو چار حضرات نے مرفوع حدیث کے طور پر نقل کیا ہے: ماجشون، ابو عاصم، یحییٰ بن ابو قتیلہ اور الشہب بن عبد العزیز۔ جب کہ امام مالک کے حوالے سے ان کے دیگر تمام شاگردوں نے اس روایت کو مرسل حدیث کے طور پر نقل کیا ہے، امام مالک کی یہ عادت تھی کہ وہ بعض اوقات روایت کو مرفوع حدیث کے طور پر نقل کر دیتے تھے اور بعض اوقات موقوف روایت کے طور پر نقل کر دیتے تھے اور کبھی مرسل کے طور پر نقل کر دیتے تھے اور کبھی مسند کے طور پر نقل کر دیتے تھے۔ یہ ان کی مرضی کے مطابق ہوتا تھا، تو جس روایت کو انہوں نے مرفوع حدیث کے طور پر، مسند کے طور پر نقل کیا ہو اور ان سے نقل کرنے والا راوی ثقہ اور حافظ ہو اور متقن ہو تو اس کی وہی صورت حال ہو گی جو ہم کتاب کے آغاز میں بیان کر چکے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الشفعة/حدیث: 5185]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2213، 2214، 2257، ومالك فى (الموطأ) برقم: 2633، وابن الجارود فى "المنتقى"، 700، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5184، 5185، 5186، 5187، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4718، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3514، 3515، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1370، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2497، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11670، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4555، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14374» «رقم طبعة با وزير 5162»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - المصدر نفسه: خ - جابر.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
9. ذكر خبر ثان يصرح بصحة ما ذكرنا معنى قوله صلى الله عليه وسلم الجار أحق بسقبه-
- یہ دوسری خبر جو اس بات کی تصدیق کرتی ہے جو ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان "الجار أحق بسقبه" کے معنی میں ذکر کی۔
حدیث نمبر: 5186
أَخْبَرَنَا الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الشُّفْعَةِ فِي كُلِّ مَا لَمْ يُقْسَمْ، فَإِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ وَصُرِفَتِ الطُّرُقُ فَلا شُفْعَةَ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شفعہ کے بارے میں یہ فیصلہ دیا ہے: ”یہ ہر اس چیز میں ہوتا ہے جو تقسیم نہ ہوئی ہو، لیکن جب حدود واقع ہو جائیں اور راستے مختلف ہو جائیں، تو پھر شفعہ نہیں رہے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الشفعة/حدیث: 5186]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2213، 2214، 2257، ومالك فى (الموطأ) برقم: 2633، وابن الجارود فى "المنتقى"، 700، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5184، 5185، 5186، 5187، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4718، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3514، 3515، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1370، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2497، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11670، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4555، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14374» «رقم طبعة با وزير 5163»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: خ، وهو مكرر (5161). تنبيه!! رقم (5161) = (5184) من «طبعة المؤسسة». أي: قبل هذا الحديث بحديثين. - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
10. ذكر خبر ثالث يصرح بصحة ما ذكرناه-
- یہ تیسری خبر جو اس مفہوم کی صحت پر دلالت کرتی ہے جسے ہم نے بیان کیا۔
حدیث نمبر: 5187
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالشُّفْعَةِ فِي كُلِّ مَالٍ لَمْ يُقْسَمْ، فَإِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ وَصُرِفَتِ الطُّرُقُ فَلا شُفْعَةَ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شفعہ کے بارے میں یہ فیصلہ دیا ہے: ”یہ ہر اس زمین میں ہو سکتا ہے جو تقسیم نہ ہوئی ہو، لیکن جب حدود واقع ہو جائیں اور راستے مختلف ہو جائیں، تو پھر شفعہ نہیں رہے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الشفعة/حدیث: 5187]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2213، 2214، 2257، ومالك فى (الموطأ) برقم: 2633، وابن الجارود فى "المنتقى"، 700، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5184، 5185، 5186، 5187، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4718، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3514، 3515، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1370، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2497، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11670، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4555، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14374» «رقم طبعة با وزير 5164»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: خ، وهو مكرر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح