المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1. إِذَا كَانَ أَوَّلُ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ صُفِّدَتِ الشَّيَاطِينُ
جب رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو شیاطین جکڑ دیے جاتے ہیں۔
حدیث نمبر: 1546
أخبرنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السَّمّاك ببغداد، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا أبو بكر بن عيّاش. وحدثنا أبو محمد أحمد بن عبد الله المُزَني، حدثنا أحمد بن نَجْدةَ، حدثنا سعيد بن منصور وأبو كُرَيب، قالا: حدثنا أبو بكر بن عيّاش، عن الأعمش، عن أبي صالح، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"إذا كان أولُ ليلةٍ من رمضانَ صُفِّدت الشياطينُ ومَرَدةُ الجن، وغُلِّقت أبوابُ النار، فلم يُفتَحْ منها باب، وفُتِّحتْ أبوابُ الجِنان فلم يُغلَقْ منها باب، ونادى منادٍ: يا باغيَ الخيرِ أقبِلْ، ويا باغيَ الشَّرِّ أقصِرْ، وللهِ عُتقاءُ من النار" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو سرکش شیاطین اور جنات کو باندھ دیا جاتا ہے۔ دوزخ کے دروازوں کو بند کر دیا جاتا ہے پھر ان میں سے کوئی کھولا نہیں جاتا۔ اور جنت کے دروازوں کو کھول دیا جاتا ہے اور ان میں سے کسی کو بند نہیں کیا جاتا۔ اور ایک نداء دینے والا یوں نداء دیتا ہے ” اے بھلائی سے بھاگنے والے! متوجہ ہو اور اے برائی سے بھاگنے والے! تو رُکا رہ، اور اللہ کے لیے ان کو جہنم سے رہا کر دیا جاتا ہے۔ “ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے اس سند کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1546]
حدیث نمبر: 1547
أخبرنا أحمد بن سلمان الفقيه ببغداد، قال: قُرِئ على عبد الملك بن محمد الرَّقَاشي، وأنا أسمع، حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث، حدثنا شعبة، عن محمد بن أبي يعقوب، قال: سمعتُ أبا نصرٍ الهِلاليَّ يحدِّث عن رجاء بن حَيْوة، عن أبي أمامةَ، قال: قلت: يا رسول الله، دُلَّني على عمل؟ قال:"عليك بالصَّوم، فإنه لا عِدْلَ له" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ومحمد بن أبي يعقوب هذا الذي كان شعبةُ إذا حدَّث عنه يقول: حدثني سيدُ بني تميم، وأبو نصر الهلالي: هو حُميد بن هلال العَدَوي، ولا أعلمُ له راويًا عن شعبة غيرَ عبد الصمد، وهو ثقة مأمون.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ومحمد بن أبي يعقوب هذا الذي كان شعبةُ إذا حدَّث عنه يقول: حدثني سيدُ بني تميم، وأبو نصر الهلالي: هو حُميد بن هلال العَدَوي، ولا أعلمُ له راويًا عن شعبة غيرَ عبد الصمد، وهو ثقة مأمون.
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے کسی عمل کی رہنمائی کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روزے رکھا کرو کیونکہ (اور کوئی عبادت اس کے) برابر نہیں ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا اور محمد بن ابویعقوب وہ راوی ہیں کہ سیدنا شعبہ رضی اللہ عنہ جب ان سے حدیث بیان کرتے ہیں: تو یوں کہتے ہیں:” مجھے یہ حدیث نبی تیمیم کے سردار نے بیان کی ہے “۔ اور ابونصر ہلالی جو ہیں یہ حمید بن ہلال عدوی ہیں۔ اور یہ حدیث شعبہ سے روایت کرنے والا عبدالصمد کے علاوہ اور کوئی راوی مجھے معلوم نہیں اور وہ ثقہ ہیں، مامون ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1547]
2. وَإِنَّ رِيحَ الصَّوْمِ رِيحُ الْمِسْكِ
اور روزے دار کے منہ کی بو مشک کی خوشبو جیسی ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 1548
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب إملاءً، حدثنا بكَّار بن قُتيبةَ القاضي، حدثنا أبو داود الطَّيالسي، حدثنا أبان بن يزيد العطّار، عن يحيى بن أبي كَثِير، عن زيد بن سلَّام، عن أبي سلَّام، عن الحارث الأشعري: أنَّ رسول الله ﷺ قال:"إِنَّ الله أَوحى إلى يحيى بن زكريا بخَمسِ كلمات أن يَعملَ بهنَّ ويأمرَ بني إسرائيل أن يعملوا بهنّ، فكأنه أبطأَ بهنَّ، فأتاه عيسى، فقال: إنَّ الله أمرَكَ بخمس كلماتٍ أن تَعمَلَ بهِنَّ وتأمرَ بني إسرائيل أن يعملوا بهنّ، فإما أن تُخبِرَهم، وإما أن أُخبِرَهم، قال: يا أخي لا تفعلْ، فإني أخاف إن سَبَقْتَني بهنَّ أن يُخسَفَ بي وأُعذَّبَ. قال: فجَمَعَ بني إسرائيل ببيت المَقدِس حتى امتَلأَ المسجد، وقَعَدُوا على الشُّرُفات، ثم خَطَبَهم فقال: إنَّ الله أوحى إليَّ بخمس كلماتٍ أن أعمَلَ بهنَّ، وآمرَ بني إسرائيل أن يعملوا بهنَّ: أوّلُهنَّ أن لا تُشرِكوا بالله شيئًا، فإِنَّ مَثَلَ مَن أشرك بالله كمَثَل رجلٍ اشترى عبدًا من خالص ماله بذهبٍ أو وَرِقٍ، ثم أَسْكنَهُ دارًا فقال: اعمَلْ وارفَعْ إليَّ، فجعل يعملُ ويرفعُ إلى غير سيِّدِه، فأيكم يَرضَى أن يكون عبدُه كذلك؟ فإِنَّ الله خلقكم ورَزَقكم، فلا تُشرِكوا به شيئًا. وإذا قمتم إلى الصلاة فلا تَلْتَفِتوا، فإنَّ الله يُقبِلُ بوجهه إلى وجهِ عبدِه ما لم يَلتفِتْ، وآمُرُكم بالصيام، ومَثَلُ ذلك كمَثل رجلٍ في عصابةٍ معه صُرَّة مِسْكٍ، كلهم يحبُّ أن يَجِدَ ريحَها، وإنَّ الصيام أطيبُ عند الله من ريح المِسْك. وآمرُكم بالصدقة، ومَثَلُ ذلك كمَثَل رجلٍ أسَرَه العدوُّ، فأوثَقوا يدَه إلى عُنُقِه، وقرَّبوه ليضربوا عُنُقَه، فجعل يقول: هل لكم أن أَفدِيَ نفسي منكم؟ وجعل يُعطي القليلَ والكثيرَ حتى فَدَى نفسَه. وآمُرُكم بذِكر الله كثيرًا، ومَثَلُ ذِكرِ الله كمَثَلِ رجلٍ طلبه العدوُّ سِرَاعًا في أَثرِه، حتى أتى حِصْنًا حَصِينًا، فأحرَزَ نفسَه فيه، وكذلك العبدُ لا ينجو من الشيطان إلَّا بذِكرِ الله". قال رسول الله ﷺ:"وأنا آمُرُكم بخمسٍ أمَرَني الله بهنَّ: الجماعةِ، والسَّمْعِ، والطاعةِ، والهجرةِ، والجهادِ في سبيل الله، ومَن فارَقَ الجماعة قِيدَ شِبرٍ فقد خلعَ رِبْقةَ الإيمان من عُنُقِه - أو من رأسِه - إلَّا أن يُراجِع، ومن ادَّعى دعوى جاهليةٍ، فهو من جُثَاءِ جهنم" قيل: يا رسول الله، وإن صامَ وصلَّى؟ قال:"وإن صام وصلَّى. تَدَاعَوا بدَعْوَى الله التي سمَّاكم بها: المؤمنينَ المسلمينَ، عبادَ الله" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا حارث اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے یحیی بن زکریا علیہ السلام کی طرف پانچ (5) کلمات وحی کیے تاکہ ان پر عمل کیا جائے اور بنی اسرائیل کو اس پر عمل کرنے کا حکم دے۔ لیکن انہوں نے ان پر عمل کرنے میں سستی کی۔ ان کے پاس سیدنا عیسیٰ علیہ السلام تشریف لائے اور کہا: اللہ تعالیٰ نے تمہیں پانچ کلمات پر عمل کرنے کا حکم دیا تھا اور بنی اسرائیل کو بھی ان پر عمل کرنے کا حکم دیا۔ اب یا تو آپ ان کو خبر دے دیں یا میں دیتا ہوں۔ سیدنا یحیی علیہ السلام نے جواب دیا: اے بھائی! ایسا مت کرو کیونکہ اگر آپ ان میں مجھ سے سبقت لے گئے تو مجھے خوف ہے کہ مجھے عذاب دیا جائے گا۔ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) نے فرمایا: پھر سیدنا یحیی علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو بیت المقدس میں جمع کیا یہاں تک کہ ساری مسجد بھر گئی اور لوگ میناروں پر چڑھ گئے، پھر انہوں نے بنی اسرائیل کو خطبہ دیا اور فرمایا: اللہ تعالیٰ نے میری طرف پانچ کلمات وحی کیے ہیں تاکہ میں ان پر عمل کروں اور بنی اسرائیل کو ان پر عمل کرنے کا حکم دوں۔ ان میں سے پہلی بات یہ ہے کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک مت ٹھہراؤ اور جو شخص اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہے اس کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے اپنے خالص سونے اور چاندی کے مال سے غلام خریدا: پھر اس کو ایک گھر میں ٹھہرایا اور کہا: تم عمل کر کے میرے قریب آتے رہو لیکن وہ شخص اپنے آقا کو چھوڑ کر کسی اور کے لیے عمل کرے اور اس کے قریب ہوتا رہے۔ تو تم میں سے کون شخص یہ بات پسند کرتا ہے کہ اس کا غلام ایسا ہو؟ اللہ تعالیٰ نے تمہیں پیدا کیا اور تمہیں رزق دیا، اس لیے تم اس کے ساتھ کسی کو شریک مت ٹھہراؤ۔ اور جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو اِدھر اُدھر متوجہ نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی طرف اس وقت تک متوجہ رہتا ہے، جب تک آدمی خود اپنی توجہ نہ ہٹائے۔ اور اللہ تعالیٰ نے تجھے روزے کا حکم دیا ہے اور اس کی مثال اس جیسی ہے کہ کوئی شخص لوگوں کی ایک جماعت میں ہو، اس کے پاس مشک کی ایک تھیلی ہو اور سب لوگ اس کی خوشبو حاصل کرنے کی آرزو رکھتے ہوں اور روزے کی خوشبو مشک کی خوشبو جیسی ہے۔ اور اس نے تمہیں صدقہ کا حکم دیا ہے اور اس کی مثال ایسے ہے جیسے کہ کسی شخص کو دشمن پکڑ لیں اور اس کے ہاتھ گردن پر باندھ دیں اور بالکل اس کی گردن مارنے ہی لگے ہوں کہ وہ کہنے لگ جائے: کیا تمہارے پاس یہ گنجائش ہے کہ میں تمہیں جان کا کوئی فدیہ دے دوں پھر وہ چھوٹی بڑی سب چیزیں دینا شروع کر دے یہاں تک کہ اس کی جان کا فدیہ ہو جائے۔ اور اللہ نے تمہیں حکم دیا کہ اس کا کثرت سے ذکر کرو۔ اور اللہ کے ذکر کی مثال ایسی ہے جیسا کہ کسی شخص کو اس کا دشمن ڈھونڈتے ہوئے اس کے قدموں کے نشانات پر بہت تیزی سے آ رہا ہو یہاں تک کہ وہ ایک مضبوط قلعے میں پہنچ جائے اور اپنی جان بچائے۔ اسی طرح بندہ اللہ کے ذکر کے ساتھ ہی شیطان سے بچ سکتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور میں بھی تمہیں پانچ (5) چیزوں کا حکم دیتا ہوں جن کا اللہ تعالیٰ نے بھی حکم دیا ہے: (1) جماعت (2) غور سے سننا۔ (3) فرمانبرداری۔ (4) ہجرت۔ (5) جہاد فی سبیل اللہ۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1548]
3. الدَّعْوَةُ عِنْدَ الْفِطْرِ
افطار کے وقت دعا کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1549
أخبرنا أبو محمد عبد العزيز بن عبد الرحمن الدَّبّاس بمكة، حدثنا محمد بن علي بن زيد حدثنا الحكم بن موسى، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا إسحاق بن عبد الله (2) قال: سمعت عبد الله بن أبي مُلَيكة يقول: سمعتُ عبد الله بن عمرو بن العاص يقول: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"إنَّ للصائم عند فِطْرِه دعوةً ما تُرَدّ". قال ابنُ أبي مُلَيكة: وسمعتُ عبد الله بن عمرٍو يقول عند فِطْرِه: اللهمَّ إنِّي أسألك برحمتِك التي وَسِعَتْ كلَّ شيءٍ أن تَغفِرَ لي ذنوبي (3) . إسحاق هذا إن كان ابنَ عبد الله مولى زائدةَ، فقد خرَّج عنه مسلم، وإن كان ابنَ أبي فَرْوةَ، فإنهما لم يخرجاه!
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: روزہ دار کی افطاری کی دعا یہ ہے: اللّٰھُم اِنّی اسألک برحمتک التی وسعت کل شیئٍ اَن تغفرَلِی ذُنُوبی۔” اے اللہ! میں تجھ سے تیری اس رحمت کے واسطے سے سوال کرتا ہوں جو ہر شے تک وسیع ہے کہ تو میرے گناہوں کو معاف کر دے۔ “ ٭٭ یہ اسحاق اگر عبداللہ کے بیٹے زائدہ کے غلام ہیں تو امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے ان کی روایات نقل کی ہیں اور اگر یہ ابوفروہ کے بیٹے ہیں: تو امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے ان کی روایات نقل نہیں کیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1549]
حدیث نمبر: 1550
أخبرنا أبو حامد أحمد بن محمد الخطيب بمَرْو، حدثنا إبراهيم بن هلال، حدثنا علي بن الحسن بن شَقِيق، أخبرنا الحسين بن واقد، حدثنا مروان بن سالم المُقفَّع قال: رأيت ابنَ عمر يَقبِضُ على لِحيتِه فيَقطَعُ ما زادَ على الكف، وقال: كان رسولُ الله ﷺ إذا أفطَرَ قال:"ذَهَبَ الظَّمأُ، وابتلَّتِ العُرُوق، وثَبَتَ الأجرُ إن شاء الله" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، فقد احتُجَّ بالحسين بن واقد ومروان بن المُقفَّع.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، فقد احتُجَّ بالحسين بن واقد ومروان بن المُقفَّع.
مروان بن سالم المقنع فرماتے ہیں: میں نے سیدنا (عبداللہ) ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا ہے، وہ اپنی داڑھی کو مٹھی میں لیتے اور جو ہتھیلی سے زیادہ ہوتی اس کو کاٹ دیا کرتے تھے اور فرماتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم افطاری کے وقت یہ دعا مانگا کرتے تھے: (ذھب الظمأ، وابتلَّت العُروقُ، وثَبَتَ الاجرُ اِن شاء اللہ) ” پیاس ختم ہو گئی، رگیں تر ہو گئیں اور اجر ثابت ہو گیا۔ ان شاء اللہ تعالیٰ۔ “ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے، امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں نے حسین بن واقد اور مروان بن المقنع کی روایات نقل کی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1550]
4. الطَّاعِمُ الشَّاكِي مِثْلُ الصَّائِمِ الصَّابِرِ
شکر گزار کھانے والا صبر کرنے والے روزہ دار کی مانند ہے۔
حدیث نمبر: 1551
أخبرنا إسماعيل بن نُجَيد بن أحمد بن يوسف السُّلَمي، حدثنا جعفر بن أحمد بن نَصْر الحافظ، حدثنا إسماعيل بن بِشْر بن منصور السُّلَمي، حدثنا عمر بن علي المُقدَّمي، حدثنا مَعْنُ بن محمد الغِفَاري، قال: سمعتُ حنظلةَ بن علي السَّدُوسيَّ (1) يقول: سمعتُ أبا هريرة يقول بهذا البَقيع: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"الطاعمُ الشاكرُ مثلُ الصَّائمِ الصَّابر" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه (3) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه (3) .
سیدنا معن بن محمد الغفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کھا کر شکر ادا کرنے والا صابر روزہ دار کی طرح (ثواب پاتا) ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1551]
حدیث نمبر: 1552
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نَصْر الخَوْلاني، قال: قُرِئ على عبد الله بن وهب: أخبَرَكَ عمرو بن الحارث، عن بُكَير بن عبد الله [ابن] الأشَجِّ، عن يزيد بن أبي عُبيد، عن سَلَمةَ بن الأكوع قال: كنّا في رمضانَ في عهدِ رسولِ الله ﷺ مَن شاءَ صامَ، ومَن شاء أفطَرَ وافتَدى بطعامِ مسكين، حتى أُنزلت الآية: ﴿فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ﴾ الآية [البقرة: 185] (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين.
سیدنا سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہم میں سے جس کا دل چاہتا روزہ رکھ لیتا اور جس کا دل چاہتا روزہ نہ رکھتا اور ایک مسکین کا کھانا صدقہ کر دیتا، یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہو گئی: (فمن شھد منکم الشھر فلیصمہ) ” تو تم میں جو کوئی یہ مہینہ پائے ضرور اس کے روزے رکھے۔ “ (کنزالایمان امام احمد رضا)۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1552]
حدیث نمبر: 1553
أخبرني مُكرَم بن أحمد القاضي، حدثنا أحمد بن حيّان بن مُلاعِب، حدثنا أبو عاصم، حدثنا عبد العزيز بن أبي رَوَّاد، حدثنا نافع، عن ابن عمر، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"إنَّ الله جَعَلَ الأهلَّةَ مواقيت، فإذا رأيتُمُوه فصُومُوا، وإذا رأيتُمُوه فأفطِروا، فإن غُمَّ عليكم فاقْدُرُوا له، واعلموا أنَّ الأشهرَ لا تَزيدُ على ثلاثين" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وعبد العزيز بن أبي رَوَّاد ثقةٌ عابدٌ مجتهدٌ شريف النَّسب (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وعبد العزيز بن أبي رَوَّاد ثقةٌ عابدٌ مجتهدٌ شريف النَّسب (1) .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے چاند کو اوقات جاننے کا ذریعہ بنایا ہے۔ اس لیے اسی کو دیکھ کر روزہ رکھو اور اسی کو دیکھ کر روزے ختم کرو اور اگر مطلع ابرآلود ہو تو اس کی مقدار پوری کرو اور یہ بات یاد رکھو کہ مہینہ 30 سے زیادہ دنوں کا نہیں ہوتا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے نقل نہیں کیا اور عبدالعزیز بن ابی رواد عبادت گزار، مجتہد اور شریف گھرانے کے آدمی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1553]
حدیث نمبر: 1554
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفَّار، حدثنا أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل، حدثنا عبد الله بن صالح، أخبرني معاوية بن صالح، عن عبد الله بن أبي قيس، قال: سمعتُ عائشةَ تقول: كان رسولُ الله ﷺ يَتحفَّظُ من هلال شعبانَ ما لا يَتحفَّظُ من غيره، ثم يصومُ لرؤيةِ رمضان، فإن غُمَّ عليه عَدَّ ثلاثين يومًا ثم صام (2) .
هذا حديث صحيحٌ على شرط الشيخين، فقد حدَّث ابنُ وهبٍ وغيرُه عن معاوية بن صالح، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيحٌ على شرط الشيخين، فقد حدَّث ابنُ وهبٍ وغيرُه عن معاوية بن صالح، ولم يُخرجاه.
اُمّ المومنین سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ ماہِ شعبان کا اہتمام کیا کرتے تھے پھر ماہِ رمضان کا چاند دیکھ کر روزہ رکھتے تھے اور اگر مطلع ابرالود ہوتا تو شعبان کے تیس دن پورے کر کے روزہ رکھنا شروع کرتے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ اور ابنِ وہب اور دیگر محدثین رحمۃ اللہ علیہم نے معاویہ بن صالح سے احادیث روایت کی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1554]
5. قَبُولُ شَهَادَةِ الْوَاحِدِ عَلَى رُؤْيَةِ هِلَالِ رَمَضَانَ
رمضان کا چاند دیکھنے میں ایک شخص کی گواہی قبول کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1555
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا محمد بن إسماعيل بن مِهْران، حدثنا هارون بن سعيد الأَيْلي، حدثنا عبد الله بن وَهْب، أخبرني يحيى بن عبد الله بن سالم، عن أبي بكر بن نافع، عن أبيه، عن ابن عمر، قال: تَراءَى الناسُ الهلالَ، فأَخبرتُ رسولَ الله ﷺ أني رأيتُه، فصامَ رسولُ الله ﷺ وَأَمَرَ الناسَ بالصِّيام (1) . صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا (عبداللہ) ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: لوگ چاند دیکھا کرتے تھے اور پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتاتے کہ میں نے چاند دیکھا ہے۔ تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی روزہ رکھتے اور لوگوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیتے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1555]