المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1. إِذَا كَانَ أَوَّلُ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ صُفِّدَتِ الشَّيَاطِينُ
جب رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو شیاطین جکڑ دیے جاتے ہیں۔
حدیث نمبر: 1546
أخبرنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السَّمّاك ببغداد، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا أبو بكر بن عيّاش. وحدثنا أبو محمد أحمد بن عبد الله المُزَني، حدثنا أحمد بن نَجْدةَ، حدثنا سعيد بن منصور وأبو كُرَيب، قالا: حدثنا أبو بكر بن عيّاش، عن الأعمش، عن أبي صالح، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"إذا كان أولُ ليلةٍ من رمضانَ صُفِّدت الشياطينُ ومَرَدةُ الجن، وغُلِّقت أبوابُ النار، فلم يُفتَحْ منها باب، وفُتِّحتْ أبوابُ الجِنان فلم يُغلَقْ منها باب، ونادى منادٍ: يا باغيَ الخيرِ أقبِلْ، ويا باغيَ الشَّرِّ أقصِرْ، وللهِ عُتقاءُ من النار" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو شیطانوں اور سرکش جنوں کو بیڑیوں میں جکڑ دیا جاتا ہے، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور ان میں سے کوئی دروازہ کھلا نہیں رہتا، اور جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور ان میں سے کوئی دروازہ بند نہیں رہتا، اور ایک پکارنے والا پکارتا ہے: اے خیر کے طالب! آگے بڑھ، اور اے برائی کے ارادہ رکھنے والے! رک جا، اور اللہ کی طرف سے بہت سے لوگ آگ سے آزاد کیے جاتے ہیں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اس سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1546]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اس سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1546]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، رجاله ثقات غير أبي بكر بن عياش ففيه كلام يحطه عن رتبة الصحيح، ثم إنه قد ضُعِّف في روايته عن الأعمش، لذلك لم يخرج له الشيخان شيئًا من روايته عنه، وقد غلط هنا في هذا الحديث كما قال البخاري فيما نقله عنه الترمذي في "العلل الكبير" (190)، وفي ...» [ترقيم الرساله 1546] [ترقيم الشركة 1537]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 1547
أخبرنا أحمد بن سلمان الفقيه ببغداد، قال: قُرِئ على عبد الملك بن محمد الرَّقَاشي، وأنا أسمع، حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث، حدثنا شعبة، عن محمد بن أبي يعقوب، قال: سمعتُ أبا نصرٍ الهِلاليَّ يحدِّث عن رجاء بن حَيْوة، عن أبي أمامةَ، قال: قلت: يا رسول الله، دُلَّني على عمل؟ قال:"عليك بالصَّوم، فإنه لا عِدْلَ له" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ومحمد بن أبي يعقوب هذا الذي كان شعبةُ إذا حدَّث عنه يقول: حدثني سيدُ بني تميم، وأبو نصر الهلالي: هو حُميد بن هلال العَدَوي، ولا أعلمُ له راويًا عن شعبة غيرَ عبد الصمد، وهو ثقة مأمون.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ومحمد بن أبي يعقوب هذا الذي كان شعبةُ إذا حدَّث عنه يقول: حدثني سيدُ بني تميم، وأبو نصر الهلالي: هو حُميد بن هلال العَدَوي، ولا أعلمُ له راويًا عن شعبة غيرَ عبد الصمد، وهو ثقة مأمون.
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! مجھے کسی ایسے عمل کی رہنمائی فرمائیں (جو مجھے جنت میں لے جائے)؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم روزے کو لازم کر لو کیونکہ اس کا کوئی نعم البدل نہیں ہے۔“
اس حدیث کی اسناد صحیح ہیں لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ محمد بن ابی یعقوب وہ راوی ہیں کہ امام شعبہ جب ان سے روایت کرتے تو کہتے: ”مجھ سے بنو تمیم کے سردار نے حدیث بیان کی“، اور ابو نصر ہلالی دراصل حمید بن ہلال عدوی ہیں، اور میں عبد الصمد کے علاوہ کسی کو نہیں جانتا جس نے امام شعبہ سے اسے روایت کیا ہو، اور وہ ثقہ و مامون ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1547]
اس حدیث کی اسناد صحیح ہیں لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ محمد بن ابی یعقوب وہ راوی ہیں کہ امام شعبہ جب ان سے روایت کرتے تو کہتے: ”مجھ سے بنو تمیم کے سردار نے حدیث بیان کی“، اور ابو نصر ہلالی دراصل حمید بن ہلال عدوی ہیں، اور میں عبد الصمد کے علاوہ کسی کو نہیں جانتا جس نے امام شعبہ سے اسے روایت کیا ہو، اور وہ ثقہ و مامون ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1547]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، رجاله ثقات. عبد الملك بن محمد الرقاشي: هو أبو قلابة الرقاشي، ومحمد بن أبي يعقوب: هو محمد بن عبد الله بن أبي يعقوب، نُسِبَ إلى جده، وأبو نصر الهلالي: هو حميد بن هلال العدوي، كما حققنا القول فيه في تعليقنا على "المسند" 36/ (22149) بما يغني عن إعادته هنا، فلينظر.» [ترقيم الرساله 1547] [ترقيم الشركة 1538]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
2. وَإِنَّ رِيحَ الصَّوْمِ رِيحُ الْمِسْكِ
اور روزے دار کے منہ کی بو مشک کی خوشبو جیسی ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 1548
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب إملاءً، حدثنا بكَّار بن قُتيبةَ القاضي، حدثنا أبو داود الطَّيالسي، حدثنا أبان بن يزيد العطّار، عن يحيى بن أبي كَثِير، عن زيد بن سلَّام، عن أبي سلَّام، عن الحارث الأشعري: أنَّ رسول الله ﷺ قال:"إِنَّ الله أَوحى إلى يحيى بن زكريا بخَمسِ كلمات أن يَعملَ بهنَّ ويأمرَ بني إسرائيل أن يعملوا بهنّ، فكأنه أبطأَ بهنَّ، فأتاه عيسى، فقال: إنَّ الله أمرَكَ بخمس كلماتٍ أن تَعمَلَ بهِنَّ وتأمرَ بني إسرائيل أن يعملوا بهنّ، فإما أن تُخبِرَهم، وإما أن أُخبِرَهم، قال: يا أخي لا تفعلْ، فإني أخاف إن سَبَقْتَني بهنَّ أن يُخسَفَ بي وأُعذَّبَ. قال: فجَمَعَ بني إسرائيل ببيت المَقدِس حتى امتَلأَ المسجد، وقَعَدُوا على الشُّرُفات، ثم خَطَبَهم فقال: إنَّ الله أوحى إليَّ بخمس كلماتٍ أن أعمَلَ بهنَّ، وآمرَ بني إسرائيل أن يعملوا بهنَّ: أوّلُهنَّ أن لا تُشرِكوا بالله شيئًا، فإِنَّ مَثَلَ مَن أشرك بالله كمَثَل رجلٍ اشترى عبدًا من خالص ماله بذهبٍ أو وَرِقٍ، ثم أَسْكنَهُ دارًا فقال: اعمَلْ وارفَعْ إليَّ، فجعل يعملُ ويرفعُ إلى غير سيِّدِه، فأيكم يَرضَى أن يكون عبدُه كذلك؟ فإِنَّ الله خلقكم ورَزَقكم، فلا تُشرِكوا به شيئًا. وإذا قمتم إلى الصلاة فلا تَلْتَفِتوا، فإنَّ الله يُقبِلُ بوجهه إلى وجهِ عبدِه ما لم يَلتفِتْ، وآمُرُكم بالصيام، ومَثَلُ ذلك كمَثل رجلٍ في عصابةٍ معه صُرَّة مِسْكٍ، كلهم يحبُّ أن يَجِدَ ريحَها، وإنَّ الصيام أطيبُ عند الله من ريح المِسْك. وآمرُكم بالصدقة، ومَثَلُ ذلك كمَثَل رجلٍ أسَرَه العدوُّ، فأوثَقوا يدَه إلى عُنُقِه، وقرَّبوه ليضربوا عُنُقَه، فجعل يقول: هل لكم أن أَفدِيَ نفسي منكم؟ وجعل يُعطي القليلَ والكثيرَ حتى فَدَى نفسَه. وآمُرُكم بذِكر الله كثيرًا، ومَثَلُ ذِكرِ الله كمَثَلِ رجلٍ طلبه العدوُّ سِرَاعًا في أَثرِه، حتى أتى حِصْنًا حَصِينًا، فأحرَزَ نفسَه فيه، وكذلك العبدُ لا ينجو من الشيطان إلَّا بذِكرِ الله". قال رسول الله ﷺ:"وأنا آمُرُكم بخمسٍ أمَرَني الله بهنَّ: الجماعةِ، والسَّمْعِ، والطاعةِ، والهجرةِ، والجهادِ في سبيل الله، ومَن فارَقَ الجماعة قِيدَ شِبرٍ فقد خلعَ رِبْقةَ الإيمان من عُنُقِه - أو من رأسِه - إلَّا أن يُراجِع، ومن ادَّعى دعوى جاهليةٍ، فهو من جُثَاءِ جهنم" قيل: يا رسول الله، وإن صامَ وصلَّى؟ قال:"وإن صام وصلَّى. تَدَاعَوا بدَعْوَى الله التي سمَّاكم بها: المؤمنينَ المسلمينَ، عبادَ الله" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا حارث اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے یحییٰ بن زکریا علیہ السلام کو پانچ باتوں کی وحی فرمائی کہ وہ خود بھی ان پر عمل کریں اور بنی اسرائیل کو بھی ان پر عمل کرنے کا حکم دیں۔ گویا کہ انہیں (پہنچانے میں) کچھ تاخیر ہو گئی تو عیسیٰ علیہ السلام ان کے پاس آئے اور فرمایا: اللہ نے آپ کو پانچ باتوں کا حکم دیا ہے، یا تو آپ انہیں لوگوں تک پہنچائیں یا پھر میں پہنچا دوں۔ یحییٰ علیہ السلام نے فرمایا: اے میرے بھائی! ایسا نہ کریں، مجھے ڈر ہے کہ اگر آپ مجھ سے پہلے یہ کام کر گئے تو کہیں میں زمین میں دھنسا نہ دیا جاؤں یا مجھے عذاب نہ دیا جائے۔ چنانچہ انہوں نے بنی اسرائیل کو بیت المقدس میں جمع کیا یہاں تک کہ مسجد بھر گئی اور لوگ منڈیروں پر بیٹھ گئے۔ پھر انہوں نے خطبہ دیا اور فرمایا: اللہ نے مجھے پانچ باتوں کا حکم دیا ہے: پہلی یہ کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، کیونکہ شرک کرنے والے کی مثال اس شخص جیسی ہے جس نے اپنے خالص سونے یا چاندی کے مال سے ایک غلام خریدا، اسے ایک گھر میں بسایا اور کہا: کام کرو اور نفع مجھے دو، لیکن وہ غلام کام کرتا اور نفع کسی اور کو دیتا، تو تم میں سے کون یہ پسند کرے گا کہ اس کا غلام ایسا ہو؟ اللہ ہی نے تمہیں پیدا کیا اور وہی تمہیں رزق دیتا ہے، پس اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ دوسری یہ کہ جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو ادھر ادھر نہ دیکھو، کیونکہ اللہ اپنا رخ اپنے بندے کے چہرے کی طرف رکھتا ہے جب تک کہ وہ التفات (توجہ ہٹانا) نہ کرے۔ تیسری یہ کہ میں تمہیں روزے کا حکم دیتا ہوں، اور اس کی مثال اس شخص جیسی ہے جو ایک گروہ میں ہو اور اس کے پاس مشک کی تھیلی ہو، ہر کوئی اس کی خوشبو سونگھنا چاہتا ہو، اور روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہے۔ چوتھی یہ کہ میں تمہیں صدقے کا حکم دیتا ہوں، اس کی مثال اس شخص جیسی ہے جسے دشمن نے قید کر لیا ہو، اس کے ہاتھ گردن سے باندھ دیے ہوں اور اسے قتل کرنے کے لیے لے جا رہے ہوں، تو وہ کہنے لگے: کیا میں اپنا فدیہ دے کر جان چھڑا سکتا ہوں؟ چنانچہ وہ اپنا تھوڑا بہت سارا مال دے کر اپنی جان چھڑا لے۔ پانچویں یہ کہ میں تمہیں کثرت سے اللہ کے ذکر کا حکم دیتا ہوں، اور اس کی مثال اس شخص جیسی ہے جس کا دشمن تیزی سے پیچھا کر رہا ہو اور وہ ایک مضبوط قلعے میں پناہ لے لے، اسی طرح بندہ شیطان سے صرف اللہ کے ذکر کے ذریعے ہی بچ سکتا ہے۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور میں تمہیں ان پانچ باتوں کا حکم دیتا ہوں جن کا اللہ نے مجھے حکم دیا ہے: جماعت کے ساتھ جڑے رہنا، (امیر کی بات) سننا، اطاعت کرنا، ہجرت کرنا، اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنا؛ اور جس نے جماعت سے ایک بالشت کے برابر بھی علیحدگی اختیار کی اس نے اسلام کا پٹہ اپنی گردن سے اتار پھینکا الا یہ کہ وہ رجوع کر لے؛ اور جس نے جاہلیت کی پکار پکاری وہ جہنم کا ایندھن ہے۔“ عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! اگرچہ وہ روزہ رکھتا ہو اور نماز پڑھتا ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگرچہ وہ روزہ رکھتا ہو اور نماز پڑھتا ہو۔ پس تم اللہ کی اسی پکار کے ساتھ ایک دوسرے کو پکارو جو اس نے تمہارے لیے پسند کی ہے: یعنی اے مومنوں، اے مسلمانوں، اے اللہ کے بندو!“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1548]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1548]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،زيد بن سلام: هو ابن أبي سلام ممطور الحبشي، يروي هنا عن جده.» [ترقيم الرساله 1548] [ترقيم الشركة 1539]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
3. الدَّعْوَةُ عِنْدَ الْفِطْرِ
افطار کے وقت دعا کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1549
أخبرنا أبو محمد عبد العزيز بن عبد الرحمن الدَّبّاس بمكة، حدثنا محمد بن علي بن زيد حدثنا الحكم بن موسى، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا إسحاق بن عبد الله (2) قال: سمعت عبد الله بن أبي مُلَيكة يقول: سمعتُ عبد الله بن عمرو بن العاص يقول: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"إنَّ للصائم عند فِطْرِه دعوةً ما تُرَدّ". قال ابنُ أبي مُلَيكة: وسمعتُ عبد الله بن عمرٍو يقول عند فِطْرِه: اللهمَّ إنِّي أسألك برحمتِك التي وَسِعَتْ كلَّ شيءٍ أن تَغفِرَ لي ذنوبي (3) . إسحاق هذا إن كان ابنَ عبد الله مولى زائدةَ، فقد خرَّج عنه مسلم، وإن كان ابنَ أبي فَرْوةَ، فإنهما لم يخرجاه!
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”بے شک روزہ دار کے لیے افطار کے وقت ایک ایسی دعا ہے جو رد نہیں کی جاتی۔“ ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمرو کو افطار کے وقت یہ دعا کرتے ہوئے سنا: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِرَحْمَتِكَ الَّتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ أَنْ تَغْفِرَ لِي ذُنُوبِي» ”اے اللہ! میں تیری اس رحمت کے واسطے سے جو ہر چیز پر محیط ہے تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ میرے گناہ معاف فرما دے۔“
اس میں اسحاق نامی راوی اگر زائدہ کے مولیٰ ہیں تو امام مسلم نے ان سے روایت لی ہے، اور اگر وہ ابن ابی فروہ ہیں تو شیخین نے ان سے روایت نہیں لی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1549]
اس میں اسحاق نامی راوی اگر زائدہ کے مولیٰ ہیں تو امام مسلم نے ان سے روایت لی ہے، اور اگر وہ ابن ابی فروہ ہیں تو شیخین نے ان سے روایت نہیں لی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1549]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، رجاله ثقات، غير إسحاق بن عبيد الله، فقد ورد اسمه هكذا مطلقًا في "عمل اليوم والليلة" لابن السني (481)، و"معجم ابن عساكر" (365)، وفي غيرهما من المصادر جاء مسمًّى: إسحاق بن عبيد الله المدني، كما عند ابن ماجه (1753)، والطبراني في "الدعاء" (919)، وفي "المعجم الكبير" (14343)، والبيهقي ...» [ترقيم الرساله 1549] [ترقيم الشركة 1540]
الحكم على الحديث: حسن لغيره
حدیث نمبر: 1550
أخبرنا أبو حامد أحمد بن محمد الخطيب بمَرْو، حدثنا إبراهيم بن هلال، حدثنا علي بن الحسن بن شَقِيق، أخبرنا الحسين بن واقد، حدثنا مروان بن سالم المُقفَّع قال: رأيت ابنَ عمر يَقبِضُ على لِحيتِه فيَقطَعُ ما زادَ على الكف، وقال: كان رسولُ الله ﷺ إذا أفطَرَ قال:"ذَهَبَ الظَّمأُ، وابتلَّتِ العُرُوق، وثَبَتَ الأجرُ إن شاء الله" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، فقد احتُجَّ بالحسين بن واقد ومروان بن المُقفَّع.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، فقد احتُجَّ بالحسين بن واقد ومروان بن المُقفَّع.
مروان بن سالم مقفع کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ اپنی داڑھی کو مٹھی میں پکڑتے اور جو حصہ مٹھی سے زائد ہوتا اسے کاٹ دیتے، اور انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب افطار کرتے تو یہ دعا پڑھتے تھے: «ذَهَبَ الظَّمَأُ، وَابْتَلَّتِ الْعُرُوقُ، وَثَبَتَ الأَجْرُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ» ”پیاس بجھ گئی، رگیں تر ہو گئیں اور ان شاء اللہ اجر ثابت ہو گیا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، کیونکہ حسین بن واقد اور مروان بن مقفع دونوں سے احتجاج کیا گیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1550]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، کیونکہ حسین بن واقد اور مروان بن مقفع دونوں سے احتجاج کیا گیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1550]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن،كما قال الدارقطني في "سننه" (2279)، والحافظ ابن حجر في "التلخيص الحبير" 2/ 202؛ مروان بن سالم المقفّع روى عنه ثقتان وذكره ابن حبان في "الثقات"، والحسين بن واقد صدوق لا بأس به، وإبراهيم بن هلال حسن الحديث، وقد سلفت ترجمته برقم (420) وقد توبع.» [ترقيم الرساله 1550] [ترقيم الشركة 1541]
الحكم على الحديث: إسناده حسن
4. الطَّاعِمُ الشَّاكِي مِثْلُ الصَّائِمِ الصَّابِرِ
شکر گزار کھانے والا صبر کرنے والے روزہ دار کی مانند ہے۔
حدیث نمبر: 1551
أخبرنا إسماعيل بن نُجَيد بن أحمد بن يوسف السُّلَمي، حدثنا جعفر بن أحمد بن نَصْر الحافظ، حدثنا إسماعيل بن بِشْر بن منصور السُّلَمي، حدثنا عمر بن علي المُقدَّمي، حدثنا مَعْنُ بن محمد الغِفَاري، قال: سمعتُ حنظلةَ بن علي السَّدُوسيَّ (1) يقول: سمعتُ أبا هريرة يقول بهذا البَقيع: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"الطاعمُ الشاكرُ مثلُ الصَّائمِ الصَّابر" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه (3) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه (3) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے بقیع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”کھا کر شکر ادا کرنے والا (بندہ اللہ کے نزدیک) اس روزے دار کی طرح ہے جو صبر کرنے والا ہو۔“
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1551]
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1551]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن،من أجل معن بن محمد الغفاري.» [ترقيم الرساله 1551] [ترقيم الشركة 1542]
الحكم على الحديث: إسناده حسن
حدیث نمبر: 1552
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نَصْر الخَوْلاني، قال: قُرِئ على عبد الله بن وهب: أخبَرَكَ عمرو بن الحارث، عن بُكَير بن عبد الله [ابن] الأشَجِّ، عن يزيد بن أبي عُبيد، عن سَلَمةَ بن الأكوع قال: كنّا في رمضانَ في عهدِ رسولِ الله ﷺ مَن شاءَ صامَ، ومَن شاء أفطَرَ وافتَدى بطعامِ مسكين، حتى أُنزلت الآية: ﴿فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ﴾ الآية [البقرة: 185] (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين.
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک میں ہم رمضان کے مہینے میں (اس حال میں) تھے کہ جو چاہتا وہ روزہ رکھتا اور جو چاہتا وہ روزہ نہ رکھتا اور ایک مسکین کو کھانا کھلا کر فدیہ ادا کر دیتا، یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی: ﴿فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ﴾ ”پس تم میں سے جو کوئی اس مہینے کو پائے وہ اس کے روزے رکھے۔“ [سورة البقرة: 185]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1552]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1552]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،عمرو بن الحارث: هو ابن يعقوب الأنصاري، ويزيد بن أبي عبيد: هو مولى سلمة بن الأكوع.» [ترقيم الرساله 1552] [ترقيم الشركة 1543]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1553
أخبرني مُكرَم بن أحمد القاضي، حدثنا أحمد بن حيّان بن مُلاعِب، حدثنا أبو عاصم، حدثنا عبد العزيز بن أبي رَوَّاد، حدثنا نافع، عن ابن عمر، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"إنَّ الله جَعَلَ الأهلَّةَ مواقيت، فإذا رأيتُمُوه فصُومُوا، وإذا رأيتُمُوه فأفطِروا، فإن غُمَّ عليكم فاقْدُرُوا له، واعلموا أنَّ الأشهرَ لا تَزيدُ على ثلاثين" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وعبد العزيز بن أبي رَوَّاد ثقةٌ عابدٌ مجتهدٌ شريف النَّسب (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وعبد العزيز بن أبي رَوَّاد ثقةٌ عابدٌ مجتهدٌ شريف النَّسب (1) .
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے چاندوں کو اوقات کے تعین کا ذریعہ بنایا ہے، لہٰذا جب تم اسے (رمضان کا چاند) دیکھو تو روزہ رکھو، اور جب اسے (شوال کا چاند) دیکھو تو افطار کرو (عید مناؤ)، پھر اگر تم پر مطلع ابر آلود ہو جائے تو اس کا اندازہ کر لو (یعنی تیس دن پورے کر لو)، اور جان لو کہ مہینہ تیس دن سے زیادہ کا نہیں ہوتا۔“
اس حدیث کی اسناد صحیح ہیں لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور عبدالعزیز بن ابی رواد ثقہ، عابد، مجتہد اور معزز نسب والے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1553]
اس حدیث کی اسناد صحیح ہیں لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور عبدالعزیز بن ابی رواد ثقہ، عابد، مجتہد اور معزز نسب والے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1553]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل عبد العزيز بن أبي رواد. أبو عاصم: هو الضحاك بن مخلد النبيل، وأحمد بن حيان بن ملاعب تقدم ذكر الخلاف في اسمه عند الحديث رقم (1278).» [ترقيم الرساله 1553] [ترقيم الشركة 1544]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 1554
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفَّار، حدثنا أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل، حدثنا عبد الله بن صالح، أخبرني معاوية بن صالح، عن عبد الله بن أبي قيس، قال: سمعتُ عائشةَ تقول: كان رسولُ الله ﷺ يَتحفَّظُ من هلال شعبانَ ما لا يَتحفَّظُ من غيره، ثم يصومُ لرؤيةِ رمضان، فإن غُمَّ عليه عَدَّ ثلاثين يومًا ثم صام (2) .
هذا حديث صحيحٌ على شرط الشيخين، فقد حدَّث ابنُ وهبٍ وغيرُه عن معاوية بن صالح، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيحٌ على شرط الشيخين، فقد حدَّث ابنُ وهبٍ وغيرُه عن معاوية بن صالح، ولم يُخرجاه.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کے چاند کی تاریخوں کی جتنی حفاظت فرماتے تھے اتنی کسی اور مہینے کی نہیں فرماتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کا چاند دیکھ کر روزہ رکھتے تھے، لیکن اگر مطلع ابر آلود ہوتا تو تیس دن کی گنتی پوری کرتے اور پھر روزہ رکھتے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، امام ابن وہب اور دیگر نے اسے معاویہ بن صالح سے روایت کیا ہے لیکن شیخین نے اسے اپنی کتب میں درج نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1554]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، امام ابن وہب اور دیگر نے اسے معاویہ بن صالح سے روایت کیا ہے لیکن شیخین نے اسے اپنی کتب میں درج نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1554]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عبد الله بن صالح» [ترقيم الرساله 1554] [ترقيم الشركة 1545]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
5. قَبُولُ شَهَادَةِ الْوَاحِدِ عَلَى رُؤْيَةِ هِلَالِ رَمَضَانَ
رمضان کا چاند دیکھنے میں ایک شخص کی گواہی قبول کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1555
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا محمد بن إسماعيل بن مِهْران، حدثنا هارون بن سعيد الأَيْلي، حدثنا عبد الله بن وَهْب، أخبرني يحيى بن عبد الله بن سالم، عن أبي بكر بن نافع، عن أبيه، عن ابن عمر، قال: تَراءَى الناسُ الهلالَ، فأَخبرتُ رسولَ الله ﷺ أني رأيتُه، فصامَ رسولُ الله ﷺ وَأَمَرَ الناسَ بالصِّيام (1) . صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ لوگوں نے چاند دیکھنے کی کوشش کی تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی کہ میں نے اسے دیکھ لیا ہے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی روزے رکھنے کا حکم دیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1555]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1555]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،نافع والد أبي بكر بن نافع: هو المدني مولى عبد الله بن عمر.» [ترقيم الرساله 1555] [ترقيم الشركة 1546]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح