🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. ذكر خبر ثان يصرح بمعنى ما ذكرناه
ایک دوسری روایت کا ذکر جو اس بات کے معنی کو واضح کرتی ہے جو ہم نے بیان کیا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6050
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ حُدُسٍ ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ، وَالرُّؤْيَا عَلَى رِجْلِ طَائِرٍ مَا لَمْ يُعَبَّرْ عَلَيْهِ، فَإِذَا عُبِّرَتْ وَقَعَتْ"، قَالَ: وَأَحْسِبُهُ قَالَ:" لا يَقُصُّهَا إِلا عَلَى وَادٍّ أَوْ ذِي رَأْيٍ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: الصَّحِيحُ بِالْحَاءِ كَمَا قَالَهُ هُشَيْمٌ، وَشُعْبَةُ وَاهِمٌ فِي قَوْلِهِ: عُدُسٍ فَتَبِعَهُ النَّاسُ.
سیدنا ابورزین رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مومن کا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے اور خواب اپنی حالت پر برقرار رہتا ہے جب تک اس کی تعبیر بیان نہ کی جائے، جب تعبیر بیان کر دی جائے (تو وہ اس تعبیر کے مطابق) واقع ہو جاتا ہے۔ (راوی کہتے ہیں:) میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: آدمی کو وہ خواب صرف کسی ایسے شخص کو بیان کرنا چاہیے جو اس کا پسندیدہ ہو یا سمجھ دار (صاحب علم) ہو۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) صحیح یہ ہے کہ یہ لفظ «ح» کے ساتھ ہے، جیسا کہ حسین نے یہ بات بیان کی ہے، شعبہ نے لفظ «عدس» نقل کرنے میں وہم کیا اور لوگوں نے اس بارے میں ان کی پیروی کر لی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرؤيا/حدیث: 6050]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6049، 6050، 6055، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8267، وأبو داود فى (سننه) برقم: 5020، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2278، 2279، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2194، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3914، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16433» «رقم طبعة با وزير 6018»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح لغيره - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. ذكر إثبات رؤية الحق لمن رأى المصطفى صلى الله عليه وسلم في المنام-
- ذکر کہ اس کے لیے سچی رؤیا ثابت ہے جو مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6051
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ، فَقَدْ رَأَى الْحَقَّ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے مجھے خواب میں دیکھا اس نے حق دیکھا (یعنی مجھے ہی دیکھا)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرؤيا/حدیث: 6051]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 110، 6197، 6993، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2266، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6051، 6052، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8279، وأبو داود فى (سننه) برقم: 5023، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3901، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3874» «رقم طبعة با وزير 6019»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الروض النضير» (995).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
13. ذكر السبب الذي من أجله أطلق رؤية الحق على من رأى المصطفى صلى الله عليه وسلم في منامه-
- ذکر وجہ جس کی بنا پر مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھنے والے پر سچی رؤیا کا اطلاق ہوتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6052
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ، فَقَدْ رَأَى الْحَقَّ، إِنَّ الشَّيْطَانَ لا يَتَشَبَّهُ بِي" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جس نے مجھے خواب میں دیکھا اس نے حق دیکھا (یعنی مجھے ہی خواب میں دیکھا) کیونکہ شیطان میری شکل اختیار نہیں کر سکتا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرؤيا/حدیث: 6052]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 110، 6197، 6993، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2266، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6051، 6052، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8279، وأبو داود فى (سننه) برقم: 5023، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3901، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3874» «رقم طبعة با وزير 6020»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - «الروض» -أيضا-، «الصحيحة» (2729): ق دون لفظة: «الحق»، وهو عند (خ) عن أبي سعيد / «الصحيحة» (2729).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. ذكر البيان بأن قوله صلى الله عليه وسلم " فقد رأى الحق " أراد به فكأنما رآه في اليقظة-
- ذکر بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول "اس نے حق دیکھا" سے مراد ہے کہ گویا اس نے جاگتے میں دیکھا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6053
أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ، فَكَأَنَّمَا رَآنِي فِي الْيَقَظَةِ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لا يَتَشَبَّهُ بِي" .
عون بن ابوجحیفہ اپنے والد (سیدنا ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: جس نے مجھے خواب میں دیکھا اس نے گویا مجھے بیداری کے عالم میں دیکھا کیونکہ شیطان میری شکل اختیار نہیں کر سکتا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرؤيا/حدیث: 6053]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6053، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3904، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 881، والبزار فى (مسنده) برقم: 4233، والطبراني فى(الكبير) برقم: 279، 280، 281، 301» «رقم طبعة با وزير 6021»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (1004).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
15. ذكر إعجاب المصطفى صلى الله عليه وسلم الرؤيا إذا قصت عليه-
- ذکر کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم خواب کی تعریف سے متعجب ہوتے تھے جب اسے ان پر بیان کیا جاتا تھا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6054
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، قَالَ: قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُعْجِبُهُ الرُّؤْيَا، فَرُبَّمَا رَأَى الرَّجُلُ الرُّؤْيَا، فَسَأَلَ عَنْهُ إِذَا لَمْ يَكُنْ يَعْرِفُهُ، فَإِذَا أُثْنِيَ عَلَيْهِ مَعْرُوفًا كَانَ أَعْجَبَ لِرُؤْيَاهُ إِلَيْهِ، فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَأَيْتُ كَأَنِّيَ أَتَيْتُ، فَأُخْرِجْتُ مِنَ الْمَدِينَةِ، فَأُدْخِلْتُ الْجَنَّةَ، فَسَمِعْتُ وَجْبَةً انْتَحَتْ لَهَا الْجَنَّةُ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا فُلانٌ، وَفُلانٌ، وَفُلانٌ، فَسَمَّتِ اثْنَيْ عَشَرَ رَجُلا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ سَرِيَّةً قَبْلَ ذَلِكَ، فَجِيءَ بِهِمْ عَلَيْهِمْ ثِيَابٌ طُلْسٌ، تَشْخَبُ أَوْدَاجُهُمْ، فَقِيلَ: اذْهَبُوا بِهِمْ إِلَى نَهَرِ الْبَيْذَخِ، قَالَ: فَغُمِسُوا فِيهِ، قَالَ: فَخَرَجُوا وَوُجُوهُهُمْ كَالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، فَأُتُوا بِصَحْفَةٍ مِنْ ذَهَبٍ فِيهَا بُسْرَةٌ، فَأَكَلُوا مِنْ بُسْرِهِ مَا شَاءُوا، مَا يُقَلِّبُونَهَا مِنْ وَجْهٍ إِلا أَكَلُوا مِنَ الْفَاكِهَةِ مَا أَرَادُوا، وَأَكَلْتُ مَعَهُمْ، فَجَاءَ الْبَشِيرُ مِنْ تِلْكَ السَّرِيَّةِ، فَقَالَ: كَانَ مِنْ أَمْرِنَا كَذَا وَكَذَا، فَأُصِيبَ فُلانٌ، وَفُلانٌ، وَفُلانٌ، حَتَّى عَدَّ اثْنَيْ عَشَرَ رَجُلا، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَرْأَةِ، فَقَالَ:" قُصِّي رُؤْيَاكِ" فَقَصَّتْهَا وَجَعَلَتْ تَقُولُ: جِيءَ بِفُلانٍ، وَفُلانٍ كَمَا قَالَ الرَّجُلُ .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب پسند تھے، بعض اوقات کوئی شخص کبھی خواب دیکھتا، تو اگر اس کی سمجھ نہیں آتی، تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کرتا تھا اور جب اس کی اس حوالے سے تعریف کی جاتی، تو اسے اپنا وہ خواب پسند آتا تھا۔ ایک مرتبہ ایک خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے خواب میں دیکھا کہ میں آئی پھر مجھے مدینے سے نکال کر جنت میں داخل کر دیا گیا، میں نے آہٹ سنی میں نے اس بات کا جائزہ لیا، تو وہاں فلاں فلاں اور فلاں صاحب موجود تھے، اس نے بارہ آدمیوں کے نام گنوائے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے پہلے ایک مہم روانہ کر چکے تھے، (اس خاتون نے بتایا) پھر ان لوگوں کو لایا گیا ان لوگوں نے ریشمی کپڑے پہنے ہوئے تھے اور ان کی رگوں سے خون بہہ رہا تھا، تو یہ بات کہی گئی: «اذْهَبُوا بِهِمْ إِلَى نَهْرِ بَيْذَخَ» ان لوگوں کو نہر بیذخ کی طرف لے جاؤ پھر انہیں اس میں ڈبکی دلائی گئی جب وہ لوگ نکلے، تو ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی مانند تھے، پھر سونے کا بنا ہوا ایک طشت لایا گیا جس میں کھجوریں تھیں، انہوں نے اس میں سے جتنا چاہا کھایا، وہ اس کا رخ جس طرف بھی موڑتے وہاں سے اپنی پسند کے مطابق پھل کھا لیتے، ان کے ساتھ میں نے بھی اسے کھایا۔ (راوی بیان کرتے ہیں) اسی دوران اس مہم سے سیدنا بشیر رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے اور انہوں نے بتایا: ہماری صورت حال یوں ہے کہ فلاں فلاں اور فلاں صاحب شہید ہو گئے ہیں۔ سیدنا بشیر رضی اللہ عنہ نے ان بارہ آدمیوں کے نام گنوائے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کو بلوایا اور فرمایا: تم اپنا خواب بیان کرو۔ اس خاتون نے اپنا خواب بیان کرنا شروع کیا، اس نے کہا: فلاں صاحب اور فلاں صاحب آئے، تو یہ وہی نام تھے جو ان صاحب نے بیان کیے تھے (جو شہید ہوئے تھے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرؤيا/حدیث: 6054]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6054، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 7575، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12580، 12581، 13905، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 3289» «رقم طبعة با وزير 6022»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «اللتعليق على الموارد» (1803).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
16. ذكر الزجر عن أن يقص المرء رؤياه إلا على العالم أو الناصح له-
- ذکر منع کہ انسان اپنا خواب کسی عالم یا ناصح کے سوا کسی سے بیان کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6055
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ حُدُسٍ ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ ، أن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الرُّؤْيَا جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ، وَالرُّؤْيَا مُعَلَّقَةٌ بِرِجْلِ طَيْرٍ مَا لَمْ يُحَدِّثْ بِهَا صَاحِبُهَا، فَإِذَا حَدَّثَ بِهَا وَقَعَتْ، فَلا تُحَدِّثْ بِهَا إِلا عَالِمًا، أَوْ نَاصِحًا، أَوْ حَبِيبًا" .
سیدنا ابورزین عقیلی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: خواب نبوت کا سترواں جزء ہے اور خواب اس وقت تک معلق رہتا ہے، جب تک اسے دیکھنے والا شخص بیان نہیں کرتا، جب وہ بیان کر دے پھر وہ واقع ہو جاتا ہے؛ تم اسے صرف کسی عالم کے سامنے یا کسی خیرخواہ کے سامنے یا محبوب (یعنی پسندیدہ شخص) کے سامنے بیان کرو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرؤيا/حدیث: 6055]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6049، 6050، 6055، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8267، وأبو داود فى (سننه) برقم: 5020، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2278، 2279، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2194، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3914، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16433» «رقم طبعة با وزير 6023»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح لغيره - «الصحيحة» (119 و 120).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
17. ذكر الزجر عن أن يخبر المرء أحدا إذا رأى في نومه بتلعب الشيطان به-
- ذکر منع کہ انسان کسی کو بتائے اگر اس نے خواب میں شیطان کے کھیل کو دیکھا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6056
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا جَاءَهُ فَقَالَ: إِنِّي حَلُمْتُ أَنَّ رَأْسِيَ قُطِعَ فَأَنَا أَتْبَعُهُ، فَزَجَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: " لا تُخْبِرْ بِتَلَعُّبِ الشَّيْطَانِ بِكَ فِي الْمَنَامِ" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: میں نے خواب میں دیکھا کہ میرا سر کاٹ دیا گیا اور میں اس کے پیچھے جا رہا ہوں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ڈانٹ دیا اور ارشاد فرمایا: شیطان نے خواب میں تمہارے ساتھ جو کھیل کھیلا ہے تم اسے بیان نہ کرو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرؤيا/حدیث: 6056]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2268، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6056، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8274، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3902، 3912، 3913، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14514» «رقم طبعة با وزير 6024»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (3968): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
18. ذكر ما يعاقب به في القيامة من أرى عينيه في المنام ما لم تريا-
- ذکر کہ قیامت میں اسے سزا دی جاتی ہے جو اپنی آنکھوں کو خواب میں وہ دکھاتا ہے جو انہوں نے نہ دیکھا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6057
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْخَلِيلِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوْزَاءِ أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الَّذِي يُرِي عَيْنَيْهِ فِي الْمَنَامِ مَا لَمْ يَرَ، يُكَلَّفُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنْ يَعْقِدَ بَيْنَ شَعِيرَتَيْنِ، وَالَّذِي يَسْتَمِعُ حَدِيثَ قَوْمٍ وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ يُصَبُّ فِي أُذُنِهِ الآنُكُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص اپنی آنکھوں کو خواب میں وہ چیز دکھائے جو انہوں نے نہیں دیکھی (یعنی جو شخص جھوٹا خواب بیان کرے) اسے قیامت کے دن اس بات کا پابند کیا جائے گا کہ وہ جو کے دو دانوں کے درمیان گرہ لگائے اور جو شخص کسی کی باتیں چھپ کر سنے جبکہ وہ لوگ اس بات کو ناپسند کرتے ہوں، تو قیامت کے دن اس کے کانوں میں سیسہ ڈالا جائے گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرؤيا/حدیث: 6057]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2225، 5963، 7042، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2110، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5685، 5686، 5846، 5848، 6057، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5373، وأبو داود فى (سننه) برقم: 5024، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1751، 2283، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3916، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 14684، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1891» «رقم طبعة با وزير 6025»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «غاية المرام» (422): خ.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
19. ذكر الأمر بالاستعاذة بالله جل وعلا من الشيطان لمن رأى في منامه ما يكره-
- ذکر حکم کہ جو خواب میں ناپسندیدہ چیز دیکھے وہ اللہ جل وعلا سے شیطان سے پناہ مانگے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6058
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ بِالْبَصْرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: كُنْتُ أَرَى الرُّؤْيَا، فَتُمْرِضُنِي حَتَّى سَمِعْتُ أَبَا قَتَادَةَ ، يَقُولُ: كُنْتُ أَرَى الرُّؤْيَا، فَتُمْرِضُنِي حَتَّى سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ مِنَ اللَّهِ، فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مَا يُحِبُّ فَلْيَقُصَّهُ عَلَى مَنْ يُحِبُّ، وَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مَا يَكْرَهُ، فَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهَا، وَلْيَتْفُلْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلاثًا" .
ابوسلمہ بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں: بعض اوقات میں ایسے خواب دیکھتا تھا جو مجھے بیمار کر دیتے تھے، یہاں تک کہ میں نے سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ میں ایسے خواب دیکھا کرتا تھا جو مجھے بیمار کر دیتے تھے، یہاں تک کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: اچھا خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے، جب کوئی شخص ایسا خواب دیکھے جسے وہ پسند کرے، تو اسے وہ خواب اس شخص کے سامنے بیان کرنا چاہیے جو اس کا پسندیدہ ہو اور جب کوئی شخص ایسا خواب دیکھے جو اسے پسند نہ آئے، تو اسے اس خواب کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنی چاہیے اور اپنی بائیں طرف تین مرتبہ تھوک دینا چاہیے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرؤيا/حدیث: 6058]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3292، 5747، 6984، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2261، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6058، 6059، وأبو داود فى (سننه) برقم: 5021، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2277، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3909، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22961» «رقم طبعة با وزير 6026»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: خ (7044)، م (7/ 51).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
20. ذكر البيان بأن من تعوذ بالله من الشيطان عند رؤيته ما يكره في منامه لم يضره ذلك-
- ذکر بیان کہ جو اللہ سے شیطان سے پناہ مانگتا ہے جب وہ خواب میں ناپسندیدہ چیز دیکھتا ہے، اسے وہ نقصان نہیں پہنچاتی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6059
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بِنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا قَتَادَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " الرُّؤْيَا مِنَ اللَّهِ، وَالْحُلْمُ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمُ الشَّيْءَ يَكْرَهُهُ، فَلْيَنْفُثْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلاثَ مَرَّاتٍ إِذَا اسْتَيْقَظَ، وَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهَا، فَإِنَّهَا لَنْ تَضُرَّهُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ" ، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: إِنْ كُنْتُ لأَرَى الرُّؤْيَا هِيَ أَثْقَلُ عَلَيَّ مِنَ الْجَبَلِ، فَلَمَّا سَمِعْتُ هَذَا الْحَدِيثَ مَا كُنْتُ أُبَالِيهَا.
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتے ہیں اور برے خواب شیطان کی طرف سے ہوتے ہیں، تو جب کوئی شخص ایسی چیز دیکھے جو اسے پسند نہ آئے، تو جب وہ بیدار ہو، تو اسے اپنی بائیں طرف تین مرتبہ تھوک دینا چاہیے اور اس خواب کے شر سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہیے، اگر اللہ نے چاہا، تو وہ خواب اسے کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔ ابوسلمہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں بعض اوقات ایسے خواب دیکھا کرتا تھا جو میرے لیے پہاڑ سے زیادہ وزنی ہوتے تھے، لیکن جب میں نے یہ حدیث سنی، تو میں ان کی کوئی پرواہ نہیں کرتا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرؤيا/حدیث: 6059]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3292، 5747، 6984، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2261، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6058، 6059، وأبو داود فى (سننه) برقم: 5021، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2277، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3909، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22961» «رقم طبعة با وزير 6027»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں